تجزیہ
سبز توانائی اور موسمیاتی بحران
خصوصی مضمون: ظفراقبال
اکیسویں صدی کا سب سے بڑا عالمی مسئلہ موسمیاتی تبدیلی (کلائمیٹ چینج) ہے، دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، غیر معمولی بارشیں، خشک سالی، جنگلات کی آگ، گلیشیئرز کا پگھلنااور سمندری سطح میں اضافہ اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ کر ہ ارض ایک سنگین ماحولیاتی بحران سے گزر رہا ہے، گزشتہ چند دہائیوں میں سائنس دانوں اور ماہرین ماحولیات نے بارہا خبردار کیا ہے کہ اگر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں فوری اور مؤثر کمی نہ کی گئی تو انسانی تہذیب کو ناقابلِ تلافی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس تناظر میں قابلِ تجدید توانائی یا سبز توانائی کو موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ کا ایک اہم ہتھیار سمجھا جاتا ہے۔ شمسی توانائی، ہوائی توانائی، آبی توانائی اور دیگر قابلِ تجدید ذرائع کو فروغ دینے کے لیے دنیا بھر میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ تاہم تازہ ترین عالمی رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ قابلِ تجدید توانائی کی پیداوار میں تاریخی اضافہ ہوا ہے، لیکن اس کے باوجود عالمی درجہ حرارت میں اضافہ جاری ہے اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں خاطر خواہ کمی نہیں آ سکی۔ یہی حقیقت اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ کیا صرف سبز توانائی ہی موسمیاتی بحران کا حل ہے یا اس کے لیے مزید جامع اور ہمہ گیر اقدامات کی ضرورت ہے
گزشتہ چند برسوں کے دوران قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں غیر معمولی ترقی دیکھنے میں آئی ہے۔ شمسی اور ہوائی توانائی کی لاگت میں نمایاں کمی آئی ہے جس کے باعث یہ کئی ممالک میں فوسل فیول کے مقابلے میں زیادہ سستی اور قابلِ عمل بن چکی ہے۔ چین اور ہندوستان جیسے بڑے ممالک نے شمسی اور ہوائی توانائی کے منصوبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے۔
پچھلے سال عالمی سطح پر قابلِ تجدید توانائی کی تنصیبات نے ایک اہم سنگ میل عبور کیا جب شمسی، ہوائی اور آبی توانائی نے بجلی پیدا کرنے میں فوسل ایندھن کو پیچھے چھوڑ دیا۔ یہ پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ دنیا آہستہ آہستہ صاف توانائی کی جانب بڑھ رہی ہے۔
اس ترقی کے متعدد فوائد سامنے آئے ہیں۔ ایک طرف کاربن کے اخراج میں کمی کے امکانات پیدا ہوئے ہیں تو دوسری طرف توانائی کی خود کفالت، روزگار کے نئے مواقع اور معاشی ترقی کو بھی فروغ ملا ہے۔ کئی ممالک اب درآمد شدہ تیل اور گیس پر انحصار کم کر رہے ہیں، جس سے ان کی معیشتیں زیادہ مستحکم ہو رہی ہیں۔
اگرچہ سبز توانائی کی ترقی حوصلہ افزا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافہ رک نہیں سکا۔ تازہ ترین سائنسی رپورٹس کے مطابق 2025 میں انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں عالمی حدت 1.37 ڈگری سیلسیس تک پہنچ گئی، جو صنعتی دور سے پہلے کے درجہ حرارت کے مقابلے میں ایک خطرناک اضافہ ہے۔
یہ صورتحال اس لیے مزید تشویشناک ہے کیونکہ پیرس معاہدے کے تحت دنیا نے درجہ حرارت کو 1.5 ڈگری سیلسیس سے نیچے رکھنے کا ہدف مقرر کیا تھا۔ سائنس دان خبردار کر رہے ہیں کہ موجودہ رفتار برقرار رہی تو آئندہ چند برسوں میں یہ حد بھی عبور ہو سکتی ہے۔
توانائی کے شعبے میں اگرچہ قابلِ تجدید ذرائع کا حصہ بڑھ رہا ہے، لیکن صنعت کا ایک بڑا حصہ اب بھی کوئلے، تیل اور قدرتی گیس پر انحصار کرتا ہے۔ فولاد، سیمنٹ، کیمیکل، کھاد اور دیگر بھاری صنعتیں بڑی مقدار میں فوسل فیول استعمال کرتی ہیں۔
ان صنعتوں کو سبز توانائی پر منتقل کرنا آسان نہیں۔ اس کے لیے جدید ٹیکنالوجی، بھاری سرمایہ کاری اور طویل مدتی منصوبہ بندی درکار ہے۔ مثال کے طور پر گرین ہائیڈروجن کو مستقبل کا صاف ایندھن قرار دیا جا رہا ہے، لیکن اس کی پیداوار ابھی مہنگی ہے اور اس کے لیے مطلوبہ انفراسٹرکچر بھی مکمل طور پر موجود نہیں۔صنعتی شعبے میں تبدیلی کی سست رفتار عالمی اخراج میں کمی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ صرف صاف توانائی پیدا کرنا کافی نہیں بلکہ توانائی کے استعمال میں بھی اصلاحات ضروری ہیں۔
توانائی بچانے والی مشینری، جدید پیداواری نظام اور وسائل کے مؤثر استعمال سے اخراج میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔
ری سائیکلنگ اس سلسلے میں ایک اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ مثال کے طور پر ری سائیکل شدہ ایلومینیم کی تیاری میں نئے ایلومینیم کے مقابلے میں بہت کم توانائی درکار ہوتی ہے۔ اسی طرح پلاسٹک، شیشہ اور کاغذ کی ری سائیکلنگ سے نہ صرف وسائل کی بچت ہوتی ہے بلکہ کاربن اخراج بھی کم ہوتا ہے۔تاہم ان اقدامات کو وسیع پیمانے پر اپنانے کے لیے حکومتی پالیسیوں، مالی مراعات اور عوامی شعور کی ضرورت ہے۔
موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے حوالے سے ترقی پذیر ممالک کو منفرد چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان ممالک میں غربت، آبادی میں اضافہ، توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب اور محدود مالی وسائل پائیدار ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔
بہت سے ترقی پذیر ممالک کے لیے فوری ترجیح معاشی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔ اس وجہ سے وہ اکثر سستی توانائی کے لیے کوئلے اور دیگر فوسل فیولز پر انحصار کرتے ہیں۔اگر عالمی برادری واقعی موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنا چاہتی ہے تو اسے ترقی پذیر ممالک کو مالی اور تکنیکی معاونت فراہم کرنا ہوگی تاکہ وہ صاف توانائی کی طرف تیزی سے منتقل ہو سکیں۔
موسمیاتی بحران کے حل میں علم اور ٹیکنالوجی کی منتقلی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ جدید سبز ٹیکنالوجی زیادہ تر ترقی یافتہ ممالک کے پاس موجود ہے جبکہ ترقی پذیر ممالک کو اس تک رسائی میں مشکلات پیش آتی ہیں۔
یونیورسٹیوں، تحقیقی اداروں، حکومتوں اور نجی شعبے کے درمیان تعاون کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر جدید تحقیق اور اختراعات کو عالمی سطح پر تیزی سے منتقل کیا جائے تو صاف توانائی کی لاگت مزید کم ہو سکتی ہے اور اس کے استعمال میں اضافہ ممکن ہے۔بدقسمتی سے اب تک یہ شعبہ عالمی کوششوں کی ایک کمزور کڑی ثابت ہوا ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق دنیا کے پاس محدود ‘کاربن بجٹ’ باقی رہ گیا ہے۔ کاربن بجٹ سے مراد گرین ہاؤس گیسوں کی وہ مقدار ہے جو مزید خارج کی جا سکتی ہے جبکہ عالمی درجہ حرارت کو 1.5 ڈگری سیلسیس کی حد کے اندر رکھا جا سکے۔
حالیہ رپورٹس کے مطابق موجودہ اخراج کی رفتار برقرار رہی تو یہ بجٹ تقریباً تین سال میں ختم ہو سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کو فوری اور غیر معمولی اقدامات کرنے ہوں گے۔
اگر ایسا نہ کیا گیا تو درجہ حرارت میں اضافے کے نتائج مزید شدید ہو جائیں گے، جن میں سمندری سطح میں اضافہ، خوراک کی قلت، پانی کی کمی، قدرتی آفات اور انسانی ہجرت شامل ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی ایک ایسا مسئلہ ہے جسے کوئی ایک ملک تنہا حل نہیں کر سکتا۔ اس کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ حکمتِ عملی اور تعاون ناگزیر ہے۔اقوام متحدہ کے تحت ہونے والی موسمیاتی کانفرنسیں اسی مقصد کے لیے منعقد کی جاتی ہیں، لیکن اکثر سیاسی اختلافات اور معاشی مفادات مؤثر اقدامات کی راہ میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام ممالک اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں اور اخراج میں کمی کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔
ترقی یافتہ ممالک کو تاریخی ذمہ داری کے تحت زیادہ کردار ادا کرنا ہوگا کیونکہ عالمی اخراج میں ان کا حصہ زیادہ رہا ہے۔
قابلِ تجدید توانائی بلا شبہ موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ کا ایک اہم ستون ہے، لیکن یہ اکیلے اس بحران کا حل نہیں۔ اگرچہ شمسی، ہوائی اور آبی توانائی کی ترقی امید کی ایک کرن ہے، لیکن گرین ہاؤس گیسوں کے مسلسل بڑھتے ہوئے اخراج سے واضح ہوتا ہے کہ دنیا کو مزید جامع اقدامات کی ضرورت ہے۔
صنعتی شعبے کی اصلاح، توانائی کی بچت، ری سائیکلنگ، گرین ہائیڈروجن کی ترقی، ٹیکنالوجی کی منتقلی، ترقی پذیر ممالک کی معاونت اور عالمی تعاون کے بغیر موسمیاتی اہداف حاصل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔
انسانیت ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہے۔ آنے والے چند برس یہ طے کریں گے کہ آیا دنیا موسمیاتی بحران پر قابو پا سکتی ہے یا آنے والی نسلوں کو ایک زیادہ گرم، غیر مستحکم اور خطرناک سیارے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ وقت کم ہے، لیکن اگر عالمی برادری سنجیدگی، بصیرت اور اجتماعی عزم کا مظاہرہ کرے تو اب بھی امید باقی ہے کہ زمین کو ایک محفوظ اور پائیدار مستقبل کی طرف لے جایا جا سکتا ہے۔
(یواین آئی)
اہم خبریں
اسکولی لائبریریوں میں مبینہ ‘علیحدگی پسند مواد’ پر جموں و کشمیر حکومت کی بڑی کارروائی، 8 تعلیمی افسران معطل، اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم

جموں و کشمیر حکومت نے سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند مواد پر مشتمل کتابوں کی شمولیت کے معاملے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم کے آٹھ افسران کو معطل کر دیا ہے، ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات ختم کر دی ہیں، دو کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو بلیک لسٹ کرنے کا حکم دیا ہے اور پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
یہ کارروائی جموں و کشمیر پیپلز فورم (جے کے پی ایف) کی جانب سے ان کتابوں کے خلاف سخت اعتراضات سامنے آنے کے چند روز بعد عمل میں آئی ہے۔ فورم نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں کے لیے منتخب کی گئی ایک کتاب میں سزا یافتہ دہشت گرد مقبول بٹ کو “شہید” قرار دیا گیا ہے، بھارت کو “قابض ریاست” کہا گیا ہے، “انڈین آکیوپائیڈ کشمیر (IOK)” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے اور متعدد علیحدگی پسند رہنماؤں کے بارے میں ایسا مواد شامل کیا گیا ہے جسے فورم نے ملک مخالف قرار دیا۔ فورم نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ سمگر شکشا اسکیم کے تحت ایسی کتابوں کو آخر کس بنیاد پر اسکولی طلبہ کے لیے موزوں قرار دے کر سرکاری لائبریریوں کے لیے منظور کیا گیا۔
اس معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم نے حکومتی حکم نامہ نمبر 257-JK(Edu) آف 2026 جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ متعلقہ کتابوں میں “انتہائی نامناسب مواد” موجود ہے اور ابتدائی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کتابوں کی سفارش کرنے والی ماہرین کمیٹی کے ارکان نے سنگین غفلت، فرائض میں کوتاہی اور مطلوبہ جانچ پڑتال نہیں کی۔
حکم نامے کے مطابق “Personalities and Legends of J&K” اور “Great Personalities of Jammu and Kashmir” نامی کتابیں سمگر شکشا کے تحت خریدی گئی سینکڑوں کتابوں میں سے ہائر سیکنڈری (سریز-4) ایکسپرٹ کمیٹی نے منتخب کی تھیں، تاہم اعتراضات سامنے آنے کے بعد انہیں فوری طور پر واپس لے لیا گیا۔
حکومت نے تحقیقات مکمل ہونے تک اس انتخابی عمل سے وابستہ آٹھ افسران، جن میں کوآرڈینیٹرز، اکیڈمک افسران، پرنسپلز اور لیکچررز شامل ہیں، کو معطل کر دیا ہے، جبکہ سمگر شکشا سے وابستہ ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک سینئر آئی اے ایس افسر کو انکوائری آفیسر مقرر کرتے ہوئے 30 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
حکومت نے دونوں کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو جموں و کشمیر میں بلیک لسٹ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے شائع کردہ تمام مواد کو بھی یونین ٹیریٹری سے واپس لینے کا حکم دیا ہے۔ اس پورے معاملے نے سرکاری فنڈز سے خریدی جانے والی تعلیمی کتابوں کی جانچ پڑتال کے نظام اور انہیں منظور کرنے والی ماہرین کمیٹیوں کی جوابدہی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ادھر وزیر تعلیم، صحت اور سماجی بہبود سکینہ ایتو نے اس معاملے کو “ناقابل برداشت اور ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے وقت مقررہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اسکولی تعلیم کے سیکریٹری کو فوری طور پر تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ متنازع مواد سرکاری اسکولوں کی کتابوں تک کیسے پہنچا۔ سکینہ ایتو نے واضح کیا کہ جو بھی اس معاملے میں قصوروار پایا جائے گا اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی اور کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیمی نظام کی ساکھ برقرار رکھنے اور طلبہ کو معیاری اور ذمہ دارانہ تعلیمی مواد فراہم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
دوسری جانب جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے کتاب “Personalities and Legends of J&K” پر فوری پابندی عائد کرنے اور اسے تمام سرکاری لائبریریوں اور تعلیمی اداروں سے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر نریندر سنگھ، سنیل سیٹھی اور زوراور سنگھ جموال کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور بھارت مخالف نظریات کو فروغ دینے کی کوشش ہے اور اسے سرکاری لائبریریوں تک پہنچانا ایک منظم سازش کی عکاسی کرتا ہے۔
سنیل شرما نے دعویٰ کیا کہ ہلال احمد اور سنتوش مینا کی تصنیف اور پیراڈائز پریس کی شائع کردہ یہ کتاب تاریخ کے نام پر نوجوان نسل کے ذہنوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کے مطابق کتاب میں دہشت گردی اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے وابستہ بعض شخصیات کو “لیجنڈز” اور “آزادی پسند” کے طور پر پیش کیا گیا ہے جبکہ بھارت اور اس کی سیکورٹی فورسز کے خلاف سرگرمیوں کو ہمدردانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کتاب میں مقبول بٹ، ہاشم قریشی، مسرت عالم بھٹ، سید علی شاہ گیلانی، عبدالغنی لون اور محمد فاروق رحمانی سمیت متعدد علیحدگی پسند شخصیات کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے، جو نہ صرف تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہے بلکہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
بی جے پی رہنما نے مطالبہ کیا کہ کتاب کی تمام کاپیاں فوری طور پر ضبط کر کے سرکاری لائبریریوں، تعلیمی اداروں اور عوامی گردش سے ہٹا دی جائیں۔ انہوں نے کتاب کی خریداری اور منظوری دینے والے افسران، اسکریننگ کمیٹیوں اور لائبریرینز کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے جموں و کشمیر کی تمام سرکاری اور اسکولی لائبریریوں کا مکمل آڈٹ کرانے کی اپیل کی تاکہ اگر کسی اور کتاب میں بھی ایسا متنازع یا مبینہ علیحدگی پسند مواد موجود ہو تو اسے بھی فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔
اس پورے معاملے نے جموں و کشمیر میں سرکاری تعلیمی اداروں کے لیے کتابوں کے انتخاب، ان کی جانچ پڑتال اور منظوری کے نظام پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت نے 30 دن کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے، جس کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف مزید انتظامی اور قانونی کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔
تجزیہ
کنٹرول لائن پار کرنے والی ایک محبت کی کہانی
از: مجید جہانگیر
تھجل، اُڑی (کنٹرول لائن)، شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے اُڑی سیکٹر میں ایک ماہ قبل پاک مقبوضہ کشمیر (پی او کے) سے کنٹرول لائن (ایل او سی) عبور کرتے ہوئے گرفتار کیے گئے ایک نوجوان کا معاملہ اب محض دراندازی کا واقعہ نہیں رہا۔
تفتیش کاروں کے مطابق یہ دراصل محبت کی ایک ایسی کہانی ہے جس نے 22 سالہ نوجوان کو دنیا کی سب سے زیادہ نگرانی والی سرحدوں میں سے ایک عبور کرنے پر مجبور کر دیا تاکہ وہ اپنی محبوبہ سے مل سکے۔
جو واقعہ ابتدا میں سرحد پار دراندازی معلوم ہوتا تھا، وہ کئی ہفتوں کی تحقیقات کے بعد ایک ایسی داستان میں تبدیل ہوگیا، جہاں محبت اور تجسس بظاہر کنٹرول لائن کے ساتھ ساتھ چلتے دکھائی دیتے ہیں۔
22 سالہ ذیشان احمد میر، جو پاک مقبوضہ کشمیر کے مظفرآباد کے علاقے پینکڑی کا رہائشی ہے، کو ہندوستانی فوج کے چوکس اہلکاروں نے اُڑی سیکٹر میں ہندوستانی حدود میں داخل ہونے کے فوراً بعد گرفتار کر لیا۔ اگرچہ اس کا سفر گرفتاری اور تفتیش پر ختم ہوا، لیکن حکام کا کہنا ہے کہ اس کے سرحد پار کرنے کے پس منظر میں ایک گہری ذاتی کہانی پوشیدہ ہے۔
حکام کے مطابق ذیشان کو سلی کوٹ کے قریب، جو کنٹرول لائن پر واقع ایک مضبوط حفاظتی گاؤں ہے، ہندوستانی حدود میں داخل ہونے کے فوراً بعد حراست میں لیا گیا۔ سلی کوٹ میں پوچھ گچھ کے دوران اس نے فوج کو بتایا کہ وہ اپنی دور کی رشتہ دار ایرم بانو سے ملنے آیا ہے، جس سے گزشتہ ایک سال سے اس کا اسنیپ چیٹ کے ذریعے رابطہ تھا۔ آن لائن دوستی وقت گزرنے کے ساتھ محبت میں بدل گئی، جو فاصلے اور دشمنی پر مبنی سرحد کے باوجود برقرار رہی۔
ایرم بانو، جو تھجل گاؤں کی رہائشی ہیں اور جن کا گاؤں پاک فوج کی چوکیوں سے تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، نے بتایا کہ دونوں مسلسل سوشل میڈیا کے ذریعے رابطے میں تھے۔ ان کے مطابق ذیشان اکثر قانونی طریقے سے ویزا حاصل کرکے آنے کی بات کرتا تھا۔
انہوں نے کہاکہ “اس نے مجھ سے کہا تھا کہ وہ ویزا پر آئے گا۔ میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ وہ اتنا خطرناک راستہ اختیار کرے گا۔”
31 مئی کی صبح جب ذیشان نے کنٹرول لائن عبور کی تو وہ سلی کوٹ سے ایرم کو ایک پیغام بھیجنے میں کامیاب ہوگیا۔ اس کے بعد منظر کسی رومانوی فلم سے کم نہ تھا۔
ایرم نے بتایاکہ “صبح جب مجھے اس کا پیغام ملا تو میں کھڑکی سے کود کر سیدھی سلی کوٹ کی طرف بھاگی۔ جب میں گاؤں کے قریب دروازے تک پہنچی تو میں نے اسے دیکھا۔ وہ فوجی اہلکاروں کو پوری بات بتا چکا تھا اور میں نے بھی اس کی بات کی تصدیق کر دی۔ اس وقت میں خود پر قابو نہ رکھ سکی اور رونے لگی۔”
یہ ملاقات مختصر رہی۔ کچھ ہی دیر بعد حکام کی اطلاع پر ایرم کے اہلِ خانہ بھی وہاں پہنچ گئے۔ ایرم کے مطابق اسی روز ان کے گھر والوں کو پہلی بار ان کے تعلق کے بارے میں معلوم ہوا۔ فوجیوں نے دونوں کو چند لمحوں کے لیے ایک ساتھ رہنے کی اجازت بھی دی۔
ذیشان کے لیے یہ سفر آسان نہیں تھا۔ وہ صرف چپلیں پہنے ہوئے تھا اور اس کے پاس صرف موبائل فون اور شناختی کارڈ تھا۔
دشوار گزار راستے طے کرتے ہوئے ایک موقع پر اس کا سامنا ایک تیندوے سے بھی ہوا۔
ایرم نے بتایاکہ “بعد میں اس نے مجھے بتایا کہ راستے میں اسے ایک تیندوا ملا تھا۔ خوش قسمتی سے اس کے منہ میں پہلے ہی کوئی شکار تھا، اس لیے وہ آگے بڑھ گیا، ورنہ کچھ بھی ہو سکتا تھا۔”
تمام خطرات کے باوجود ذیشان نے اپنا سفر جاری رکھا، کیونکہ وہ اپنے اہلِ خانہ کی جانب سے اس کی طے شدہ شادی سے ْپہلے اپنی محبوبہ سے ملنا چاہتا تھا۔
ذیشان اس وقت بارہمولہ ضلع جیل میں عدالتی تحویل میں ہے۔ مختلف تحقیقاتی اداروں نے دونوں سے پوچھ گچھ کی ہے اور ان کے ڈیجیٹل رابطوں کا بھی جائزہ لیا ہے۔ ایرم کے مطابق تفتیش کاروں نے ان کی کہانی کو حقیقی قرار دیا ہے۔
انہوں نے آہستہ لہجے میں کہاکہ “ہم اس سے ملنے بارہمولہ جیل گئے تھے، لیکن ہمیں اس سے ملاقات کی اجازت نہیں ملی۔”
اُڑی میں ایرم کے گھر سے سامنے پھیلے پہاڑوں کے پار وہ بستیاں صاف دکھائی دیتی ہیں جہاں ذیشان رہتا تھا۔ صاف موسم میں وہ علاقہ ان کی طرف سے نظر آ جاتا ہے۔ ایرم آج بھی اس کی سلامتی کے لیے دعا کرتی ہیں اور ایک پُرامن مستقبل کی امید لگائے بیٹھی ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
تازہ ترین
یاسین ملک کی مشکلات میں مزید اضافہ، 36 سال پرانے سرلا بھٹ قتل کیس میں نئی چارج شیٹ

جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ، یعنی جے کے ایل ایف، کے چیئرمین یاسین ملک کی مشکلات کم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔ ایک طرف وہ پہلے ہی نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں دہشت گردی کی مالی معاونت اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے متعلق مقدمے میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں، تو دوسری جانب اب 36 سال پرانے کشمیری پنڈت نرس سرلا بھٹ قتل کیس میں بھی ان کے خلاف ایک نئی چارج شیٹ داخل کر دی گئی ہے۔
جموں و کشمیر پولیس کی اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی، یعنی ایس آئی اے، نے 737 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ عدالت میں پیش کرتے ہوئے یاسین ملک سمیت پانچ افراد کو سرلا بھٹ کے اغوا، تشدد اور قتل کی سازش میں ملوث قرار دیا ہے۔ ایس آئی اے کا دعویٰ ہے کہ اس کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سرلا بھٹ کا قتل کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں تھا بلکہ یہ جے کے ایل ایف کی قیادت میں انجام دی گئی ایک منظم دہشت گردانہ سازش کا حصہ تھا۔
تحقیقات کے مطابق سرلا بھٹ، جو اس وقت شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، یعنی سکمز میں بطور نرس خدمات انجام دے رہی تھیں، 18 اپریل 1990 کو مبینہ طور پر اسپتال سے اغوا کی گئیں۔ ایس آئی اے کے مطابق انہیں سری نگر کے مالباغ اور عمر کالونی کے علاقے میں لے جایا گیا، جہاں ان پر مبینہ طور پر شدید جسمانی تشدد کیا گیا اور بعد ازاں خودکار ہتھیاروں سے گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا۔ ان کی لاش پانچ روز بعد برآمد ہوئی، جس کے ساتھ ایک پرچی بھی ملی تھی جس میں انہیں مبینہ طور پر “مخبر” قرار دیا گیا تھا۔
چارج شیٹ میں یاسین ملک کے علاوہ خورشید احمد چلو، عبد الحمید شیخ، محمد یوسف صوفی عرف ادریس اور غلام محمد ٹپلو کے نام بھی شامل کیے گئے ہیں۔ ان میں سے تین افراد عبد الحمید شیخ، محمد یوسف صوفی اور غلام محمد ٹپلو کی وفات ہو چکی ہے، جبکہ خورشید احمد چلو مفرور ہے اور ایس آئی اے کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں موجود ہے۔ ایجنسی نے اس کے خلاف قانونی کارروائی اور اشتہاری کارروائی بھی شروع کر دی ہے۔
ایس آئی اے نے اس مقدمے میں اغوا، قتل، مجرمانہ سازش، شواہد مٹانے، ٹاڈا ایکٹ اور آرمز ایکٹ سمیت مختلف دفعات کے تحت الزامات عائد کیے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس چارج شیٹ میں زبانی، دستاویزی، فرانزک، بیلسٹک، طبی اور الیکٹرانک شواہد شامل کیے گئے ہیں، جنہیں کئی دہائیوں پر محیط تحقیقات کے بعد مرتب کیا گیا ہے۔
جموں و کشمیر پولیس نے اس پیش رفت کو دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں ایک تاریخی سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ چارج شیٹ اس بات کا واضح پیغام ہے کہ دہشت گردی سے متعلق جرائم میں وقت گزر جانا کسی بھی ملزم کے لیے قانونی تحفظ نہیں بن سکتا۔ پولیس کے مطابق چاہے کئی دہائیاں ہی کیوں نہ گزر جائیں، ایسے جرائم کے ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
سرلا بھٹ اس وقت صرف 27 برس کی تھیں اور ان چند کشمیری پنڈت خاندانوں میں شامل تھیں جنہوں نے 1990 میں عسکریت پسندی کے آغاز کے باوجود وادی کشمیر نہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ان کا قتل بعد میں کشمیر میں دہشت گردی کے ابتدائی اور نمایاں واقعات میں شمار کیا گیا۔
یاسین ملک اس وقت بھی کئی دیگر اہم مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ مئی 2022 میں این آئی اے کی خصوصی عدالت نے انہیں دہشت گردی کی مالی معاونت، حکومت ہند کے خلاف سازش اور دیگر الزامات میں مجرم قرار دیتے ہوئے دو مرتبہ عمر قید اور متعدد دیگر سزائیں سنائی تھیں۔ وہ 2019 سے تہاڑ جیل میں بند ہیں، جبکہ این آئی اے دہلی ہائی کورٹ میں ان کی سزا کو سزائے موت میں تبدیل کرنے کی اپیل بھی کر چکی ہے، جس پر کارروائی جاری ہے۔
اس کے علاوہ یاسین ملک 1989 میں اس وقت کے مرکزی وزیر داخلہ مفتی محمد سعید کی صاحبزادی روبیہ سعید کے اغوا کے مقدمے اور 1990 میں بھارتی فضائیہ کے اہلکاروں پر حملے کے مقدمے میں بھی بطور ملزم نامزد ہیں۔
سرلا بھٹ قتل کیس میں 36 برس بعد دائر ہونے والی یہ چارج شیٹ ایک ایسے مقدمے میں اہم پیش رفت تصور کی جا رہی ہے جو طویل عرصے سے انصاف کا منتظر تھا۔ اب تمام نظریں عدالت پر ہیں، جہاں اس مقدمے میں پیش کیے گئے شواہد اور دلائل کی بنیاد پر آئندہ قانونی کارروائی آگے بڑھے گی۔
دنیا1 week agoسپریم لیڈر کے قاتل کو سزائے موت کی طرف لے جائیں گے: سربراہ ایرانی عدلیہ
دنیا1 week agoامریکہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کا نفاذ مشکل لیکن ممکن: قالیباف
ہندوستان6 days agoرام مندر چڑھاوا تنازع گرما گیا، تیواری بولے– ’قصورواروإ کو بچانے میں مصروف بی جے پی حکومت‘
ہندوستان1 week agoحکومت کی ایم ایس ایم ای مخالف پالیسیوں سے راجستھان کے بس ٹرک باڈی بلڈرز پر بحران۔ راہل
دنیا7 days agoایران کا انتقاماً یروشلم کو آزادی دلانے کا اعلان
دنیا6 days agoایران کے امریکی اڈوں پر میزائل حملے، امریکہ پر اسلام آباد معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام
دنیا6 days agoٹرمپ نے بندر عباس پر حملوں کی ویڈیو جاری کر دی
دنیا1 week agoنیٹو سربراہی اجلاس سے قبل یوکرین پر روس کا بدترین فضائی حملہ، 11 افراد ہلاک
دنیا5 days agoمشرق وسطیٰ میں کشیدگی: عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
دنیا6 days agoامریکہ کا ایران پر حملہ، اسرائیل کی جنوبی لبنان پر بمباری
جموں و کشمیر1 week agoڈوڈا کے تھاتھری قصبے میں بادل پھٹنے سے گھروں اور گاڑیوں کو نقصان
دنیا1 week agoشہید رہبرِ اعلیٰ نے سکھا دیا کہ ایران کا عظیم سرمایہ عوام و اتحاد ہے: ایرانی صدر






































































































