دنیا
ایران ۔امریکہ کے درمیان امن معاہدے پر اتفاق، دستخط کی باضابطہ تقریب 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں
واشنگٹن، امریکہ اور ایران مغربی ایشیا میں امن بحال کرنے کے معاملے پر متفق ہو گئے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان اتوار کو جنگ ختم کرنے کے لیے امن معاہدے پر اتفاق ہو گیا ہے اور اب دستخط کی باضابطہ تقریب جمعہ 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہوگی۔
اس بات کی اطلاع امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر دی ہے۔ مسٹر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا، “اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ معاہدہ اب مکمل ہو چکا ہے۔ تمام لوگوں کو مبارک ہو! میں اس کے ذریعے آبنائے ہرمز کو بغیر کسی فیس کے کھولنے اور ساتھ ہی امریکی بحری ناکہ بندی کو فوری طور پر ہٹانے کی منظوری دیتا ہوں۔ دنیا بھر کے جہاز اپنے انجن چالو کریں۔ تیل کی ترسیل شروع ہونے دو!”
دریں اثنا، پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا ‘ایکس’ پر لکھا، “ہمیں یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ ہو گیا ہے۔ دونوں فریقوں نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائی کو فوری طور پر اور ہمیشہ کے لیے روکنے کا اعلان کیا ہے۔ اس معاہدے پر دستخط کی باضابطہ تقریب جمعہ 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ہوگی۔”
انہوں نے مزید کہا، “ہم اس تنازع کا سفارتی حل تلاش کرنے کے اپنے عزم کے لیے امریکہ اور ایران کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں۔ ہم اس معاہدے تک پہنچنے میں مدد کے لیے ثالثی کی کوششوں میں شامل اپنے بھائیوں قطر کی عظیم قیادت کا بھی دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔ میں سعودی عرب اور ترکی کی دور اندیش قیادت کا بھی خاص طور پر شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، جنہوں نے اس سمت میں بہت بڑا تعاون کیا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ اب جبکہ معاہدہ طے پا گیا ہے، ثالث اس ہفتے کئی میٹنگوں کا اہتمام کریں گے۔ معاہدے کو نافذ کرنے سے پہلے کی یہ بات چیت تکنیکی امور اور دستخط کی باضابطہ تقریب کے لیے بنیاد تیار کرے گی۔
یو این آئی۔ ایم جے
دنیا
ایران نے امریکہ کے ساتھ مفاہمت نامہ مکمل ہونے کی تصدیق کی
تہران، ایران نے امریکہ کے ساتھ ایک مفاہمت نامہ (ایم او یو) کو حتمی شکل دینے کی تصدیق کی ہے۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ اس پر 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں دستخط کیے جائیں گے۔ انہوں نے ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن پر کہا کہ مفاہمت نامہ کا مسودہ تیار ہو چکا ہے اور جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں اس پر باضابطہ طور پر دستخط کیے جائیں گے۔
نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی ہٹانے کا عمل پیر کی رات سے شروع ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس مفاہمت نامے میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر پیر کی رات سے فوجی کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے کی بات شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس یادداشت کا مطلب دشمن پر بھروسہ کرنا نہیں ہے۔ یہ یادداشت بغیر کسی بھروسے کے تیار کی گئی ہے۔ ہم امریکہ کی سرگرمیوں اور اس کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے پر نظر رکھیں گے۔
نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ 19 جون کو مفاہمت نامے پر دستخط کرنے کے بعد ایران امریکہ کے ساتھ پابندیوں میں نرمی، جوہری مسائل اور اقتصادی اصلاحات پر بات چیت کرے گا۔
یو این آئی۔ ایم جے
دنیا
ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر پائے گا: وینس
واشنگٹن، امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکہ-ایران معاہدہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر پائے گا۔
مسٹر وینس نے فاکس نیوز سے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ ایران کے پاس کبھی جوہری ہتھیار نہیں ہوگا۔ وہ نہ تو جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کرے گا اور نہ ہی انہیں خریدنے یا حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔ یہ بات اس معاہدے میں شامل ہے۔
امریکی نائب صدر نے کہا کہ امریکہ اس بات پر نظر رکھے گا کہ ایران معاہدے پر عمل کر رہا ہے یا نہیں، لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس کے بدلے ایران کو کیا ملے گا۔
مسٹر وینس نے کہا کہ یہاں ایک ایسا طریقہ اپنایا جا رہا ہے جس میں ہم جانچ پڑتال کرتے رہیں گے اور جب ایران اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گا تو اسے حقیقی فوائد بھی ملیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران معاہدے پر عمل کرتا ہے تو اگلے پچاس برسوں میں مغربی ایشیا میں بنیادی تبدیلیاں آئیں گی اور یہ علاقہ سرمایہ کاری کے لیے زیادہ سازگار بن جائے گا۔
یو این آئی۔ایم جے
دنیا
ہماری تلوار ہمیشہ آبنائے ہرمز پر لٹکتی رہے گی، معاہدے پر دستخط چند روز میں ڈیجیٹل طریقے سے ہوں گے، عباس عراقچی
تہران، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز اب پہلے کی طرح نہیں ہوگا، ہماری تلوار ہمیشہ اس پر لٹکتی رہے گی اور جب بھی ضروری ہوا ہماری مسلح افواج آبنائے ہرمز میں داخل ہو جائیں گی۔ انھوں نے کہا معاہدے پر دستخط ڈیجیٹل طریقے سے آئندہ چند روز میں ممکن ہے۔
عباس عراقچی نے کہا آبنائے ہرمز پر عالمی قوانین کے مطابق قانونی نظام نافذ ہوگا، کوئی ٹیکس نہیں لیا جائے گا لیکن جہازوں کو دی جانے والی سہولیات کے اخراجات وصول کیے جائیں گے، آبنائے پر نئے قواعد و ضوابط کا نفاذ اگلے 60 دنوں میں کیا جائے گا، تمام جہازوں کو نئے قواعد کے مطابق گزرنا ہوگا، تجارتی اور عسکری بحری جہازوں کے لیے علیحدہ علیحدہ قوانین ہوں گے۔
ایرانی میڈیا سے گفتگو میں انھوں نے کہا معاہدے میں 14 نکات ہیں، حتمی شکل دینے کے بعد ایک ایک نکتہ بیان کروں گا، معاہدے کے بعض دشمن بھی ہیں جن میں سرفہرست اسرائیل ہے، اس وجہ سے میڈیا پر اس معاہدے کے نکات ابھی بیان نہیں کروں گا، معاہدے کا وہ متن جو میڈیا پر گردش کر رہا ہے اس کی تصدیق نہیں کرتا، فی الحال امریکی حکام اور ہم نے بھی میڈیا پر زیر گردش نکات کی تصدیق نہیں کی، معاہدے میں ایسا نہیں ہوتا کہ ایک طرف 100 فی صد رضا مند ہو اور دوسرے کے پاس کچھ بھی نہ ہو۔
عباس عراقچی نے کہا پہلے مرحلے کے وعدوں پر عمل نہ ہوا تو دوسرے مرحلے کی طرف نہیں جائیں گے، ہمیں امریکہ ا میں ایسی مخلوق کا سامنا ہے جو اپنے وعدوں پر عمل نہیں کرتی، امریکی وعدہ خلافیوں کا ہمیں پہلے بھی تجربہ ہے، ان کا راستہ بند کرنا ہوگا، وعدہ خلافی امریکی ذات کا حصہ ہے، یہ عمل درآمد میں ہزاروں مشکلات لاتے ہیں، امریکی وعدوں پر عمل کے دوران ہمیں مختلف تحفظات کی توقع رکھنی چاہیے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا بہت جلد ایران اور عمان مل کر آبنائے ہرمز کے کنٹرول کا مشترکہ اعلامیہ جاری کریں گے، معاہدے کے مطابق سمندری محاصرے کا مکمل خاتمہ اور ہمارے منجمد اثاثے بحال ہوں گے۔ معاہدے میں آبنائے ہرمز اور محاصرے کا ذکر کیا گیا ہے، ایران کی تعمیر نو اور اقتصادی مسائل کا ذکر بھی معاہدے میں شامل ہے، مختلف نکات مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں بیان ہوں گے، ایران کے منجمد اثاثوں کو بحال کرنے کا طریقہ کار معاہدے میں شامل ہے۔
انھوں نے کہا ایران کی سیکیورٹی کونسل مذاکراتی عمل سے بخوبی آگاہ ہے، میٹنگز میں یہ موضوعات کئی دفعہ زیر بحث لائے جا چکے ہیں، سیکیورٹی کونسل کی طرف سے مختلف کمیٹیاں مذاکراتی عمل کو دیکھ رہی ہیں، جہاں بھی ضروری ہو وہ سیکیورٹی کونسل کو رپورٹ پیش کرتی ہیں، کونسل میں معاہدے کے متن کے حامی و مخالف افراد موجود ہیں، فیصلہ اجتماعی رائے سے ہوگا اور اس کے بعد اعلان کر دیا جائے گا۔
وزیر خارجہ نے کہا دشمن جب جنگ سے ناامید ہو گیا تو اس نے مذاکرات کی درخواست کی، جنگ شروع کرنے سے پہلے وہ چاہتا تھا کہ مذاکرات کے ذریعے اپنے ہدف تک پہنچ سکے، دشمن ہماری استقامت سے ناامید ہو گیا تو اس نے جنگ شروع کر دی، جب جنگ میں بھی دیکھ لیا کہ وہ کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے گا تو پھر ناامید ہو کر اس نے مذاکرات کی درخواست کر دی۔
انھوں نے ایرانی عوام کے عزم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا دشمن سمجھ رہا تھا کہ ایران کو جھکنے پر مجبور کر دے گا لیکن اسے ایرانی افواج اور عوام کا سامنا کرنا پڑا، ہم مسلح افواج، ایرانی عوام کے مرہون منت ہیں جو روز اسکوائر پر آتے رہے، ہمیں تنہا نہیں چھوڑا، کسی قسم کا خلا سفارت کاری اور میدان جنگ میں موجود نہیں، سفارت کاری اور میدان جنگ دونوں ایک ہی ہدف کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں، سفارتکاری اور میدان جنگ کے کمانڈروں کے ساتھ میڈیا اور عوام کا اضافہ ہوا۔
عباس عراقچی نے کہا سفارت کاری کا فریضہ میدان جنگ کی کامیابیوں کو نافذ کرنا ہے، مذاکراتی ٹیم بھی میدان جنگ پر بھروسہ رکھتی ہے اور ہم نے یہی کام انجام دیا ہے، ہم میدان جنگ کے فاتح ہیں، بعض ممالک کے حکام نے مجھے کہا ہم ایران کو اس طرح نہیں پہچانتے تھے، بعض ممالک کے حکام نے کہا ایران نے سب کو حیرت میں ڈال دیا اور زیادہ طاقت کے ساتھ جنگ سے باہر نکلا، میں ان حکام کے نام بھی لے سکتا ہوں جنھوں نے میرے ساتھ یہ باتیں کی ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان7 days agoانڈیا اتحاد کی میٹنگ شروع، سونیا، کھرگے اور ممتا سمیت کئی اعلیٰ لیڈر شامل
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر میں منشیات کی تجارت کی ہر کڑی توڑ رہے ہیں: لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا
دنیا1 week agoایران کے پاس 21 سے 22فیصد میزائل باقی ہیں، معاہدے کے سوا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں: ٹرمپ
دنیا1 week agoایران کے آبنائے ہرمز کی جانب ڈرون فائرنگ، امریکہ کا گورک اور جزیرہ قشم میں ریڈار پر حملہ
دنیا1 week agoلبنانی صدر اپنے ساتھ کھڑے لوگوں کو بیچتے ہیں: اسماعیل بقائی
دنیا4 days agoامریکہ کے ساتھ پائیدار معاہدہ دھمکیوں، دباؤ یا طاقت کے استعمال سے ممکن نہیں: ایرانی سفیر
دنیا7 days agoجارحیت روکیں یا طاقت کے نئے توازن کے مرحلے میں داخل ہوں: علی اکبر ولایتی کا انتباہ
دنیا5 days agoجے ڈی وینس بھی ایران ڈیل سے متعلق ٹرمپ کا بیان ماننے پر تیار نہیں
دنیا4 days agoامریکہ آج رات ایران پر بڑا حملہ کرے گا: امریکی وزیر جنگ
دنیا7 days agoامریکہ کی متضاد پالیسیوں اور مؤقف نے سفارتی راستے کو متاثر کیا: اسماعیل بقائی
دنیا7 days agoدشمن کو پہلے سے زیادہ طاقتور جواب دینے کیلئے تیار ہیں: ترجمان ایرانی نیشنل سکیورٹی کمیشن
جموں و کشمیر1 week agoکریری میں بابل کینال: غفلت اور بے حسی کا شکار





































































































