جموں و کشمیر
جی ٹونٹی اجلاس: کشمیر میں ہڑتال قصہ پارینہ، یہاں کے لوگوں نے ہڑتالی کلچر کو مسترد کیا:مرکزی وزیر مملکت

سری نگر،22مئی (یو این آٰئی)وزیر اعظم دفتر میں تعینات وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے منگل کے روز کہا کہ کشمیر میں ہڑتال اب قصہ پارینہ بن چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں جب اس طرح کے پروگرام منعقد ہوا کرتے تھے تو ہمسایہ ملک کی جانب سے ہڑتال کی کال دی جاتی تھی لیکن آج کشمیر کی صورتحال اس کے برعکس ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پچھلے تین دہائیوں کی نامساعد حالات کی وجہ سے یہاں کے لوگوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔
ان باتوں کا اظہار موصوف نے ایس کے آئی سی سی میں جی ٹونٹی اجلاس سے خطاب کے دوران کیا۔
انہوں نے کہاکہ سری نگر میں جی ٹونٹی سربراہی اجلاس غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ ماضی میں یہاں پر اس طرح کا کوئی پروگرام منعقد نہیں ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر ایک پر کشش جگہ ہے اور یہاں کےقدرتی نظارے لوگوں کو اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کشمیر میں فلم انڈسٹری کے لئے کافی مواقعے دستیاب ہیں لہذا اس سے استفادہ حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔
مرکزی وزیر مملکت کا مزید کہنا تھا کہ جب کشمیر میں اس طرح کے پروگرام منعقد ہوا کرتے تھے تو اسلام آباد کی جانب سے ہڑتال کی کال دی جاتی تاہم آج ایسا نہیں ہے بلکہ یہاں کے لوگوں نے اس کلچر کو پوری طرح سے مسترد کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر میں ہڑتال اب قصہ پارینہ بن گیا ہے اور لوگ بھی اب یہاں پر پر امن طورپر اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ نامساعد حالات کی وجہ سے کشمیر کے لوگوں کو کافی مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے مزید بتایاکہ تین دہائیوں کے نامساعد حالات کی وجہ سے کشمیر کو کافی نقصان اٹھانا پڑا تاہم آج حالات بدل چکے ہیں، موجودہ وزیراعظم کی سربراہی میں جموں وکشمیر کافی آگے بڑھ چکاہے۔
انہوں نے کہا کہ یہاں کے لوگوں کو اپنے بچوں کی مستقبل کی فکر کرنی چاہئے۔
اس موقع پر سیاحت کے مرکزی وزیر جے کشن ریڈی نے کہا کہ کشمیر واقعی میں جنت کا ایک ٹکڑا ہے۔
انہوں نے کہاکہ یہاں فلم انڈسٹری کے لئے کافی وسائل موجود ہیں جس سے ہر ایک کو فائدہ اٹھانا چاہئے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ کشمیر میں جی ٹونٹی کا اجلاس تاریخی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس سے یہاں تعلیم یافتہ نوجوانوں کو روزگار کے مواقعے دستیاب ہونگے۔
مرکزی وزیر نے مزید بتایا کہ کشمیر کے قدرتی نظارے لوگوں کو اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں اور یہ کہ ماضی میں یہاں پر اکثر فلموں کی شوٹنگ ہوا کرتی تھی اور مجھے یقین ہے کہ اس طرح کے پروگرام سے بالی ووڈ کے پروڈوسر یہاں پر فلموں کی شوٹنگ کے لئے آئیں گے ۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سری نگر ایئرپورٹ پر حجاجِ کرام کے پہلے قافلے کا استقبال کیا
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے منگل کے روز سری نگر بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حج کی سعادت حاصل کر کے واپس لوٹنے والے عازمین کے پہلے قافلے کا شاندار اور والہانہ استقبال کیا۔ سرکاری حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے۔حجاجِ کرام کو لے کر پہلی پرواز دوپہر 1:28 بجے سری نگر انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اتری، جس کے فوراً بعد ایئرپورٹ حکام نے امیگریشن سمیت تمام ضروری کاغذی کارروائیاں انتہائی خوش اسلوبی اور مؤثر انداز میں مکمل کیں۔
اس پہلی پرواز کے ذریعے مجموعی طور پر 144 حجاجِ کرام وطن واپس پہنچے ہیں، جن میں 74 مرد اور 70 خواتین شامل ہیں۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے خود ایئرپورٹ پر موجود رہ کر حجاج کا استقبال کیا اور انہیں اس مقدس اور بابرکت سفر کی کامیاب تکمیل پر مبارکباد پیش کی۔
وزیر اعلیٰ نے حجاجِ کرام سے گفتگو کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کی دعائیں اور روحانی تجربات جموں و کشمیر کے ساتھ ساتھ پورے ملک میں امن، خوشحالی، ترقی اور خیر و عافیت کا سبب بنیں گے۔ انہوں نے عازمین سے سعودی عرب میں ان کے قیام اور واپسی کے سفر کے انتظامات کے بارے میں بھی دریافت کیا اور ان کی اچھی صحت، خوشحالی اور بہترین مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
عمر عبداللہ نے سری نگر ایئرپورٹ پر حجاج کے آسان اور آرام دہ استقبال کے لیے تمام متعلقہ محکموں اور ایجنسیوں کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے حکام کو سخت ہدایات جاری کیں کہ وطن واپس لوٹنے والے تمام حجاجِ کرام کے سامان کی بحفاظت اور بروقت فراہمی، ٹرانسپورٹ (نقل و حمل) اور دیگر امدادی خدمات سمیت ہر قسم کی ضروری سہولیات کو یقینی بنایا جائے۔
واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ نے اس سے قبل حجاج کے سامان کی منتقلی میں ہونے والی تاخیر کا معاملہ حکومتِ ہند اور متعلقہ اعلیٰ حکام کے سامنے اٹھایا تھا۔ انہوں نے مرکزی وزیر برائے شہری ہوا بازی کو لکھے گئے اپنے خط میں سامان کی بروقت ڈیلیوری اور بہتر انتظام کی ضرورت پر زور دیا تھا۔رواں سال جموں و کشمیر سے مجموعی طور پر 4,641 عازمین نے فریضۂ حج ادا کیا ہے، جن میں سے 3,952 حجاج سری نگر مرکز (ایمبرکیشن پوائنٹ) کے ذریعے واپس لوٹیں گے۔ ان تمام حجاج کی واپسی کی پروازیں 2 جون سے 16 جون کے درمیان شیڈول ہیں۔
یواین آئی ۔م اع
جموں و کشمیر
کشمیر میں سیاسی جمود توڑنے کی کوشش،محبوبہ مفتی کی وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کے پاس مشترکہ وفد بھیجنے کی اپیل
سرینگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی ) کی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے وادی میں امن و امان کی بحالی اور نئے سرے سے مذاکرات کے آغاز کے لیے تمام سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کو متحد ہونے کی دعوت دی ہے انہوں نے جموں و کشمیر کے حقوق کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا ہے کہ وہ باہمی اختلافات بھلا کر ایک مشترکہ وفد کی صورت میں وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کریں۔
محبوبہ مفتی نے یکم جون کو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، بی جے پی رہنما اور اپوزیشن لیڈر سنیل شرما، جموں و کشمیر کانگریس کے صدر طارق حمید کرہ اور دیگر سیاسی و سماجی رہنماؤں کو الگ الگ خطوط ارسال کیے۔ اپنے خط میں انہوں نے لکھا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر تاریخ کے ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں عوام میں مایوسی اور بے چینی کی لہر دوڑ چکی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے (یو ٹی) کے عوام کی امنگوں، شکایات اور خدشات کو قومی سطح پر مؤثر انداز میں پہنچانے کے لیے ایک مشترکہ اور مربوط آواز کی اشد ضرورت ہے۔
پی ڈی پی سربراہ نے لداخ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ حال ہی میں ‘لیہہ ایپکس باڈی’ اور ‘کارگل ڈیموکریٹک الائنس’ نے جس طرح مرکز کے ساتھ مذاکرات میں کامیابی حاصل کی ہے، وہ ہمارے لیے ایک بڑا سبق ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بامقصد نتائج صرف اور صرف تعمیری بات چیت سے ہی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
یواین آئی ۔م اع
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر اور لداخ میں 6.74 لاکھ سے زیادہ خاندانوں نے خود شماری میں حصہ لیا: ڈائریکٹر سنسس آپریشنز
جموں، جموں و کشمیر اور لداخ کے ڈائریکٹر سنسس آپریشنز (مردم شماری) امت شرما نے پیر کے روز کہا کہ جموں و کشمیر اور لداخ میں 6.74 لاکھ سے زیادہ خاندانوں نے خود شماری (سیلف انیومریشن) کے عمل میں حصہ لیا ہے۔
جموں و کشمیر یونین ٹریٹری میں مردم شماری 2027 کے تحت ‘مکانوں کی فہرست سازی’ (ہاؤس لسٹنگ) کے باضابطہ آغاز کے ساتھ ہی، مسٹر شرما نے تمام باشندوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مہینے بھر جاری رہنے والی اس مردم شماری مہم کے دوران گھروں کا دورہ کرنے والے شمار کنندگان (انو مریٹرز) اور نگرانوں (سپروائزرز) کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔
ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر نے حال ہی میں ختم ہونے والے خود شماری کے مرحلے کے ردعمل کو حوصلہ افزا قرار دیا اور کہا کہ یہ ہندوستان کی پہلی مکمل طور پر ڈیجیٹل اور پیپر لیس مردم شماری مہم میں بڑھتی ہوئی عوامی شرکت کی عکاسی کرتا ہے۔
مسٹر شرما نے مطلع کیا کہ مکانوں کی فہرست سازی کا کام شروع ہونے سے پہلے جموں و کشمیر یونین ٹریٹری میں کل 6 لاکھ، 67 ہزار، 517 خاندانوں نے اور لداخ یونین ٹریٹری میں 7,009 خاندانوں نے سرکاری پورٹل کے ذریعے اپنی خود شماری کے عمل کو کامیابی کے ساتھ مکمل کیا ہے۔
ڈائریکٹر نے ذکر کیا کہ جموں و کشمیر کے تمام اضلاع میں اس عمل کے دوران شاندار شرکت دیکھی گئی، جن میں خاص طور پر پلوامہ، جموں اور کلگام جیسے اضلاع میں مثبت اور بہترین ردعمل درج کیا گیا۔
مسٹر شرما نے لداخ کے لیہہ اور کارگل اضلاع کے شہریوں کی شرکت کی بھی ستائش کی اور خود شماری کے مرحلے کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں تعاون دینے پر ضلعی انتظامیہ، پرنسپل سنسس افسران، فیلڈ اسٹاف، میڈیا اداروں اور شہریوں کا شکریہ ادا کیا۔
مردم شماری 2027 کی تیاریوں کے وسیع پیمانے پر روشنی ڈالتے ہوئے مسٹر شرما نے بتایا کہ دونوں مرکزی زیرِ انتظام علاقوں میں ‘مکانوں کی فہرست سازی کے بلاکس’ (ہاؤس لسٹنگ بلاکس) کی حد بندی اور جیو ٹیگنگ کی سرگرمیاں تقریباً مکمل ہو چکی ہیں۔ اس کے تحت جموں و کشمیر میں 23,600 سے زیادہ مکانوں کی فہرست سازی کے بلاکس کی حد بندی کی گئی ہے۔ لداخ میں 567 مکانوں کی فہرست سازی کے بلاکس کی حد بندی مکمل ہو چکی ہے۔
اسی طرح، مسٹر شرما نے کہا کہ تمام اضلاع اور دور دراز کے علاقوں میں مردم شماری کے عمل کو پیشہ ورانہ اور یکساں طریقے سے یقینی بنانے کے لیے ماسٹر ٹرینرز، فیلڈ ٹرینرز، شمار کنندگان (انو مریٹرز) اور نگرانوں (سپروائزرز) کے لیے جامع تربیتی پروگرام مکمل کر لیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جموں و کشمیر میں 27,000 سے زیادہ اور لداخ میں تقریباً 800 سنسس کٹس پہلے ہی بھیجے جا چکے ہیں، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ عملہ مکانوں کی فہرست سازی کے آغاز کے لیے مکمل طور پر لیس ہے۔
شہریوں سے شمار کنندگان اور نگرانوں کے ساتھ بھرپور تعاون کرنے کی اپیل کرتے ہوئے مسٹر شرما نے کہا کہ مکانوں کی فہرست سازی، مردم شماری کا ایک انتہائی اہم مرحلہ ہے، جس کے دوران مکانات کی تعداد، گھریلو سہولیات اور رہائشی حالات سے متعلق معلومات جمع کی جائیں گی۔ انہوں نے باشندوں سے گزارش کی کہ وہ مردم شماری کے اہلکاروں کو درست، مکمل اور سچی معلومات فراہم کریں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قابلِ اعتماد مردم شماری کا ڈیٹا ہی فلاحی اسکیموں، صحت کی خدمات، تعلیمی بنیادی ڈھانچے، شہری ترقی کے اقدامات اور مختلف سماجی و اقتصادی پروگراموں کی منصوبہ بندی اور نفاذ کی بنیاد بنتا ہے۔
مسٹر شرما نے شہریوں کو یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ مردم شماری کے دوران جمع کی جانے والی تمام معلومات سنسس ایکٹ (مردم شماری ایکٹ)، 1948 کے دفعات کے تحت مکمل طور پر خفیہ رہتی ہیں اور اس کا استعمال خاص طور پر صرف شماریاتی مقاصد کے لیے کیا جاتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ذاتی معلومات قانون کے تحت محفوظ ہیں اور اسے کسی بھی دوسری ایجنسی یا ادارے کے ساتھ شیئر نہیں کیا جا سکتا۔
یو این آئی۔ م ع
جموں و کشمیر1 week agoجنوبی کشمیر میں سراج العلوم مدرسے پر این آئی اے کے چھاپے
دنیا3 days agoایران کا دو ممالک کو آبنائے ہرمز پر خصوصی سہولت دینے کا اعلان
ہندوستان1 week agoسپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی ہے جس میں ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کی سرگرمیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا
ہندوستان1 week agoپٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے پر کانگریس نے حکومت پر بولاحملہ ، “مہنگائی مین” کا دیا تمغہ
دنیا4 days agoایران معاہدے پر ڈونلڈ ٹرمپ کا حتمی فیصلہ مؤخر: امریکی اخبار کا دعویٰ
دنیا4 days agoمعاہدے پر ابھی تک حتمی اتفاق نہیں ہوا: وینس
دنیا1 week agoجس طرح بھی ممکن ہو آبنائے ہرمز نے کھلنا ہی ہے، امریکی وزیر خارجہ
جموں و کشمیر1 week agoگلمرگ کی مشہور گونڈولا کیبل کار سروس ایک ہفتے کے لیے بند
دنیا4 days agoٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان
ہندوستان1 week agoایندھن کی قیمتوں پر کھڑگے کا مودی حکومت پر حملہ، ہر روز ہو رہی ہے عوام کی جیب پر ڈکیتی
دنیا4 days agoامریکہ اسرائیل کے تمام جرائم میں شریک ہے: ترجمان ایرانی دفترِ خارجہ
دنیا1 week agoمکمل طور پر اسرائیلی انخلاء ایک قومی ترجیح ہے:لبنانی صدر




































































































