جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: اگر آپ کی آر سی معطل ہے تو شہر کی سڑکوں پر گاڑی چلانے کی جرات نہ کریں، جموں ٹریفک پولیس کی کڑی نظر
جموں، جموں ٹریفک پولیس نے کارروائی کے موڈ میں آتے ہوئے ان گاڑیوں کے خلاف بڑی مہم شروع کر دی ہے جن کے رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (آر سی) معطل کیے جا چکے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ شہر کی سڑکوں پر چل رہی ہیں۔ یہ کارروائی ان گاڑیوں کے خلاف کی جا رہی ہے جن پر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے پانچ یا اس سے زیادہ چالان زیر التوا ہیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق جموں و کشمیر محکمۂ ٹرانسپورٹ اور ٹریفک پولیس نے ضلع جموں میں 26 ہزار سے زائد گاڑیوں کے رجسٹریشن سرٹیفکیٹس معطل کر دیے ہیں۔ یہ اقدام سپریم کورٹ کی جانب سے سڑکوں کی حفاظت کے حوالے سے جاری سخت ہدایات کی تعمیل میں بار بار ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کیا گیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ اس صورتحال کے پیش نظر جموں ٹریفک پولیس نے ایسے قانون شکن عناصر کے خلاف خصوصی مہم شروع کر دی ہے اور معطل شدہ آر سی والی گاڑیوں کو شہر کی سڑکوں پر چلتے ہوئے پکڑ کر ضبط کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کارروائی سے نہ صرف ایسی گاڑیوں کی نشاندہی ہوگی بلکہ ملک دشمن اور سماج دشمن عناصر پر بھی نظر رکھنے میں مدد ملے گی۔
ذرائع کے مطابق سینئر حکام کی ہدایت پر شہر بھر میں ٹریفک اہلکار تعینات کیے گئے ہیں اور مختلف مقامات پر موجود افسران معطل شدہ آر سی والی گاڑیوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب شہر بھر میں یہ ایک عام منظر بن چکا ہے۔ جیسے ہی ایسی کوئی گاڑی نظر آتی ہے اور موقع پر تصدیق ہو جاتی ہے، اسے ضبط کرکے ٹرانسپورٹ یارڈ منتقل کر دیا جاتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ سالانہ امرناتھ یاترا سے قبل اس مہم کو نہ صرف ٹریفک نظم و نسق بہتر بنانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے بلکہ اسے سماج دشمن اور ملک دشمن سرگرمیوں کی نگرانی کے ایک اہم اقدام کے طور پر بھی لیا جا رہا ہے۔
یہ کارروائی ایسے وقت میں کی جا رہی ہے جب پورے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں “نشہ مکت جموں و کشمیر ابھیان” بھی جاری ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ جن گاڑیوں کی آر سی معطل کی گئی ہے، ان میں سے بعض مبینہ طور پر سماج دشمن اور ملک دشمن عناصر استعمال کر رہے ہیں، جبکہ چند گاڑیوں کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ چوری شدہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایسی گاڑیوں کی نشاندہی اور ان کے خلاف ضروری کارروائی کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی روک تھام کے لیے ضروری ہے۔
ذرائع کے مطابق جاری مہم کے دوران چوری شدہ گاڑیوں اور جعلی یا تبدیل شدہ نمبر پلیٹوں والی گاڑیوں کی بھی نشاندہی کی جا رہی ہے۔
جموں ساؤتھ کی ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ٹریفک) ڈاکٹر سنیہ وانی نے کہاکہ “یہ کارروائی ان گاڑیوں کے خلاف شروع کی گئی ہے جن کے رجسٹریشن سرٹیفکیٹس کو ٹرانسپورٹ کمشنر نے معطل کر دیا ہے۔”
انہوں نے مزید کہاکہ “بڑی تعداد میں ایسی گاڑیوں کی نشاندہی کی گئی جن کے مالکان نے پانچ یا اس سے زیادہ مرتبہ ٹریفک خلاف ورزیوں کے باوجود اپنے چالان ادا نہیں کیے۔ ٹریفک پولیس کی خصوصی مہمات کے دوران ان گاڑیوں کی شناخت کرکے انہیں ضبط کیا جا رہا ہے۔”
یواین آئی۔ ظا
جموں و کشمیر
گاندربل میں امرناتھ یاتریوں سے بھری بس حادثے کا شکار، 39 زائرین زخمی
سری نگر، جموں و کشمیر کے ضلع گاندربل میں منگل کی صبح امرناتھ یاترا سے واپس آنے والے زائرین کی ایک بس سڑک سے پھسل کر حادثے کا شکار ہو گئی، جس کے نتیجے میں کم از کم 39 یاتری زخمی ہو گئے۔
سرکاری حکام کے مطابق یہ حادثہ سری نگر-لیہہ قومی شاہراہ پر ہری گنیوان، کنگن کے قریب خطرناک ایس موڑ پر پیش آیا۔
بس بالتل سے جموں جا رہی تھی اور اس میں سوار یاتری بابا برفانی کے مقدس گپھا مندر کے درشن کے بعد واپس لوٹ رہے تھے۔
حکام نے بتایا کہ پولیس، اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف)، مقامی رضاکاروں اور طبی عملے نے فوری طور پر ریسکیو کارروائی کرتے ہوئے زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا۔
انتظامیہ کی جانب سے تیار کی گئی ابتدائی فہرست کے مطابق بیشتر زخمیوں کے سر، سینے اور کمر پر چوٹیں آئی ہیں، جبکہ کئی افراد کے بازو، کلائی اور ٹانگوں میں فریکچر بھی ہوا ہے۔ زخمی یاتری راجستھان، مدھیہ پردیش، دہلی اور دیگر ریاستوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
ادھر جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ بابا برفانی کے درشن کے بعد واپس آنے والے 39 یاتری اس حادثے میں زخمی ہوئے ہیں۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ انہوں نے ڈپٹی کمشنر گاندربل اور محکمہ صحت کے حکام سے بات کر کے زخمی یاتریوں کی صحت کے بارے میں معلومات حاصل کی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تمام زخمیوں کا شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایس کے آئی ایم ایس) میں علاج جاری ہے اور متعلقہ حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ متاثرین کو ہر ممکن امداد اور بہترین طبی سہولتیں فراہم کی جائیں۔ انہوں نے زخمی یاتریوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا بھی کی۔
دریں اثنا، پیر کی دوپہر تک 4.22 لاکھ سے زائد عقیدت مند مقدس گپھا مندر میں درشن کر چکے ہیں۔ اس وقت امرناتھ یاترا بالتل راستے سے معمول کے مطابق جاری ہے، جبکہ پہلگام راستہ بحالی کا کام مکمل ہونے، مکمل معائنے اور محفوظ قرار دیے جانے تک بند رہے گا۔
یو این آئی۔ م س
جموں و کشمیر
تین ہزار سے زائد امرناتھ یاتری جموں کے بیس کیمپ سے روانہ
جموں، شری امرناتھ یاترا کے لیے 3,051 یاتریوں کا ایک نیا قافلہ منگل کے روز جموں کے بھگوتی نگر بیس کیمپ سے جنوبی کشمیر ہمالیہ میں واقع مقدس گپھا مندر کے لیے روانہ ہوا۔
سرکاری حکام کے مطابق یاتری بھگوتی نگر یاتری نواس سے بالتل بیس کیمپ کے لیے روانہ ہوئے۔ یاتریوں کا یہ قافلہ سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان 151 گاڑیوں پر مشتمل تھا۔
حکام نے بتایا کہ اس روز پہلگام راستے کے لیے کوئی قافلہ روانہ نہیں کیا گیا۔
سالانہ امرناتھ یاترا 28 اگست کو رکشا بندھن کے موقع پر اختتام پذیر ہوگی۔ اب تک چار لاکھ سے زائد یاتری مقدس گپھا میں درشن کر چکے ہیں۔
جموں و کشمیر میں خراب موسم کے انتباہ کے بعد احتیاطی اقدام کے طور پر 19 جولائی کو یاترا عارضی طور پر روک دی گئی تھی، خاص طور پر مقدس گپھا مندر تک جانے والے پہلگام اور بالتل کے دونوں راستوں پر۔ تاہم ہفتہ کے روز موسم بہتر ہونے کے بعد یاترا دوبارہ شروع کر دی گئی۔
یو این آئی۔ م س
جموں و کشمیر
محبوبہ مفتی کے بیان کے خلاف جے کے پی سی کا احتجاج
سری نگر، جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس (جے کے پی سی) نے پیر کے روز پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی کے دہلی کے جنتر منتر پر دیے گئے بیان کے خلاف پرامن احتجاج کیا۔
جے کے پی سی کے ریاستی سیکریٹری شیخ محمد عمران نے کہا کہ ان کی جماعت کشمیر کے عوام کی عزت، شناخت اور وقار کی توہین پر خاموش نہیں رہے گی۔ انہوں نے محبوبہ مفتی سے بلا شرط معافی مانگنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر انہوں نے اپنا بیان واپس نہ لیا تو پارٹی اپنے احتجاج میں مزید شدت لائے گی۔
شیخ محمد عمران نے کہا، “محبوبہ جی، کشمیر کے عوام سے معافی مانگیے۔ اگر آپ معافی نہیں مانگتیں تو آج ہم پارٹی دفتر کے اندر احتجاج کر رہے ہیں، کل سڑکوں پر ہوں گے۔”
پی ڈی پی قیادت پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہوں نے محبوبہ مفتی پر الزام لگایا کہ وہ خود کو کشمیریوں کی محافظ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، جب کہ ان کے مطابق وادی کے کئی متنازع فیصلوں کی ذمہ دار بھی وہی رہی ہیں۔
انہوں نے کہا، “آج دہلی میں محبوبہ مفتی کشمیریوں کو عسکریت پسند قرار دے رہی ہیں۔ ان کے دورِ حکومت میں خونریزی ہوئی، پیلٹ گنوں کا استعمال کیا گیا اور ہمارے ہزاروں نوجوانوں نے تکلیفیں برداشت کیں۔ جن لوگوں نے یہ نقصان اٹھایا، انہیں آج عسکریت پسند نہیں کہا جا سکتا۔”
یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب محبوبہ مفتی 24 جولائی کو جنتر منتر پر سی جے پی کے احتجاج میں شریک ہوئیں اور دہلی میں مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی پر تنقید کرتے ہوئے اس کا کشمیر سے موازنہ کیا۔ انہوں نے کہا تھا کہ وادی میں موجودہ عسکریت پسندی کے باعث وہاں ایسی کارروائی “قابلِ فہم” ہے، جس کے بعد ان کے اس بیان پر شدید ردعمل سامنے آیا۔
یو این آئی۔ اے ایم
دنیا6 days agoایرانی صدر کا سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق نیا اور اہم انکشاف
دنیا7 days agoامریکہ-ایران رابطے کے لیے پاکستان اور قطر کی کوششیں جاری
ہندوستان7 days agoپیپر لیک احتجاج کے درمیان یوتھ کانگریس کی امدادی مہم، دہلی میں پھنسے اور زخمی طلبہ کے لیے ہیلپ لائن جاری
دنیا6 days agoایران جنگ پر 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے: امریکی وزیر جنگ
دنیا6 days agoامریکی صدر ٹرمپ کی نطنز کے پہاڑوں میں ایرانی ایٹمی مرکز پر حملے کی دھمکی
دنیا1 week agoمشرق وسطیٰ میں کشیدگی، خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی
دنیا1 week agoایران میں زیرِ تعمیر بجلی گھر پر امریکی حملہ، جوہری توانائی ایجنسی کا بیان
ہندوستان6 days agoدہلی پولیس کی کارروائی پر بھڑکی کانگریس، جمہوریت پر حملے کا لگایا الزام
دنیا1 week agoایرانی افواج دشمن کی دراندازی کو فوری طور پر ناکام بنانے کیلئے تیار ہیں: آئی آر جی سی
جموں و کشمیر1 week agoریاستی درجہ بحال کرنے کے مطالبے پر نیشنل کانفرنس کا دہلی میں احتجاج
دنیا7 days agoامریکہ ایران کشیدگی میں کمی کی امید سے خام تیل کی قیمت کم ہوگئی
جموں و کشمیر7 days agoجب جموں و کشمیر کے عوام کو عمر عبداللہ کی ضرورت تھی، وہ نئی دہلی میں ’سیاسی ڈرامے‘ میں مصروف تھے: بی جے پی








































































































