غزہ میں 24 فوجیوں کی ہلاکت پر اسرائیل چیخ اٹھا

تل ابیب، وسطی غزہ میں زمینی لڑائی کے دوران ایک ہی دن 24 اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت پر اسرائیل چیخ اٹھا ہے، اسرائیلی وزیر اعظم، صدر اور قومی سلامتی کے وزیر نے ’مشکل ترین دن‘ کا اعتراف کر لیا غیر ملکی میڈیا کے مطابق 22 جنوری کا دن 7 اکتوبر کے بعد غزہ میں اسرائیلی فوجیوں کے لیے سب سے مہلک ترین دن رہا ہے، اسرائیل کے پریشان وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا کہ 24 فوجیوں کی ہلاکتوں کے ساتھ یہ جنگ شروع ہونے کے بعد کا مشکل ترین دن ہے۔

انھوں نے ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم غزہ میں نہیں رکیں گے اور مکمل فتح تک لڑنا بند نہیں کریں گے۔ نیتن یاہو نے کہا فوج اس حملے کی تحقیقات کرے گی جس میں فلسطینی جنگجوؤں کی جانب سے راکٹ سے چلنے والے دستی بموں سے ایک ٹینک کو نشانہ بنایا گیا، جس سے ایک ثانوی دھماکہ ہوا، جس سے فوجیوں پر دو عمارتیں گر گئیں۔

اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ نے چوبیس فوجیوں کی ہلاکت کو ’ناقابل برداشت مشکل صبح‘ قرار دیا، انھوں نے کہا آج کی صبح ایک ناقابل برداشت مشکل صبح ہے کیوں کہ ہمارے اتنے سارے بہترین بیٹوں کے نام قبروں کے کتبوں میں شامل کیے جا رہے ہیں۔ اسرائیلی صدر نے غزہ کو ’انتہائی مشکل جگہ‘ بھی قرار دیا۔

اسرائیلی قومی سلامتی کے انتہائی دائیں بازو کے وزیر ایتمار بن گویر نے اسرائیلی فوج کی ہلاکتوں کے واقعے پر آپے سے باہر ہو کر فلسطینی مزاحمت کو ’نازی دشمن‘ قرار دیا، اور کہا کہ اس کو شکست دینا پہلے سے زیادہ اہم بن گیا ہے۔انھوں نے کہا ایک ہی دن میں 24 فوجیوں کی ہلاکت سے یہ بات اب پہلے سے زیادہ واضح ہو گئی ہے کہ اسرائیل کو غزہ میں آپریشن بند نہیں کرنا چاہیے، اسرائیل کو غزہ میں نازی دشمن کو اپنی پوری طاقت سے زیر کرنا، کچلنا اور نابود کرنا جاری رکھنا چاہیے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز وسطی غزہ میں اسرائیل اور غزہ کی سرحد کے قریب بستی میں حماس نے ایک اسرائیلی ٹینک کو راکٹ سے چلنے والے گرنیڈ سے نشانہ بنایا تو اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہگاری کے مطابق وہاں موجود دو عمارتوں کو منہدم کرنے کے لیے بچھائے گئے بارودی مواد میں چنگاری سے دھماکے ہوئے اور یہ عمارتیں فوجیوں کے اوپر منہدم ہو گئیں۔

یو این آئی۔ ع ا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں