دنیا
ایران نے حزب اللہ کا دفاع اپنی اسٹریٹجک پالیسی کا حصہ بنا لیا ہے: مجتبیٰ خامنہ ای
تہران، ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اتوار کے روز لبنان کی جماعت حزب اللہ کی حمایت کا ایک بار پھر اعادہ کرتے ہوئے لبنان پر اسرائیلی حملے ’’مکمل اور غیر مشروط طور پر‘‘ بند کرنے کا مطالبہ کیا۔
مجتبیٰ خامنہ کا یہ بیان امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل اور تنظیم کے ارکان کی جانب سے بھیجے گئے وفاداری کے عہد پر مبنی خط کے جواب میں سامنے آیا۔
سپریم لیڈر نے حزب اللہ کے خط کا جواب دیتے ہوئے لکھا امریکا کے ساتھ ایم او یو کی پہلی شرط ہی لبنانی سرزمین کی سالمیت اور صہیونی جارحیت کا خاتمہ ہے، امریکہ کے ساتھ مسلط جنگ کے خاتمے کے کسی بھی سمجھوتے کے لیے صہیونی جارحیت کا خاتمہ لازمی شرط ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ حزب اللہ اسرائیل کے خلاف برسرِ پیکار گروہوں میں ’’ایک ناقابلِ تسخیر چٹان اور صفِ اوّل کی قوت‘‘ ہے، ایران نے لبنانی جنگجوؤں کا دفاع اپنی اسٹریٹجک پالیسی کا حصہ بنا لیا ہے، حزب اللہ کی ثابت قدمی دنیا بھر کی آزاد اقوام کے لیے ایک متاثر کن پیغام بن گئی ہے۔
ایرانی رہنما نے کہا کہ دنیا کی اقوام امریکی حکومت اور اسرائیل کے ظلم و جبر سے تنگ آ چکی ہیں، جو انسانی جانوں اور نسلوں کے تباہ کنندہ ہیں، انھوں نے کہا جہاد اور مزاحمت کے سوا اب کوئی راستہ باقی نہیں رہا۔
لبنان کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 2 مارچ سے اب تک لبنان پر اسرائیلی حملوں میں 4,330 افراد ہلاک اور 12,236 زخمی ہو چکے ہیں۔ 26 جون کو لبنان اور اسرائیل نے امریکا کی ثالثی میں ایک فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے، جس کے تحت اسرائیل مقبوضہ لبنانی علاقوں سے مرحلہ وار انخلا کرے گا۔تاہم، اس معاہدے میں انخلا کے لیے کوئی ٹائم لائن شامل نہیں ہے۔ اس کی بہ جائے انخلا کی تکمیل کو اس شرط سے مشروط کیا گیا ہے کہ لبنانی فوج اسرائیلی افواج کے خالی کیے گئے علاقوں کی مکمل سیکیورٹی ذمہ داری سنبھالے اور حزب اللہ سمیت تمام غیر ریاستی مسلح گروہوں کو غیر مسلح کیا جائے۔
اس کے باوجود اسرائیل جنوبی لبنان کے بعض علاقوں پر بدستور قابض ہے، جن میں کچھ علاقے کئی دہائیوں سے اس کے قبضے میں ہیں، جب کہ بعض دیگر پر اس نے اکتوبر 2023 سے نومبر 2024 کے درمیان ہونے والی گزشتہ جنگ کے دوران قبضہ کیا تھا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران نے 30 دنوں کا وعدہ پورا کیا، امریکہ منجمد اثاثے جاری نہ کر سکا: اسماعیل بقائی
تہران، اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران نے 30 دنوں کا وعدہ پورا کیا جب کہ ایم او یو کے مطابق امریکا منجمد اثاثے جاری نہ کر سکا۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے آسٹریا کے نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے ساتھ پیغامات کا فعال طور پر تبادلہ کیا جا رہا ہے، پاکستان اور قطر ثالث کے طور پر تہران اور واشنگٹن کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں۔
اسماعیل بقائی نے کہا حملے کے دوران تہران کی اوّلین ترجیح اپنی خودمختاری کا دفاع ہے، انھوں نے بتایا کہ ایران نے 30 دنوں میں آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرنے کی یقین دہانی کا وعدہ پورا کر دیا ہے۔
ترجمان نے کہا امریکہ نے ڈیڈ لائن ختم ہونے سے پہلے ہی جہاز رانی واقعات کو بہانہ بنا کر حملے شروع کر دیے، اس طرح ایک سال میں تیسری مرتبہ مذاکرات کے دوران حملوں سے ایران کی سفارت کاری کو دھوکہ دیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ امریکہ مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) کے تحت ایران کے منجمد اثاثے جاری کرنے میں ناکام رہا ہے۔
واضح رہے کہ ایران پر قریب دو ہفتے سے جاری حملوں کا سلسلہ رک گیا ہے، امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران پر مزید حملوں کی منظوری نہیں دی۔ یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب امریکی حکام نے پیٹریاٹ دفاعی میزائلوں کے ذخائر میں کمی اور خلیج فارس میں امریکا کے عرب اتحادیوں کے دور ہونے کے خدشات پر تشویش کا اظہار کیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران پر حملے روکنے کے اعلان کے بعد خام تیل کی قیمتوں کمی
سنگاپور، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران پر حملے روکنے کے اعلان کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں کمی آ گئی ہے۔
روئٹرز کے مطابق ہفتے کے اختتام پر امریکہ اور ایران نے دو ہفتوں تک جاری رہنے والے حملوں کے بعد اپنی فوجی کارروائیاں عارضی طور پر روک دیں، جس کے نتیجے میں پیر کے روز تیل کی قیمتیں 5 فی صد تک گر گئیں۔
برینٹ خام تیل کی قیمت 5.58 فی صد کم ہو کر 91.38 ڈالر فی بیرل رہ گئی، جب کہ کاروبار کے آغاز میں یہ مختصر طور پر 90 ڈالر کی اہم تکنیکی حد سے بھی نیچے آ گئی تھی۔
امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت میں 5.46 فی صد کمی کے بعد اس کی قیمت 84.43 ڈالر فی بیرل رہی۔
گزشتہ تین ہفتوں کے دوران مسلسل اضافے کے بعد دونوں معاہدے تقریباً ایک ہفتے کی کم ترین سطح پر ٹریڈ ہو رہے ہیں۔
برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی، کیوں کہ یہ تنازع آبنائے ہرمز سے آگے بڑھ کر بحیرۂ احمر تک پھیل گیا تھا۔ اس کے باعث آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی ترسیل متاثر ہوئی، جب کہ دنیا کے سب سے بڑے برآمد کنندہ سعودی عرب کی ایشیا کے لیے باب المندب کی آبنائے کے ذریعے ہونے والی برآمدات بھی رکاوٹ کا شکار ہو گئیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یورپ کو امریکی ایٹمی چھتری پر شک، اپنے ڈیٹرنس سسٹمز تیار کر رہا ہے: روسی سفارت کار
جنیوا، اقوام متحدہ کے جنیوا دفتر میں روس کے مستقل مندوب گیناڈی گیتیلوف نے ریا نوووستی کو بتایا کہ یورپی ممالک نے امریکی ایٹمی چھتری کی قابل اعتماد صلاحیت پر شک ظاہر کرتے ہوئے اپنے ڈیٹرنس میکانزم تیار کرنے پر کام شروع کر دیا ہے۔
سفارت کار نے کہا کہ یورپی ممالک امریکی ایٹمی چھتری کی قابل اعتمادی پر شک کرتے ہوئے اب اپنے ڈیٹرنس میکانزم تیار کرنے پر کام کر رہے ہیں۔ گیتیلوف کے مطابق یہ سب صرف کاغذوں تک محدود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرانس پہلے ہی جرمنی اور پولینڈ کے ساتھ عملی ایٹمی تعاون کے عناصر شروع کر رہا ہے۔ ابھی گزشتہ ہفتے ہی ایٹمی ہتھیار لے جانے والے فائٹر جیٹس میں فضائی ایندھن بھرنے کی مشترکہ فرانسیسی اور جرمن مشقیں ہوئیں۔ گیتیلوف کا ماننا ہے کہ یہ واضح طور پر صرف شروعات ہے۔
انہوں نے نوٹ کیا کہ یہ بات علامتی ہے کہ برلن میں اپنے ایٹمی اثاثے رکھنے کی افادیت پر عوامی بحث پہلے ہی جاری ہے اور وارسا میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو اس امکان سے انکار نہیں کرتے۔ مستقل مندوب نے کہا کہ فن لینڈ، ایسٹونیا اور لتھوانیا جیسے دیگر ممالک اپنے سینئر اتحادی سے وفاداری کا مقابلہ کر رہے ہیں اور نیٹو شراکت داروں کے ایٹمی ہتھیاروں کی میزبانی کے امکان کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے مارچ میں اعلان کیا تھا کہ ان کا ملک جدید ایٹمی ڈیٹرنس کے دور میں داخل ہو رہا ہے۔
اس نئے طریقہ کار کے تحت پیرس ایٹمی وار ہیڈز کی تعداد میں اضافہ کرے گا اور یورپی ممالک مشترکہ ڈیٹرنس مشقوں میں حصہ لے سکیں گے۔ فرانسیسی رہنما کے مطابق آٹھ یورپی ممالک برطانیہ، جرمنی، پولینڈ، نیدرلینڈز، بیلجیئم، یونان، سویڈن اور ڈنمارک فرانس کے اس نظریے میں شامل ہوں گے۔
حالیہ برسوں میں روس اپنی مغربی سرحدوں کے قریب نیٹو کی غیر معمولی سرگرمیوں کا اعلان کرتا رہا ہے۔ نیٹو اپنے اقدامات میں توسیع کر رہا ہے اور اسے روسی جارحیت کا ڈیٹرنس قرار دے رہا ہے۔ ماسکو نے یورپ میں اتحاد کی جانب سے فوج کی صف بندی پر بارہا تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کریملن نے اس بات پر زور دیا کہ روس سے کسی کو کوئی خطرہ نہیں ہے لیکن وہ اپنے مفادات کے لیے ممکنہ طور پر خطرناک اقدامات کو نظر انداز نہیں کرے گا۔
یو این آئی۔ ایم جے
دنیا5 days agoایرانی صدر کا سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق نیا اور اہم انکشاف
دنیا6 days agoامریکہ-ایران رابطے کے لیے پاکستان اور قطر کی کوششیں جاری
ہندوستان6 days agoپیپر لیک احتجاج کے درمیان یوتھ کانگریس کی امدادی مہم، دہلی میں پھنسے اور زخمی طلبہ کے لیے ہیلپ لائن جاری
دنیا1 week agoایران کا آبنائے ہرمز میں 2 آئل ٹینکروں کے بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر دھماکے سے تباہ ہونے کا دعویٰ، سینٹکام کی تردید
دنیا1 week agoایران نے ہرمزگان صوبے پر امریکی حملوں میں شہید ہونے والے شہریوں کی تصاویر جاری کر دیں
دنیا1 week agoجے ڈی وینس کی فیملی کے اچانک سفری مطالبات پر خفیہ سروس کے اہلکار نالاں
دنیا5 days agoایران جنگ پر 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے: امریکی وزیر جنگ
ہندوستان5 days agoدہلی پولیس کی کارروائی پر بھڑکی کانگریس، جمہوریت پر حملے کا لگایا الزام
دنیا7 days agoایران میں زیرِ تعمیر بجلی گھر پر امریکی حملہ، جوہری توانائی ایجنسی کا بیان
دنیا1 week agoآخری سانس تک ایران کا دفاع کیا جائے گا: عباس عراقچی
دنیا1 week agoسعودی عرب کے شہر الخرج میں پرنس سلطان ائیر بیس کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا: ایرانی میڈیا
دنیا7 days agoایرانی افواج دشمن کی دراندازی کو فوری طور پر ناکام بنانے کیلئے تیار ہیں: آئی آر جی سی



































































































