ہمسایہ ملک ایران سے تعلقات کو مزید فروغ دیں گے:ایردوان

انقرہ، ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے ایرانی ہم منصب ابراہیم رئیسی کے ساتھ ملاقات سے متعلق بتایا کہ ہم نے دہشتگرد تنظیموں کے خلاف تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا ہے صدر ایردوان نے گزشتہ روز انقرہ میں موجود ایرانی صدر ابراہیم رئیسی سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران اس بات کا اظہار کیا صدر ایردوان نے کہا کہ ہم ہمسایہ ملک ایران کے ساتھ تعلقات کو باہمی اعتماد و مفادات کی بنیادوں پر اہمیت دیتے ہیں،دونوں ملکوں کو دہشت گرد تنظیموں پی کےکے ،وائی پی جی ،پی وائی ڈی اور پی جے اے کے کے خلاف تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہوگا، ہم ایک بار پھر تین جنوری کو کرمان میں ہوئے حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔

ترک صدر نے کہا کہ انسداد دہشتگردی کے معاملے میں ہم ایران کے ساتھ ہیں، جہاں تک اسرائیل۔ فلسطین جھڑپوں کا معاملہ ہے تو اس بارے میں معزز مہمان صدر سے بات چیت میں اسرائیل کے غزہ پر انسانیت سوز حملوں کے خاتمےاور منصفانہ و پائیدار بحالی امن سے متعلق ممکنہ اقدامات پر غور کرنے سمیت خطےکی سلامتی و بقا کےلیے مشترکہ تعاون کے پہلووں پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔

بعد ازاں، دونوں صدور نے ترک۔ایران مشترکہ بزنس فورم میں شرکت کی جہاں صدر ایردوان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ترکیہ اور ایران ترقی و استحکام کےلیے تعاون کو فروغ دیں گے،ہم ایران کے ساتھ 30 ارب ڈالر کے تجارتی ہدف تک رسائی کےلیے کوشاں ہیں، ہم نے پابندیوں کے باوجود ہمسایہ ملک ایران کے ساتھ اقتصادی و تجارتی تعلقات ختم نہیں کیے اور نہ ہی کریں گے۔

صدر ایردوان نے کہا کہ ایران کےساتھ ایک نئی سرحدی چوکی کھولنے کا ارادہ ہے تاکہ دونوں جانب سرحدی اضلاع کی اقتصادی ترقی میں اضافہ کیا جا سکے۔

اس دوران ترک۔ایران اعلی سطی تعاون کونسل کے 8 ویں اجلاس کے بعد طرفین نے دس معاہدوں پر دستخط کیے ۔

یو این آئی۔ ع ا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں