تجزیہ
یہ التجا مفتی کون ہے
تحریر۔۔ محمد رفیق راتھر
آج کل جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک سوال بار بار سنائی دیتا ہے: “یہ التجا مفتی کون ہے” یہ سوال نیشنل کانفرنس کے بعض رہنما، وزراء اور ترجمان اکثر اٹھاتے رہتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ سوال خود اپنے اندر ایک سیاسی اعتراف بھی رکھتا ہے۔ اگر التجا مفتی غیر اہم ہوتیں تو ان کا نام اتنی شدت سے سیاسی بحث کا موضوع نہ بنتا اور نہ ہی ان کے بیانات پر مسلسل ردعمل سامنے آتا۔
التجا مفتی کسی سرکاری عہدے پر فائز نہیں ہیں، نہ وہ وزیر ہیں، نہ رکن اسمبلی اور نہ ہی کسی آئینی منصب کی حامل ہیں۔ ان کی اصل شناخت یہ ہے کہ وہ ایک سیاسی خاندان سے تعلق رکھنے والی ایسی نوجوان خاتون ہیں جنہوں نے مشکل ترین حالات میں اپنی سیاسی رائے اور عوامی مسائل کے بارے میں آواز بلند کی۔ وہ سابق وزیر اعلیٰ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کی صاحبزادی ہیں، مگر صرف یہی ان کی شناخت نہیں۔
جموں و کشمیر کی سیاست میں خاندانی پس منظر رکھنے والے افراد کا سیاست میں متحرک ہونا کوئی نئی بات نہیں۔ نیشنل کانفرنس، کانگریس، بی جے پی اور دیگر جماعتوں میں بھی سیاسی خاندانوں کے افراد اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ اگر کسی سیاستدان کا بیٹا یا بیٹی سیاسی معاملات پر اظہار خیال کرے تو اسے غیر معمولی نہیں سمجھا جاتا۔ پھر صرف التجا مفتی کے حوالے سے ہی یہ سوال کیوں اٹھایا جاتا ہے
حقیقت یہ ہے کہ التجا مفتی نے گزشتہ چند برسوں میں عوامی مسائل، انسانی حقوق، نوجوانوں کے مستقبل، روزگار، زمینوں کے تحفظ اور جموں و کشمیر کی سیاسی صورتحال پر مسلسل بات کی ہے۔ انہوں نے ایسے وقت میں اپنی آواز بلند کی جب بہت سے لوگ خاموش رہنے کو ترجیح دے رہے تھے۔ ان کے بیانات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، ان کی سیاست پر تنقید کی جا سکتی ہے، مگر ان کے حقِ اظہار پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جموں و کشمیر کی سیاست ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں نوجوان نسل محض تماشائی بن کر رہنے کے لیے تیار نہیں۔ نوجوان اپنے مستقبل، شناخت، روزگار اور سیاسی حقوق کے بارے میں سوالات اٹھا رہے ہیں اور اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔ التجا مفتی اسی نئی نسل کی ایک نمائندہ آواز کے طور پر سامنے آئی ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر نہ صرف اپنی رائے کا اظہار کیا بلکہ عوامی مسائل کو بھی اجاگر کرنے کی کوشش کی۔
التجا مفتی نے صرف سیاسی بیانات تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ جموں و کشمیر کے عوامی جذبات، احساسات اور خدشات کی ترجمانی بھی کی ہے۔ خصوصاً 5 اگست 2019 کے بعد پیدا ہونے والی غیر معمولی سیاسی صورتحال میں انہوں نے ان موضوعات پر کھل کر بات کی جن پر بہت سے لوگ خاموش رہنے کو ترجیح دے رہے تھے۔ جموں و کشمیر کے سلب شدہ آئینی حقوق، شناخت اور وقار کی بحالی، مقامی زمینوں اور وسائل کے تحفظ، نوجوانوں کے روزگار اور سرکاری ملازمتوں میں ریزرویشن کے بڑھتے ہوئے تنازع جیسے حساس معاملات پر ان کا مؤقف واضح اور دوٹوک رہا ہے۔
جموں و کشمیر کے ہزاروں نوجوانوں میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ ان کے مستقبل، روزگار اور مواقع سے متعلق فیصلے ان کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق نہیں ہو رہے۔ ایسے میں التجا مفتی نے ان خدشات کو سیاسی اور عوامی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش کی۔ زمینوں کے تحفظ، مقامی حقوق، روزگار کے مواقع اور سیاسی اختیارات کی بحالی جیسے موضوعات پر ان کی مسلسل آواز نے انہیں نوجوان نسل کے ایک بڑے حلقے میں قابلِ توجہ مقام دلایا ہے۔
سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ ہر دور میں نئی آوازوں کو ابتدا میں تنقید اور مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر جمہوری معاشروں میں شخصیات نہیں بلکہ خیالات اور دلائل کا مقابلہ کیا جاتا ہے۔ اگر التجا مفتی کی باتیں غلط ہیں تو ان کا جواب حقائق اور دلیل سے دیا جانا چاہیے۔ محض یہ پوچھتے رہنا کہ “یہ التجا مفتی کون ہے؟” دراصل اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے مترادف ہے۔
مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ جو لوگ بار بار پوچھتے ہیں کہ “یہ التجا مفتی کون ہے؟” دراصل وہ خود ان کی سیاسی اہمیت کو تسلیم کر رہے ہوتے ہیں۔ سیاست میں کسی شخصیت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاتا ہے کہ مخالفین اس کا ذکر کتنی بار کرتے ہیں۔ اگر التجا مفتی کی باتوں کا کوئی اثر نہ ہوتا تو ان کے مخالفین کو ان پر ردعمل دینے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوتی۔
جموں و کشمیر کی سیاسی تاریخ میں خواتین کا کردار ہمیشہ قابلِ ذکر رہا ہے، مگر بدقسمتی سے خواتین سیاستدانوں اور سماجی کارکنوں کو اکثر مرد سیاستدانوں کے مقابلے میں زیادہ سخت تنقید اور ذاتی حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے ماحول میں اگر کوئی نوجوان خاتون اپنی سیاسی رائے کا اظہار کرتی ہے اور عوامی مسائل پر بات کرتی ہے تو یہ جمہوری عمل کے لیے ایک مثبت پیش رفت سمجھی جانی چاہیے، نہ کہ اسے تنقید کا نشانہ بنا کر خاموش کرانے کی کوشش کی جائے۔
عوام آج یہ جاننا چاہتے ہیں کہ بے روزگاری کیسے کم ہوگی، نوجوانوں کو روزگار کب ملے گا، زمینوں اور وسائل کا تحفظ کیسے ہوگا اور جموں و کشمیر کے سیاسی حقوق کی بحالی کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں گے۔ سیاست کا اصل مقصد بھی یہی ہونا چاہیے۔ کسی شخصیت کو ہدف بنانے کے بجائے عوامی مسائل کے حل پر توجہ دینا ہی سیاسی بلوغت اور جمہوری ذمہ داری کی علامت ہے۔
جمہوریت کی بنیاد ہی یہ ہے کہ ہر شہری کو اپنی رائے رکھنے اور اس کا اظہار کرنے کا حق حاصل ہو۔ اگر ایک نوجوان خاتون سیاسی معاملات پر گفتگو کرتی ہے تو اس کا جواب دلیل سے دیا جانا چاہیے، نہ کہ اس کے وجود یا شناخت پر سوال اٹھا کر۔ سیاسی اختلاف جمہوریت کا حسن ہے، لیکن سیاسی مخالفین کی تضحیک یا ان کی شناخت کو موضوعِ بحث بنانا جمہوری روایات کو کمزور کرتا ہے۔
لہٰذا جب اگلی بار کوئی پوچھے کہ “یہ التجا مفتی کون ہے؟” تو جواب سادہ ہے: وہ جموں و کشمیر کی ایک نوجوان سیاسی آواز ہیں جن کی باتوں سے اتفاق یا اختلاف کیا جا سکتا ہے، مگر جنہیں نظر انداز کرنا ان کے ناقدین کے لیے بھی ممکن نہیں رہا۔
اگر وہ غیر اہم ہوتیں تو ان کا ذکر روزانہ سیاسی بیانات میں نہ ہوتا۔ ان کی موجودگی اور ان پر ہونے والی بحث اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ریاست کی سیاسی گفتگو کا ایک اہم حصہ بن چکی ہیں۔
اصل سوال یہ نہیں کہ التجا مفتی کون ہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ان کی اٹھائی ہوئی باتوں اور عوامی مسائل کا جواب کیا ہے۔ جمہوریت میں شخصیات نہیں، مسائل اور نظریات اہم ہوتے ہیں۔ جو سیاست عوامی مسائل کے بجائے شخصیات کے گرد گھومنے لگے، وہ اپنی اصل ذمہ داری سے دور ہو جاتی ہے۔ جموں و کشمیر کے عوام بھی آج یہی چاہتے ہیں کہ ان کے مسائل پر بات ہو، ان کے حقوق کی بات ہو اور ان کے مستقبل کے بارے میں سنجیدہ گفتگو ہو۔ یہی کسی بھی صحت مند جمہوری معاشرے کی پہچان ہے۔
مضمون نگار ٹریڈ یونین و سیاسی لیڈر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک معروف قلمکار بھی ہیں۔
اہم خبریں
اسکولی لائبریریوں میں مبینہ ‘علیحدگی پسند مواد’ پر جموں و کشمیر حکومت کی بڑی کارروائی، 8 تعلیمی افسران معطل، اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم

جموں و کشمیر حکومت نے سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند مواد پر مشتمل کتابوں کی شمولیت کے معاملے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم کے آٹھ افسران کو معطل کر دیا ہے، ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات ختم کر دی ہیں، دو کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو بلیک لسٹ کرنے کا حکم دیا ہے اور پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
یہ کارروائی جموں و کشمیر پیپلز فورم (جے کے پی ایف) کی جانب سے ان کتابوں کے خلاف سخت اعتراضات سامنے آنے کے چند روز بعد عمل میں آئی ہے۔ فورم نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں کے لیے منتخب کی گئی ایک کتاب میں سزا یافتہ دہشت گرد مقبول بٹ کو “شہید” قرار دیا گیا ہے، بھارت کو “قابض ریاست” کہا گیا ہے، “انڈین آکیوپائیڈ کشمیر (IOK)” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے اور متعدد علیحدگی پسند رہنماؤں کے بارے میں ایسا مواد شامل کیا گیا ہے جسے فورم نے ملک مخالف قرار دیا۔ فورم نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ سمگر شکشا اسکیم کے تحت ایسی کتابوں کو آخر کس بنیاد پر اسکولی طلبہ کے لیے موزوں قرار دے کر سرکاری لائبریریوں کے لیے منظور کیا گیا۔
اس معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم نے حکومتی حکم نامہ نمبر 257-JK(Edu) آف 2026 جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ متعلقہ کتابوں میں “انتہائی نامناسب مواد” موجود ہے اور ابتدائی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کتابوں کی سفارش کرنے والی ماہرین کمیٹی کے ارکان نے سنگین غفلت، فرائض میں کوتاہی اور مطلوبہ جانچ پڑتال نہیں کی۔
حکم نامے کے مطابق “Personalities and Legends of J&K” اور “Great Personalities of Jammu and Kashmir” نامی کتابیں سمگر شکشا کے تحت خریدی گئی سینکڑوں کتابوں میں سے ہائر سیکنڈری (سریز-4) ایکسپرٹ کمیٹی نے منتخب کی تھیں، تاہم اعتراضات سامنے آنے کے بعد انہیں فوری طور پر واپس لے لیا گیا۔
حکومت نے تحقیقات مکمل ہونے تک اس انتخابی عمل سے وابستہ آٹھ افسران، جن میں کوآرڈینیٹرز، اکیڈمک افسران، پرنسپلز اور لیکچررز شامل ہیں، کو معطل کر دیا ہے، جبکہ سمگر شکشا سے وابستہ ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک سینئر آئی اے ایس افسر کو انکوائری آفیسر مقرر کرتے ہوئے 30 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
حکومت نے دونوں کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو جموں و کشمیر میں بلیک لسٹ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے شائع کردہ تمام مواد کو بھی یونین ٹیریٹری سے واپس لینے کا حکم دیا ہے۔ اس پورے معاملے نے سرکاری فنڈز سے خریدی جانے والی تعلیمی کتابوں کی جانچ پڑتال کے نظام اور انہیں منظور کرنے والی ماہرین کمیٹیوں کی جوابدہی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ادھر وزیر تعلیم، صحت اور سماجی بہبود سکینہ ایتو نے اس معاملے کو “ناقابل برداشت اور ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے وقت مقررہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اسکولی تعلیم کے سیکریٹری کو فوری طور پر تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ متنازع مواد سرکاری اسکولوں کی کتابوں تک کیسے پہنچا۔ سکینہ ایتو نے واضح کیا کہ جو بھی اس معاملے میں قصوروار پایا جائے گا اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی اور کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیمی نظام کی ساکھ برقرار رکھنے اور طلبہ کو معیاری اور ذمہ دارانہ تعلیمی مواد فراہم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
دوسری جانب جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے کتاب “Personalities and Legends of J&K” پر فوری پابندی عائد کرنے اور اسے تمام سرکاری لائبریریوں اور تعلیمی اداروں سے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر نریندر سنگھ، سنیل سیٹھی اور زوراور سنگھ جموال کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور بھارت مخالف نظریات کو فروغ دینے کی کوشش ہے اور اسے سرکاری لائبریریوں تک پہنچانا ایک منظم سازش کی عکاسی کرتا ہے۔
سنیل شرما نے دعویٰ کیا کہ ہلال احمد اور سنتوش مینا کی تصنیف اور پیراڈائز پریس کی شائع کردہ یہ کتاب تاریخ کے نام پر نوجوان نسل کے ذہنوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کے مطابق کتاب میں دہشت گردی اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے وابستہ بعض شخصیات کو “لیجنڈز” اور “آزادی پسند” کے طور پر پیش کیا گیا ہے جبکہ بھارت اور اس کی سیکورٹی فورسز کے خلاف سرگرمیوں کو ہمدردانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کتاب میں مقبول بٹ، ہاشم قریشی، مسرت عالم بھٹ، سید علی شاہ گیلانی، عبدالغنی لون اور محمد فاروق رحمانی سمیت متعدد علیحدگی پسند شخصیات کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے، جو نہ صرف تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہے بلکہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
بی جے پی رہنما نے مطالبہ کیا کہ کتاب کی تمام کاپیاں فوری طور پر ضبط کر کے سرکاری لائبریریوں، تعلیمی اداروں اور عوامی گردش سے ہٹا دی جائیں۔ انہوں نے کتاب کی خریداری اور منظوری دینے والے افسران، اسکریننگ کمیٹیوں اور لائبریرینز کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے جموں و کشمیر کی تمام سرکاری اور اسکولی لائبریریوں کا مکمل آڈٹ کرانے کی اپیل کی تاکہ اگر کسی اور کتاب میں بھی ایسا متنازع یا مبینہ علیحدگی پسند مواد موجود ہو تو اسے بھی فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔
اس پورے معاملے نے جموں و کشمیر میں سرکاری تعلیمی اداروں کے لیے کتابوں کے انتخاب، ان کی جانچ پڑتال اور منظوری کے نظام پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت نے 30 دن کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے، جس کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف مزید انتظامی اور قانونی کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔
تجزیہ
کنٹرول لائن پار کرنے والی ایک محبت کی کہانی
از: مجید جہانگیر
تھجل، اُڑی (کنٹرول لائن)، شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے اُڑی سیکٹر میں ایک ماہ قبل پاک مقبوضہ کشمیر (پی او کے) سے کنٹرول لائن (ایل او سی) عبور کرتے ہوئے گرفتار کیے گئے ایک نوجوان کا معاملہ اب محض دراندازی کا واقعہ نہیں رہا۔
تفتیش کاروں کے مطابق یہ دراصل محبت کی ایک ایسی کہانی ہے جس نے 22 سالہ نوجوان کو دنیا کی سب سے زیادہ نگرانی والی سرحدوں میں سے ایک عبور کرنے پر مجبور کر دیا تاکہ وہ اپنی محبوبہ سے مل سکے۔
جو واقعہ ابتدا میں سرحد پار دراندازی معلوم ہوتا تھا، وہ کئی ہفتوں کی تحقیقات کے بعد ایک ایسی داستان میں تبدیل ہوگیا، جہاں محبت اور تجسس بظاہر کنٹرول لائن کے ساتھ ساتھ چلتے دکھائی دیتے ہیں۔
22 سالہ ذیشان احمد میر، جو پاک مقبوضہ کشمیر کے مظفرآباد کے علاقے پینکڑی کا رہائشی ہے، کو ہندوستانی فوج کے چوکس اہلکاروں نے اُڑی سیکٹر میں ہندوستانی حدود میں داخل ہونے کے فوراً بعد گرفتار کر لیا۔ اگرچہ اس کا سفر گرفتاری اور تفتیش پر ختم ہوا، لیکن حکام کا کہنا ہے کہ اس کے سرحد پار کرنے کے پس منظر میں ایک گہری ذاتی کہانی پوشیدہ ہے۔
حکام کے مطابق ذیشان کو سلی کوٹ کے قریب، جو کنٹرول لائن پر واقع ایک مضبوط حفاظتی گاؤں ہے، ہندوستانی حدود میں داخل ہونے کے فوراً بعد حراست میں لیا گیا۔ سلی کوٹ میں پوچھ گچھ کے دوران اس نے فوج کو بتایا کہ وہ اپنی دور کی رشتہ دار ایرم بانو سے ملنے آیا ہے، جس سے گزشتہ ایک سال سے اس کا اسنیپ چیٹ کے ذریعے رابطہ تھا۔ آن لائن دوستی وقت گزرنے کے ساتھ محبت میں بدل گئی، جو فاصلے اور دشمنی پر مبنی سرحد کے باوجود برقرار رہی۔
ایرم بانو، جو تھجل گاؤں کی رہائشی ہیں اور جن کا گاؤں پاک فوج کی چوکیوں سے تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، نے بتایا کہ دونوں مسلسل سوشل میڈیا کے ذریعے رابطے میں تھے۔ ان کے مطابق ذیشان اکثر قانونی طریقے سے ویزا حاصل کرکے آنے کی بات کرتا تھا۔
انہوں نے کہاکہ “اس نے مجھ سے کہا تھا کہ وہ ویزا پر آئے گا۔ میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ وہ اتنا خطرناک راستہ اختیار کرے گا۔”
31 مئی کی صبح جب ذیشان نے کنٹرول لائن عبور کی تو وہ سلی کوٹ سے ایرم کو ایک پیغام بھیجنے میں کامیاب ہوگیا۔ اس کے بعد منظر کسی رومانوی فلم سے کم نہ تھا۔
ایرم نے بتایاکہ “صبح جب مجھے اس کا پیغام ملا تو میں کھڑکی سے کود کر سیدھی سلی کوٹ کی طرف بھاگی۔ جب میں گاؤں کے قریب دروازے تک پہنچی تو میں نے اسے دیکھا۔ وہ فوجی اہلکاروں کو پوری بات بتا چکا تھا اور میں نے بھی اس کی بات کی تصدیق کر دی۔ اس وقت میں خود پر قابو نہ رکھ سکی اور رونے لگی۔”
یہ ملاقات مختصر رہی۔ کچھ ہی دیر بعد حکام کی اطلاع پر ایرم کے اہلِ خانہ بھی وہاں پہنچ گئے۔ ایرم کے مطابق اسی روز ان کے گھر والوں کو پہلی بار ان کے تعلق کے بارے میں معلوم ہوا۔ فوجیوں نے دونوں کو چند لمحوں کے لیے ایک ساتھ رہنے کی اجازت بھی دی۔
ذیشان کے لیے یہ سفر آسان نہیں تھا۔ وہ صرف چپلیں پہنے ہوئے تھا اور اس کے پاس صرف موبائل فون اور شناختی کارڈ تھا۔
دشوار گزار راستے طے کرتے ہوئے ایک موقع پر اس کا سامنا ایک تیندوے سے بھی ہوا۔
ایرم نے بتایاکہ “بعد میں اس نے مجھے بتایا کہ راستے میں اسے ایک تیندوا ملا تھا۔ خوش قسمتی سے اس کے منہ میں پہلے ہی کوئی شکار تھا، اس لیے وہ آگے بڑھ گیا، ورنہ کچھ بھی ہو سکتا تھا۔”
تمام خطرات کے باوجود ذیشان نے اپنا سفر جاری رکھا، کیونکہ وہ اپنے اہلِ خانہ کی جانب سے اس کی طے شدہ شادی سے ْپہلے اپنی محبوبہ سے ملنا چاہتا تھا۔
ذیشان اس وقت بارہمولہ ضلع جیل میں عدالتی تحویل میں ہے۔ مختلف تحقیقاتی اداروں نے دونوں سے پوچھ گچھ کی ہے اور ان کے ڈیجیٹل رابطوں کا بھی جائزہ لیا ہے۔ ایرم کے مطابق تفتیش کاروں نے ان کی کہانی کو حقیقی قرار دیا ہے۔
انہوں نے آہستہ لہجے میں کہاکہ “ہم اس سے ملنے بارہمولہ جیل گئے تھے، لیکن ہمیں اس سے ملاقات کی اجازت نہیں ملی۔”
اُڑی میں ایرم کے گھر سے سامنے پھیلے پہاڑوں کے پار وہ بستیاں صاف دکھائی دیتی ہیں جہاں ذیشان رہتا تھا۔ صاف موسم میں وہ علاقہ ان کی طرف سے نظر آ جاتا ہے۔ ایرم آج بھی اس کی سلامتی کے لیے دعا کرتی ہیں اور ایک پُرامن مستقبل کی امید لگائے بیٹھی ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
تازہ ترین
یاسین ملک کی مشکلات میں مزید اضافہ، 36 سال پرانے سرلا بھٹ قتل کیس میں نئی چارج شیٹ

جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ، یعنی جے کے ایل ایف، کے چیئرمین یاسین ملک کی مشکلات کم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔ ایک طرف وہ پہلے ہی نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں دہشت گردی کی مالی معاونت اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے متعلق مقدمے میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں، تو دوسری جانب اب 36 سال پرانے کشمیری پنڈت نرس سرلا بھٹ قتل کیس میں بھی ان کے خلاف ایک نئی چارج شیٹ داخل کر دی گئی ہے۔
جموں و کشمیر پولیس کی اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی، یعنی ایس آئی اے، نے 737 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ عدالت میں پیش کرتے ہوئے یاسین ملک سمیت پانچ افراد کو سرلا بھٹ کے اغوا، تشدد اور قتل کی سازش میں ملوث قرار دیا ہے۔ ایس آئی اے کا دعویٰ ہے کہ اس کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سرلا بھٹ کا قتل کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں تھا بلکہ یہ جے کے ایل ایف کی قیادت میں انجام دی گئی ایک منظم دہشت گردانہ سازش کا حصہ تھا۔
تحقیقات کے مطابق سرلا بھٹ، جو اس وقت شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، یعنی سکمز میں بطور نرس خدمات انجام دے رہی تھیں، 18 اپریل 1990 کو مبینہ طور پر اسپتال سے اغوا کی گئیں۔ ایس آئی اے کے مطابق انہیں سری نگر کے مالباغ اور عمر کالونی کے علاقے میں لے جایا گیا، جہاں ان پر مبینہ طور پر شدید جسمانی تشدد کیا گیا اور بعد ازاں خودکار ہتھیاروں سے گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا۔ ان کی لاش پانچ روز بعد برآمد ہوئی، جس کے ساتھ ایک پرچی بھی ملی تھی جس میں انہیں مبینہ طور پر “مخبر” قرار دیا گیا تھا۔
چارج شیٹ میں یاسین ملک کے علاوہ خورشید احمد چلو، عبد الحمید شیخ، محمد یوسف صوفی عرف ادریس اور غلام محمد ٹپلو کے نام بھی شامل کیے گئے ہیں۔ ان میں سے تین افراد عبد الحمید شیخ، محمد یوسف صوفی اور غلام محمد ٹپلو کی وفات ہو چکی ہے، جبکہ خورشید احمد چلو مفرور ہے اور ایس آئی اے کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں موجود ہے۔ ایجنسی نے اس کے خلاف قانونی کارروائی اور اشتہاری کارروائی بھی شروع کر دی ہے۔
ایس آئی اے نے اس مقدمے میں اغوا، قتل، مجرمانہ سازش، شواہد مٹانے، ٹاڈا ایکٹ اور آرمز ایکٹ سمیت مختلف دفعات کے تحت الزامات عائد کیے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس چارج شیٹ میں زبانی، دستاویزی، فرانزک، بیلسٹک، طبی اور الیکٹرانک شواہد شامل کیے گئے ہیں، جنہیں کئی دہائیوں پر محیط تحقیقات کے بعد مرتب کیا گیا ہے۔
جموں و کشمیر پولیس نے اس پیش رفت کو دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں ایک تاریخی سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ چارج شیٹ اس بات کا واضح پیغام ہے کہ دہشت گردی سے متعلق جرائم میں وقت گزر جانا کسی بھی ملزم کے لیے قانونی تحفظ نہیں بن سکتا۔ پولیس کے مطابق چاہے کئی دہائیاں ہی کیوں نہ گزر جائیں، ایسے جرائم کے ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
سرلا بھٹ اس وقت صرف 27 برس کی تھیں اور ان چند کشمیری پنڈت خاندانوں میں شامل تھیں جنہوں نے 1990 میں عسکریت پسندی کے آغاز کے باوجود وادی کشمیر نہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ان کا قتل بعد میں کشمیر میں دہشت گردی کے ابتدائی اور نمایاں واقعات میں شمار کیا گیا۔
یاسین ملک اس وقت بھی کئی دیگر اہم مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ مئی 2022 میں این آئی اے کی خصوصی عدالت نے انہیں دہشت گردی کی مالی معاونت، حکومت ہند کے خلاف سازش اور دیگر الزامات میں مجرم قرار دیتے ہوئے دو مرتبہ عمر قید اور متعدد دیگر سزائیں سنائی تھیں۔ وہ 2019 سے تہاڑ جیل میں بند ہیں، جبکہ این آئی اے دہلی ہائی کورٹ میں ان کی سزا کو سزائے موت میں تبدیل کرنے کی اپیل بھی کر چکی ہے، جس پر کارروائی جاری ہے۔
اس کے علاوہ یاسین ملک 1989 میں اس وقت کے مرکزی وزیر داخلہ مفتی محمد سعید کی صاحبزادی روبیہ سعید کے اغوا کے مقدمے اور 1990 میں بھارتی فضائیہ کے اہلکاروں پر حملے کے مقدمے میں بھی بطور ملزم نامزد ہیں۔
سرلا بھٹ قتل کیس میں 36 برس بعد دائر ہونے والی یہ چارج شیٹ ایک ایسے مقدمے میں اہم پیش رفت تصور کی جا رہی ہے جو طویل عرصے سے انصاف کا منتظر تھا۔ اب تمام نظریں عدالت پر ہیں، جہاں اس مقدمے میں پیش کیے گئے شواہد اور دلائل کی بنیاد پر آئندہ قانونی کارروائی آگے بڑھے گی۔
ہندوستان4 days agoپیپر لیک کے خلاف جنتر منتر پر احتجاج کر رہے طلبہ کے نام تھرور کا کھلا خط
دنیا4 days agoاگلے ہفتے ایران کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنائیں گے، ٹرمپ
دنیا2 days agoہرمز جنگ سے پہلے والی حالت میں نہیں آئے گی، ایران
ہندوستان5 days agoہندستان نے سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کی امیدواری پیش کی، کہا وہ محفوظ اور خوشحال دنیا کے لیے پرعزم
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر کنٹرول کی جنگ میں ایران اور عمان آمنے سامنے
دنیا1 week agoایران نے اقوام متحدہ سے امریکہ کے احتساب کا مطالبہ کر دیا
دنیا4 days agoامریکہ نے ایران کی 130 ملین ڈالر سے زائد مالیت کی کرپٹو کرنسی منجمد کردی
دنیا4 days agoامریکی ناکہ بندی سے قبل ایران سے وابستہ 9 جہازوں نے آبنائے ہرمز عبور کی
دنیا1 week agoوینزویلا میں تباہ کن زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 4 ہزار سے تجاوز کر گئی، ہنگامی امداد کی اپیل
ہندوستان5 days agoخردہ مہنگائی 17 مہینے کی بلند ترین سطح پر، کانگریس نے مرکزی حکومت پر عوام پر بوجھ بڑھانے کا لگایا الزام
دنیا2 days agoامریکی حملوں کے جواب میں ایران کے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات پر نئے حملے
دنیا5 days agoامریکی صدر ٹرمپ کا ایران پر مزید شدید حملوں کا اعلان








































































































