لبنان نے شہری ٹھکانوں پر حملے کے لئے اسرائیل کی تنقید کی

بیروت، لبنان کے وزیر دفاع موریس سلم نے جنوبی لبنان میں شہری ٹھکانوں پرحملوں کے لئے اسرائیل کی سخت تنقید کی اور بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ اور لبنان کے تنازعے کا سیاسی حل تلاش کرے۔

قومی خبر رساں ایجنسی نے یہ اطلاع دی۔

مسٹر سلم نے یہ بات بیروت میں فرانسیسی وزیر دفاع سیبسٹین لیکورنو کے ساتھ ملاقات کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی لبنان میں شہریوں پر اسرائیل کے حملے، رہائشی عمارتوں کی تباہی، جنگلات اور باغات کو جلانا اور بین الاقوامی طور پر ممنوعہ ہتھیاروں کا استعمال بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔

لبنانی وزیر دفاع نے بین الاقوامی برادری سے بین الاقوامی قانون کے ضوابط اور متعلقہ بین الاقوامی قانونی قراردادوں کی بنیاد پرتنازع کا سیاسی حل نکالنے، انصاف اور حقوق کے حصول کے لیے’ زیادہ سے زیادہ کوششیں کرنے کی اپیل کی۔​

وزیر دفاع نے بین الاقوامی قراردادوں کے حوالے سے اپنے ملک کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے علاقائی استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے لبنان کی خواہش پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دہائیوں میں لبنان میں اقوام متحدہ کی عبوری فورس (یواین آئی ایف آئی ایل) کی جانب سے دی گئی عظیم قربانیوں اور جنوبی لبنان میں اس کے کردار کو اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے فورس کی حفاظت کے لیے ملک کی خواہش کا اعادہ کیا تاکہ دفاعی افواج اپنے فرائض سرانجام دیتی رہیں۔

مسٹر سلم نے کہا کہ لبنان نے خطے میں تنازعات کی شدت کو محدود کرنے کے لیے فرانس کی طرف سے کی جانے والی شاندار کوششوں کو بھی سراہا ہے۔

فرانسیسی وزیر دفاع لیکورنو نے لبنان میں استحکام کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے، تنازع کو کم کرنے اور اس میں اضافے کو روکنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر فرانس کی کوششوں’ کا ذکر کیا۔ انہوں نے ‘لبنان اور فوج کے لیے فرانس کی حمایت کی تصدیق، کا اعادہ کیا اور جن علاقوں میں آپریشن جاری ہے وہاں سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھنے میں جنوب میں یواین آئی ایف آئی ایل کے کردار کی اہمیت پر زور دیا۔

قابل ذکر ہے کہ لبنانی مسلح گروپ حزب اللہ کی جانب سے گزشتہ دنوں اسرائیل پر حماس کے حملوں کی حمایت میں 8 اکتوبر کو شیبا فارمز کی جانب متعدد راکٹ داغے جانے کے بعد لبنان-اسرائیل سرحد پر کشیدگی میں تین ہفتوں سے زائد عرصے سے اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد اسرائیلی دفاعی فورسز (آئی ڈی ایف) کو جنوب مشرقی لبنان کے کئی علاقوں میں حزب اللہ کے حملوں کے خلاف جوابی کارروائی کرنی پڑی ہے۔

یواین آئی/ژنہوا۔الف الف

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں