نیدرلینڈ کی سبکدوش ہونے والی وزیرِ خزانہ غزہ کے لیے انسانی ہمدردی و تعمیرِ نو کی سینئر رابطہ کارمقرر

واشنگٹن، اقوامِ متحدہ نے منگل کے روز غزہ میں انسانی امداد کی ترسیل کی نگرانی کے لیے ایک رابطہ کار کی تقرری کا اعلان کیا جو انسانی امداد کو فروغ دینے کے لیے سلامتی کونسل کی منظور کردہ ایک قرارداد کا حصہ ہے۔

العربیہ کے مطابق اقوامِ متحدہ نے ایک بیان میں کہا کہ نیدرلینڈ کی سبکدوش ہونے والی وزیرِ خزانہ غزہ کے لیے انسانی ہمدردی و تعمیرِ نو کی سینئر رابطہ کار ہوں گی اور 8 جنوری کو اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گی۔

اقوامِ متحدہ نے کہا کہ “اس کردار میں وہ غزہ کے لیے امدادی سامان کی سہولت کاری، رابطہ کاری، نگرانی اور تصدیق کریں گی۔ وہ ان ممالک کی غزہ میں امداد کو تیز کرنے کے لیے ایک “میکانزم” بھی قائم کریں گی جو اس تنازع میں ملوث نہیں ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی ایک تجربہ کار سفارت کار کاگ اس سے قبل ہتھیاروں کے ماہرین کی ایک بین الاقوامی ٹیم کی سربراہ تھیں جن پر شام کے کیمیائی ذخیرے کے خاتمے کی نگرانی کی ذمہ داری تھی۔

جولائی میں انہوں نے ہالینڈ میں سیاست دانوں کے لیے بڑھتے ہوئے “زہریلے” ماحول کی وجہ سے حکومت چھوڑ دینے کا اعلان کیا تھا۔

جمعہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد ووٹنگ میں ایک ہفتے کی تاخیر اور ریاست ہائے متحدہ کے ویٹو سے بچنے کے لیے شدید مذاکرات کے بعد جنگ بندی کے مطالبے کے بغیر رک گئی۔ اس میں “فوری طور پر محفوظ، بلا تعطل اور وسیع انسانی رسائی کی اجازت دینے اور دشمنی کے پائیدار خاتمے کے لیے حالات پیدا کرنے والے فوری اقدامات” کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اسرائیل اور حماس کے مابین 11 ہفتوں سے جاری جنگ میں غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ اور فلسطینی علاقے میں بگڑتے ہوئے انسانی بحران پر عالمی غم و غصے کے درمیان امریکہ نے 15 رکنی کونسل کو متحدہ عرب امارات کی تیار کردہ قرارداد منظور کرنے کی اجازت دینے سے گریز کیا۔

امریکہ اور اسرائیل جنگ بندی کی مخالفت کرتے ہیں کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اس سے حماس کو ہی فائدہ ہوگا۔ اس کے بجائے واشنگٹن عام شہریوں کی حفاظت اور حماس کے ہاتھوں یرغمالیوں کی رہائی کے لیے لڑائی میں وقفے کی حمایت کرتا ہے۔

7 اکتوبر کو حماس کی جانب سے 1,200 افراد کو ہلاک کرنے اور 240 افراد کو یرغمال بنانے کے بعد اسرائیلی وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایک حملے کے ساتھ جواب دیا جس نے غزہ کا بڑا حصہ برباد کر دیا ہے۔

حماس کے زیرِ اقتدار غزہ میں فلسطینی محکمۂ صحت کے حکام کہتے ہیں کہ اسرائیلی حملوں میں تقریباً 21,000 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں سے زیادہ تر کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔ غزہ کے تقریباً تمام 2.3 ملین افراد کو کئی بار ان کے گھروں سے بے دخل ہونا پڑا۔

یواین آئی۔ م س

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں