تجزیہ
ہیٹ ویوز اور اوزون: ہندوستان میں دل اور پھیپھڑوں کی بیماریوں سے بڑھتی ہوئی اموات کا سنگین بحران
خصوصی مضمون: ظفر اقبال
موسمیاتی تبدیلی اکیسویں صدی کا سب سے بڑا عالمی چیلنج بن چکی ہے, دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، شدید موسمی واقعات، خشک سالی، سیلاب اور گرمی کی لہروں نے انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو متاثر کیا ہے, ہندوستان جو دنیا کی سب سے بڑی آبادی والے ممالک میں شامل ہے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا سامنا کرنے والے ممالک کی صفِ اول میں کھڑا ہے, حالیہ برسوں میں ملک کے مختلف علاقوں میں شدید گرمی کی لہروں کی تعداد، شدت اور دورانیہ میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ فضائی آلودگی، خصوصاً سطحی اوزون ایک خاموش مگر مہلک خطرے کے طور پر ابھر رہی ہے۔
12 جون کو نیچر پورٹ فولیو کے جریدے ’این پی جے کلین ائر‘ میں شائع ہونے والی ایک جائزہ تحقیق نے ایک نہایت اہم اور تشویشناک حقیقت کو اجاگر کیا ہے۔ اس تحقیق کے مطابق ہندوستان میں گرمی کی لہروں کے دوران سطحی اوزون کی مقدار خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے، جس کے نتیجے میں دل اور پھیپھڑوں کی بیماریوں سے ہونے والی اموات میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ مطالعے کے مطابق 2024 کے دوران ہیٹ ویو کے دنوں میں تقریباً 830 اضافی اموات ریکارڈ ہوئیں، جن کا تعلق گرمی اور اوزون کے مشترکہ اثرات سے تھا۔
یہ تحقیق اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اور فضائی آلودگی الگ الگ مسائل نہیں بلکہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے بحران ہیں جو انسانی صحت کے لیے دوہرا خطرہ پیدا کر رہے ہیں۔
عام طور پر جب اوزون کا ذکر ہوتا ہے تو لوگوں کے ذہن میں فضا کی بالائی تہہ میں موجود اوزون کی حفاظتی پرت آتی ہے، جو سورج کی نقصان دہ بالائے بنفشی شعاعوں کو زمین تک پہنچنے سے روکتی ہے۔ تاہم سطحی اوزون اس سے بالکل مختلف ہے۔
سطحی اوزون ایک ثانوی فضائی آلودگی ہے جو براہ راست خارج نہیں ہوتی بلکہ مختلف آلودہ گیسوں کے باہمی کیمیائی تعامل سے بنتی ہے۔ گاڑیوں، صنعتی کارخانوں، بجلی گھروں اور دیگر ذرائع سے خارج ہونے والے نائٹروجن آکسائیڈز اور غیر مستحکم نامیاتی مرکبات سورج کی روشنی اور زیادہ درجہ حرارت کی موجودگی میں اوزون پیدا کرتے ہیں۔
اسی وجہ سے گرم اور دھوپ والے دنوں میں اوزون کی سطح زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ جب گرمی کی لہریں آتی ہیں تو درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ اوزون کی تشکیل کے عمل کو مزید تیز کر دیتا ہے۔
تحقیق کے مطابق شمالی ہندوستان میں گرمی کی لہروں کے دوران اوزون کی سطح 85 سے 110 مائیکروگرام فی مکعب میٹر تک پہنچ جاتی ہے، جبکہ عالمی ادارہ صحت کی محفوظ حد 100 مائیکروگرام فی مکعب میٹر مقرر کی گئی ہے۔
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ہیٹ ویو کے دوران اوزون کی مقدار محفوظ سطح سے کہیں زیادہ ہو جاتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گرمی کی لہر ختم ہونے کے تقریباً تین سے چار دن بعد اوزون کی سطح دوبارہ کم ہونا شروع ہو جاتی ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ شدید گرمی اوزون کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
ہندوستان کے شمالی علاقوں خصوصاً دہلی، پنجاب، ہریانہ، اتر پردیش اور راجستھان میں گرمی کی شدت زیادہ ہونے کے باعث اوزون کی سطح بھی زیادہ ریکارڈ کی گئی۔ تاہم مطالعے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ملک کا کوئی خطہ ایسا نہیں جہاں اوزون کی سطح عالمی ادارہ صحت کی سفارش کردہ حد سے نیچے رہی ہو۔
سطحی اوزون کو دنیا کے خطرناک ترین فضائی آلودگی پھیلانے والے عناصر میں شمار کیا جاتا ہے۔ جب انسان آلودہ ہوا میں سانس لیتا ہے تو اوزون براہ راست پھیپھڑوں اور نظامِ تنفس کو متاثر کرتی ہے۔
اس کے فوری اثرات میں شامل ہیں: سانس لینے میں دشواری، کھانسی اور گلے میں جلن، سینے میں درد، دمہ کی شدت میں اضافہ اور پھیپھڑوں کی کارکردگی میں کمی
تاہم اس کے طویل مدتی اثرات کہیں زیادہ خطرناک ہیں۔ مسلسل اوزون کی نمائش دل کی بیماریوں، فالج، دائمی پھیپھڑوں کی بیماریوں اور قبل از وقت اموات کے خطرات کو بڑھا دیتی ہے۔تحقیق سے واضح ہوا ہے کہ اوزون صرف پھیپھڑوں ہی نہیں بلکہ قلبی نظام کو بھی متاثر کرتی ہے۔ یہ خون کی نالیوں میں سوزش پیدا کرتی ہے، جس سے دل پر اضافی دباؤ پڑتا ہے اور دل کے دورے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
اسکیمک دل کی بیماری (Ischemic Heart Disease) دنیا بھر میں اموات کی سب سے بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔ یہ بیماری اس وقت پیدا ہوتی ہے جب دل کو خون فراہم کرنے والی شریانیں تنگ یا بند ہو جاتی ہیں۔
مطالعے کے مطابق 2024 میں ہیٹ ویو کے دوران اوزون کے بڑھنے سے تقریباً 26,500 اموات اسکیمک دل کی بیماری اور سی او پی ڈی سے منسلک پائی گئیں۔ ان میں سے تقریباً 490 اضافی اموات صرف دل کی بیماریوں کے سبب واقع ہوئیں۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گرمی اور فضائی آلودگی کا امتزاج دل کے مریضوں کے لیے نہایت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ بزرگ افراد، ہائی بلڈ پریشر کے مریض، ذیابیطس کے شکار افراد اور پہلے سے دل کے امراض میں مبتلا لوگ اس خطرے کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔
دائمی رکاوٹ پلمونری بیماری (Chronic Obstructive Pulmonary Disease (COPD) ایک سنگین بیماری ہے جس میں پھیپھڑوں کی ہوا کی نالیاں تنگ ہو جاتی ہیں اور مریض کو سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔اوزون پھیپھڑوں میں سوزش پیدا کرتی ہے اور سی او پی ڈی کے مریضوں کی حالت مزید خراب کر دیتی ہے۔ تحقیق کے مطابق گرمی کی لہروں کے دوران سی او پی ڈی سے متعلق تقریباً 342 اضافی اموات ریکارڈ کی گئیں۔ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ فضائی آلودگی صرف ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سنگین صحت عامہ کا بحران ہے۔
گرمی کی لہروں میں اضافہ محض اتفاق نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلی کا براہ راست نتیجہ ہے۔ عالمی سطح پر درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے شدید گرمی کے واقعات زیادہ بار اور زیادہ شدت کے ساتھ رونما ہو رہے ہیں۔ہندوستان میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران گرمی کی لہروں کی تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ایسے حالات اوزون کی تشکیل کے لیے مثالی ماحول فراہم کرتے ہیں۔یعنی ایک طرف موسمیاتی تبدیلی درجہ حرارت بڑھا رہی ہے اور دوسری طرف یہی درجہ حرارت فضائی آلودگی کو مزید مہلک بنا رہا ہے۔ اس طرح دونوں عوامل مل کر انسانی صحت پر تباہ کن اثرات مرتب کر رہے ہیں۔
بڑے شہروں میں صورتحال نسبتاً زیادہ تشویشناک ہے۔ دہلی، ممبئی، کولکاتا، چنئی، بنگلورو اور حیدرآباد جیسے شہروں میں گاڑیوں کی بڑھتی تعداد، صنعتی سرگرمیاں اور شہری پھیلاؤ فضائی آلودگی کو بڑھا رہے ہیں۔شہری علاقوں میں ‘اربن ہیٹ آئی لینڈ’ کا اثر بھی پایا جاتا ہے، جس کے تحت کنکریٹ کی عمارتیں اور سڑکیں گرمی کو جذب کرکے درجہ حرارت کو مزید بڑھا دیتی ہیں۔ نتیجتاً اوزون کی تشکیل میں اضافہ ہوتا ہے۔
اسی لیے شہری آبادیوں کو دوہرے خطرے کا سامنا ہے: شدید گرمی اور بلند اوزون۔
ہیٹ ویوز اور اوزون کی بڑھتی ہوئی سطح صرف صحت ہی کو متاثر نہیں کرتیں بلکہ ان کے وسیع معاشی اثرات بھی ہوتے ہیں۔ ہسپتالوں پر دباؤ بڑھتا ہے، صحت کے اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے، مزدوروں کی پیداواری صلاحیت کم ہو جاتی ہے، معیشت کو اربوں روپے کا نقصان پہنچتا ہے اور کم آمدنی والے طبقات سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
غریب خاندان اکثر ایئر کنڈیشننگ، صاف رہائش اور معیاری طبی سہولیات سے محروم ہوتے ہیں، اس لیے وہ ان خطرات کا زیادہ شکار بنتے ہیں۔
اس بحران سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی ناگزیر ہے۔ سب سے پہلے فضائی آلودگی کے بنیادی ذرائع کو کم کرنا ہوگا۔اس مقصد کے لیے:گاڑیوں سے خارج ہونے والے دھوئیں میں کمی لائی جائے، صاف توانائی کے ذرائع کو فروغ دیا جائے، صنعتی اخراج پر سخت نگرانی کی جائے، قابلِ تجدید توانائی میں سرمایہ کاری بڑھائی جائے اور شہری منصوبہ بندی میں سبز علاقوں کا اضافہ کیا جائے۔
اس کے ساتھ ساتھ ہیٹ ایکشن پلانز کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ شدید گرمی کے دوران حساس آبادیوں کو بروقت تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
’این پی جے کلین ائر‘ میں شائع ہونے والی یہ تحقیق ہندوستان میں موسمیاتی تبدیلی اور فضائی آلودگی کے باہمی تعلق کو سمجھنے میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ مطالعہ واضح کرتا ہے کہ گرمی کی لہریں صرف براہِ راست گرمی سے متعلق بیماریوں کا باعث نہیں بنتیں بلکہ اوزون کی سطح میں اضافے کے ذریعے دل اور پھیپھڑوں کی بیماریوں سے اموات میں بھی اضافہ کرتی ہیں۔
2024 کے دوران تقریباً 830 اضافی اموات کا تخمینہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہیٹ ویوز اور اوزون کا امتزاج ایک خاموش مگر سنگین عوامی صحت کا بحران بن چکا ہے۔ مزید برآں، اوزون سے منسلک تقریباً 26,500 اموات اس مسئلے کی وسعت کو ظاہر کرتی ہیں۔
اگر بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو موسمیاتی تبدیلی کے باعث بڑھتی ہوئی گرمی کی لہریں مستقبل میں مزید جانیں لے سکتی ہیں۔ لہٰذا حکومت، سائنسی اداروں، صحت ماہرین اور عوام کو مشترکہ طور پر ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جو نہ صرف فضائی آلودگی کو کم کریں بلکہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے مقابلے کے لیے معاشرے کو زیادہ مضبوط اور محفوظ بنائیں۔ یہی راستہ انسانی صحت، ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔
(یواین آئی)
اہم خبریں
اسکولی لائبریریوں میں مبینہ ‘علیحدگی پسند مواد’ پر جموں و کشمیر حکومت کی بڑی کارروائی، 8 تعلیمی افسران معطل، اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم

جموں و کشمیر حکومت نے سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند مواد پر مشتمل کتابوں کی شمولیت کے معاملے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم کے آٹھ افسران کو معطل کر دیا ہے، ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات ختم کر دی ہیں، دو کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو بلیک لسٹ کرنے کا حکم دیا ہے اور پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
یہ کارروائی جموں و کشمیر پیپلز فورم (جے کے پی ایف) کی جانب سے ان کتابوں کے خلاف سخت اعتراضات سامنے آنے کے چند روز بعد عمل میں آئی ہے۔ فورم نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں کے لیے منتخب کی گئی ایک کتاب میں سزا یافتہ دہشت گرد مقبول بٹ کو “شہید” قرار دیا گیا ہے، بھارت کو “قابض ریاست” کہا گیا ہے، “انڈین آکیوپائیڈ کشمیر (IOK)” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے اور متعدد علیحدگی پسند رہنماؤں کے بارے میں ایسا مواد شامل کیا گیا ہے جسے فورم نے ملک مخالف قرار دیا۔ فورم نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ سمگر شکشا اسکیم کے تحت ایسی کتابوں کو آخر کس بنیاد پر اسکولی طلبہ کے لیے موزوں قرار دے کر سرکاری لائبریریوں کے لیے منظور کیا گیا۔
اس معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم نے حکومتی حکم نامہ نمبر 257-JK(Edu) آف 2026 جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ متعلقہ کتابوں میں “انتہائی نامناسب مواد” موجود ہے اور ابتدائی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کتابوں کی سفارش کرنے والی ماہرین کمیٹی کے ارکان نے سنگین غفلت، فرائض میں کوتاہی اور مطلوبہ جانچ پڑتال نہیں کی۔
حکم نامے کے مطابق “Personalities and Legends of J&K” اور “Great Personalities of Jammu and Kashmir” نامی کتابیں سمگر شکشا کے تحت خریدی گئی سینکڑوں کتابوں میں سے ہائر سیکنڈری (سریز-4) ایکسپرٹ کمیٹی نے منتخب کی تھیں، تاہم اعتراضات سامنے آنے کے بعد انہیں فوری طور پر واپس لے لیا گیا۔
حکومت نے تحقیقات مکمل ہونے تک اس انتخابی عمل سے وابستہ آٹھ افسران، جن میں کوآرڈینیٹرز، اکیڈمک افسران، پرنسپلز اور لیکچررز شامل ہیں، کو معطل کر دیا ہے، جبکہ سمگر شکشا سے وابستہ ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک سینئر آئی اے ایس افسر کو انکوائری آفیسر مقرر کرتے ہوئے 30 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
حکومت نے دونوں کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو جموں و کشمیر میں بلیک لسٹ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے شائع کردہ تمام مواد کو بھی یونین ٹیریٹری سے واپس لینے کا حکم دیا ہے۔ اس پورے معاملے نے سرکاری فنڈز سے خریدی جانے والی تعلیمی کتابوں کی جانچ پڑتال کے نظام اور انہیں منظور کرنے والی ماہرین کمیٹیوں کی جوابدہی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ادھر وزیر تعلیم، صحت اور سماجی بہبود سکینہ ایتو نے اس معاملے کو “ناقابل برداشت اور ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے وقت مقررہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اسکولی تعلیم کے سیکریٹری کو فوری طور پر تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ متنازع مواد سرکاری اسکولوں کی کتابوں تک کیسے پہنچا۔ سکینہ ایتو نے واضح کیا کہ جو بھی اس معاملے میں قصوروار پایا جائے گا اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی اور کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیمی نظام کی ساکھ برقرار رکھنے اور طلبہ کو معیاری اور ذمہ دارانہ تعلیمی مواد فراہم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
دوسری جانب جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے کتاب “Personalities and Legends of J&K” پر فوری پابندی عائد کرنے اور اسے تمام سرکاری لائبریریوں اور تعلیمی اداروں سے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر نریندر سنگھ، سنیل سیٹھی اور زوراور سنگھ جموال کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور بھارت مخالف نظریات کو فروغ دینے کی کوشش ہے اور اسے سرکاری لائبریریوں تک پہنچانا ایک منظم سازش کی عکاسی کرتا ہے۔
سنیل شرما نے دعویٰ کیا کہ ہلال احمد اور سنتوش مینا کی تصنیف اور پیراڈائز پریس کی شائع کردہ یہ کتاب تاریخ کے نام پر نوجوان نسل کے ذہنوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کے مطابق کتاب میں دہشت گردی اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے وابستہ بعض شخصیات کو “لیجنڈز” اور “آزادی پسند” کے طور پر پیش کیا گیا ہے جبکہ بھارت اور اس کی سیکورٹی فورسز کے خلاف سرگرمیوں کو ہمدردانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کتاب میں مقبول بٹ، ہاشم قریشی، مسرت عالم بھٹ، سید علی شاہ گیلانی، عبدالغنی لون اور محمد فاروق رحمانی سمیت متعدد علیحدگی پسند شخصیات کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے، جو نہ صرف تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہے بلکہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
بی جے پی رہنما نے مطالبہ کیا کہ کتاب کی تمام کاپیاں فوری طور پر ضبط کر کے سرکاری لائبریریوں، تعلیمی اداروں اور عوامی گردش سے ہٹا دی جائیں۔ انہوں نے کتاب کی خریداری اور منظوری دینے والے افسران، اسکریننگ کمیٹیوں اور لائبریرینز کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے جموں و کشمیر کی تمام سرکاری اور اسکولی لائبریریوں کا مکمل آڈٹ کرانے کی اپیل کی تاکہ اگر کسی اور کتاب میں بھی ایسا متنازع یا مبینہ علیحدگی پسند مواد موجود ہو تو اسے بھی فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔
اس پورے معاملے نے جموں و کشمیر میں سرکاری تعلیمی اداروں کے لیے کتابوں کے انتخاب، ان کی جانچ پڑتال اور منظوری کے نظام پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت نے 30 دن کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے، جس کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف مزید انتظامی اور قانونی کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔
تجزیہ
کنٹرول لائن پار کرنے والی ایک محبت کی کہانی
از: مجید جہانگیر
تھجل، اُڑی (کنٹرول لائن)، شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے اُڑی سیکٹر میں ایک ماہ قبل پاک مقبوضہ کشمیر (پی او کے) سے کنٹرول لائن (ایل او سی) عبور کرتے ہوئے گرفتار کیے گئے ایک نوجوان کا معاملہ اب محض دراندازی کا واقعہ نہیں رہا۔
تفتیش کاروں کے مطابق یہ دراصل محبت کی ایک ایسی کہانی ہے جس نے 22 سالہ نوجوان کو دنیا کی سب سے زیادہ نگرانی والی سرحدوں میں سے ایک عبور کرنے پر مجبور کر دیا تاکہ وہ اپنی محبوبہ سے مل سکے۔
جو واقعہ ابتدا میں سرحد پار دراندازی معلوم ہوتا تھا، وہ کئی ہفتوں کی تحقیقات کے بعد ایک ایسی داستان میں تبدیل ہوگیا، جہاں محبت اور تجسس بظاہر کنٹرول لائن کے ساتھ ساتھ چلتے دکھائی دیتے ہیں۔
22 سالہ ذیشان احمد میر، جو پاک مقبوضہ کشمیر کے مظفرآباد کے علاقے پینکڑی کا رہائشی ہے، کو ہندوستانی فوج کے چوکس اہلکاروں نے اُڑی سیکٹر میں ہندوستانی حدود میں داخل ہونے کے فوراً بعد گرفتار کر لیا۔ اگرچہ اس کا سفر گرفتاری اور تفتیش پر ختم ہوا، لیکن حکام کا کہنا ہے کہ اس کے سرحد پار کرنے کے پس منظر میں ایک گہری ذاتی کہانی پوشیدہ ہے۔
حکام کے مطابق ذیشان کو سلی کوٹ کے قریب، جو کنٹرول لائن پر واقع ایک مضبوط حفاظتی گاؤں ہے، ہندوستانی حدود میں داخل ہونے کے فوراً بعد حراست میں لیا گیا۔ سلی کوٹ میں پوچھ گچھ کے دوران اس نے فوج کو بتایا کہ وہ اپنی دور کی رشتہ دار ایرم بانو سے ملنے آیا ہے، جس سے گزشتہ ایک سال سے اس کا اسنیپ چیٹ کے ذریعے رابطہ تھا۔ آن لائن دوستی وقت گزرنے کے ساتھ محبت میں بدل گئی، جو فاصلے اور دشمنی پر مبنی سرحد کے باوجود برقرار رہی۔
ایرم بانو، جو تھجل گاؤں کی رہائشی ہیں اور جن کا گاؤں پاک فوج کی چوکیوں سے تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، نے بتایا کہ دونوں مسلسل سوشل میڈیا کے ذریعے رابطے میں تھے۔ ان کے مطابق ذیشان اکثر قانونی طریقے سے ویزا حاصل کرکے آنے کی بات کرتا تھا۔
انہوں نے کہاکہ “اس نے مجھ سے کہا تھا کہ وہ ویزا پر آئے گا۔ میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ وہ اتنا خطرناک راستہ اختیار کرے گا۔”
31 مئی کی صبح جب ذیشان نے کنٹرول لائن عبور کی تو وہ سلی کوٹ سے ایرم کو ایک پیغام بھیجنے میں کامیاب ہوگیا۔ اس کے بعد منظر کسی رومانوی فلم سے کم نہ تھا۔
ایرم نے بتایاکہ “صبح جب مجھے اس کا پیغام ملا تو میں کھڑکی سے کود کر سیدھی سلی کوٹ کی طرف بھاگی۔ جب میں گاؤں کے قریب دروازے تک پہنچی تو میں نے اسے دیکھا۔ وہ فوجی اہلکاروں کو پوری بات بتا چکا تھا اور میں نے بھی اس کی بات کی تصدیق کر دی۔ اس وقت میں خود پر قابو نہ رکھ سکی اور رونے لگی۔”
یہ ملاقات مختصر رہی۔ کچھ ہی دیر بعد حکام کی اطلاع پر ایرم کے اہلِ خانہ بھی وہاں پہنچ گئے۔ ایرم کے مطابق اسی روز ان کے گھر والوں کو پہلی بار ان کے تعلق کے بارے میں معلوم ہوا۔ فوجیوں نے دونوں کو چند لمحوں کے لیے ایک ساتھ رہنے کی اجازت بھی دی۔
ذیشان کے لیے یہ سفر آسان نہیں تھا۔ وہ صرف چپلیں پہنے ہوئے تھا اور اس کے پاس صرف موبائل فون اور شناختی کارڈ تھا۔
دشوار گزار راستے طے کرتے ہوئے ایک موقع پر اس کا سامنا ایک تیندوے سے بھی ہوا۔
ایرم نے بتایاکہ “بعد میں اس نے مجھے بتایا کہ راستے میں اسے ایک تیندوا ملا تھا۔ خوش قسمتی سے اس کے منہ میں پہلے ہی کوئی شکار تھا، اس لیے وہ آگے بڑھ گیا، ورنہ کچھ بھی ہو سکتا تھا۔”
تمام خطرات کے باوجود ذیشان نے اپنا سفر جاری رکھا، کیونکہ وہ اپنے اہلِ خانہ کی جانب سے اس کی طے شدہ شادی سے ْپہلے اپنی محبوبہ سے ملنا چاہتا تھا۔
ذیشان اس وقت بارہمولہ ضلع جیل میں عدالتی تحویل میں ہے۔ مختلف تحقیقاتی اداروں نے دونوں سے پوچھ گچھ کی ہے اور ان کے ڈیجیٹل رابطوں کا بھی جائزہ لیا ہے۔ ایرم کے مطابق تفتیش کاروں نے ان کی کہانی کو حقیقی قرار دیا ہے۔
انہوں نے آہستہ لہجے میں کہاکہ “ہم اس سے ملنے بارہمولہ جیل گئے تھے، لیکن ہمیں اس سے ملاقات کی اجازت نہیں ملی۔”
اُڑی میں ایرم کے گھر سے سامنے پھیلے پہاڑوں کے پار وہ بستیاں صاف دکھائی دیتی ہیں جہاں ذیشان رہتا تھا۔ صاف موسم میں وہ علاقہ ان کی طرف سے نظر آ جاتا ہے۔ ایرم آج بھی اس کی سلامتی کے لیے دعا کرتی ہیں اور ایک پُرامن مستقبل کی امید لگائے بیٹھی ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
تازہ ترین
یاسین ملک کی مشکلات میں مزید اضافہ، 36 سال پرانے سرلا بھٹ قتل کیس میں نئی چارج شیٹ

جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ، یعنی جے کے ایل ایف، کے چیئرمین یاسین ملک کی مشکلات کم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔ ایک طرف وہ پہلے ہی نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں دہشت گردی کی مالی معاونت اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے متعلق مقدمے میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں، تو دوسری جانب اب 36 سال پرانے کشمیری پنڈت نرس سرلا بھٹ قتل کیس میں بھی ان کے خلاف ایک نئی چارج شیٹ داخل کر دی گئی ہے۔
جموں و کشمیر پولیس کی اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی، یعنی ایس آئی اے، نے 737 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ عدالت میں پیش کرتے ہوئے یاسین ملک سمیت پانچ افراد کو سرلا بھٹ کے اغوا، تشدد اور قتل کی سازش میں ملوث قرار دیا ہے۔ ایس آئی اے کا دعویٰ ہے کہ اس کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سرلا بھٹ کا قتل کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں تھا بلکہ یہ جے کے ایل ایف کی قیادت میں انجام دی گئی ایک منظم دہشت گردانہ سازش کا حصہ تھا۔
تحقیقات کے مطابق سرلا بھٹ، جو اس وقت شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، یعنی سکمز میں بطور نرس خدمات انجام دے رہی تھیں، 18 اپریل 1990 کو مبینہ طور پر اسپتال سے اغوا کی گئیں۔ ایس آئی اے کے مطابق انہیں سری نگر کے مالباغ اور عمر کالونی کے علاقے میں لے جایا گیا، جہاں ان پر مبینہ طور پر شدید جسمانی تشدد کیا گیا اور بعد ازاں خودکار ہتھیاروں سے گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا۔ ان کی لاش پانچ روز بعد برآمد ہوئی، جس کے ساتھ ایک پرچی بھی ملی تھی جس میں انہیں مبینہ طور پر “مخبر” قرار دیا گیا تھا۔
چارج شیٹ میں یاسین ملک کے علاوہ خورشید احمد چلو، عبد الحمید شیخ، محمد یوسف صوفی عرف ادریس اور غلام محمد ٹپلو کے نام بھی شامل کیے گئے ہیں۔ ان میں سے تین افراد عبد الحمید شیخ، محمد یوسف صوفی اور غلام محمد ٹپلو کی وفات ہو چکی ہے، جبکہ خورشید احمد چلو مفرور ہے اور ایس آئی اے کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں موجود ہے۔ ایجنسی نے اس کے خلاف قانونی کارروائی اور اشتہاری کارروائی بھی شروع کر دی ہے۔
ایس آئی اے نے اس مقدمے میں اغوا، قتل، مجرمانہ سازش، شواہد مٹانے، ٹاڈا ایکٹ اور آرمز ایکٹ سمیت مختلف دفعات کے تحت الزامات عائد کیے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس چارج شیٹ میں زبانی، دستاویزی، فرانزک، بیلسٹک، طبی اور الیکٹرانک شواہد شامل کیے گئے ہیں، جنہیں کئی دہائیوں پر محیط تحقیقات کے بعد مرتب کیا گیا ہے۔
جموں و کشمیر پولیس نے اس پیش رفت کو دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں ایک تاریخی سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ چارج شیٹ اس بات کا واضح پیغام ہے کہ دہشت گردی سے متعلق جرائم میں وقت گزر جانا کسی بھی ملزم کے لیے قانونی تحفظ نہیں بن سکتا۔ پولیس کے مطابق چاہے کئی دہائیاں ہی کیوں نہ گزر جائیں، ایسے جرائم کے ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
سرلا بھٹ اس وقت صرف 27 برس کی تھیں اور ان چند کشمیری پنڈت خاندانوں میں شامل تھیں جنہوں نے 1990 میں عسکریت پسندی کے آغاز کے باوجود وادی کشمیر نہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ان کا قتل بعد میں کشمیر میں دہشت گردی کے ابتدائی اور نمایاں واقعات میں شمار کیا گیا۔
یاسین ملک اس وقت بھی کئی دیگر اہم مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ مئی 2022 میں این آئی اے کی خصوصی عدالت نے انہیں دہشت گردی کی مالی معاونت، حکومت ہند کے خلاف سازش اور دیگر الزامات میں مجرم قرار دیتے ہوئے دو مرتبہ عمر قید اور متعدد دیگر سزائیں سنائی تھیں۔ وہ 2019 سے تہاڑ جیل میں بند ہیں، جبکہ این آئی اے دہلی ہائی کورٹ میں ان کی سزا کو سزائے موت میں تبدیل کرنے کی اپیل بھی کر چکی ہے، جس پر کارروائی جاری ہے۔
اس کے علاوہ یاسین ملک 1989 میں اس وقت کے مرکزی وزیر داخلہ مفتی محمد سعید کی صاحبزادی روبیہ سعید کے اغوا کے مقدمے اور 1990 میں بھارتی فضائیہ کے اہلکاروں پر حملے کے مقدمے میں بھی بطور ملزم نامزد ہیں۔
سرلا بھٹ قتل کیس میں 36 برس بعد دائر ہونے والی یہ چارج شیٹ ایک ایسے مقدمے میں اہم پیش رفت تصور کی جا رہی ہے جو طویل عرصے سے انصاف کا منتظر تھا۔ اب تمام نظریں عدالت پر ہیں، جہاں اس مقدمے میں پیش کیے گئے شواہد اور دلائل کی بنیاد پر آئندہ قانونی کارروائی آگے بڑھے گی۔
ہندوستان4 days agoپیپر لیک کے خلاف جنتر منتر پر احتجاج کر رہے طلبہ کے نام تھرور کا کھلا خط
دنیا4 days agoاگلے ہفتے ایران کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنائیں گے، ٹرمپ
دنیا2 days agoہرمز جنگ سے پہلے والی حالت میں نہیں آئے گی، ایران
ہندوستان5 days agoہندستان نے سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کی امیدواری پیش کی، کہا وہ محفوظ اور خوشحال دنیا کے لیے پرعزم
دنیا4 days agoامریکہ نے ایران کی 130 ملین ڈالر سے زائد مالیت کی کرپٹو کرنسی منجمد کردی
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر کنٹرول کی جنگ میں ایران اور عمان آمنے سامنے
دنیا1 week agoایران نے اقوام متحدہ سے امریکہ کے احتساب کا مطالبہ کر دیا
دنیا4 days agoامریکی ناکہ بندی سے قبل ایران سے وابستہ 9 جہازوں نے آبنائے ہرمز عبور کی
دنیا1 week agoوینزویلا میں تباہ کن زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 4 ہزار سے تجاوز کر گئی، ہنگامی امداد کی اپیل
ہندوستان5 days agoخردہ مہنگائی 17 مہینے کی بلند ترین سطح پر، کانگریس نے مرکزی حکومت پر عوام پر بوجھ بڑھانے کا لگایا الزام
جموں و کشمیر1 day agoجموں سے 3,600 سے زائد ۔امرناتھ یاترا کے زائرین کا نیا جھتہ روانہ
دنیا5 days agoآبنائے ہرمز میں ایران نے 2 اماراتی ٹینکرز کو کروز میزائلوں سے نشانہ بنا دیا، ہندوستانی ہلاک








































































































