اسرائیلی حملوں سے ابتک کا جانی و مالی نقصان

غزہ، اسرائیلی فوج 7 اکتوبر سے ابتک غزہ کی پٹی پر اپنے حملوں میں یومیہ اوسطً 173 فلسطینی خواتین اور بچوں کو ہلاک کر چکی ہے۔

غزہ میں حکومت کے پریس دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ پر اسرائیل کے 104 دنوں سے جاری حملوں میں 10 ہزار 800 بچے اور 7 ہزار 250 خواتین اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھی ہیں۔

غزہ میں 7 ہزار افراد جن میں 70 فیصد خواتین اور بچے ہیں تا حال ملبے تلے دبے یا لاپتہ ہیں، اسپتالوں میں پہنچنے والی لاشوں کی تعداد 24 ہزار 620 ہےجبکہ 61 ہزار 830 افراد زخمی ہیں۔

بتایا گیا کہ اسرائیلی حملوں میں 70 ہزار مکانات مکمل طور پر تباہ جبکہ 2 لاکھ 90 ہزار مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔

صحت کے شعبے کو نشانہ بنانے والی اسرائیلی خلاف ورزیوں کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ حفظان صحت کے 337 کارکنان اور 45 سول ڈیفنس اہلکار ہلاک ہوئے۔

واضح رہے کہ 7 اکتوبر سے غزہ میں اسرائیلی حملوں میں 119 صحافی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ 23 لاکھ کی آبادی کی حامل غزہ کی پٹی میں 20 لاکھ افراد بے گھر ہوئے۔ پرہجوم رہائشی مراکز جہاں بے گھر فلسطینیوں نے پناہ لی وہاں غیر انسانی صورتحال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ بے گھر ہونے کے نتیجے میں متعدی امراض کے 4 لاکھ اور ہیپاٹائٹس اے کے8 ہزار سے زائد کیسز سامنے آئے ہیں۔

واضح رہے کہ اسرائیلی فوج نے 138 سرکاری تنصیبات اور 97 اسکولوں اور یونیورسٹیوں کو تباہ کیا جبکہ 295 اسکولوں اور یونیورسٹیوں کو جزوی نقصان پہنچا۔
اس بات پر زور دیا گیا کہ غزہ سے باہر علاج کی ضرورت والے زخمیوں کی تعداد 11 ہزار ہے، اور 10 ہزار کینسر کے مریض ناقص طبی خدمات کے باعث موت کے خطرے سے دوچار ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ میں 246 مساجد کو نقصان پہنچایا، جن میں سے 157 مکمل طور پر تباہ ہو گئیں، اور 3 گرجا گھروں کو نشانہ بنایا، جس سے ان کی تباہی ہوئی۔

بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج 7 اکتوبر سے اب تک 65 ہزار ٹن سے زائد بارودی مواد سے غزہ پر حملے کرچکی ہے۔

یو این آئی۔ ع ا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں