تازہ ترین
وضاحت | وحید الرحمن پرّا کے ’’جموں و کشمیر کا مفاہمت، صدمے سے شفا اور وقار بل، 2026‘‘ کی تشریح
جموں و کشمیر میں حال ہی میں اپوزیشن جماعت پی ڈی پی کے لیڈر اور رکنِ اسمبلی، وحید اُر رحمان پرّا نے اسمبلی میں ایک پرائیویٹ ممبر بل پیش کرنے کا نوٹس دیا ہے۔
یعنی یہ بل ابھی اسمبلی میں باقاعدہ طور پر پیش نہیں کیا گیا، بلکہ اسے پیش کرنے کے لیے نوٹس دیا گیا ہے۔
بظاہر اس بل کا مقصد لوگوں کے ذہنی دباؤ، صدمے اور نفسیاتی مسائل کے لیے ایک فریم ورک بنانا بتایا گیا ہے، لیکن اصل تشویش اس بل کے مقصد سے زیادہ اس میں استعمال کی گئی زبان اور الفاظ پر ہے۔
اس بل کے مسودے میں بار بار ایسے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں جیسے
conflict، armed conflict، decades of violence، displacement، trauma اور reconciliation۔
یہ الفاظ عام نہیں ہیں۔ یہی الفاظ دنیا بھر میں انسانی حقوق کی تنظیمیں اور بین الاقوامی ادارے کسی علاقے کو “conflict zone” یا “post-conflict region” کہنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ جموں و کشمیر کی اسمبلی یا کوئی رکنِ اسمبلی قانون کے ذریعے کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر conflict zone قرار نہیں دے سکتا۔
ایسا کرنا ان کے اختیار میں ہی نہیں ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ جب ایسے الفاظ کسی سرکاری یا قانونی دستاویز کا حصہ بن جاتے ہیں، تو یہی زبان بعد میں بین الاقوامی فورمز پر حوالہ کے طور پر استعمال کی جاتی ہے۔
اکثر انسانی حقوق کی تنظیمیں اور بیرونی ادارے یہ کہہ سکتے ہیں کہ
“خود مقامی قانون ساز مان رہے ہیں کہ یہاں armed conflict رہا ہے۔”
یعنی یہ بل قانونی طور پر نہیں، بلکہ بیانیے کے طور پر کشمیر کو ایک conflict والے خطے کے طور پر پیش کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
یہ فرق بہت باریک ہے، مگر بہت اہم ہے۔
آج کے دور میں معاملات صرف عدالتوں میں نہیں اٹھتے، بلکہ زیادہ تر بیانیوں، رپورٹوں اور حوالوں کے ذریعے عالمی سطح پر اٹھائے جاتے ہیں۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اس بل میں ذہنی صحت، کونسلنگ اور نفسیاتی مدد کی بات تو کی گئی ہے، لیکن یہ صاف طور پر نہیں کہا گیا کہ یہ ایک خالص طبی اور فلاحی اقدام ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ “reconciliation” جیسے الفاظ بھی شامل کیے گئے ہیں، جو عام طور پر سیاسی یا conflict کے بعد کے عمل میں استعمال ہوتے ہیں۔
یہی ابہام آگے چل کر غلط تشریح کا سبب بن سکتا ہے۔
اگر مقصد واقعی صرف لوگوں کو نفسیاتی سہارا دینا، علاج فراہم کرنا اور کونسلنگ کرنا ہے، تو یہ کام پہلے سے موجود قومی صحت قوانین اور سرکاری پروگراموں کے تحت بھی کیا جا سکتا ہے۔
اس کے لیے ایسی زبان استعمال کرنا ضروری نہیں جو بین الاقوامی conflict فریم ورک سے میل کھاتی ہو۔
یہاں ایک اور سوال بھی پیدا ہوتا ہے۔
جب حکومت خود یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ حالات بہتر ہو رہے ہیں، امن و امان میں بہتری آئی ہے اور صورتحال معمول کی طرف جا رہی ہے، تو پھر ایسے الفاظ کے ساتھ ایک نیا قانون لانے کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی؟
یہ تضاد خود کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔
یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ کشمیر کے لوگوں نے کئی برسوں تک خوف، تشدد اور صدمہ جھیلا ہے۔
اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
لیکن ان زخموں کے علاج کے لیے یہ ضروری نہیں کہ کشمیر کو قانون کی زبان میں ایک conflict یا post-conflict علاقہ بنا کر پیش کیا جائے۔
ذہنی صحت ایک طبی اور سماجی مسئلہ ہے، نہ کہ سیاسی بیانیہ۔
بھارت کا سرکاری مؤقف ہمیشہ یہی رہا ہے کہ جموں و کشمیر ملک کا اندرونی معاملہ ہے اور یہاں اصل مسئلہ دہشت گردی اور ترقی کا ہے۔
ایسے میں اگر مقامی قانون سازی میں وہی الفاظ شامل کیے جائیں جو عالمی ادارے conflict کے لیے استعمال کرتے ہیں، تو یہ نادانستہ طور پر ملک کے مؤقف کو کمزور کر سکتے ہیں۔
جموں و کشمیر جیسے حساس خطے میں قانون کے الفاظ صرف الفاظ نہیں ہوتے۔
وہ مستقل ریکارڈ بن جاتے ہیں۔
اور آج کے دور میں یہی ریکارڈ بعد میں عالمی سطح پر بیانیہ بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اسی لیے ضروری ہے کہ اگر واقعی ذہنی صحت کے لیے کوئی قانون یا پالیسی بنانی ہے، تو اسے صاف، سادہ اور مکمل طور پر صحت اور فلاحی دائرے تک محدود رکھا جائے۔
کیونکہ قومی مفاد کے معاملات میں
صرف نیت نہیں،
الفاظ اور زبان بھی بہت اہم ہوتے ہیں۔
جموں و کشمیر
پی ڈی پی نے سب سے زیادہ غیر قانونی اور بیک ڈور بھرتیاں کیں: عمر عبداللہ
سرینگر، جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی پر سخت جوابی حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ پی ڈی پی نے اپنے دورِ اقتدار میں سب سے زیادہ غیر قانونی اور بیک ڈور (بغیر اشتہار و امتحان) بھرتیاں کی تھیں۔
وزیرِ اعلیٰ نے یہاں زادی بل میں یومِ عاشورہ کے جلوس میں شرکت کے بعد نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ محبوبہ مفتی کے الزامات “الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے” جیسے ہیں۔
عمر عبداللہ نے دعویٰ کیا کہ پی ڈی پی کے دورِ حکومت میں کی گئیں متعدد بیک ڈور بھرتیاں خود عدالت نے منسوخ کی تھیں۔ انہوں نے پی ڈی پی کے سینئر رہنما اور محبوبہ مفتی کے ماموں سرتاج مدنی کے بیٹے کے کیس کا خاص طور پر ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بھی عدالتی حکم پر ہی نوکری سے نکالا گیا تھا کیونکہ ان کی بھرتی غیر قانونی تھی۔وزیرِ اعلیٰ نے جموں اینڈ کشمیر بینک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا
“پی ڈی پی اور بی جے پی کی مخلوط حکومت کے دوران جے اینڈ کے بینک میں کی گئیں سینکڑوں بھرتیاں آج بھی تحقیقاتی ایجنسیوں کے ریڈار پر ہیں۔ اگر میں پی ڈی پی-بی جے پی حکومت کے دور کی بیک ڈور بھرتیاں گننا شروع کر دوں، تو آپ کے پاس انہیں ریکارڈ کرنے کے لیے وقت کم پڑ جائے گا۔”عمر عبداللہ نے پی ڈی پی قیادت کو کھلے عام چیلنج کیا کہ وہ موجودہ حکومت کے دور میں ہوئی کسی ایک بھی ایسی نوکری کی نشان دہی کریں جو غیر قانونی یا بیک ڈور طریقے سے دی گئی ہو۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان ‘بے بنیاد الزامات’ پر خود زیادہ وقت ضائع نہیں کرنا چاہتے، لیکن اس حوالے سے تمام حقائق یکجا کر لیے گئے ہیں۔انہوں نے اعلان کیا کہ: “اگلے ایک سے دو دنوں میں میرے دو سینئر وزراء میڈیا کے سامنے آئیں گے اور تمام حقائق و دستاویزی ثبوت عوام کے سامنے رکھیں گے۔”
قابلِ ذکر ہے کہ گزشتہ روز (جمعرات کو) پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ حکومت پر سنگین الزامات لگاتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ موجودہ حکومت نے گزشتہ 22 مہینوں میں تقریباً 25,000 بیک ڈور بھرتیاں کی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا تھا کہ یہ بھرتیاں بغیر کسی سرکاری اشتہار یا انٹرویو کے، وزراء، ایم ایل اے اور اتحادیوں کے دباؤ پر تقریباً 200 آؤٹ سورسنگ ایجنسیوں کے ذریعے کی گئی ہیں۔ اب وزیرِ اعلیٰ کے اس جوابی حملے کے بعد جموں و کشمیر کی سیاست میں گرما گرمی مزید بڑھ گئی ہے۔
یواین آئی ۔م ا ع
ہندوستان
خصوصی مہم میں چھ ہزار کروڑ روپے کی منشیات تلف کرنے کا ہدف : شاہ
نئی دہلی مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعہ کو یہاں نارکو کوآرڈینیشن سینٹر کی دسویں اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی اور “منشیات کنٹرول پر وژن دستاویز (2026-2029)” اور “این سی بی کی سالانہ رپورٹ-2025” کا اجراء کیا اور جموں و گوہاٹی میں نیشنل ریکارڈ بیورو کے علاقائی دفاتر کا ای-افتتاح کیا۔
مسٹر شاہ نے ‘آن لائن ڈرگز ڈسپوزل فورٹ نائٹ کمپین’ کا آغاز بھی کیا جس میں 6,000 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کے 2,09,500 کلو گرام نشہ آوراشیا تلف کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا، “ملک نارکوٹکس کے خلاف لڑائی کے ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں آنے والے تین سال یہ طے کریں گے کہ نشہ ہم پر فتح حاصل کرے گا یا ہم نشے پر فتح حاصل کریں گے۔ ملک کے آنے والے 100 سال کے مستقبل کے لیے یہ لڑائی ہمیں مضبوطی کے ساتھ مشترکہ کوششوں سے جیتنی چاہیے۔ یہ لڑائی کوئی ایک محکمہ، ریاست، حکومت یا فرد نہیں لڑ سکتا بلکہ اس کے لیے تمام ریاستوں اور ان کے متعلقہ محکموں کو ایک ساتھ ایک ہی پلیٹ فارم پر آنا ہوگا۔”
مہم میں سب کی شرکت کی اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہا، “اس لڑائی میں ہمیں عوام کو ترغیب دینے والے سنتوں، ملک کا مستقبل طے کرنے والے نوجوانوں اور ہماری ماتر شکتی (خواتین) کو بھی جوڑنا ہوگا، تبھی اس لڑائی میں ہم پوری طرح کامیاب ہو سکیں گے۔ منشیات کا مسئلہ صرف امن و امان اور عوامی صحت کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ ملک کی اندرونی سلامتی، سماجی استحکام، اقتصادی مفادات کے تحفظ اور ہماری نوجوان نسل اور اس کے ذریعے ملک کے مستقبل سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔ اس مسئلے پر مکمل فتح حاصل کرنا ہندستان کی تمام ریاستوں کا ایک اجتماعی ہدف ہونا چاہیے۔” وزیر داخلہ نے کہا کہ منشیات کی اسمگلنگ، منظم جرائم، نارکو ٹیرر فنانس اور سرحد پار کے دہشت گرد نیٹ ورکس کی فنانسنگ کے ساتھ یہ مسئلہ ایک ابھرتا ہوا نارکو دہشت گردی کا نظام بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی اندرونی سلامتی، معیشت اور نوجوان نسل کے مستقبل کے تحفظ کے لیے ہمیں اس پر مکمل فتح حاصل کرنی ہی ہوگی۔
انہوں نے کہا، “ہم ڈیتھ ٹرائینگل اور ڈیتھ کریسنٹ کے درمیان ہیں اور ڈرون پر مبنی ڈراپس، سمندری راستوں سے کنٹینرائزڈ کارگو، ڈارک نیٹ، کرپٹو پیمنٹ، آرڈر ٹو ڈیلیوری ماڈل، پارسل کا استعمال وغیرہ جیسے طریقوں سے منشیات کا کاروبار کرنے والوں نے ہماری لڑائی کو اور زیادہ مشکل بنا دیا ہے۔ نارکو مجرم ٹیکنالوجی سے لیس ہو کر نیٹ ورک پر مبنی بن چکے ہیں اور ملٹی ڈومین جرائم کی شکل میں آج ہمارے سامنے کھڑے ہیں۔ اس مشکل لڑائی کے تئیں ہمارا ردعمل بھی اجتماعی اور منظم، روڈ میپ پر مبنی اور جدید اور انٹیلی جنس معلومات پر مبنی ہونا چاہیے۔ ہمارا نقطہ نظر ٹیکنالوجی پر مبنی ہونا چاہیے اور ہمیں سخت موقف کے ساتھ نیٹ ورک سینٹرک لڑائی لڑنی ہوگی تبھی ہم اس مسئلے کے خلاف فتح حاصل کر سکتے ہیں۔”
مسٹر شاہ نے کہا کہ 2004 سے 2014 تک 40000 کروڑ روپے کی مالیت کی 26 لاکھ کلو گرام سنتھیٹک ڈرگز ضبط کی گئی تھیں جبکہ 2014 سے 2026 تک 1 لاکھ 84 ہزار کروڑ روپے مالیت کی ایک کروڑ 18 لاکھ کلو گرام منشیات ضبط کی گئی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت کی مہم کامیابی کی سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔
مرکزی وزیر داخلہ نے کہا، “اگر ہم اس لڑائی کو مل کر اور متحد ہو کر لڑتے ہیں تو یقیناً فتح ہماری ہوگی۔ تین سال کے اندر ہم ہندستان میں نشہ آوراشیا کے نیٹ ورک کو ختم کرنے کی سمت میں بہت آگے نکل جائیں گے۔ ان تین سال میں ہم سب ایک ہدف طے کر کے اجتماعی کوششوں سے محنت کریں، وقت کی حد اور مشترکہ حکمت عملی کے ساتھ ہدف مقرر کریں تو ہماری جیت یقینی ہے۔”
یو این آئی ایف اے
دنیا
ایران کا خلیجی ممالک سے مشرق وسطیٰ کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک زون بنانے کی حمایت کا مطالبہ
تہران، ایران نے خلیجی ممالک سے مشرق وسطیٰ کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک زون بنانے کی حمایت کا مطالبہ کیا ہے۔
ایران نے امریکہ اور خلیجی ممالک کے مشترکہ اعلامیے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس کو مداخلت اور اشتعال انگیز قرار دیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے جاری بیان میں کہا گیا ہے امریکہ اور جی سی سی کا مشترکہ بیان غیر ذمہ دارانہ ہے۔
مشترکہ اعلامیہ علاقائی سلامتی کو نقصان پہنچانے اور تنازعات کو ہوا دینے کی کوشش ہے۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ امریکہ کا علاقائی ممالک کی سلامتی کا عزم محض بیان بازی اور کھوکھلا دعویٰ ہے۔ خطے میں امریکی فوج کی موجودگی سیکیورٹی نہیں بلکہ خلیجی ممالک کی معیشت پر بوجھ ہے جب کہ علاقائی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کا ایران کے خلاف استعمال واشنگٹن کی بدنیتی کا ثبوت ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے خلیجی ممالک کی امریکہ اور اسرائیلی موقف کیساتھ ہم آہنگی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی اور لبنانی عوام کی جدوجہد کو بین الاقوامی قانون کے مطابق جائز سمجھتے ہیں، لیکن وہاں مزاحمتی تحریکوں کو ایرانی پراکسی قرار دینا سراسر غلط اور حقیقت کے منافی ہے۔
ایران نے کہا ہے کہ خلیج تعاون کونسل امریکہ اور اسرائیل کے بیانیے کا حصہ بننے سے انکار کر دیں اور ایران مخالف پالیسیوں کا حصہ نہ بنیں۔ ایرانی وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ ایران کو خطرہ بنا کر پیش کرنے کی پالیسی کے بجائے ایٹمی ہتھیاروں سے پاک خطے کی حمایت کریں، کیونکہ مشرق وسطیٰ میں مستقل امن اور سیکیورٹی بیرونی مداخلت کے بغیرعلاقائی تعاون سے ممکن ہے۔
ترجمان نے کہا کہ دفاعی، میزائل اور ڈرون پروگرام کو خطرہ قرار دینے کی مذمت کرتے ہیں۔ ایران کی دفاعی صلاحیتیں خطےمیں جارحیت کو روکنے اور امن برقرار رکھنے کے لیے ہیں۔ اپنے پر امن جوہری پروگرام پر امریکہ اور اسرائیل کے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان1 week ago‘اسلام آباد ایم او یو’ پر جے رام رمیش کا مرکز پر حملہ، کہا- مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو بڑا جھٹکا
تازہ ترین4 days agoٹرمپ کے بیان کے بعد ایران نے مذاکرات معطل کردیے، وفد واپس روانہ
ہندوستان2 days agoغلطی سے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسا ایئر انڈیا کا طیارہ
کھیل1 week agoڈیوڈ کی ہیٹ ٹرک، کینیڈا نے قطر کو شکست دے کر ورلڈ کپ میں پہلی بار جیت درج کی
دنیا1 week agoامریکہ اور ایران کے درمیان آج ہونے والے مذاکرات منسوخ: سوئس وزارت خارجہ
دنیا4 days agoامریکی نائب صدر نے ایران کیساتھ نئے تعلقات قائم کرنے کیلئے شرائط بتادیں
دنیا4 days agoامریکہ-ایران مذاکرات تعطل کا شکار، لیکن ختم نہیں ہوئے؛ پس پردہ رابطے جاری
دنیا1 week agoایران کے ساتھ معاہدہ حتمی نہیں، اگر رویہ درست نہ رہا تو حملے دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں: ٹرمپ
جموں و کشمیر1 week agoکشتواڑ میں دہشت گردوں کے معاون نیٹ ورک کے خلاف بڑی کارروائی
دنیا1 week agoاعلیٰ ترین قیادت کے دستخط سے معاہدے کی خلاف ورزی کی سیاسی قیمت زیادہ ہو گئی: اسماعیل بقائی
دنیا1 week agoتل ابیب کی قیادت پوری انسانیت کے لیے خطرہ بن چکی: ایران
تازہ ترین4 days agoقطر کی فکٹری میں ہولناک دھماکہ، 54 افراد زخمی، متعدد لاپتہ









































































































