جموں و کشمیر
لاپتہ شہری کی لاش دریائے جہلم سے برآمد

سری نگر،جموں وکشمیر کی گرمائی راجدھانی سری نگر کے شالہ ٹینگ علاقے میں دریائے جہلم سے لاپتہ شہری کی لاش برآمد کی گئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق پیر کی صبح شالہ ٹینگ کے نزدیک دریائے جہلم میں چند مقامی افراد نے لاش دیکھی اور اس بارے میں پولیس کو آگاہ کیا۔
پولیس ٹیم فوری طورپر جائے موقع پر پہنچی اور لاش کوتحویل میں لے کر اس کی شناخت فیاض احمد خان ولد محمد شفیع خان ساکن خانقاہ معلی سری نگر کے بطور کی ۔
پولیس ذرائع نے بتایا کہ 8اپریل کو لاپتہ ہوئے فیاض احمد خان کی لاش دریائے جہلم سے برآمد کی گئی ہے۔
انہوں نے بتایاکہ قانونی اور طبی لوازمات پورے کرنے کے بعد میت وارثین کے حوالے کی گئی۔
دریں اثنا پولیس نے معاملے کی نسبت کیس درج کرکے مزید تحقیقات شروع کی ہے۔
یو این آئی-ارشید بٹ
جموں و کشمیر
سی آئی کے کی لشکرِ طیبہ سے وابستہ کشمیر میں دس مقامات پر چھاپے ماری
سری نگر، جموں و کشمیر پولیس کی کاؤنٹر انٹیلی جنس کشمیر (سی آئی کے) نے پاکستان میں قائم دہشت گرد تنظیم لشکرِ طیبہ سے وابستہ ایک دہشت گرد ماڈیول کی تحقیقات کے سلسلے میں وادیِ کشمیر میں دس مقامات پر چھاپے مارے ہیں حکام نے جمعرات کو بتایا کہ سری نگر، شوپیاں اور گاندربل اضلاع میں دس مقامات پر چھاپے مارے گئے۔ یہ کارروائی سی آئی کے پولیس اسٹیشن میں درج دہشت گردی کے ایک نئے تفتیشی کیس کا حصہ ہے۔ یہ چھاپے ایک عدالت سے سرچ وارنٹ حاصل کرنے کے بعد مارے گئے۔ آخری اطلاعات تک چھاپے جاری تھے۔
اطلاعات کے مطابق گاندربل ضلع میں چھ مقامات، شوپیاں ضلع میں تین مقامات اور سری نگر ضلع میں ایک مقام پر تلاشی لی گئی۔ ان چھاپوں کا تعلق ایک بین الاقوامی دہشت گردی کے ماڈیول سے ہے، جسے مبینہ طور پر شبیر احمد لون نامی ایک فرد چلاتا ہے۔ یہ شخص لشکر طیبہ کا کارندہ ہے اور اس کا تعلق گاندربل کے کنگن علاقے سے ہے، جو اس وقت بنگلہ دیش میں مقیم ہے۔
حکام نے بتایا کہ ماڈیول مبینہ طور پر بنگلہ دیش اور پاکستان سے کام کرنے والے دہشت گرد تنظیم کے ہینڈلرز سے ہدایات حاصل کر رہا تھا۔ حکام نے بتایا کہ تلاشی کی کارروائیوں کا مقصد دہشت گرد نیٹ ورک سے متعلق ثبوت جمع کرنا تھا، جس میں ڈیجیٹل آلات، دستاویزات اور دیگر مواد شامل ہیں۔ اس معاملے کی مزید تحقیق جاری ہے۔ٰ
یو این آئی۔ الف الف۔ م الف
جموں و کشمیر
آسیہ اندرا بی کو این آئی اے کی عدالت نے سنائی عمر قید کی سزا
سری نگر، دہلی میں قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کی ایک خصوصی عدالت نے منگل کو علیحدگی پسند لیڈر آسیہ اندرا بی کو 2018 کے کشمیر علیحدگی کی سازش سے متعلق ایک معاملے میں عمر قید کی سزا سنائی، جبکہ ان کی ساتھیوں صوفی فہمیدہ اور ناہیدہ نسرین کو 30 سال قید اور جرمانے کی سزا دی گئی۔
کالعدم تنظیم ‘دخترانِ ملت’ سے وابستہ ان تینوں خواتین کو این آئی اے نے جولائی 2018 میں گرفتار کیا تھا۔ ایجنسی نے اسی سال اپریل میں علیحدگی کی سازش سے متعلق ایک از خود نوٹس معاملہ درج کیا تھا۔ یہ گرفتاریاں 2019 میں جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کیے جانے سے ٹھیک پہلے کی گئی تھیں۔
کشمیر کی ایک اہم علیحدگی پسند رہنما 63 سالہ اندرا بی، ‘دخترانِ ملت’ کی بانی اور صدر ہیں۔ یہ تنظیم شروع میں ایک سماجی و مذہبی اصلاحی گروپ کے طور پر قائم ہوئی تھی، لیکن بعد میں اس کا جھکاؤ پاکستان نواز اور علیحدگی پسند نظریات کی طرف ہو گیا۔
مرکزی حکومت نے 2018 میں اس تنظیم پر پابندی عائد کردی تھی اور اسے ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا تھا۔ سال 1963 میں سری نگر کے ایک تعلیم یافتہ خاندان میں پیدا ہوئی اندرا بی نے ہوم سائنس میں گریجویشن کی اور بعد میں اسلامک اسٹڈیز کی تعلیم حاصل کی، جس نے مبینہ طور پر ان کے نظریاتی اور سیاسی نقطہ نظر کو متاثر کیا۔ انہوں نے 1980 کی دہائی کے آخر میں ‘دخترانِ ملت’ کی بنیاد رکھی، اور 1990 کی دہائی کے اوائل میں کشمیر میں ‘پردہ’ کی وکالت کرنے والی اپنی مہم کے دوران اس گروپ کو کافی شہرت ملی۔
جاری۔یو این آئی۔ این یو۔
تجزیہ
اسلام اور تلوار کا بیانیہ: حقیقت یا مفروضہ

شمس آغاز
اسلام کی تاریخ کے حوالے سے سب سے زیادہ دہرایا جانے والا اور متنازعہ دعویٰ یہ ہے کہ اسلام ’’تلوار کے زور پر پھیلا‘‘۔ یہ جملہ محض ایک تاریخی بیان نہیں بلکہ ایک بیانیہ ہے جسے مختلف ادوار میں مختلف سیاسی، فکری اور تہذیبی مقاصد کے تحت استعمال کیا گیا۔ اس تصور کی سچائی جانچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم تاریخ کو سادہ نعروں کے بجائے پیچیدہ سماجی، سیاسی اور ثقافتی عمل کے طور پر دیکھیں۔ مذہب کا پھیلاؤ کبھی بھی ایک واحد سبب سے نہیں ہوتا، بلکہ متعدد عوامل مل کر اس عمل کو تشکیل دیتے ہیں۔
ابتدائی اسلامی دور میں عرب معاشرہ قبائلی ساخت رکھتا تھا جہاں سیاسی طاقت اور مذہبی شناخت اکثر ایک دوسرے سے جڑی ہوتی تھی۔ اسلام کے ظہور کے بعد عرب میں سیاسی اتحاد پیدا ہوا جس کے نتیجے میں ریاستی توسیع ہوئی۔ یہ توسیع فوجی فتوحات کے ذریعے بھی ہوئی، جیسا کہ اس دور کی دیگر سلطنتوں بازنطینی اور ساسانی میں ہوتا تھا۔ تاہم فتوحات کو براہ راست مذہبی جبر کے مترادف قرار دینا تاریخی لحاظ سے درست نہیں، کیونکہ سیاسی اقتدار کا قیام اور مذہبی تبدیلی دو مختلف عمل ہوتے ہیں۔
تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ شام، مصر اور عراق جیسے علاقوں میں مسلم حکومت قائم ہونے کے بعد بھی صدیوں تک بڑی غیر مسلم آبادی موجود رہی۔ اگر جبری تبدیلی مذہب عمومی پالیسی ہوتی تو چند دہائیوں میں مذہبی نقشہ مکمل طور پر بدل جانا چاہیے تھا، جو کہ نہیں ہوا۔ مصر میں عیسائی آبادی صدیوں تک اکثریت میں رہی، اسی طرح شام اور عراق میں بھی مذہبی تنوع برقرار رہا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام کی قبولیت ایک تدریجی سماجی عمل تھا۔
اسلام کے پھیلاؤ میں تجارت نے انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ عرب اور بعد میں مسلم تاجر افریقہ کے ساحلی علاقوں، وسطی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا تک پہنچے۔ انڈونیشیا، جو آج دنیا کی سب سے بڑی مسلم آبادی رکھتا ہے، وہاں اسلام کسی بڑی فوجی فتح کے ذریعے نہیں بلکہ تاجروں اور صوفیا کے ذریعے پھیلا۔ یہی صورت حال ملائیشیا اور مشرقی افریقہ کے کئی علاقوں میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ تاجروں کی دیانت داری، معاہداتی اخلاقیات اور سماجی تعلقات نے اسلام کو ایک قابلِ قبول متبادل کے طور پر پیش کیا۔
برصغیر میں اسلام کے پھیلاؤ کو سمجھنے کے لیے صوفی تحریک کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ صوفیاء نے مقامی زبانوں میں گفتگو کی، مذہب کو سخت قانونی ڈھانچے کے بجائے روحانی تجربے کے طور پر پیش کیا اور سماجی مساوات کا تصور دیا۔ ذات پات کے سخت نظام میں یہ پیغام بہت سے لوگوں کے لیے کشش رکھتا تھا۔ خانقاہیں صرف مذہبی مراکز نہیں تھیں بلکہ وہ سماجی بہبود، تعلیم و تربیت، روحانی رہنمائی اور ثقافتی تبادلے کے فعال مراکز بھی تھیں، جہاں ہر طبقے، نسل اور پیشے سے تعلق رکھنے والے افراد کو یکساں اہمیت دی جاتی تھی۔ صوفیاء کے اخلاق، محبت، خدمتِ خلق، برداشت اور انسان دوستی پر مبنی طرزِ عمل نے لوگوں کے دل جیتے اور اسلام کو ایک نرم، جامع اور انسان دوست دین کے طور پر متعارف کروایا۔ اس طرح اسلام کا پھیلاؤ ایک تدریجی، پرامن اور معاشرتی تعامل کے ذریعے ممکن ہوا۔
اسلامی فکر میں مذہبی آزادی کا اصول بھی اہم ہے۔ قرآن کی آیت “لا اکراہ فی الدین” کو اکثر علماء اس بات کی دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں کہ ایمان کا تعلق ذاتی یقین سے ہے نہ کہ جبر سے۔ تاریخی طور پر مختلف مسلم ریاستوں میں غیر مسلموں کو اپنے مذہب پر عمل کی اجازت دی گئی، اگرچہ ان کی قانونی و سماجی حیثیت ایک الگ بحث کا موضوع ہے۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مذہبی تبدیلی کو ریاستی جبر کی مستقل پالیسی کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔
استعماری دور میں اسلام تلوار سے پھیلا کا بیانیہ زیادہ مضبوط ہوا۔ یورپی استعماری طاقتوں نے اسے مسلم معاشروں کو جنگجو یا توسیع پسندثابت کرنے کے لیے استعمال کیا۔ اس بیانیے نے علمی مباحث کو بھی متاثر کیا۔ تاہم بیسویں صدی کے بعد کی تحقیق خاص طور پر سماجی تاریخ نے اس تصور کو چیلنج کیا اور دکھایا کہ مذہب کی قبولیت زیادہ تر سماجی نیٹ ورکس، معاشی مواقع اور ثقافتی میل جول کے ذریعے ہوتی ہے۔
مذہبی تبدیلی کے نفسیاتی اور سماجی پہلو بھی اہم ہیں۔ لوگ عموماً اس مذہب کو قبول کرتے ہیں جو انہیں شناخت، برابری، تحفظ یا روحانی معنی فراہم کرے۔ اسلام نے کئی معاشروں میں مساوات، خیرات کے نظام، برادری کے تصور اور اخلاقی ضابطے کے ذریعے یہ احساس فراہم کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام وہاں بھی پھیلا جہاں مسلم سیاسی طاقت موجود نہیں تھی یا ختم ہو گئی تھی۔
مثال کے طور پر وسطی ایشیا میں منگول دور کے بعد اسلام مضبوط ہوا، حالانکہ ابتدائی منگول حکمران مسلمان نہیں تھے۔ اسی طرح افریقہ کے کئی علاقوں میں مقامی حکمرانوں اور تاجروں کے ذریعے اسلام پھیلا۔ یہ مثالیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ مذہب کا پھیلاؤ طاقت کے بجائے سماجی عمل سے زیادہ وابستہ ہوتا ہے۔
یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ “تلوار” کا استعارہ اکثر علامتی طور پر استعمال ہوتا ہے۔ بعض اوقات اس سے مراد سیاسی طاقت، ریاستی سرپرستی یا سماجی فائدے ہوتے ہیں، نہ کہ براہ راست جبر۔ جب کوئی مذہب ریاستی سطح پر نمایاں ہوتا ہے تو اس کے ماننے والوں کو معاشی یا انتظامی مواقع مل سکتے ہیں، جو بالواسطہ مذہبی تبدیلی کو متاثر کرتے ہیں۔ لیکن اسے جبری تبدیلی کہنا سادہ کاری ہے۔
جدید دور میں اس بحث کی اہمیت اس لیے بھی ہے کیونکہ مذہب اور تشدد کے تعلق کو سیاسی مباحث میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر تاریخ کو یک رخا انداز میں پیش کیا جائے تو وہ تعصب کو تقویت دے سکتی ہے۔ ایک متوازن تاریخی نقطۂ نظر نہ صرف علمی طور پر درست ہے بلکہ سماجی ہم آہنگی کے لیے بھی ضروری ہے۔
یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسلام کے پھیلاؤ کو صرف تلوار کے تصور سے جوڑنا تاریخی حقیقت کی پیچیدگی کو نظر انداز کرنا ہے۔ فتوحات ایک عنصر ضرور تھیں، لیکن دعوت، تجارت، صوفی تحریک، سماجی انصاف، ثقافتی تعامل اور مقامی حالات زیادہ اہم اور دیرپا عوامل ثابت ہوئے۔ مذہب کی قبولیت ایک تدریجی عمل ہے جو دل، ذہن اور معاشرتی تجربے سے جڑا ہوتا ہے۔
اس لیے ’’اسلام تلوار کے زور سے پھیلا‘‘ کا عمومی دعویٰ ایک سادہ مفروضہ ہے، جبکہ تاریخی شواہد ایک زیادہ متوازن، جامع اور پیچیدہ تصویر پیش کرتے ہیں۔ علمی دیانت، تحقیقی روشنی اور حقیقت پسندی کا تقاضا یہی ہے کہ ہم تاریخ کو نعروں، عمومی رائے یا سطحی تاثرات کے بجائے مفصل شواہد، مختلف تناظر، سماجی و ثقافتی عوامل، اقتصادی حالات اور مقامی تنوع کے ساتھ سمجھیں۔ اس طرح ہم محض کسی ایک پہلو پر انحصار کیے بغیر، تاریخ کے حقیقی اور گہرے عمل کو دیکھ سکتے ہیں، جس میں انسانی رویوں، معاشرتی تعلقات، تجارتی روابط، سیاسی حالات اور مذہبی اثرات سب ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ اس طرح کا علمی نقطہ نظر نہ صرف تاریخی درستگی کو یقینی بناتا ہے بلکہ مختلف تہذیبوں اور معاشروں کی پیچیدگی کو بھی اجاگر کرتا ہے، اور ہمیں ماضی کے بارے میں زیادہ متوازن اور معتبر فہم فراہم کرتا ہے۔
دنیا3 days agoایران نے امریکی ایف 15 لڑاکا طیارے کو مار گرانے کی ویڈیو جاری کردی
دنیا7 days agoہمارا صبر لامحدود نہیں، ایران کو نتائج بھگتنا ہوں گے: سعودی عرب
دنیا2 days agoایران نے جنگ روکنے کیلئے 6 اسٹریٹجک شرائط پیش کردیں
ہندوستان2 days agoہندوستان ہائی الرٹ پر: وزیر دفاع کی قیادت میں مغربی ایشیا کی کشیدگی کے تعلق سے ہنگامی جائزہ
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر میں بین الاقوامی سائبر فراڈ گینگ بے نقاب، 7 گرفتار
دنیا2 days agoٹرمپ آسمان کو دیکھو، نیا سرپرائزآنے والاہے، بہت بڑے نتائج سامنے آئیں گے: ایران
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز کی بندش سے نیا معاشی محاذ کھل گیا
دنیا1 week agoامریکہ ایران کی باقی ماندہ قیادت کو بھی ختم کر سکتا ہے: ٹرمپ
دنیا2 days agoامریکہ۔اسرائیل کے علاوہ دیگر ممالک کے جہازوں کو باہر نکلنے کا راستہ دیا جائے گا: پیزیشکیان
دنیا4 days agoقطر میں فوجی ہیلی کاپٹر سمندر میں گر کر تباہ، ترک فوجی سمیت 6 افراد ہلاک
دنیا2 days agoصدر ٹرمپ کو اچانک ایران سے بات کرنے کا خیال کیسےآیا
جموں و کشمیر1 week agoمیرواعظ نے ایرانی رہنما لاریجانی کے قتل کی مذمت کی







































































































