پاکستان
پاکستان اور چین کا ایران۔امریکہ کشیدگی کم کرنے پر زور، اسحق ڈار اور وانگ ای میں رابطہ
اسلام آباد، محمد اسحق ڈار نے اپنے چینی ہم منصب وانگ ای کے ساتھ ٹیلی فونک رابطے میں خطے کی تازہ صورتحال، ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی، اور اسلام آباد کی ثالثی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
غیرملکی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے مستقل جنگ بندی برقرار رکھنے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی اور بحری آمد و رفت کو معمول کے مطابق جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔
یہ رابطہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب رواں ہفتے بیجنگ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان اہم مذاکرات متوقع ہیں، جن میں خطے کی کشیدہ صورتحال بھی زیر بحث آنے کا امکان ہے۔
ادھر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی انتظامیہ نے براہ راست ایرانی حکام سے رابطے کیے ہیں اور واشنگٹن تہران کے ساتھ معاہدے کی سمت تیزی سے پیش رفت چاہتا ہے، تاہم اس معاملے میں جلد بازی نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے ایک بار پھر اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ایران “سو فیصد” یورینیم افزودگی روک دے گا اور امریکی دباؤ کے باعث تہران کو ایٹمی ہتھیار تیار کرنے سے باز رکھا جائے گا۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ حالیہ امریکی حملوں نے ایران کی فوجی قیادت اور عسکری صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے “نیوکلیئر ڈسٹ” کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ بالآخر اعلیٰ افزودہ یورینیم کے اس ذخیرے تک رسائی حاصل کر لے گا جو اب بھی ایرانی سرزمین کے اندر زیر زمین موجود ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ جاری تنازع بغیر کسی عجلت کے حل ہو جائے گا اور ایران کو شدید عالمی تنہائی کا سامنا ہے، جس سے اس کے مالی وسائل متاثر ہو رہے ہیں۔ ان کا اشارہ ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری دباؤ اور محاصرے کی طرف تھا۔
انہوں نے یہ پیش گوئی بھی کی کہ بحری دباؤ کے نتیجے میں ایرانی معیشت شدید بحران سے دوچار ہو سکتی ہے۔
اس سے قبل پیر کی شام ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کی صورتحال کو “آئی سی یو” میں قرار دیتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ تہران کے ساتھ موجودہ معاہدہ کسی بھی وقت ختم ہو سکتا ہے۔
انہوں نے “پروجیکٹ فریڈم” کو دوبارہ فعال کرنے کا عندیہ بھی دیا، جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی رہنمائی کرنا ہے۔ یہ بیان منصوبے کے آغاز کے صرف ایک دن بعد سامنے آیا تھا۔
امریکی صدر کی جانب سے یہ سخت بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب واشنگٹن نے جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کو نئی تجاویز پیش کی تھیں، تاہم تہران کے ردعمل پر ٹرمپ نے ناراضی ظاہر کی۔
ذرائع کے مطابق اعلیٰ افزودہ یورینیم کی منتقلی، ایران کے اندر افزودگی کا عمل روکنے اور آبنائے ہرمز کو بغیر کسی ایرانی پابندی کے کھلا رکھنے جیسے معاملات اب بھی دونوں ممالک کے درمیان بنیادی اختلافات بنے ہوئے ہیں۔
یواین آئی۔ م س
پاکستان
جمعہ کو امریکہ اور ایران میں ’’اسلام آباد معاہدے‘‘ کی میزبانی پاکستان کرے گا
اسلام آباد،جمعہ کو امریکہ اور ایران میں ’’اسلام آباد معاہدے‘‘ کی میزبانی پاکستان کرے گا پاکستان کی سفارتی کوششیں رنگ لے آئیں اور تیسری عالمی جنگ کے بادل چھٹ گئے، پاکستان جمعہ 19 جون 2026، کو سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں امریکہ اور ایران کے درمیان ایک تاریخی امن معاہدے کی دستخطی تقریب کی میزبانی کرے گا وزیر اعظم شہباز شریف اعلیٰ سطح وفد کے ہمراہ تقریب میں شرکت کریں گے، وزیر اعظم نے قومی اسمبلی سے خطاب میں کہا جنگ کی تاریک رات کے بعد امن کا سورج طلوع ہو گیا، عظیم کامیابی پر مؤرخ پاکستان کا نام سنہرے حروف سے لکھے گا۔
شہباز شریف نے پیر کے روز کہا ہم بالآخر آنے والے جمعہ کو جنیوا میں امن معاہدے پر دستخط ہوتے دیکھنے جا رہے ہیں۔
انھوں نے پیر کی صبح اعلان کیا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان طویل اور گہری مذاکراتی کوششوں کے بعد ایک معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کیا ہے۔
پاکستان 8 اپریل کو جنگ بندی کرانے میں کامیابی کے بعد سے دونوں فریقوں کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اور اب فریقین کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت الیکٹرانک طور پر دستخط بھی ہو گئے ہیں، اور امریکہ نے آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی بھی ختم کر دی ہے جس کے سبب ایرانی تیل بردار بحری جہاز گزرنا شروع ہو گئے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
آئندہ 24 گھنٹے میں امریکہ ایران معاہدے کو حتمی شکل دیے جانے کی توقع : وزیراعظم شہباز شریف
اسلام آباد ، وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ امریکہ ایران امن معاہدے کے انتہائی قریب پہنچ چکے ہیں، حتمی شکل آئندہ 24 گھنٹے میں متوقع ہے۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے تاریخی امن معاہدے کے حوالے سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بیان میں کہا کہ فریقین امن معاہدے کے انتہائی قریب پہنچ چکے ہیں اور اگلے 24 گھنٹوں میں اسے حتمی شکل دیے جانے کا قوی امکان ہے۔
شہباز شریف نے بتایا کہ جیسے ہی اس امن معاہدے کو حتمی شکل ملے گی، پاکستان فوری طور پر اس پر دستخط کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
وزیراعظم نے اپنی پوسٹ میں مستقبل کے لائحہ عمل کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ اس تاریخی امن معاہدے کے فوراً بعد، اگلے ہی ہفتے سے تکنیکی سطح کے مذاکرات کا باقاعدہ آغاز کر دیا جائے گا تاکہ معاہدے کی تمام تر تفصیلات اور طریقہ کار کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔
انھوں نے مذاکرات کے دوران مسلسل تعاون فراہم کرنے پر امریکہ اور ایران کی قیادت کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے خطے کے ان تمام برادر ممالک کو بھی دل سے سراہا جنہوں نے اس امن عمل کو کامیاب بنانے میں اپنی بھرپور حمایت اور مخلصانہ تعاون پیش کیا۔
وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ یہ تاریخی امن معاہدہ نہ صرف دونوں ممالک بلکہ مجموعی طور پر پورے خطے میں طویل المیعاد اور پائیدار امن و استحکام کے قیام کے لیے ایک انتہائی مضبوط بنیاد ثابت ہوگا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
ابراہم معاہدہ ہمارے بنیادی نظریات سے متصادم ہے: خواجہ آصف
اسلام آباد، پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کیا گیا ابراہم معاہدہ پاکستان کیلئے قابل قبول نہیں کیونکہ یہ ملک کے بنیادی نظریات سے متصادم ہے۔
نجی نیوز چینل ’’سما‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ’’میرا نہیں خیال کہ ہم کسی ایسے معاہدے میں شامل ہوں گے جو ہمارے بنیادی نظریات کے خلاف ہو۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ’’اس وقت نہ ہم نے کوئی اقدام اٹھایا ہے اور نہ ہی کسی نے باضابطہ طور پر ہمیں اس معاہدے میں شامل ہونے کیلئے کہا ہے۔‘‘
وزیر دفاع نے کہا کہ غزہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں اب بھی جاری ہیں، اس لیے ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھنا ممکن نہیں جن پر ’’ایک دن کا بھی اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔‘‘
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ ’’ہمارا واضح مؤقف ہے کہ یہ معاہدہ ہمارے لیے قابل قبول نہیں، اور ہم واحد ملک ہیں جس کے پاسپورٹ پر اسرائیل کا نام تک شامل نہیں ہے۔‘‘
ان کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے پاکستان، سعودی عرب، قطر، ترکی، مصر اور اردن سمیت دیگر مسلم ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے بعد ابراہم معاہدے میں شامل ہوں۔
یواین آئی۔ م س
جموں و کشمیر5 days agoاین سی ایل ٹی نے سراج العلوم کے لیے عبوری لیکویڈیٹر مقرر کر دیا، اثاثے منجمد
ہندوستان5 days agoفضائیہ کا مال بردار طیارہ حادثے کا شکار، پانچ اہلکار شہید
دنیا1 week agoامریکہ آج رات ایران پر بڑا حملہ کرے گا: امریکی وزیر جنگ
دنیا1 week agoامریکہ کے ساتھ پائیدار معاہدہ دھمکیوں، دباؤ یا طاقت کے استعمال سے ممکن نہیں: ایرانی سفیر
دنیا5 days agoامریکہ نے ایران کے جوہری مواد پر قبضے کیلئے زمینی کارروائی کا منصوبہ بنالیا تھا تاہم ٹرمپ پیچھے ہٹ گئے: امریکی میڈیا
دنیا6 days agoایران معاہدے سے متعلق ٹرمپ کے مؤقف پر نیتن یاہو کا ردِعمل سامنے آگیا
جموں و کشمیر5 days agoشمالی کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب پی او جے کے کا 19 سالہ نوجوان گرفتار
دنیا3 days agoتاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی
دنیا1 week agoجے ڈی وینس بھی ایران ڈیل سے متعلق ٹرمپ کا بیان ماننے پر تیار نہیں
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز میں امریکی افواج اور پاسداران انقلاب کے درمیان جھڑپیں: ایرانی خبر رساں ایجنسی
دنیا1 week agoپاکستان کا افغانستان پر حملہ، 11 بچوں سمیت 13 افراد ہلاک
دنیا3 days ago‘ٹرمپ کامعاہدہ ہمیں پابند نہیں کرتا’، اسرائیلی وزیر ایران امریکہ معاہدے پر سیخ پا





































































































