جموں و کشمیر
ورلڈ کپ کی گونج، کشمیری ولو کے بیٹس کی مانگ میں زبردست اضافہ
سری نگر: جاری کرکٹ ورلڈ کپ کے باعث کشمیری ولو سے تیار کردہ کرکٹ بیٹس کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ بیٹس کے فروش کبیر نے بتایا کہ ملک کے مختلف حصوں سے مقامی اور ڈومیسٹک سطح کے کھلاڑی بڑی تعداد میں کشمیری ولو کے بیٹس خرید رہے ہیں، کیونکہ یہ بیٹس معیار کے اعتبار سے بہتر اور قیمت کے لحاظ سے نسبتاً سستے ہیں۔
کبیر کے مطابق اب صرف کھلاڑی ہی نہیں بلکہ والدین بھی اپنے بچوں کے لیے کرکٹ بیٹس خرید رہے ہیں، اس امید کے ساتھ کہ وہ بڑے ہو کر Sachin Tendulkar اور Virat Kohli جیسے نامور کرکٹر بنیں گے۔ کشمیر آنے والے سیاح بھی کشمیری ولو کے بیٹس میں خاصی دلچسپی دکھا رہے ہیں۔
کبیر نے بتایا کہ کشمیری ولو کے بیٹس اب بین الاقوامی سطح پر بھی پہچان حاصل کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا،
“ہمارے بیٹس اس وقت کئی بیرونی ممالک میں بھیجے جا رہے ہیں اور وہاں استعمال بھی ہو رہے ہیں، جو کشمیری ولو کے معیار پر بڑھتے ہوئے اعتماد کا ثبوت ہے۔”
ایک سیاح نے کہا
“میں چاہتا ہوں کہ میرا بچہ کرکٹر بنے۔ یہاں کے بیٹس واقعی اچھے ہیں اور ان کا معیار بہت بہتر ہے۔”
ایک اور بیٹ فروش، عادل نے بتایا کہ جاری ورلڈ کپ ان کے لیے انتہائی فائدہ مند ثابت ہوا ہے۔
انہوں نے کہا،
“ہمارے ملک میں ورلڈ کپ جاری ہے اور ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس سے ہمارے کاروبار کو بہت فائدہ پہنچا ہے۔ سیاح اور مقامی کھلاڑی بڑی تعداد میں بیٹس خرید رہے ہیں۔ کام اتنا بڑھ گیا ہے کہ ہم مانگ کے مطابق بیٹس تیار کرنے سے قاصر ہو رہے ہیں۔”
قومی اور بین الاقوامی سطح پر بڑھتی ہوئی طلب نے کشمیر کی مقامی بیٹ سازی صنعت کو نئی زندگی دی ہے، جس سے ہنرمند کاریگروں کے لیے روزگار کے بہتر مواقع پیدا ہو رہے ہیں اور مقامی معیشت کو بھی مضبوط سہارا ملا ہے۔
جموں و کشمیر
آر ایس پورہ میں 3 قیدی فرار، دو پولیس اہلکار زخمی، بڑے پیمانے پر تلاش جاری

جموں،آر ایس پورہ جموں کے آبزرویشن ہوم میں پیر کی شام اس وقت سنسنی خیز واقعہ پیش آیا جب تین زیرِ حراست افراد دو پولیس اہلکاروں پر حملہ کرکے فرار ہوگئے۔ فرار ہونے والوں میں دو پاکستانی شہری بھی شامل بتائے گئے ہیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق واقعہ تقریباً شام 5 بجکر 15 منٹ پر پیش آیا، جب تینوں قیدیوں نے ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں پر اچانک حملہ کیا اور زخمی کرکے عمارت سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
فرار قیدیوں کی شناخت کراجیت سنگھ عرف گوگا ساکن ڈبلہڑ آر ایس پورہ، اور دو پاکستانی شہری محمد ثنااللہ اور احسن انور کے طور پر ہوئی ہے۔
واقعہ کے فوراً بعد پولیس نے کیس درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں، جبکہ فرار ملزمان کی تلاش کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔
پولیس نے متعدد مقامات پر تلاشی مہم تیز کردی ہے اور کہا ہے کہ فرار شدہ قیدیوں کو جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔
یو این آئی۔ ارشید بٹ
جموں و کشمیر
ڈیلی ویجروں کا بحران
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر انتظامیہ کا اہم فیصلہ:14 سیاحتی مقامات دوبارہ کھول دیے گئے
سری نگر، جموں و کشمیر میں سیاحتی سرگرمیوں کو بحال کرنے اور عوامی اعتماد کو مزید تقویت دینے کے مقصد سے انتظامیہ نے پیر کے روز ایک اہم اعلان کرتے ہوئے کشمیر اور جموں میں بند کیے گئے 14 مقبول سیاحتی مقامات کو فوراً دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک جامع سیکیورٹی جائزے اور اعلیٰ سطحی مشاورتی عمل کے بعد لیا گیا۔
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے دفتر کی جانب سے ایکس پر جاری بیان میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ متعدد مقامات کو احتیاطی طور پر بند کیا گیا تھا، تاہم تازہ ترین سیکیورٹی جائزے میں اطمینان بخش رپورٹ سامنے آنے کے بعد ان مقامات کو دوبارہ کھولنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
بیان کے مطابق کشمیر ڈویژن کے 11 اہم سیاحتی مراکز، جن میں یوسمرگ، دودھ پتھری (بڈگام)، ڈنڈی پورہ پارک (کوکرناگ)، پیر کی گلی، دوبجن اور پادپون (شوپیان)، آستان پورہ، ٹیولپ گارڈن (سرینگر)، تھاجواس گلیشیئر، ہنگ پارک (گاندربل) اور ولر/واٹلب (بارہمولہ) شامل ہیں، فوری طور پر کھول دیے جائیں گے۔
جموں ڈویژن میں بھی تین مقامات — دیوی پنڈی (ریاسی)، ماہو منگت (رامبن) اور مغل میدان (کشتواڑ) — کے لیے اسی نوعیت کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان تمام مقامات پر سیاحوں کی آمد کے لیے سیکیورٹی، ٹریفک اور انتظامی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ چیلنج سے نمٹا جا سکے۔
بیان میں مزید بتایا گیا کہ چار مزید مقامات، جن میں کشمیر ڈویژن کے گریز، اتھواتو اور بنگس جبکہ جموں ڈویژن کا رام کنڈ شامل ہے، کو برف ہٹتے ہی کھول دیا جائے گا۔ ان علاقوں میں اس وقت برف باری کے باعث سڑکوں پر رکاوٹیں موجود ہیں تاہم محکمہ مشینری ان رکاوٹوں کو دور کرنے میں مصروف ہے۔
سیاحتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے خطے کی معیشت کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا کیونکہ سیاحت نہ صرف مقامی روزگار کا سب سے بڑا ذریعہ ہے بلکہ کشمیر اور جموں کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ گزشتہ کئی ماہ سے بندشوں کے باعث سیاحتی کاروبار متاثر ہوا تھا، لیکن انتظامیہ کے اس فیصلے سے امید کی جا رہی ہے کہ سیاحوں کی آمد ایک بار پھر بڑھ جائے گی۔
اہم بات یہ ہے کہ ان مقامات کی بحالی سے نہ صرف ہوٹل انڈسٹری، ٹرانسپورٹرز اور مقامی دکانداروں کو فائدہ ہوگا بلکہ سیاحت سے جڑے ہزاروں خاندانوں کو بھی معاشی سہارا ملے گا۔
یو این آئی، ارشید بٹ،ایف اے
جموں و کشمیر4 days agoزعفران پیداوار میں کمی کا دعویٰ غلط؛ 3715 ہیکٹیر رقبہ برقرار: حکومت
دنیا2 days agoبنگلہ دیش انتخابات: بی این پی کی ہندوستان، چین اور پاکستان کے ساتھ تعلقات پر واضح پالیسی :طارق رحمان
ہندوستان6 days agoشاہ سی بی آئی کے سائبر کرائم ڈیش بورڈ کا افتتاح کریں گے
جموں و کشمیر6 days agoکمزور عملدرآمد، ادھورے وعدے اور سخت ضابطہ بندی نے بجٹ کو بیوروکریٹک دستاویز بنا دیا: سجا غنی لون
جموں و کشمیر6 days agoوراثتی زوال: کشمیری اخروٹ کی لکڑی سے بننے والی دستکاری خطرات کے سائے
کھیل6 days agoٹی20 ورلڈکپ: امریکہ کی ٹاس جیت کر پاکستان کو بیٹنگ کی دعوت
- جموں و کشمیر1 week ago
جموں و کشمیر میں پنچایت اور اربن لوکل باڈیز کے انتخابات کرانے کی پوری ذمہ داری اسٹیٹ الیکشن کمیشن پر عائد: حکومت
ہندوستان1 week agoدہلی کے نو اسکولوں کو بم سے اڑانے کی دھمکی، سکیورٹی ایجنسیاں چوکس
کھیل6 days agoنیوزی لینڈ نے یو اے ای کو 10 وکٹوں سے بدترین شکست دے دی
دنیا3 days agoبنگلہ دیش کے پارلیمانی انتخابات میں طارق رحمان کی بی این پی نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی
جموں و کشمیر6 days agoسانبہ میں جعلی کرنسی کی تحقیقات کے نتیجے میں 19 کروڑ روپے کی کوکین برآمد، ملزم گرفتار: پولیس
دنیا6 days agoپرنس ولیم اور کیٹ مڈلٹن نے ایپسٹین فائلز پر خاموشی توڑ دی


























































































