اسرائیل: ہم نے غزّہ پر قبضے کا ایک نیا مرحلہ شروع کر دیا ہے

تل ابیب، اسرائیل مسلح افواج کے ترجمان ڈینئیل ہاگاری نے کہا ہے کہ “ہم زیرِ محاصرہ غزّہ کی پٹّی پر قبضے کے لئے ‘ایک نئے اور نسبتاً کم شدید مرحلے’ میں داخل ہو گئے ہیں”۔

ڈینئیل ہاگاری نے غزّہ کے بارے میں امریکی روزنامے ‘دی نیویارک ٹائمز’ کے لئے انٹرویو میں کہا ہے کہ “اسرائیلی فوج نے غزّہ پر قبضے کا ایک نیا اور نسبتاً کم شدید مرحلہ شروع کر دیا ہے۔ اس مرحلے میں اسرائیل کے زمینی و فضائی حملوں کی تعداد میں کمی کر دی جائے گی۔ یہ نیا مرحلہ رواں مہینے میں شروع ہو جائے گا اور اس کے ساتھ اسرائیل غزّہ میں فوجیوں کی تعداد میں بتدریج کمی کرتا جائے گا۔ اسرائیلی فوج وسیع پیمانے کے حملوں کی جگہ ہدف پر چھاپے کی حکمت عملی اختیار کرے گی۔ غزّہ کے شمال میں حملوں کی تعداد میں کمی آنا شروع ہو گئی ہے۔ ہم، خاص طور پر خان یونس اور غزّہ کی پٹّی کے وسطی شہر دیر البلخ پر توجہ مرکوز کریں گے۔

انہوں نے اسرائیل کے خلاف نسل کشی کے الزامات کو مسترد کیا اور کہا ہے کہ ہم، مہاجرین کے لئے خیموں سمیت انسانی امداد کے مزید سامان کے غزّہ میں داخلے کے خواہش مند ہیں۔

ہاگاری نے دعوی کیا ہے کہ” ہم نے شہری اموات کے سدّباب کے لئے ہر طرح کی حفاظتی تدابیر اختیار کی ہیں۔ اصل میں حماس نے اپنا فوجی انفراسٹرکچر شہری علاقوں میں پھیلا کر شہریوں کی زندگی کو خطرے میں ڈالا ہے”۔

یو این آئی۔ ع ا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں