جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کے کشتواڑ میں گاڑی پلٹنے سے نو افراد زخمی
جموں، جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے داچن علاقے میں ایک کیب گاڑی الٹ جانے سے اس میں سوار کم از کم نو افراد زخمی ہو گئے۔ حکام نے پیر کے روز یہ اطلاع دی۔
حکام کے مطابق پیر کی صبح داچن علاقے میں ایک کیب اس وقت الٹ گئی جب ڈرائیور گاڑی پر قابو کھو بیٹھا۔ انہوں نے بتایا کہ اس حادثے میں نو مسافر زخمی ہوئے، جنہیں فوری طور پر علاج کے لیے ضلع اسپتال منتقل کیا گیا۔
حکام نے مزید کہا کہ تمام زخمیوں کی حالت مستحکم ہے اور پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
یو این آئی۔ اے ایم
جموں و کشمیر
جموں کے بیس کیمپ سے 3,800 سے زائد امرناتھ یاتری روانہ
جموں، جموں کے بھگوتی نگر یاتری نواس سے پیر کے روز 3,800 سے زائد یاتریوں کا ایک نیا قافلہ امرناتھ گپھا کے لیے روانہ ہوا۔
جموں و کشمیر میں خراب موسم کے باعث 19 جولائی کو معطل کی گئی امرناتھ یاترا، خاص طور پر گپھا مندر تک جانے والے پہلگام اور بالتال راستوں پر، ہفتہ کے روز دوبارہ شروع کی گئی تھی۔ حکام کے مطابق 3,823 یاتریوں پر مشتمل ایک نیا قافلہ بھگوتی نگر یاتری نواس سے بالتال بیس کیمپ کے لیے روانہ ہوا۔ یہ قافلہ سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان 140 گاڑیوں پر مشتمل کارواں کی شکل میں روانہ کیا گیا۔
حکام نے بتایا کہ پیر کے روز پہلگام راستے کے لیے کوئی قافلہ روانہ نہیں کیا گیا۔ واضح رہے کہ سالانہ امرناتھ یاترا 28 اگست کو رکشا بندھن کے تہوار کے موقع پر اختتام پذیر ہوگی۔
اب تک چار لاکھ سے زائد عقیدت مند امرناتھ گپھا مندر میں درشن کر چکے ہیں۔ قابلِ ذکر ہے کہ امرناتھ یاترا 2026 نے ایک اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے اس سال یاتریوں کی مجموعی تعداد چار لاکھ سے تجاوز کر لی ہے۔
یو این آئی۔ اے ایم
جموں و کشمیر
جنتر منتر پر دیے گئے بیان پر محبوبہ مفتی کو معافی مانگنی چاہیے: عمر عبداللہ
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کے روز کہا کہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی کو دہلی کے جنتر منتر پر دیے گئے اپنے متنازعہ بیان پر عوام سے معافی مانگنی چاہیے۔
یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب محبوبہ مفتی 24 جولائی کو جنتر منتر پر سی جے پی کے احتجاج میں شریک ہوئیں اور دہلی میں مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی پر تنقید کرتے ہوئے اس کا کشمیر سے موازنہ کیا۔ انہوں نے کہا تھا کہ وادی میں موجودہ عسکریت پسندی کے باعث وہاں ایسی کارروائی “قابلِ فہم” ہے۔
اس بیان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر وائرل ہوئی، جس کے بعد انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ ناقدین نے الزام لگایا کہ انہوں نے کشمیریوں کے ساتھ سخت رویے کو درست قرار دینے کی کوشش کی ہے۔
محبوبہ مفتی کے بیان پر پیدا ہونے والے تنازعہ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ ان کے ریمارکس سے ایسا تاثر ملتا ہے جیسے وہ عسکریت پسندی کے نام پر جموں و کشمیر کے عوام کے حقوق سلب کیے جانے کو جائز قرار دے رہی ہوں۔
انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، “وہ جنتر منتر جموں و کشمیر کے مسئلے پر نہیں گئی تھیں۔ وہاں طاقت کے استعمال، گرفتاریوں اور دیگر اقدامات پر جو کچھ کہا گیا، اسے اس بنیاد پر درست قرار دیا گیا کہ چونکہ کشمیر میں عسکریت پسندی ہے، اس لیے یہاں یہ سب جائز ہے۔ آخر اس کی کیا توجیہ ہو سکتی ہے”
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا، “کیا صرف اس لیے کہ یہاں عسکریت پسندی ہے، قانون پر عمل نہیں ہونا چاہیے اگر عسکریت پسندی ہے تو کیا بچوں کو انصاف نہیں ملنا چاہیے؟ کیا لوگوں کے پاسپورٹ روک دیے جانے چاہییں؟ میں اس منطق کو سمجھ نہیں سکا۔”
عمر عبداللہ نے الزام لگایا کہ پی ڈی پی سربراہ دہلی اور کشمیر میں مختلف موقف اختیار کرکے “کچھ لوگوں کو خوش کرنے” کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا، “یہی پرانی عادت اب بھی برقرار ہے کہ کشمیر میں کچھ اور کہنا اور دہلی میں کچھ اور۔”
انہوں نے کہا کہ جب یہ واضح ہو گیا تھا کہ محبوبہ مفتی کے بیان سے عوامی جذبات مجروح ہوئے ہیں تو انہیں اپنی غلطی تسلیم کر لینی چاہیے تھی۔ ان کے مطابق، “جب یہ سامنے آ گیا کہ جو کچھ کہا گیا وہ غلط تھا اور لوگوں نے اسے قبول نہیں کیا تو انہیں معافی مانگ لینی چاہیے تھی۔ اس سے ان کا قد کم نہیں ہو جاتا۔ وہ صرف اتنا کہہ سکتی تھیں کہ میں نے جذبات میں آ کر یہ بات کہی، مجھ سے غلطی ہوئی، میں معذرت خواہ ہوں، براہِ کرم مجھے معاف کر دیں۔”
وزیر اعلیٰ نے مزید الزام لگایا کہ اس کے برعکس پی ڈی پی نے سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر گردش کرنے والی ویڈیو کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے تیار کردہ جعلی ویڈیو قرار دے کر “زخموں پر نمک چھڑکنے” کا کام کیا ہے۔
یو این آئی۔ اے ایم
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں تین ہفتے کی بندش کے بعد اسکول دوبارہ کھلے
سری نگر، جموں و کشمیر میں شدید گرمی، اس کے بعد موسلا دھار بارش اور سیلاب جیسے حالات کے باعث تقریباً تین ہفتے تک بند رہنے والے اسکول پیر کے روز دوبارہ کھل گئے۔
کشمیر میں شدید گرمی کے باعث درجۂ حرارت معمول سے کہیں زیادہ بڑھ گیا تھا، جس کے پیشِ نظر تمام تعلیمی اداروں میں پہلے مرحلے میں 6 جولائی سے 19 جولائی تک گرمیوں کی تعطیلات کا اعلان کیا گیا تھا۔
تاہم 18 جولائی کے آس پاس شدید گرمی کی جگہ موسلا دھار بارش نے لے لی، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر پانی جمع ہو گیا اور کئی علاقوں میں سیلاب جیسی صورتحال پیدا ہو گئی۔ اس کے باعث حکومت کو تعطیلات میں دو مرتبہ یعنی پہلے 22 جولائی تک اور بعد ازاں 26 جولائی تک توسیع کرنا پڑی۔
حکام کے مطابق موسم میں بہتری اور حالات معمول پر آنے کے بعد پیر کے روز طلبہ، طالبات اور اساتذہ نے دوبارہ اسکولوں کا رخ کیا اور تدریسی سرگرمیاں بحال ہو گئیں۔
یو این آئی۔ ایم جے
دنیا5 days agoایرانی صدر کا سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق نیا اور اہم انکشاف
دنیا6 days agoامریکہ-ایران رابطے کے لیے پاکستان اور قطر کی کوششیں جاری
ہندوستان6 days agoپیپر لیک احتجاج کے درمیان یوتھ کانگریس کی امدادی مہم، دہلی میں پھنسے اور زخمی طلبہ کے لیے ہیلپ لائن جاری
دنیا5 days agoایران جنگ پر 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے: امریکی وزیر جنگ
دنیا1 week agoایران میں زیرِ تعمیر بجلی گھر پر امریکی حملہ، جوہری توانائی ایجنسی کا بیان
ہندوستان5 days agoدہلی پولیس کی کارروائی پر بھڑکی کانگریس، جمہوریت پر حملے کا لگایا الزام
دنیا1 week agoایرانی افواج دشمن کی دراندازی کو فوری طور پر ناکام بنانے کیلئے تیار ہیں: آئی آر جی سی
دنیا5 days agoامریکی صدر ٹرمپ کی نطنز کے پہاڑوں میں ایرانی ایٹمی مرکز پر حملے کی دھمکی
جموں و کشمیر1 week agoریاستی درجہ بحال کرنے کے مطالبے پر نیشنل کانفرنس کا دہلی میں احتجاج
دنیا1 week agoمشرق وسطیٰ میں کشیدگی، خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی
جموں و کشمیر6 days agoجب جموں و کشمیر کے عوام کو عمر عبداللہ کی ضرورت تھی، وہ نئی دہلی میں ’سیاسی ڈرامے‘ میں مصروف تھے: بی جے پی
دنیا1 week agoامریکہ کے پاس مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کا کوئی جواز نہیں: اسماعیل بقائی







































































































