غزہ پر بمباری: فلسطینی صحافی اور ان کے خاندان کے 11 افراد شہید

غزہ، غزہ پر 27 روز کی بمباری کے بعد اب اسرائیل نے ٹینکوں سے محاصرہ کرتے ہوئے شہر کو چاروں طرف سےگھیر لیا ہے جب کہ اس دوران بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحاطب، ان کی بیوی، بیٹے اوربھائی سمیت 11 اہل خانہ شہید ہوگئے۔

اسرائیلی بمباری سے متاثرہ غزہ کے شہر خان یونس میں گھرپر بمباری کی گئی جس کے نتیجے میں فلسطینی ٹی وی کے صحافی محمد ابوحاطب، ان کی بیوی، بیٹے اوربھائی سمیت11 اہل خانہ شہید ہوگئے، اس کے علاوہ فلسطین کے ایک اور صحافی محمد البیاری بھی ہدف بنادیے گئے ہیں۔

فلسطینی صحافی سلمان البشیر ساتھی رپورٹر کے اسرائیل کے ہاتھوں قتل پر اپنے جذبات کااظہار کرتے ہوئے بے قابو ہوگئے اور دوران رپورٹنگ اپنی پریس جیکٹ اور ہیلمٹ کو اُتار پھینکا۔

فلسطینی صحافی نے اسرائیلی جارحیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ پریس جیکٹس صرف علامتی ہیں، یہ کسی صحافی کو تحفظ نہیں دے رہیں، غزہ میں ایک کے بعد ایک صحافی کو قتل کیا جارہا ہے،اس موقع پر نیوز چینل کی میزبان بھی بھی روپڑیں۔

دوسری جانب غزہ میں اسرائیلی فوج کی رہائشی آبادیوں پر وحشیانہ بمباری کاسلسلہ جاری ہے اور اسرائیل پر غزہ کی جانب سے کی جانے والی بمباری اور بڑھتے محاصرے سے فلسطینیوں کے قتل عام تیز ہونے کا خدشہ ہے، اسرائیلی جارحیت سے شہید فلسطینیوں کی تعداد 9200 جب کہ زخمی فلسطینیوں کی تعداد 24 ہزار ہوچکی ہے۔

جبالیا کیمپ پر ایک اور حملے سے 30، البریج پناہ گزین کیمپ پر بمباری سے 29، شجائیہ علاقے میں گھرپربمباری سے 9 اور الزیتون کے علاقے پرحملے میں تین بچوں سمیت 6 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جب کہ رہائشی عمارت پربم گرنے سے بھی 15 افراد شہید ہوگئے۔

غزہ کے واحد کینسر اسپتال میں علاج بند ہونے کے سبب 4 مریض سسک سسک کر دم توڑ گئے، یہی نہیں غزہ میں مقاصد اسپتال پر چھاپہ مارا گیا جس دوران اسرائیلی فوج مریضوں کو بھی اٹھاکر لے گئی۔

یو این آئی۔ ع ا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں