ہندوستان
مغربی ایشیا کے بحران کے باعث عالمی بینک نے مالی سال 27 کے لیے ہندوستان کی شرح نمو کم کر کے 6.6 فیصد کر دی
نئی دہلی، عالمی بینک نے مالی سال 2026-27 کے لیے ہندوستان کی شرح نمو 6.6 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔ عالمی بینک کا کہنا ہے کہ وافر زرمبادلہ کے ذخائر اور مضبوط بینکنگ نظام خطرات سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہوں گے، تاہم اس کے باوجود ہندوستان کی ترقی کی رفتار میں کمی کے امکانات زیادہ ہیں رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مالی سال 25 میں شرح نمو 7.1 فیصد تھی جو مالی سال 26 میں مضبوط مقامی مانگ اور برآمدات کی لچک کی بدولت 7.6 فیصد تک پہنچنے کا تخمینہ ہے۔
عالمی بینک کے مطابق رواں مالی سال کے لیے ہندوستان میں خرردہ مہنگائی کی شرح 4.9 فیصد رہنے کا امکان ہے، جو خوراک اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور کرنسی کی قدر میں کمی کے دباؤ کی عکاسی کرتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ جی ایس ٹی کی شرحوں میں کمی سے مالی سال 27 کی پہلی ششماہی میں صارفین کی مانگ برقرار رہے گی، لیکن توانائی کی عالمی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی بڑھے گی اور گھرانوں کی آمدنی متاثر ہوگی۔
عالمی بینک کے نائب صدر برائے جنوبی ایشیا، جوہانس زٹ نے کہا کہ عالمی چیلنجوں کے باوجود جنوبی ایشیا کی ترقی کے امکانات مضبوط ہیں۔
موڈیز ریٹنگز نے بھی رواں مالی سال کے لیے ہندوستان کی اقتصادی شرح نمو کا تخمینہ 6.8 فیصد سے کم کر کے 6 فیصد کر دیا ہے۔ مقامی ریٹنگ ایجنسی ‘آئی سی آر اے’ کو توقع ہے کہ مغربی ایشیا کے تنازعہ کے باعث توانائی کی بلند قیمتوں اور دستیابی سے متعلق خدشات کی وجہ سے مالی سال 27 میں شرح نمو کم ہو کر 6.5 فیصد رہ جائے گی۔
تازہ ترین پیش گوئی جنوبی ایشیا کے لیے بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے وقت سامنے آئی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور عالمی توانائی کی منڈیوں میں مسلسل خلل نے خطے کی معیشتوں کے لیے مشکل ماحول پیدا کر دیا ہے۔
ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے گورنر سنجے ملہوترا نے مالیاتی پالیسی کمیٹی کے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ مغربی ایشیا کا تنازعہ ہندوستان کی ترقی پر “منفی اثر” ڈالے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ توانائی کی قیمتوں، بین الاقوامی مال برداری اور انشورنس کے اخراجات میں اضافے کے ساتھ سپلائی چین میں رکاوٹیں ترقی کو متاثر کر سکتی ہیں۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ حکومت نے برآمدات کو سہارا دینے اور سپلائی چین کے تحفظ کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں، جس سے اس تنازع کے منفی اثرات کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
یو این آئی۔ م ع۔ایف اے
ہندوستان
مغربی ایشیائی خطے میں تجارتی بحری جہازوں پر حملوں میں سب سے زیادہ ہندوستانی شہری ہلاک ہوئے: وزارت خارجہ
نئی دہلی، وزارت خارجہ نے مغربی ایشیا میں تجارتی بحری جہازوں پر دوبارہ شروع ہونے والے حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کشیدگی کے آغاز کے بعد سے ان حملوں میں اب تک سب سے زیادہ ہندوستانی شہری ہلاک ہوئے ہیں، تاہم وزارت نے ہلاک ہونے والوں کی درست تعداد نہیں بتائی۔
منگل کو آبنائے ہرمز میں ہندوستانی عملے والے دو تجارتی بحری جہازوں پر ایران کے حالیہ حملوں کے تناظر میں بھارتی شہریوں کی ہلاکتوں کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ یہ درست ہے کہ اس خطے میں بحری جہازوں پر ہونے والے حملوں میں سب سے زیادہ بھارتی شہری ہی جان سے گئے ہیں، لیکن فی الحال ان کے پاس ہلاکتوں کی درست تعداد موجود نہیں ہے۔
وزارت خارجہ نے ان حملوں کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے منگل کو نئی دہلی میں ایرانی سفارت خانے کے ایک سفارت کار کو طلب کیا اور اس پر سخت احتجاج درج کراتے ہوئے حملوں کی شدید مذمت کی۔ ان حملوں میں جہاز پر سوار عملے کے ایک بھارتی رکن کی موت ہو گئی جبکہ متعدد دیگر زخمی ہوئے ہیں۔
وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ بھارت مغربی ایشیا میں حملوں کے دوبارہ آغاز اور بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے اور خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کے مفاد میں فوری طور پر تشدد بند کرنے اور مذاکرات و سفارت کاری کی بحالی کا مطالبہ کرتا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ بھارت آبنائے ہرمز سے گزرنے کے دوران دو بحری جہازوں ایم ٹی ال بہیاح اور ایم ٹی ممباسا پر ہونے والے حملوں پر شدید تشویش رکھتا ہے۔ دونوں جہازوں کے 46 رکنی عملے میں 30 بھارتی ملاح شامل تھے۔
ایم ٹی ال بہیاح پر سوار 12 بھارتی شہریوں میں سے ایک ہلاک جبکہ ایک زخمی ہوا ہے۔ دوسری جانب ایم ٹی ممباسا پر موجود 18 بھارتی شہریوں میں سے 9 زخمی ہوئے ہیں، جن میں دو کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
وزارت نے کہا، “ہم جاں بحق ہونے والے بھارتی شہری کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں ہمارا سفارتی مشن صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور متاثرہ بھارتی ملاحوں کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے اماراتی حکام سے مسلسل رابطے میں ہے۔”
بیان کے مطابق نئی دہلی میں ایرانی سفارت خانے کے نائب سربراہِ مشن کو وزارت خارجہ نے طلب کرکے ان حملوں کے خلاف سخت احتجاج ریکارڈ کرایا۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
ممتاز مورخ پروفیسر ظہیر حسین جعفری نہیں رہے
نئی دہلی، علمی وادبی حلقوں میں یہ خبر انتہائی رنج و غم کے ساتھ سنی جائے گی کہ ممتاز مورخ پروفیسر ظہیر حسین جعفری انتقال کرگئے وہ تقریباً دو برس سے بستر علالت پر تھے یہ اطلاع معروف صحافی اور ادیب معصوم مرادآبادی نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں دی انھوں نے کہا کہ پروفیسر جعفری دہلی یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ کے سابق استاد تھے اور ان کا شمار نہایت لائق اساتذہ میں ہوتا تھا ۔ ان کے بڑے بھائی پروفیسر نقی حسین جعفری مرحوم کا تعلق جامعہ ملیہ اسلامیہ کے انگریزی شعبے سے تھا اور وہ اساتذہ کی کل ہند تنظیم کے عہدے دار تھے۔
معصوم مرادآبادی نے کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے فیض یافتہ پروفیسر جعفری ایک ممتاز محقق، نہایت شائستہ و باوقار شخصیت اور علم و فضل کے پیکر تھے۔ ان کا انتقال دہلی میں ہوا، اور ان کی میت تدفین کے لیے ان کے آبائی شہر سلون، ضلع رائے بریلی (یوپی) لے جائی جا رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ وہ سلون کی معروف خانقاہ سے تعلق رکھتے تھے اور اپنی علمی خدمات، انکساری اور خوش اخلاقی کے باعث ہر خاص و عام میں عزت، احترام اور محبت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ ان کا انتقال علیگ برادری اور علمی دنیا کے لیے ایک بڑا سانحہ ہے۔ وہ ہمیشہ محبت و احترام کے ساتھ یاد کیے جائیں گے اور ان کی کمی شدت سے محسوس کی جائے گی۔ ہم ان کے اہلِ خانہ، عزیز و اقارب، احباب، شاگردوں اور بے شمار عقیدت مندوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
ہندوستان
ہندستان نے سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کی امیدواری پیش کی، کہا وہ محفوظ اور خوشحال دنیا کے لیے پرعزم
نئی دہلی، ہندستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غیر مستقل رکن کے طور پر اپنی امیدواری پیش کرتے ہوئے محفوظ، مستحکم اور خوشحال دنیا کے تئیں عزم کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ترقی پذیر ملکوں کی مضبوط آواز اور بین الاقوامی امن و سلامتی سے جڑے مسائل میں ان ملکوں کے خدشات کو مناسب جگہ دینا اس کی ترجیح ہوگی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے منگل کی صبح نیویارک میں واقع اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں سلامتی کونسل میں سال 29-2028 کی مدت کے لیے ہندستان کی انتخابی مہم کا باضابطہ طور پر آغاز کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ انہوں نے ہندستان کے ‘شانتی’ نقطہ نظر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد اصولوں، اعتماد اور دیانت داری کے ذریعے دنیا میں ہمہ جہت ترقی کو یقینی بنانا ہے۔
مسٹر جے شنکر نے سوشل میڈیا پوسٹ پر لکھا کہ انہوں نے ہندستان کی دعویداری کو مضبوط طریقے سے پیش کرتے ہوئے کہا کہ ترقی پذیر ملکوں کی آواز کو بااختیار بنانا اور بین الاقوامی امن و سلامتی سے جڑے مسائل میں ان کے خدشات کو مناسب جگہ دینا بھارت کی ترجیح ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ملکوں کو ہمارے مشترکہ مستقبل کے تعین میں زیادہ اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ہندستان کی ترجیحات میں اصلاحات پر مبنی کثیر فریقی نظام کو آگے بڑھانا بھی شامل رہے گا تاکہ وہ زیادہ جمہوری، نمائندہ اور مؤثر بن سکے۔ ہندستان کا نقطہ نظر بات چیت، تعاون اور اختلافات کو دور کرنے پر مبنی رہے گا۔ ہندستان مستقبل کے مطابق امن کے قیام کے نظام کو زیادہ قابل، ٹیکنالوجی سے لیس، حقیقت پسندانہ ذمہ داریوں والا اور اپنے بنیادی مقاصد پر مرکوز بنانے کی سمت میں کام کرے گا۔ خواتین، امن اور سلامتی کے ایجنڈے کی رہنمائی میں ہم ہمیشہ خواتین امن فوجیوں کے کردار کی حمایت کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے لیے شمولیت، سلامتی اور عوامی مفاد پر مبنی انسان دوست نقطہ نظر کو فروغ دیا جائے گا۔ ساتھ ہی، اس کے غلط استعمال اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے پیدا ہونے والے خطرات کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کرنے کے لیے بھی ہم یکساں طور پر پرعزم ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ بین الاقوامی قانون، خاص طور پر سمندر کے قانون پر اقوام متحدہ کے قوانین کے مطابق آزاد، کھلے اور ضابطہ پر مبنی سمندری نظام کو فروغ دینا ہندستان کا مقصد ہے۔ سمندری تجارت کے محفوظ اور بلا رکاوٹ تسلسل کو برقرار رکھنا، بحری قزاقی کا مقابلہ کرنا، جہاز رانوں کی حفاظت کو یقینی بنانا اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد اور آفات سے نمٹنے کی کارروائیوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہماری ترجیح ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ہندستان کا مؤثر اور مسلسل کوششوں کے ذریعے دہشت گردی کی مالی معاونت کا مقابلہ کرنے پر زور رہے گا۔ دہشت گرد تنظیموں کو بلیک لسٹ کرنے کے لیے ٹھوس اور شواہد پر مبنی تجاویز پر مشتمل شفاف پابندیوں کا نظام وقت کی ضرورت ہے۔ مسٹر جے شنکر نے زور دے کر کہا کہ اصلاحات پر مبنی، مناسب نمائندگی والی اور نتائج پر مبنی سلامتی کونسل میں ترقی پذیر ملکوں کی مضبوط آواز کا ہونا لازمی ہے۔
مسٹر جے شنکر نے ارکان سے اپیل کی کہ وہ ہندستان کی ترجیحات کی بنیاد پر خود اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ زیادہ محفوظ، مستحکم اور خوشحال دنیا کے تئیں ہندستان کے عزم کا معیار کتنا بلند ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان اہداف کو وسیع مشاورت اور مختلف مفادات کے تال میل کے ذریعے بہترین طریقے سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا، ” ہمارا یقین ہے کہ سلامتی کونسل میں ہندستان کی موجودگی اس اہم ادارے میں فیصلہ سازی کو مضبوط کرنے میں مدد کرے گی۔ اس لیے ہم اپنی امیدواری کے لیے آپ کے تعاون کی درخواست کرتے ہیں۔”
یو این آئی ایف اے
دنیا1 week agoسپریم لیڈر کے قاتل کو سزائے موت کی طرف لے جائیں گے: سربراہ ایرانی عدلیہ
دنیا1 week agoامریکہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کا نفاذ مشکل لیکن ممکن: قالیباف
ہندوستان6 days agoرام مندر چڑھاوا تنازع گرما گیا، تیواری بولے– ’قصورواروإ کو بچانے میں مصروف بی جے پی حکومت‘
ہندوستان1 week agoحکومت کی ایم ایس ایم ای مخالف پالیسیوں سے راجستھان کے بس ٹرک باڈی بلڈرز پر بحران۔ راہل
دنیا6 days agoایران کے امریکی اڈوں پر میزائل حملے، امریکہ پر اسلام آباد معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام
دنیا1 week agoایران کا انتقاماً یروشلم کو آزادی دلانے کا اعلان
دنیا6 days agoٹرمپ نے بندر عباس پر حملوں کی ویڈیو جاری کر دی
دنیا1 week agoنیٹو سربراہی اجلاس سے قبل یوکرین پر روس کا بدترین فضائی حملہ، 11 افراد ہلاک
دنیا6 days agoمشرق وسطیٰ میں کشیدگی: عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
ہندوستان4 days agoاتراکھنڈ کی بی جے پی حکومت سے لوگوں میں ہے مایوسی: کانگریس
دنیا4 days agoشہید خامنہ ای کی آخری رسومات میں سوا 4 کروڑ سے زائد افراد نے شرکت کی: ایرانی میڈیا
دنیا6 days agoامریکہ کا ایران پر حملہ، اسرائیل کی جنوبی لبنان پر بمباری





































































































