Connect with us

تجزیہ

گرم سمندری پانی اور انٹارکٹیکا: ایک خاموش بحران کی مکمل کہانی

Published

on

خصوصی مضمون: ظفر اقبال

دنیا کے سب سے سرد، ویران اور پُراسرار براعظم انٹارکٹیکا کے بارے میں طویل عرصے تک یہ سمجھا جاتا رہا کہ یہاں کی برفانی چادریں صرف فضا کے درجہ حرارت میں اضافے سے متاثر ہوتی ہیں مگر جدید سائنسی تحقیق نے اس تصور کو یکسر بدل دیا ہے، اب یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ سمندر کی گہرائیوں میں موجود گرم پانی خاموشی سے انٹارکٹیکا کی برف کو نیچے سے پگھلا رہا ہے،ایک ایسا عمل جو بظاہر نظر نہیں آتا، مگر اس کے اثرات نہایت دور رس اور خطرناک ہو سکتے ہیں۔

زمین کا برفانی قلعہ ارنٹارٹیکا (Antarctica) نہ صرف زمین کا سب سے سرد براعظم ہے بلکہ یہاں دنیا کی تقریباً 90 فیصد برف اور 70 فیصد تازہ پانی موجود ہے۔ یہ براعظم زمین کے موسمیاتی نظام میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کی سفید برف سورج کی روشنی کو واپس خلا میں منعکس کرتی ہے، جس سے زمین کا درجہ حرارت متوازن رہتا ہے۔

انٹارکٹیکا کے گرد واقع Southern Ocean دنیا کے سمندری نظام کا ایک کلیدی جزو ہے۔ یہ سمندر نہ صرف حرارت کو جذب کرتا ہے بلکہ دنیا بھر میں سمندری دھاراؤں کے ذریعے اسے تقسیم بھی کرتا ہے۔ برف کی شیلفیں جو ایک خاموش محافظ کا کام کرتی ہیں انٹارکٹیکا کے ساحلوں کے ساتھ بڑی بڑی برفانی چادریں موجود ہیں جنہیں آئس شیلف (Ice Shelves) کہا جاتا ہے۔ یہ دراصل زمینی برف کا وہ حصہ ہوتی ہیں جو سمندر پر تیر رہا ہوتا ہے۔ یہ شیلف ایک مضبوط دیوار کی طرح کام کرتی ہیں جو اندرونی برف کو سمندر میں بہنے سے روکتی ہیں۔ اگر یہ شیلف کمزور ہو جائیں یا ٹوٹ جائیں تو ان کے پیچھے موجود برف تیزی سے سمندر میں شامل ہو سکتی ہے، جس سے عالمی سطح پر سمندر کی سطح میں خطرناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔

نیا خطرہ گرم سمندری پانی: ماضی میں سائنس دانوں کی توجہ زیادہ تر فضا کے درجہ حرارت پر مرکوز تھی۔ مگر اب تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اصل خطرہ سمندر کے نیچے چھپا ہوا ہے۔گہرے سمندر میں ایک خاص قسم کا پانی پایا جاتا ہے جسے“گرم گہرا پانی”(Warm Deep Water) کہا جاتا ہے۔ یہ پانی نسبتاً زیادہ گرم ہوتا ہے اور عام حالات میں سطح سے نیچے رہتا ہے۔ لیکن حالیہ برسوں میں یہ پانی انٹارکٹیکا کے قریب آ رہا ہے اور برف کی شیلف کے نیچے داخل ہو رہا ہے۔ University of Cambridge کی قیادت میں ہونے والی تحقیق نے اس عمل کے واضح شواہد فراہم کیے ہیں۔ اس تحقیق میں Southern Ocean کے گزشتہ 20 سال کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔ نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ گرم گہرا پانی آہستہ آہستہ انٹارکٹیکا کے قریب منتقل ہو رہا ہے۔ یہ کوئی نظریاتی امکان نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے جو اب ڈیٹا میں واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ یہ پانی نیچے سے کیوں پگھلاتا ہے؟جب گرم پانی برف کی شیلف کے نیچے پہنچتا ہے تو وہ نیچے سے برف کو پگھلانا شروع کر دیتا ہے۔ اس عمل کو“basal melting”کہا جاتا ہے۔یہ عمل اس لیے خطرناک ہے کیونکہ یہ نظر نہیں آتا۔ یہ مسلسل جاری رہتا ہے اوریہ برف کی بنیاد کو کمزور کرتا ہے۔نتیجتاً، برف کی شیلف اوپر سے ٹھیک دکھائی دے سکتی ہے مگر اندر سے کھوکھلی ہو چکی ہوتی ہے۔ 2002 میں Larsen B Ice Shelf کا اچانک ٹوٹ جانا اس بات کی واضح مثال ہے کہ برف کی شیلف کتنی جلدی ختم ہو سکتی ہے۔ چند ہفتوں میں ہزاروں سال پرانی برف ٹوٹ کر سمندر میں بہہ گئی۔اس واقعے نے سائنس دانوں کو خبردار کر دیا کہ برف کے نظام میں تبدیلیاں بہت تیزی سے ہو سکتی ہیں۔ گرم پانی کیوں بڑھ رہا ہے؟ یہ سوال نہایت اہم ہے۔ اس کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں: (اول)عالمی حدت (Global Warming)انسانی سرگرمیوں کے باعث فضا اور سمندر دونوں کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔ (دوم) ہواؤں کے نظام میں تبدیلی: انٹارکٹیکا کے گرد چلنے والی ہوائیں سمندری پانی کو اوپر یا نیچے لے جا سکتی ہیں۔ اگر یہ ہوائیں بدل جائیں تو گرم پانی اوپر آ سکتا ہے۔ (سوم) سمندری دھارائیں: سمندری دھارائیں دنیا بھر میں حرارت کو منتقل کرتی ہیں۔ ان میں تبدیلی گرم پانی کو انٹارکٹیکا کی طرف لے جا سکتی ہے۔ اگر برف پگھل گئی تو کیا ہوگا؟یہ سوال اس مسئلے کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ (چہارم) سمندر کی سطح میں اضافہ: اگر انٹارکٹیکا کی برف پگھلتی ہے تو سمندر کی سطح کئی میٹر تک بڑھ سکتی ہے۔ (پنجم) ساحلی علاقوں کا ڈوب جانا: دنیا کے بڑے شہر جیسے ممبئی، کراچی، لندن، اور نیویارک خطرے میں آ سکتے ہیں۔ (ششم) ماحولیاتی نظام میں تبدیلی: سمندری حیات، موسم، اور بارشوں کا نظام متاثر ہو سکتا ہے۔ (ہفتم) عالمی معیشت پر اثرات: یہ مسئلہ صرف ماحول تک محدود نہیں بلکہ معیشت پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے:زرعی زمینوں کا نقصان، پانی کی قلت، نقل مکانی (Migration) میں اضافہ اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان؎ (ہشتم) سائنس دانوں کی پریشانی: سائنس دان اس لیے پریشان ہیں کیونکہ: یہ عمل پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔اس کی رفتار بڑھ سکتی ہے۔ اسے روکنا مشکل ہے۔

اس کے اثرات عالمی ہوں گے۔سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ یہ تبدیلیاں آہستہ آہستہ ہو رہی ہیں، جس سے لوگوں کو فوری خطرہ محسوس نہیں ہوتا۔ (نہم) مستقبل کی پیش گوئیاں:سائنس دان مختلف ماڈلز کے ذریعے مستقبل کا اندازہ لگا رہے ہیں۔ اگر موجودہ رجحان جاری رہا تو برف کے بڑے حصے ختم ہو سکتے ہیں، سمندر کی سطح تیزی سے بڑھے گی اور موسمیاتی نظام غیر مستحکم ہو جائے گا۔ اگرچہ صورتحال تشویشناک ہے، مگر مکمل طور پر ناامید ہونے کی ضرورت نہیں۔ اگر ہمیں اس ناگہانی آفت سے بچنا ہے تو کاربن اخراج میں کمی اورفوسل فیول کے استعمال کو کم کرنا ضروری ہے۔قابل تجدید توانائی، شمسی، ہوائی، اور دیگر صاف توانائی کے ذرائع اپنانے ہوں گے۔یہ ایک عالمی مسئلہ ہے جس کا حل بھی عالمی سطح پر ہی ممکن ہے۔

جدید ٹیکنالوجی اس مسئلے کو سمجھنے میں مدد دے رہی ہے:سیٹلائٹس زیرِ آب روبوٹس، ڈیٹا ماڈلنگ وغیرہ۔یہ سب ہمیں بہتر فیصلے کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ یہ مسئلہ صرف سائنس دانوں کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا ہے۔ ہر فرد، ہر ملک، اور ہر ادارے کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔Antarctica میں گرم سمندری پانی کا داخل ہونا ایک خاموش مگر خطرناک تبدیلی ہے۔

University of Cambridge کی تحقیق نے یہ واضح کر دیا ہے کہ یہ کوئی دور کا خطرہ نہیں بلکہ ایک جاری حقیقت ہے۔ اگر ہم نے بروقت اقدامات نہ کیے تو اس کے اثرات پوری دنیا کو متاثر کریں گے۔ مگر اگر ہم سنجیدگی سے کام کریں تو اس بحران کو کم کیا جا سکتا ہے۔ یہ صرف انٹارکٹیکا کی کہانی نہیں،یہ پوری انسانیت کے مستقبل کی کہانی ہے۔

(یواین آئی)

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

تجزیہ

یہ التجا مفتی کون ہے

Published

on

تحریر۔۔ محمد رفیق راتھر
آج کل جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک سوال بار بار سنائی دیتا ہے: “یہ التجا مفتی کون ہے” یہ سوال نیشنل کانفرنس کے بعض رہنما، وزراء اور ترجمان اکثر اٹھاتے رہتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ سوال خود اپنے اندر ایک سیاسی اعتراف بھی رکھتا ہے۔ اگر التجا مفتی غیر اہم ہوتیں تو ان کا نام اتنی شدت سے سیاسی بحث کا موضوع نہ بنتا اور نہ ہی ان کے بیانات پر مسلسل ردعمل سامنے آتا۔

التجا مفتی کسی سرکاری عہدے پر فائز نہیں ہیں، نہ وہ وزیر ہیں، نہ رکن اسمبلی اور نہ ہی کسی آئینی منصب کی حامل ہیں۔ ان کی اصل شناخت یہ ہے کہ وہ ایک سیاسی خاندان سے تعلق رکھنے والی ایسی نوجوان خاتون ہیں جنہوں نے مشکل ترین حالات میں اپنی سیاسی رائے اور عوامی مسائل کے بارے میں آواز بلند کی۔ وہ سابق وزیر اعلیٰ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کی صاحبزادی ہیں، مگر صرف یہی ان کی شناخت نہیں۔

جموں و کشمیر کی سیاست میں خاندانی پس منظر رکھنے والے افراد کا سیاست میں متحرک ہونا کوئی نئی بات نہیں۔ نیشنل کانفرنس، کانگریس، بی جے پی اور دیگر جماعتوں میں بھی سیاسی خاندانوں کے افراد اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ اگر کسی سیاستدان کا بیٹا یا بیٹی سیاسی معاملات پر اظہار خیال کرے تو اسے غیر معمولی نہیں سمجھا جاتا۔ پھر صرف التجا مفتی کے حوالے سے ہی یہ سوال کیوں اٹھایا جاتا ہے

حقیقت یہ ہے کہ التجا مفتی نے گزشتہ چند برسوں میں عوامی مسائل، انسانی حقوق، نوجوانوں کے مستقبل، روزگار، زمینوں کے تحفظ اور جموں و کشمیر کی سیاسی صورتحال پر مسلسل بات کی ہے۔ انہوں نے ایسے وقت میں اپنی آواز بلند کی جب بہت سے لوگ خاموش رہنے کو ترجیح دے رہے تھے۔ ان کے بیانات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، ان کی سیاست پر تنقید کی جا سکتی ہے، مگر ان کے حقِ اظہار پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جموں و کشمیر کی سیاست ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں نوجوان نسل محض تماشائی بن کر رہنے کے لیے تیار نہیں۔ نوجوان اپنے مستقبل، شناخت، روزگار اور سیاسی حقوق کے بارے میں سوالات اٹھا رہے ہیں اور اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔ التجا مفتی اسی نئی نسل کی ایک نمائندہ آواز کے طور پر سامنے آئی ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر نہ صرف اپنی رائے کا اظہار کیا بلکہ عوامی مسائل کو بھی اجاگر کرنے کی کوشش کی۔

التجا مفتی نے صرف سیاسی بیانات تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ جموں و کشمیر کے عوامی جذبات، احساسات اور خدشات کی ترجمانی بھی کی ہے۔ خصوصاً 5 اگست 2019 کے بعد پیدا ہونے والی غیر معمولی سیاسی صورتحال میں انہوں نے ان موضوعات پر کھل کر بات کی جن پر بہت سے لوگ خاموش رہنے کو ترجیح دے رہے تھے۔ جموں و کشمیر کے سلب شدہ آئینی حقوق، شناخت اور وقار کی بحالی، مقامی زمینوں اور وسائل کے تحفظ، نوجوانوں کے روزگار اور سرکاری ملازمتوں میں ریزرویشن کے بڑھتے ہوئے تنازع جیسے حساس معاملات پر ان کا مؤقف واضح اور دوٹوک رہا ہے۔

جموں و کشمیر کے ہزاروں نوجوانوں میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ ان کے مستقبل، روزگار اور مواقع سے متعلق فیصلے ان کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق نہیں ہو رہے۔ ایسے میں التجا مفتی نے ان خدشات کو سیاسی اور عوامی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش کی۔ زمینوں کے تحفظ، مقامی حقوق، روزگار کے مواقع اور سیاسی اختیارات کی بحالی جیسے موضوعات پر ان کی مسلسل آواز نے انہیں نوجوان نسل کے ایک بڑے حلقے میں قابلِ توجہ مقام دلایا ہے۔

سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ ہر دور میں نئی آوازوں کو ابتدا میں تنقید اور مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر جمہوری معاشروں میں شخصیات نہیں بلکہ خیالات اور دلائل کا مقابلہ کیا جاتا ہے۔ اگر التجا مفتی کی باتیں غلط ہیں تو ان کا جواب حقائق اور دلیل سے دیا جانا چاہیے۔ محض یہ پوچھتے رہنا کہ “یہ التجا مفتی کون ہے؟” دراصل اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے مترادف ہے۔

مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ جو لوگ بار بار پوچھتے ہیں کہ “یہ التجا مفتی کون ہے؟” دراصل وہ خود ان کی سیاسی اہمیت کو تسلیم کر رہے ہوتے ہیں۔ سیاست میں کسی شخصیت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاتا ہے کہ مخالفین اس کا ذکر کتنی بار کرتے ہیں۔ اگر التجا مفتی کی باتوں کا کوئی اثر نہ ہوتا تو ان کے مخالفین کو ان پر ردعمل دینے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوتی۔

جموں و کشمیر کی سیاسی تاریخ میں خواتین کا کردار ہمیشہ قابلِ ذکر رہا ہے، مگر بدقسمتی سے خواتین سیاستدانوں اور سماجی کارکنوں کو اکثر مرد سیاستدانوں کے مقابلے میں زیادہ سخت تنقید اور ذاتی حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے ماحول میں اگر کوئی نوجوان خاتون اپنی سیاسی رائے کا اظہار کرتی ہے اور عوامی مسائل پر بات کرتی ہے تو یہ جمہوری عمل کے لیے ایک مثبت پیش رفت سمجھی جانی چاہیے، نہ کہ اسے تنقید کا نشانہ بنا کر خاموش کرانے کی کوشش کی جائے۔

عوام آج یہ جاننا چاہتے ہیں کہ بے روزگاری کیسے کم ہوگی، نوجوانوں کو روزگار کب ملے گا، زمینوں اور وسائل کا تحفظ کیسے ہوگا اور جموں و کشمیر کے سیاسی حقوق کی بحالی کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں گے۔ سیاست کا اصل مقصد بھی یہی ہونا چاہیے۔ کسی شخصیت کو ہدف بنانے کے بجائے عوامی مسائل کے حل پر توجہ دینا ہی سیاسی بلوغت اور جمہوری ذمہ داری کی علامت ہے۔

جمہوریت کی بنیاد ہی یہ ہے کہ ہر شہری کو اپنی رائے رکھنے اور اس کا اظہار کرنے کا حق حاصل ہو۔ اگر ایک نوجوان خاتون سیاسی معاملات پر گفتگو کرتی ہے تو اس کا جواب دلیل سے دیا جانا چاہیے، نہ کہ اس کے وجود یا شناخت پر سوال اٹھا کر۔ سیاسی اختلاف جمہوریت کا حسن ہے، لیکن سیاسی مخالفین کی تضحیک یا ان کی شناخت کو موضوعِ بحث بنانا جمہوری روایات کو کمزور کرتا ہے۔

لہٰذا جب اگلی بار کوئی پوچھے کہ “یہ التجا مفتی کون ہے؟” تو جواب سادہ ہے: وہ جموں و کشمیر کی ایک نوجوان سیاسی آواز ہیں جن کی باتوں سے اتفاق یا اختلاف کیا جا سکتا ہے، مگر جنہیں نظر انداز کرنا ان کے ناقدین کے لیے بھی ممکن نہیں رہا۔

اگر وہ غیر اہم ہوتیں تو ان کا ذکر روزانہ سیاسی بیانات میں نہ ہوتا۔ ان کی موجودگی اور ان پر ہونے والی بحث اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ریاست کی سیاسی گفتگو کا ایک اہم حصہ بن چکی ہیں۔

اصل سوال یہ نہیں کہ التجا مفتی کون ہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ان کی اٹھائی ہوئی باتوں اور عوامی مسائل کا جواب کیا ہے۔ جمہوریت میں شخصیات نہیں، مسائل اور نظریات اہم ہوتے ہیں۔ جو سیاست عوامی مسائل کے بجائے شخصیات کے گرد گھومنے لگے، وہ اپنی اصل ذمہ داری سے دور ہو جاتی ہے۔ جموں و کشمیر کے عوام بھی آج یہی چاہتے ہیں کہ ان کے مسائل پر بات ہو، ان کے حقوق کی بات ہو اور ان کے مستقبل کے بارے میں سنجیدہ گفتگو ہو۔ یہی کسی بھی صحت مند جمہوری معاشرے کی پہچان ہے۔


مضمون نگار ٹریڈ یونین و سیاسی لیڈر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک معروف قلمکار بھی ہیں۔

Continue Reading

تجزیہ

سبز توانائی اور موسمیاتی بحران

Published

on

خصوصی مضمون: ظفراقبال

اکیسویں صدی کا سب سے بڑا عالمی مسئلہ موسمیاتی تبدیلی (کلائمیٹ چینج) ہے، دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، غیر معمولی بارشیں، خشک سالی، جنگلات کی آگ، گلیشیئرز کا پگھلنااور سمندری سطح میں اضافہ اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ کر ہ ارض ایک سنگین ماحولیاتی بحران سے گزر رہا ہے، گزشتہ چند دہائیوں میں سائنس دانوں اور ماہرین ماحولیات نے بارہا خبردار کیا ہے کہ اگر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں فوری اور مؤثر کمی نہ کی گئی تو انسانی تہذیب کو ناقابلِ تلافی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس تناظر میں قابلِ تجدید توانائی یا سبز توانائی کو موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ کا ایک اہم ہتھیار سمجھا جاتا ہے۔ شمسی توانائی، ہوائی توانائی، آبی توانائی اور دیگر قابلِ تجدید ذرائع کو فروغ دینے کے لیے دنیا بھر میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ تاہم تازہ ترین عالمی رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ قابلِ تجدید توانائی کی پیداوار میں تاریخی اضافہ ہوا ہے، لیکن اس کے باوجود عالمی درجہ حرارت میں اضافہ جاری ہے اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں خاطر خواہ کمی نہیں آ سکی۔ یہی حقیقت اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ کیا صرف سبز توانائی ہی موسمیاتی بحران کا حل ہے یا اس کے لیے مزید جامع اور ہمہ گیر اقدامات کی ضرورت ہے

گزشتہ چند برسوں کے دوران قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں غیر معمولی ترقی دیکھنے میں آئی ہے۔ شمسی اور ہوائی توانائی کی لاگت میں نمایاں کمی آئی ہے جس کے باعث یہ کئی ممالک میں فوسل فیول کے مقابلے میں زیادہ سستی اور قابلِ عمل بن چکی ہے۔ چین اور ہندوستان جیسے بڑے ممالک نے شمسی اور ہوائی توانائی کے منصوبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے۔

پچھلے سال عالمی سطح پر قابلِ تجدید توانائی کی تنصیبات نے ایک اہم سنگ میل عبور کیا جب شمسی، ہوائی اور آبی توانائی نے بجلی پیدا کرنے میں فوسل ایندھن کو پیچھے چھوڑ دیا۔ یہ پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ دنیا آہستہ آہستہ صاف توانائی کی جانب بڑھ رہی ہے۔

اس ترقی کے متعدد فوائد سامنے آئے ہیں۔ ایک طرف کاربن کے اخراج میں کمی کے امکانات پیدا ہوئے ہیں تو دوسری طرف توانائی کی خود کفالت، روزگار کے نئے مواقع اور معاشی ترقی کو بھی فروغ ملا ہے۔ کئی ممالک اب درآمد شدہ تیل اور گیس پر انحصار کم کر رہے ہیں، جس سے ان کی معیشتیں زیادہ مستحکم ہو رہی ہیں۔

اگرچہ سبز توانائی کی ترقی حوصلہ افزا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافہ رک نہیں سکا۔ تازہ ترین سائنسی رپورٹس کے مطابق 2025 میں انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں عالمی حدت 1.37 ڈگری سیلسیس تک پہنچ گئی، جو صنعتی دور سے پہلے کے درجہ حرارت کے مقابلے میں ایک خطرناک اضافہ ہے۔

یہ صورتحال اس لیے مزید تشویشناک ہے کیونکہ پیرس معاہدے کے تحت دنیا نے درجہ حرارت کو 1.5 ڈگری سیلسیس سے نیچے رکھنے کا ہدف مقرر کیا تھا۔ سائنس دان خبردار کر رہے ہیں کہ موجودہ رفتار برقرار رہی تو آئندہ چند برسوں میں یہ حد بھی عبور ہو سکتی ہے۔

توانائی کے شعبے میں اگرچہ قابلِ تجدید ذرائع کا حصہ بڑھ رہا ہے، لیکن صنعت کا ایک بڑا حصہ اب بھی کوئلے، تیل اور قدرتی گیس پر انحصار کرتا ہے۔ فولاد، سیمنٹ، کیمیکل، کھاد اور دیگر بھاری صنعتیں بڑی مقدار میں فوسل فیول استعمال کرتی ہیں۔

ان صنعتوں کو سبز توانائی پر منتقل کرنا آسان نہیں۔ اس کے لیے جدید ٹیکنالوجی، بھاری سرمایہ کاری اور طویل مدتی منصوبہ بندی درکار ہے۔ مثال کے طور پر گرین ہائیڈروجن کو مستقبل کا صاف ایندھن قرار دیا جا رہا ہے، لیکن اس کی پیداوار ابھی مہنگی ہے اور اس کے لیے مطلوبہ انفراسٹرکچر بھی مکمل طور پر موجود نہیں۔صنعتی شعبے میں تبدیلی کی سست رفتار عالمی اخراج میں کمی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ صرف صاف توانائی پیدا کرنا کافی نہیں بلکہ توانائی کے استعمال میں بھی اصلاحات ضروری ہیں۔

توانائی بچانے والی مشینری، جدید پیداواری نظام اور وسائل کے مؤثر استعمال سے اخراج میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔

ری سائیکلنگ اس سلسلے میں ایک اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ مثال کے طور پر ری سائیکل شدہ ایلومینیم کی تیاری میں نئے ایلومینیم کے مقابلے میں بہت کم توانائی درکار ہوتی ہے۔ اسی طرح پلاسٹک، شیشہ اور کاغذ کی ری سائیکلنگ سے نہ صرف وسائل کی بچت ہوتی ہے بلکہ کاربن اخراج بھی کم ہوتا ہے۔تاہم ان اقدامات کو وسیع پیمانے پر اپنانے کے لیے حکومتی پالیسیوں، مالی مراعات اور عوامی شعور کی ضرورت ہے۔

موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے حوالے سے ترقی پذیر ممالک کو منفرد چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان ممالک میں غربت، آبادی میں اضافہ، توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب اور محدود مالی وسائل پائیدار ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔

بہت سے ترقی پذیر ممالک کے لیے فوری ترجیح معاشی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔ اس وجہ سے وہ اکثر سستی توانائی کے لیے کوئلے اور دیگر فوسل فیولز پر انحصار کرتے ہیں۔اگر عالمی برادری واقعی موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنا چاہتی ہے تو اسے ترقی پذیر ممالک کو مالی اور تکنیکی معاونت فراہم کرنا ہوگی تاکہ وہ صاف توانائی کی طرف تیزی سے منتقل ہو سکیں۔

موسمیاتی بحران کے حل میں علم اور ٹیکنالوجی کی منتقلی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ جدید سبز ٹیکنالوجی زیادہ تر ترقی یافتہ ممالک کے پاس موجود ہے جبکہ ترقی پذیر ممالک کو اس تک رسائی میں مشکلات پیش آتی ہیں۔

یونیورسٹیوں، تحقیقی اداروں، حکومتوں اور نجی شعبے کے درمیان تعاون کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر جدید تحقیق اور اختراعات کو عالمی سطح پر تیزی سے منتقل کیا جائے تو صاف توانائی کی لاگت مزید کم ہو سکتی ہے اور اس کے استعمال میں اضافہ ممکن ہے۔بدقسمتی سے اب تک یہ شعبہ عالمی کوششوں کی ایک کمزور کڑی ثابت ہوا ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق دنیا کے پاس محدود ‘کاربن بجٹ’ باقی رہ گیا ہے۔ کاربن بجٹ سے مراد گرین ہاؤس گیسوں کی وہ مقدار ہے جو مزید خارج کی جا سکتی ہے جبکہ عالمی درجہ حرارت کو 1.5 ڈگری سیلسیس کی حد کے اندر رکھا جا سکے۔

حالیہ رپورٹس کے مطابق موجودہ اخراج کی رفتار برقرار رہی تو یہ بجٹ تقریباً تین سال میں ختم ہو سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کو فوری اور غیر معمولی اقدامات کرنے ہوں گے۔

اگر ایسا نہ کیا گیا تو درجہ حرارت میں اضافے کے نتائج مزید شدید ہو جائیں گے، جن میں سمندری سطح میں اضافہ، خوراک کی قلت، پانی کی کمی، قدرتی آفات اور انسانی ہجرت شامل ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی ایک ایسا مسئلہ ہے جسے کوئی ایک ملک تنہا حل نہیں کر سکتا۔ اس کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ حکمتِ عملی اور تعاون ناگزیر ہے۔اقوام متحدہ کے تحت ہونے والی موسمیاتی کانفرنسیں اسی مقصد کے لیے منعقد کی جاتی ہیں، لیکن اکثر سیاسی اختلافات اور معاشی مفادات مؤثر اقدامات کی راہ میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام ممالک اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں اور اخراج میں کمی کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔

ترقی یافتہ ممالک کو تاریخی ذمہ داری کے تحت زیادہ کردار ادا کرنا ہوگا کیونکہ عالمی اخراج میں ان کا حصہ زیادہ رہا ہے۔

قابلِ تجدید توانائی بلا شبہ موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ کا ایک اہم ستون ہے، لیکن یہ اکیلے اس بحران کا حل نہیں۔ اگرچہ شمسی، ہوائی اور آبی توانائی کی ترقی امید کی ایک کرن ہے، لیکن گرین ہاؤس گیسوں کے مسلسل بڑھتے ہوئے اخراج سے واضح ہوتا ہے کہ دنیا کو مزید جامع اقدامات کی ضرورت ہے۔

صنعتی شعبے کی اصلاح، توانائی کی بچت، ری سائیکلنگ، گرین ہائیڈروجن کی ترقی، ٹیکنالوجی کی منتقلی، ترقی پذیر ممالک کی معاونت اور عالمی تعاون کے بغیر موسمیاتی اہداف حاصل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

انسانیت ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہے۔ آنے والے چند برس یہ طے کریں گے کہ آیا دنیا موسمیاتی بحران پر قابو پا سکتی ہے یا آنے والی نسلوں کو ایک زیادہ گرم، غیر مستحکم اور خطرناک سیارے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ وقت کم ہے، لیکن اگر عالمی برادری سنجیدگی، بصیرت اور اجتماعی عزم کا مظاہرہ کرے تو اب بھی امید باقی ہے کہ زمین کو ایک محفوظ اور پائیدار مستقبل کی طرف لے جایا جا سکتا ہے۔

(یواین آئی)

Continue Reading

تجزیہ

ہندوستان موسمیاتی بحران کی زد میں: ایک جانب سیلاب، دوسری جانب جان لیوا گرمی

Published

on

خصوصی مضمون: ظفر اقبال

ہندوستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں موسمیاتی نظام نہ صرف معیشت بلکہ کروڑوں انسانوں کی روزمرہ زندگی پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے زرعی پیداوار، آبی وسائل، توانائی کی طلب، صحت عامہ اور بنیادی ڈھانچے کا ایک بڑا حصہ موسم کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔ 2026 کا مانسون ہندوستان کے لیے ایک غیر معمولی موسمی صورتِ حال لے کر آیا ہے، جہاں ایک طرف جنوبی اور شمال مشرقی علاقوں میں شدید بارشوں اور سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا ہے، تو دوسری طرف شمالی، وسطی اور مغربی ہندوستان شدید گرمی کی لہروں کی لپیٹ میں ہیں۔ یہ صورتحال محض ایک موسمی بے ترتیبی نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اس بڑھتے ہوئے بحران کی عکاسی کرتی ہے جو پورے جنوبی ایشیا کو اپنی گرفت میں لے رہا ہے۔

اس سال ہندوستان ایک ایسے موسمیاتی تضاد کا شکار نظر آتا ہے جسے ماہرین ‘کلائمیٹ وِپ لیش’ یا موسمیاتی جھٹکا قرار دیتے ہیں۔ اس اصطلاح سے مراد وہ صورتحال ہے جب موسم ایک انتہا سے دوسری انتہا کی طرف غیر معمولی تیزی سے منتقل ہو جائے۔ کہیں شدید بارش اور سیلاب، تو کہیں خشک سالی اور شدید گرمی اور یہ سب ایک ہی وقت میں وقوع پذیر ہو رہا ہو۔

ہندوستان میں جنوب مغربی مانسون کو زندگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ عام طور پر مانسون یکم جون کے آس پاس ریاست کیرالہ میں داخل ہوتا ہے، تاہم 2026 میں اس کی آمد تین دن کی تاخیر سے 4 جون کو ہوئی۔ بظاہر تین دن کی تاخیر معمولی معلوم ہوتی ہے، لیکن موسمیاتی سائنس کے تناظر میں یہ تبدیلی کئی بڑے عوامل کی نشاندہی کرتی ہے۔

مانسون کی رفتار اور شدت سمندری درجہ حرارت، فضائی دباؤ، بحر ہند کے درجہ حرارت اور عالمی موسمیاتی مظاہر جیسے ایل نینو اور لا نینا سے متاثر ہوتی ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران بحر ہند کے پانیوں میں مسلسل اضافہ ہونے والا درجہ حرارت مانسون کے معمول کے نظام کو متاثر کر رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں بارش کی تقسیم غیر متوازن ہوتی جا رہی ہے۔

2026 میں بھی یہی منظر دیکھنے کو ملا۔ مانسون نے جنوبی ریاستوں اور شمال مشرقی علاقوں میں تیزی سے پیش قدمی کی، مگر ملک کے بڑے حصے میں اس کی رسائی سست رہی۔ اس غیر متوازن پیش رفت نے موسمیاتی تضاد کو مزید گہرا کر دیا۔

کیرالہ، کرناٹک، تمل ناڈو اور آندھرا پردیش کے کئی علاقوں میں مانسون کے ابتدائی مرحلے میں ہی شدید بارشیں ریکارڈ کی گئیں۔ کئی شہروں میں سڑکیں زیرِ آب آگئیں، ٹریفک نظام متاثر ہوا اور نشیبی علاقوں میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔

کیرالہ خاص طور پر گزشتہ چند برسوں سے شدید بارشوں اور سیلابوں کا سامنا کر رہا ہے۔ 2018 کے تباہ کن سیلاب کے بعد ماہرین مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث زبردست بارشوں کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اب بارش کئی دنوں میں تقسیم ہونے کے بجائے چند گھنٹوں میں ہی ریکارڈ مقدار میں برس جاتی ہے، جس سے نکاسی آب کا نظام ناکام ہو جاتا ہے۔

شمال مشرقی ریاستیں جیسے آسام، میگھالیہ اور اروناچل پردیش بھی شدید بارشوں کی زد میں ہیں۔ دریاؤں کی سطح بلند ہو رہی ہے اور سیلابی خطرات بڑھ رہے ہیں۔ ان علاقوں میں ہزاروں خاندان ہر سال سیلاب کے باعث بے گھر ہوتے ہیں، جبکہ زرعی زمینوں کو بھی شدید نقصان پہنچتا ہے۔

دوسری جانب دہلی، اتر پردیش، راجستھان، ہریانہ، پنجاب اور مدھیہ پردیش شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں۔ کئی شہروں میں درجہ حرارت 45 ڈگری سیلسیس سے تجاوز کر گیا ہے، جبکہ بعض علاقوں میں گرمی کی شدت محسوس شدہ درجہ حرارت کو 50 ڈگری کے قریب لے جا رہی ہے۔

شدید گرمی نہ صرف انسانی صحت بلکہ معیشت کے لیے بھی بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ اسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک کے مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ مزدور طبقہ، کسان اور کھلے آسمان تلے کام کرنے والے افراد سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

گرمی کی لہروں کے دوران بجلی کی طلب میں غیر معمولی اضافہ ہو جاتا ہے۔ ایئر کنڈیشنرز اور کولنگ سسٹمز کے استعمال سے بجلی کے نظام پر دباؤ بڑھتا ہے، جس کے نتیجے میں کئی علاقوں میں لوڈ شیڈنگ بھی دیکھنے میں آتی ہے۔

موسمیاتی ماہرین کے مطابق ہندوستان میں بیک وقت سیلاب اور گرمی کی لہریں موسمیاتی وِپ لیش کی واضح مثال ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قدرتی نظام اپنی تاریخی ترتیب کھو رہا ہے۔

ماضی میں موسم نسبتاً قابلِ پیش گوئی تھا۔ گرمی کے بعد بارش آتی تھی اور بارش کا ایک متعین دورانیہ ہوتا تھا۔ اب صورتحال مختلف ہے۔ کہیں بارش حد سے زیادہ ہے، کہیں بالکل نہیں۔ کہیں درجہ حرارت ریکارڈ سطح پر ہے، تو کہیں طوفانی بارشیں زندگی مفلوج کر رہی ہیں۔

یہ تبدیلیاں عالمی حدت (Global Warming) کے ساتھ براہِ راست جڑی ہوئی ہیں۔ زمین کا اوسط درجہ حرارت بڑھنے سے فضا میں نمی زیادہ جمع ہوتی ہے، جو شدید بارشوں کی صورت میں خارج ہوتی ہے۔ دوسری طرف گرین ہاؤس گیسوں کی بڑھتی ہوئی مقدار گرمی کی شدت میں اضافہ کرتی ہے۔

ہندوستان کی تقریباً نصف آبادی براہِ راست یا بالواسطہ زراعت سے وابستہ ہے۔ مانسون کی غیر یقینی صورتحال زرعی شعبے کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہے۔اگر بارش وقت پر نہ ہو تو فصلوں کی بوائی متاثر ہوتی ہے۔ اگر بارش ضرورت سے زیادہ ہو تو فصلیں تباہ ہو جاتی ہیں۔ کسانوں کے لیے یہ صورتحال دوہری مصیبت بن چکی ہے۔دھان، کپاس، گنا اور دالوں جیسی اہم فصلیں مانسون پر انحصار کرتی ہیں۔ غیر متوازن بارشیں نہ صرف پیداوار کم کرتی ہیں بلکہ غذائی تحفظ کو بھی خطرے میں ڈالتی ہیں۔ زرعی ماہرین کے مطابق اگر یہی رجحان جاری رہا تو آنے والے برسوں میں خوراک کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔

ہندوستان کے بڑے شہر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ دہلی، ممبئی، بنگلورو اور چنئی جیسے شہروں میں شدید بارش کے دوران سڑکیں دریا کا منظر پیش کرنے لگتی ہیں۔

شہری منصوبہ بندی میں آبی گزرگاہوں، نالوں اور قدرتی ذخائر کو نظر انداز کرنے کے باعث بارش کا پانی نکالنا مشکل ہو جاتا ہے۔ دوسری طرف گرمی کی لہروں کے دوران شہروں میں ‘ہیٹ آئی لینڈ ایفیکٹ’ پیدا ہوتا ہے، جہاں کنکریٹ اور اسفالٹ گرمی کو جذب کرکے درجہ حرارت مزید بڑھا دیتے ہیں۔

موسمیاتی شدت کے صحت پر اثرات انتہائی سنگین ہیں۔ گرمی کی لہروں سے ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی اور دل کی بیماریوں کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ دوسری طرف سیلاب اور بارشوں کے بعد ملیریا، ڈینگی، ہیضہ اور دیگر متعدی امراض پھیلنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

بچوں، بزرگوں اور کمزور معاشی طبقوں کے افراد سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی آئندہ دہائیوں میں صحت عامہ کے لیے سب سے بڑے خطرات میں سے ایک ہوگی۔

سیلاب، گرمی اور موسمیاتی بے ترتیبی کا براہِ راست اثر معیشت پر پڑتا ہے۔ فصلوں کا نقصان، بنیادی ڈھانچے کی تباہی، صحت کے اخراجات میں اضافہ اور صنعتی پیداوار میں کمی ملکی ترقی کی رفتار کو متاثر کرتی ہے۔

سیلاب زدہ علاقوں میں سڑکیں، پل اور مواصلاتی نظام متاثر ہوتے ہیں، جبکہ شدید گرمی صنعتی کارکنوں کی پیداواری صلاحیت کم کر دیتی ہے۔ عالمی بینک اور دیگر اداروں کے مطابق موسمیاتی تبدیلی ترقی پذیر ممالک کی اقتصادی ترقی کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔

موجودہ صورتحال حکومتوں کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔ صرف ہنگامی امداد فراہم کرنا کافی نہیں بلکہ طویل المدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔

آبی ذخائر کا بہتر انتظام، بارش کے پانی کو محفوظ بنانا، شہری نکاسی آب کے نظام کی بہتری، موسمیاتی مزاحم فصلوں کی ترقی اور قابلِ تجدید توانائی کا فروغ ناگزیر ہو چکا ہے۔

2026 کا مانسون ہندوستان کے لیے ایک واضح انتباہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا مسئلہ نہیں بلکہ موجودہ حقیقت بن چکی ہے۔ جنوبی علاقوں میں سیلاب اور شمالی بھارت میں شدید گرمی کی لہریں اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں کہ موسم کا روایتی توازن تیزی سے بدل رہا ہے۔

اگرچہ ہندوستان سمیت پوری دنیا موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا سامنا کر رہی ہے، لیکن آبادی، زراعت اور معیشت کے اعتبار سے ہندوستان ان ممالک میں شامل ہے جو سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومت، ماہرین، صنعت اور عوام مشترکہ طور پر ایسے اقدامات کریں جو نہ صرف موجودہ بحران کا مقابلہ کر سکیں بلکہ مستقبل کے خطرات کو بھی کم کر سکیں۔

موسمیاتی وِپ لیش کا یہ دور ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قدرت کے ساتھ عدم توازن کی قیمت بہت بھاری ہو سکتی ہے۔ اگر بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو سیلاب اور گرمی کی یہ دوہری آفت آنے والے برسوں میں مزید شدید اور تباہ کن شکل اختیار کر سکتی ہے۔

(یواین آئی)

Continue Reading
Advertisement
دنیا7 hours ago

امریکی صدر ٹرمپ کی بائیں بازو کے انتہا پسندوں اور ڈیموکریٹس پر تنقید

دنیا7 hours ago

ایران کا مذاکرات کیلیے وفد سوئٹرزلینڈ بھیجنے سے متعلق حتمی اعلان

دنیا7 hours ago

غزہ میں تازہ اسرائیلی حملوں میں کم از کم پانچ افراد ہلاک

دنیا7 hours ago

جے ڈی وینس ایران سے مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ جائیں گے

جموں و کشمیر9 hours ago

محبوبہ کا اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کو معمول بنائے جانے پر تنقید

جموں و کشمیر9 hours ago

ای او ڈبلیو کشمیر نے دھوکہ دہی کے مقدمے میں اترپردیش کے ایک باشندے کے خلاف چارج شیٹ دائر کر دی

جموں و کشمیر9 hours ago

بارہمولہ میں ٹیکسی سڑک سے پھسل کر حادثے کا شکار، آٹھ افراد زخمی

جموں و کشمیر9 hours ago

جموں سے 214 بسوں کے قافلے میں تقریباً 8,500 یاتری ماتا کھیر بھوانی یاترا کے لیے روانہ

دنیا11 hours ago

ایران جنگ کے باوجود امریکہ وہیں کھڑا ہے، شاید پہلے سے بھی بدتر: اوباما

دنیا12 hours ago

ترکیہ علاقائی بحرانوں کے حل کی کوششوں کی قیادت کر رہا ہے: ایردوان

دنیا12 hours ago

امریکہ کے ساتھ معاہدے میں آگے بڑھنے کیلئے تیار ہیں: سعید خطیب زادہ

دنیا12 hours ago

جے ڈی وینس کے روایتی اسرائیل نواز مؤقف میں تبدیلی

جموں و کشمیر12 hours ago

اننت ناگ میں ہیلتھ اسکیموں میں دھوکہ دہی کے الزام میں ڈاکٹر معطل

دنیا15 hours ago

آبنائے ہرمز سے تقریباً 700 بحری جہاز گزر رہے ہیں: صدر ٹرمپ

دنیا17 hours ago

فیلڈ مارشل عاصم منیر اپنے وزیراعظم کا مکمل احترام کرتے ہیں جو بہت خوبصورت بات ہے: صدر ٹرمپ

دنیا17 hours ago

ایران کے معاملے میں چین نے اہم کردار ادا کیا، رواں برس دوبارہ چین جاؤنگا: ڈونلڈ ٹرمپ

دنیا17 hours ago

امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ روانہ

دنیا17 hours ago

برطانیہ میں دو ٹرینوں کے تصادم میں ایک ہلاک، 89 زخمی

دنیا1 day ago

ایران کو اب کوئی پیسہ نہیں ملے گا: ٹرمپ

دنیا1 day ago

ایران کا آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کرنے کا اعلان، خلاف ورزی پر بحری جہازوں کو نشانہ بنایا جائے گا

دنیا1 day ago

تل ابیب کی قیادت پوری انسانیت کے لیے خطرہ بن چکی: ایران

دنیا1 day ago

فرانس کا لبنان پر حملے روکنے کیلئے امریکہ سے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ

دنیا1 day ago

اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد پورا لبنان جلا دینا چاہیے: اسرائیلی وزیر کا بیان

دنیا1 day ago

ایرانی وزیر خارجہ کا سپریم لیڈر کے بیان کا خیرمقدم

دنیا1 day ago

اگر میں نہیں ہوتا تو اسرائیل کا صفایا ہوچکا ہوتا: ڈونلڈ ٹرمپ

دنیا1 day ago

صیہونی فوج کی جنوبی لبنان پر بمباری، 16 افراد شہید

جموں و کشمیر2 days ago

آئی جی پی کشمیر نے امرناتھ یاترا کے لیے سکیورٹی اور رابطہ کاری کے منصوبے کا جائزہ لیا

دنیا2 days ago

اسرائیل کو لبنان سے 60 دن میں واپس جانا ہوگا:حزب اللہ

دنیا2 days ago

اسرائیل کی فوجی حکمت عملی علاقے میں نفرت اور تشدد کو مزید ہوا دیتی ہے: میکرون

دنیا2 days ago

اسرائیل کو امن عمل کا احترام کرنا ہوگا، بیروت میں شہریوں پر حملے ناقابل قبول ہیں: جے ڈی وینس

دنیا2 days ago

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کا امریکہ کو انتباہ

دنیا2 days ago

امریکہ اور ایران کے درمیان آج ہونے والے مذاکرات منسوخ: سوئس وزارت خارجہ

دنیا2 days ago

تمہاری حفاظت ہمارے پیسوں سے ہوتی ہے، جے ڈی وینس نے اسرائیل کو آئینہ دکھا دیا

دنیا2 days ago

امریکہ امن کیلئے پرعزم ہے، ہم لبنان، حزب اللہ، اسرائیل سمیت تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی کی توقع رکھتے ہیں: ٹرمپ

جموں و کشمیر2 days ago

کشتواڑ میں دہشت گردوں کے معاون نیٹ ورک کے خلاف بڑی کارروائی

دنیا2 days ago

امریکہ ایران ابتدائی مذاکرات تعطل کا شکار، جے ڈی وینس کا دورہ سوئٹزر لینڈ منسوخ

کھیل2 days ago

فیفا ورلڈ کپ: سوئٹزرلینڈ نے بوسنیا و ہرزیگووینا کو 1-4 سے شکست دی

کھیل2 days ago

ڈیوڈ کی ہیٹ ٹرک، کینیڈا نے قطر کو شکست دے کر ورلڈ کپ میں پہلی بار جیت درج کی

جموں و کشمیر2 days ago

کپواڑہ میں ایل او سی پار کرنے والے پاکستانی شہری کو پاکستان واپس بھیجا گیا: فوج

دنیا2 days ago

امریکا ایران کے درمیان معاہدہ ہوگیا لیکن اسرائیل کی جدوجہد باقی ہے؛ نیتن یاہو

جموں و کشمیر2 days ago

جموں و کشمیر میں پلاسٹک پر مکمل پابندی کا مطالبہ

جموں و کشمیر2 days ago

جموں ریلوے اسٹیشن پر گرمیوں کی تعطیلات میں مسافروں کی حفاظت اور سلامتی کو ترجیح

دنیا2 days ago

ایرانی صدر نے امریکہ کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کی تصویر شیئر کردی

دنیا2 days ago

ایران نے وعدے پورے نہ کیے تو امریکہ دوبارہ کارروائی کیلئے تیار ہو گا: پیٹ ہیگسیتھ

دنیا2 days ago

امریکہ-ایران معاہدے سے متعلق تیکنیکی مسائل تا حال حل نہیں ہوئے: ترک وزیر خارجہ

جموں و کشمیر2 days ago

پٹن بارہمولہ میں ثقافتی میلہ ہندوستان کے متنوع ثقافتی ورثے کی عکاسی کرتا ہے

دنیا2 days ago

اعلیٰ ترین قیادت کے دستخط سے معاہدے کی خلاف ورزی کی سیاسی قیمت زیادہ ہو گئی: اسماعیل بقائی

دنیا2 days ago

عباس عراقچی کا اطالوی ہم منصب انتونیو تاجانی سے ٹیلیفونک رابطہ

دنیا3 days ago

امریکہ نے ایران کے ساتھ طے پانے والی ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ کا متن جاری کردیا

ہندوستان3 days ago

‘اسلام آباد ایم او یو’ پر جے رام رمیش کا مرکز پر حملہ، کہا- مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو بڑا جھٹکا

جموں و کشمیر4 months ago

ورلڈ کپ کی گونج، کشمیری ولو کے بیٹس کی مانگ میں زبردست اضافہ

اداریہ4 years ago

یوکرین کے خلاف روس کا رویہ تشویشناک : برطانیہ

جموں و کشمیر4 months ago

“وادی کشمیر میں اسرائیل اور امریکہ مخالف احتجاجی مظاہروں کی لہر”

ہندوستان2 months ago

مغربی ایشیا کے بحران کے باعث عالمی بینک نے مالی سال 27 کے لیے ہندوستان کی شرح نمو کم کر کے 6.6 فیصد کر دی

اہم خبریں4 years ago

عید کی آمد کے ساتھ ہی لوگوں کی کثیر تعداد بازاروں میں دھیکنے کو مل رہی ے۔ کھچ مناظر ان تصاویر میں

تازہ ترین4 months ago

خامنہ ای کی مبینہ شہادت: کشمیر میں ریلیاں، ایم ایم یو کی مکمل ہڑتال کی کال

جموں و کشمیر4 months ago

ڈیلی ویجروں کا بحران

تازہ ترین4 years ago

عید کی آمد پر سرینگر کے مختلف بازاروں میں خرید و فروخت کے کھچ مناظر

تازہ ترین4 months ago

لمبرداروں اور چوکیداروں کا مسائل کے حل کے لیے حکومت کو میمورنڈم

جموں و کشمیر3 months ago

جموں جناح، علامہ اقبال اور سر سید احمد خان سے نفرت کیوں کرتا ہے؟

تازہ ترین4 months ago

پاکستان نے سخت مقابلے میں نیدرلینڈز کو تین وکٹوں سے شکست دی

تازہ ترین5 months ago

وضاحت | وحید الرحمن پرّا کے ’’جموں و کشمیر کا مفاہمت، صدمے سے شفا اور وقار بل، 2026‘‘ کی تشریح

اہم خبریں4 months ago

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بجٹ 2026-27 پیش کرنے کے بعد میڈیا سے خطاب کیا

تجزیہ6 months ago

دہشت گردی کے بھولے ہوئے متاثرین

تازہ ترین4 years ago

کشمیری کسان شہتوت کی کاشتکاروں کرتے ہوئے۔

دنیا4 months ago

پاکستانی فوج کا افغانستان کے خلاف فضائی آپریشن شروع

تازہ ترین4 months ago

لوک سبھا کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی

کھیل5 months ago

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026: آئی سی سی کے موقف کی بی سی سی آئی نے بھی تائید کر دی

ہندوستان2 months ago

غیر آئینی طریقوں سے پارٹیوں کو توڑنا جمہوری ڈھانچے پر براہ راست حملہ ہے: بھگونت مان

اداریہ4 years ago

بی جے پی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے،کمیشن میں شکایت درج کرائیں گے:اکھلیش

تازہ ترین4 months ago

کشمیری کسانوں کے لیے بڑی پیش رفت، جدید ٹیکنالوجی کا آغاز

کھیل3 months ago

آئی پی ایل 2026 چنئی سپر کنگز نے پنجاب کو دیا 209 رنز کا ہدف

تازہ ترین5 months ago

مرکزی بجٹ خود کفیل، مضبوط اور عالمی سطح پر مسابقتی ہندوستان کے وزیراعظم مودی کے عزم کے مطابق ہے: کھنڈیلوال

کھیل4 months ago

تاریخ رقم: جموں و کشمیر نے پہلی بار رانجی ٹرافی کا خطاب اپنے سر سجایا

دنیا5 months ago

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ نے کھلبلی مچا دی، خلیجی اتحادیوں کا ٹرمپ کو ممکنہ تباہی سے خبردار

اہم خبریں4 months ago

جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں سجاد غنی لون کی دھواں دار تقریر

جموں و کشمیر4 months ago

کشمیر میں نئی ریلوے لائنوں کا سروے مکمل، حکومت کا زمین مالکان کو مکمل معاوضہ دینے کا یقین

تازہ ترین5 months ago

ڈنمارک میں اسرائیلی سفارت خانے کے قریب گرینڈ دھماکہ کے ملزم دو سویڈش شہریوں کو جیل

ہندوستان5 months ago

صدر کے خطاب میں ترقی یافتہ ہندوستان کے اہداف نمایاں: سونووال

دنیا4 months ago

ایرانی میزائل کی 10 انٹرسیپٹرز کو چکمہ دیکر ہدف کو نشانہ بنانے کی ویڈیو وائرل

تجزیہ7 months ago

کشمیر میں بجلی نرخوں میں اضافہ عوام پر سیدھا وار

تازہ ترین6 months ago

امکان کی سیاست اور مفتی محمد سعید کا نظریہ

جموں و کشمیر2 months ago

پہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی

دنیا4 months ago

خامنہ ای کی شہادت کے بعد امام خمینی کے پوتے حسن خمینی توجہ کا مرکز

اداریہ4 years ago

ممبئی سیریل بلاسٹ کا ملزم یو اے ای میں گرفتار

دنیا3 months ago

ٹرمپ کے مشیر کی امریکہ کو ایران جنگ سے نکلنے کی تجویز پیش

تازہ ترین7 months ago

ستائیسویں ترمیم: پاکستان کی فوج کس طرح قانون کے ذریعے آئین پر اثرانداز ہو رہی ہے

جموں و کشمیر4 months ago

زعفران پیداوار میں کمی کا دعویٰ غلط؛ 3715 ہیکٹیر رقبہ برقرار: حکومت

جموں و کشمیر5 months ago

کشمیر میں اگلے 36 گھنٹوں کے دوران ہلکے برف و باراں کا امکان

اہم خبریں6 years ago

اس صدی کے آخر تک برفانی ریچھ دنیا سے مٹ جائیں گے

تازہ ترین3 years ago

شیلاء رشید کا سفر موقعہ پرستی یا دوگلا پن

تصاویر6 years ago

مصر میں فرعونوں کے دور کے درجنوں تابوتوں کی سنسنی خیز دریافت

جموں و کشمیر2 years ago

چین، امریکہ پاکستان کو بھارت کے خلاف مدد کررہا ے/ انٹرویو

تازہ ترین4 months ago

سری لنکا کی پاکستان سے ہندوستان ٹی20 میچ کے بائیکاٹ پر نظرِ ثانی کی اپیل

تازہ ترین3 years ago

چھیڑ چھاڑ کا سامنا کرنے والی خواتین ہم سے رابطہ کریں۔

تازہ ترین5 months ago

شوپیاں کے زینہ پور علاقے میں رہائشی مکان سے ہیروئن بر آمد، ملزم گرفتار: پولیس

تصاویر6 years ago

ٹک ٹاک اپنے عالمی توسیعی پروگرام کے لیے تین ہزار انجینئرز بھرتی کرے گا

دنیا3 months ago

امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر جنگ کے آغاز کے بعد سب سے بڑا حملہ

تازہ ترین2 years ago

متحدہ عرب امارات کا ہندو مندر اور نریندر مودی کی لوک سبھا الیکشن مہم

کھیل5 months ago

ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: میچ کے بائیکاٹ پر آئی سی سی کا قانون کیا کہتا ہے

جموں و کشمیر2 months ago

پہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی

جموں و کشمیر3 months ago

جموں و کشمیر میں نئی انتظامی ڈویژنز کی تجویز: چناب اور پیر پنجال کی وضاحت

جموں و کشمیر4 months ago

“وادی کشمیر میں اسرائیل اور امریکہ مخالف احتجاجی مظاہروں کی لہر”

جموں و کشمیر4 months ago

ڈیلی ویجروں کا بحران

تازہ ترین4 months ago

ایس ایم ایچ ایس اسپتال کے باہر غیر قانونی پارکنگ

تازہ ترین4 months ago

کشمیری کسانوں کے لیے بڑی پیش رفت، جدید ٹیکنالوجی کا آغاز

جموں و کشمیر4 months ago

ورلڈ کپ کی گونج، کشمیری ولو کے بیٹس کی مانگ میں زبردست اضافہ

اہم خبریں4 months ago

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بجٹ 2026-27 پیش کرنے کے بعد میڈیا سے خطاب کیا

اہم خبریں4 months ago

جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں سجاد غنی لون کی دھواں دار تقریر

تازہ ترین5 months ago

وضاحت | وحید الرحمن پرّا کے ’’جموں و کشمیر کا مفاہمت، صدمے سے شفا اور وقار بل، 2026‘‘ کی تشریح

جموں و کشمیر8 months ago

لیفٹنٹ گورنر نے کیا گورنمنٹ کوٹھی باغ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول سری نگر میںDREAMا سکول پروجیکٹ کا افتتاح

جموں و کشمیر2 years ago

جموں وکشمیر کے صحت شعبے میں اہم اصلاحات لاے جارہے ے

تجزیہ2 years ago

پاکستان میں سیاسی بحران اور بینلاقوامی میڈیا کی کوریج

تازہ ترین2 years ago

8 فروری 2024 کے الیکشنز اور 1971 کے الیکشنز میں یکسانیت اور ملک کا تقسیم

تازہ ترین2 years ago

کشمیر میں عیسایت اور مسیحاؤں کے سماجی کام

تازہ ترین2 years ago

متحدہ عرب امارات کا ہندو مندر اور نریندر مودی کی لوک سبھا الیکشن مہم

تازہ ترین2 years ago

جموں وکشمیر میں الیکشنز کو کیوں التواء میں ڈالا گیا ؟

جموں و کشمیر2 years ago

بیگ کی واپسی اور پی ڈی پی کا مستقبل

تازہ ترین3 years ago

شیلاء رشید کا سفر موقعہ پرستی یا دوگلا پن

جموں و کشمیر3 years ago

جی ٹونٹی اجلاس: کشمیر میں ہڑتال قصہ پارینہ، یہاں کے لوگوں نے ہڑتالی کلچر کو مسترد کیا:مرکزی وزیر مملکت

تازہ ترین3 years ago

سری نگر جموں شاہراہ پر ٹریفک کی آمدورفت بحال

تازہ ترین3 years ago

جموں وکشمیر میں کووڈ کی نئی لہر سے بچے متاثر، یومیہ ایک سے دو کیس رپورٹ

تازہ ترین3 years ago

کپواڑہ میں کمسن بچی کے قتل کے الزام میں باپ گرفتار: ایس ایس پی کپواڑہ

تازہ ترین3 years ago

کشمیر میں رک رک کر بارشوں کا سلسلہ جاری، باغ مالکان سے باغوں کی دو پاشی نہ کرنے کی تاکید

تازہ ترین3 years ago

جائیداد ٹیکس کا فیصلہ سرکار کا ہے ہمیں اس پر عملدرآمد کرانا ہے: جی ایم سی میئر

جموں و کشمیر3 years ago

راہل گاندھی کی نا اہلی کے خلاف جموں وکشمیر میں کانگریس کا احتجاج

تازہ ترین3 years ago

کپوارہ میں ایل او سی کے نزدیک ماتا شاردا مندر کا کھل جانا ایک خوش آئند بات ہے: محبوبہ مفتی

تازہ ترین3 years ago

کشمیر: شدید زلزلے کے دوران اپنے جانوں کی پرواہ کئے بغیر ڈاکٹروں اور دیگر عملے نے خاتون کا کامیاب آپریشن کیا

تازہ ترین3 years ago

منصوبہ بند سازش کے تحت بٹہ مالو بس اسٹینڈ کو دوسری جگہ منتقل کیا گیا، رونقیں دوبارہ واپس لوٹ آئیں گی: رویندر رینا

تازہ ترین3 years ago

فرضی پی ایم او عہدیدار معاملہ: یہ انٹلی جنس کی ناکامی نہیں بلکہ فیلڈ افسر کی لاپرواہی ہے: اے ڈی جی پی کشمیر

تازہ ترین3 years ago

کشمیر اس قدر خوبصورت کہ جہاں کیمرہ رکھا جائے گا وہ فلم شوٹنگ کے لئے بہتر جگہ: بالی ووڈ ادا کار عمران خان

جموں و کشمیر3 years ago

Video ایڈیشنل ڈائریکٹر پی ایم او معاملہ:تحقیقات کے لئے سہہ رکنی ٹیم تشکیل: پولیس

جموں و کشمیر3 years ago

|Video رام بن میں ٹرک دریائے چناب میں جا گرا، بچاؤ آپریشن جاری

تازہ ترین3 years ago

تازہ ترین3 years ago

جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کے انعقاد کے لئے قومی سیاسی جماعتوں اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ساتھ ملاقی ہونگے: فاروق عبداللہ

تازہ ترین3 years ago

ویڈیو| ٹیولپ گریڈن کے بلوم کے پیچھے موجود ہیروز کو جانیں۔

جموں و کشمیر3 years ago

کشمیر سے ایم بی اے پاس آؤٹ نے غیر ملکی نسلوں کے ساتھ منفرد پولٹری فارم قائم کیا

تازہ ترین3 years ago

سری نگر کے مائسمہ میں آتشزدگی، تین دکان خاکستر

تازہ ترین3 years ago

پراپرٹی ٹیکس کے خلاف چیمبر آف کامرس نے 11مارچ کو جموں بندھ کی کال دی

تازہ ترین3 years ago

حبیبی کچن سڑک کے کنارے ایک شاہانہ ریستوراں

جموں و کشمیر3 years ago

مختلف اسامیوں کے امیدواروں کا سری نگر میں ایپ ٹک کمپنی کے خلاف احتجاج

تازہ ترین3 years ago

ڈل جھیل پر پرندوں کا جنگل سیاحوں کی توجہ کا نیا مرکز

تازہ ترین3 years ago

راہل مشتاق: غیر ملکی نسل کے مرغوں کا پالٹری فارم قائم کرنے والا نوجوان

تازہ ترین3 years ago

چھیڑ چھاڑ کا سامنا کرنے والی خواتین ہم سے رابطہ کریں۔

تازہ ترین3 years ago

شالیمار زرعی یونیورسٹی میں میلہ, ایک لاکھ لوگوں نے شمولیت اختیار کی

تازہ ترین3 years ago

ہندوستان-اٹلی نے اسٹریٹجک پارٹنرشپ کا اعلان کیا۔

تازہ ترین3 years ago

جائیداد ٹیکس کے خلاف جموں میں تاجروں کا احتجاج

تازہ ترین3 years ago

این آئی اے نے سری نگر میں العمر کے چیف مشتاق زرگر کے مکان کو قرق کر دیا

تازہ ترین3 years ago

سری نگر کے بٹہ مالو علاقے میں گاڑی کی ٹکر سے پولیس اہلکار کی رائفل سے اچانک گولی نکلی

تازہ ترین3 years ago

کشمیر میں طویل سرمائی تعطیلات کے بعد اسکول دوبارہ کھل گئے

Advertisement

Trending