جنگ کے بعد غزہ میں کس ملک کا کردار اہم ہوگا؟

استنبول، امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ جنگ کے بعد غزہ میں ترکی کا کردار نہایت اہم ہوگا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہفتے کے روز ترک صدر رجب طیب اردوان کے ساتھ ملاقات کے بعد امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا کہ ترکی غزہ میں جنگ کے بعد ’’مثبت اور نتیجہ خیز‘‘ کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

انھوں نے کہا کہ اسرائیل اور حماس کی جنگ کو ایک بڑا علاقائی تنازعہ بننے سے روکنے کے لیے ترکی اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے گا۔

بلنکن کا کہنا تھا کہ غزہ کے سلسلے میں انھوں نے جو 8 دنوں پر مشتمل طوفانی دورہ شروع کر دیا ہے، اس میں ہونے والی ملاقاتوں میں زیادہ تر اس نکتے پر توجہ مرکوز ہے کہ خطے کے ممالک اس جنگ کو پھیلنے سے روکنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ کس طرح استعمال کر سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ اسرائیل پر 7 اکتوبر کے حماس حملے کے بعد سے جس طرح صہیونی فورسز نے فلسطین کی شہری آبادیوں کو پوری طرح تباہ و برباد کرنے اور فلسطینیوں کی نسل کشی کے لیے وحشیانہ بمباری کا سلسلہ شروع کیا، اس کے نتیجے کے طور پر یہ شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے کہ یہ جنگ اب غزہ کی پٹی سے باہر نکل کر دیگر ممالک کو بھی لپیٹ میں لینے لگا ہے۔

چناں چہ لبنان کی حزب اللہ نے گزشتہ روز اسرائیلی اڈے پر 60 سے زیادہ راکٹ فائر کیے، اور اس حملے کو گزشتہ ہفتے بیروت میں حماس کے نائب سربراہ صالح العاروری کی شہادت کا ’ابتدائی ردعمل‘ قرار دیا گیا۔

اسرائیلی حکام کے مطابق جنوبی اسرائیل میں 7 اکتوبر کو حماس کی قیادت میں ہونے والے حملوں میں 1,139 افراد ہلاک ہوئے، جب کہ حماس کے زیر انتظام محصور غزہ میں وزارت صحت کے مطابق غزہ کی پٹی پر اسرائیل کے حملوں میں کم از کم 22,722 افراد شہید اور 58,166 زخمی ہو چکے ہیں۔

یو این آئی۔ ع ا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں