جموں و کشمیر
بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا

بارہمولہ کے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جمعرات کے روز منشیات سے متعلق ایک بیداری پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سول ڈیفنس بارہمولہ کی جانب سے، ایس ڈی آر ایف/ڈیزاسٹر رسپانس ڈویژن بارہمولہ کے تعاون سے منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جو نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اور تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا آغاز ایک تعارفی نشست سے ہوا جس میں مقامی اور قومی سطح پر منشیات کے بڑھتے رجحان، اہم خطراتی عوامل اور بروقت روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
ماہرین کی ٹیم میں ڈاکٹر بالی (ڈویژنل وارڈن، سول ڈیفنس بارہمولہ)، محترمہ روحیلا (سینئر سائیکالوجسٹ)، جناب عابد سلیم (کلینیکل سائیکالوجسٹ) اور جناب ایوب (سیکٹر وارڈن، سول ڈیفنس) شامل تھے۔ ان ماہرین نے طلبہ کو منشیات کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا اور بروقت بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔
اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے خطرات سے آگاہ کرنا، انہیں معلومات سے بااختیار بنانا اور ایک منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر عنایت میر، چیف وارڈن سول ڈیفنس بارہمولہ، نے کہا کہ منشیات کی لت کو جو روایتی طور پر ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنجیدہ سماجی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سرحدی اور حساس علاقوں میں ابھرتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا پھیلاؤ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معاشروں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے منظرنامے میں تبدیلی فردی مسئلے سے بڑھ کر اجتماعی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا زوال، سماجی ڈھانچے کی کمزوری اور انسانی کمزوریوں کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر میر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کو صرف طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور تزویراتی خطرہ سمجھا جائے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس کی سرحدوں میں نہیں بلکہ اس کے معاشرے کی صحت، مضبوطی اور یکجہتی میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا فروغ اور منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش وبا ایک مستقل خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور ماہرین کے درمیان ایک باہمی تبادلہ خیال ہوا، جس میں اجتماعی ذمہ داری، باشعور فیصلے اور نوجوانوں کی فعال شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
جموں و کشمیر
ریاستی درجہ بحال کرنے کے مطالبے پر نیشنل کانفرنس کا دہلی میں احتجاج
سرینگر، جموں و کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ بحال کرنے کے مطالبے کے حق میں نیشنل کانفرنس (این سی) پیر کے روز قومی راجدھانی (دہلی) میں احتجاجی مظاہرہ کرے گی۔
پارٹی صدر فاروق عبداللہ اس مظاہرے کی قیادت کریں گے۔ نیشنل کانفرنس نے ایک بیان میں کہا کہ احتجاجی مظاہرہ پرتھوی راج روڈ سے شروع ہوگا، جہاں پارٹی کے قائدین اور ارکانِ اسمبلی جمع ہوں گے اور ایک ساتھ آگے بڑھیں گے۔
یہ احتجاجی مظاہرہ پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کے پہلے دن ہو رہا ہے اور یہ جموں و کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ اور آئینی ضمانتیں بحال کرنے کے لیے پارٹی کی مہم کا حصہ ہے۔ نیشنل کانفرنس نے اپنے اس مطالبے کے لیے ‘انڈیا’ اتحاد کی جماعتوں سے بھی حمایت مانگی تھی۔ پارٹی نے دہلی انتظامیہ سے جنتر منتر پر احتجاجی مظاہرہ کرنے کی اجازت مانگی تھی، لیکن اسے منظوری نہیں ملی، جس کے بعد اس نے پرتھوی راج روڈ سے مارچ شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔
یو این آئی۔ م ع۔ایف اے
جموں و کشمیر
اپنی پارٹی نے ریاستی درجہ کی بحالی کی حمایت برقرار رکھتے ہوئے این سی کے دہلی احتجاج سے دور رہنے کا اعلان کیا
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) اور پیپلز کانفرنس کے بعد اپنی پارٹی نے بھی نیشنل کانفرنس (این سی) کی جانب سے 20 جولائی کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر ریاستی درجہ کی بحالی کے مطالبے کے حق میں مجوزہ دھرنے میں شریک نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم پارٹی نے جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ بحال کرنے کے مطالبے کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
یہ فیصلہ ہفتہ کو سری نگر میں اپنی پارٹی کے مرکزی دفتر میں منعقدہ سینئر قیادت کے اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس کے بعد پارٹی صدر الطاف بخاری نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ریاستی درجہ کی بحالی جموں و کشمیر کے عوام کی خواہشات کی عکاس ہے اور ان کی جماعت اس مطالبے کی مکمل حمایت کرتی ہے، لیکن غور و خوض کے بعد متفقہ طور پر طے کیا گیا ہے کہ وہ نیشنل کانفرنس کے دہلی احتجاج کا حصہ نہیں بنیں گے۔
الطاف بخاری نے کہا کہ اپنی پارٹی کا ماننا ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام کو درپیش مسائل، ان کی جائز شکایات، ریاستی درجہ کی بحالی اور دیگر آئینی حقوق جیسے مطالبات احتجاج یا محاذ آرائی کے بجائے حکومت ہند کے ساتھ بامعنی مذاکرات کے ذریعے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کا یقین بات چیت اور مفاہمت پر ہے، نہ کہ احتجاج اور تصادم پر۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ دلانا اپنی پارٹی کے قیام کے روز اول سے اس کے بنیادی ایجنڈے کا حصہ رہا ہے۔ 8 مارچ 2020 کو پارٹی کے قیام کے وقت ہی عوام کے حقوق، ریاستی درجہ کی بحالی، زمین اور سرکاری ملازمتوں پر مقامی لوگوں کے خصوصی حقوق کے تحفظ اور دیگر آئینی و جمہوری حقوق کے لیے جدوجہد کا عہد کیا گیا تھا۔
مسٹر بخاری نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی نئی دہلی کے ساتھ تصادم کی راہ اختیار کی گئی، جموں و کشمیر کے عوام اپنے حقوق سے محروم ہوتے گئے۔ اسی لیے ان کی جماعت کا ماننا ہے کہ عوام کے حقوق اور امنگوں کے حصول کے لیے تعمیری رابطہ اور بامعنی مذاکرات ہی سب سے مؤثر راستہ ہیں۔
انہوں نے ریاستی درجہ کی بحالی کے معاملے پر نیشنل کانفرنس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس نے اس اہم معاملے پر دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ وسیع مشاورت سے گریز کیا۔
یو این آئی۔ م س
جموں و کشمیر
جموں سے 3,600 سے زائد ۔امرناتھ یاترا کے زائرین کا نیا جھتہ روانہ
جموں، سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان ہفتہ کے روز جنوبی کشمیر کے ہمالیہ میں واقع غار کے دونوں بنیادی کیمپوں کے لیے جموں کے بھگوتی نگر یاتری نواس بیس کیمپ سے امرناتھ یاترا کے 3,600 سے زائد زائرین کا ایک نیا جھتہ روانہ ہوا۔
حکام نے بتایا کہ 3,632 زائرین آج علی الصبح جموں بیس کیمپ سے 148 گاڑیوں کے قافلے میں روانہ ہوئے جس میں ہلکی اور بھاری گاڑیاں شامل تھیں۔ اس جھتے میں 1,008 زائرین بالتل اور 2,624 پہلگام کے لیے شامل تھے۔ وہ ایک کثیر سطحی حفاظتی نظام کے تحت یاترا کے لیے روانہ ہوئے، جس میں سول انتظامیہ، پولیس، سکیورٹی فورسز اور امرناتھ شرائن بورڈ کے درمیان مربوط انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ یاترا محفوظ، مامون اور خوش اسلوبی سے جاری رہے۔ امرناتھ یاترا نے محض 15 دنوں میں 3.5 لاکھ کا ہندسہ عبور کر کے ایک نیا تاریخی ریکارڈ قائم کیا ہے۔ جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے 2 جولائی کو جموں سے یاترا کے پہلے جھتے کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا تھا۔
یو این آئی۔ ایم جے
دنیا3 days agoہرمز جنگ سے پہلے والی حالت میں نہیں آئے گی، ایران
ہندوستان5 days agoپیپر لیک کے خلاف جنتر منتر پر احتجاج کر رہے طلبہ کے نام تھرور کا کھلا خط
دنیا5 days agoاگلے ہفتے ایران کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنائیں گے، ٹرمپ
دنیا3 days agoکویت میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، ایران نے امریکی اڈے پر حملہ کیا ہے: روسی میڈیا
دنیا3 days agoایران کا شام میں امریکی کمانڈ سینٹر پر بڑا حملہ، امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ
دنیا5 days agoامریکہ نے ایران کی 130 ملین ڈالر سے زائد مالیت کی کرپٹو کرنسی منجمد کردی
دنیا3 days agoایران نے بحری جہازوں پر فائرنگ کی تو خمیازہ بھگتے گا: امریکہ
دنیا4 days agoایرانی فوج کو دشمن کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کی مکمل آزادی ہے، باقر قالیباف
ہندوستان6 days agoہندستان نے سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کی امیدواری پیش کی، کہا وہ محفوظ اور خوشحال دنیا کے لیے پرعزم
دنیا3 days agoامریکی حملوں کے جواب میں ایران کے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات پر نئے حملے
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر کنٹرول کی جنگ میں ایران اور عمان آمنے سامنے
ہندوستان5 days agoسرکار نے 62 ہزار کروڑ کی لاگت سے موبائل فون مینوفیکچرنگ اسکیم کو منظوری دی

































































































