تازہ ترین
خامنہ ای کی مبینہ شہادت: کشمیر میں ریلیاں، ایم ایم یو کی مکمل ہڑتال کی کال

سری نگر، یکم مارچ: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی مبینہ شہادت کے بعد اتوار کو وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں اسرائیل مخالف مظاہرے پھوٹ پڑے۔ شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے اور ایران میں مبینہ مشترکہ امریکا–اسرائیل حملے کے خلاف احتجاج کیا۔

سری نگر کے تاریخی گھنٹہ گھر کے سامنے بڑی تعداد میں مظاہرین جمع ہوئے۔ شرکاء نے آیت اللہ خامنہ ای کی تصاویر، ایرانی پرچم اور سرخ، سیاہ و زرد بینرز اٹھا رکھے تھے۔ مرد و خواتین نے امریکا اور اسرائیل مخالف نعرے بازی کی اور ایران کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
اسی طرح سونہ وار میں اقوامِ متحدہ کے دفتر کے باہر بھی احتجاجی دھرنا دیا گیا۔ بدگام اور سری نگر کے دیگر شیعہ اکثریتی علاقوں میں بھی اسی نوعیت کی ریلیاں نکالی گئیں۔
مقررین نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای، جو 1980 کی دہائی میں سری نگر کا دورہ کر چکے تھے، کشمیر کے شیعہ مسلمانوں میں خاص احترام رکھتے تھے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق حملے میں ان کے اہلِ خانہ بھی جاں بحق ہوئے۔
صدر نیشنل کانفرنس اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے واقعے کو خطے کے امن کے لیے تشویشناک قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے بردباری کی اپیل کی۔

وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے ایران کی صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے عوام سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا:
“ہمیں یقینی بنانا ہوگا کہ جموں و کشمیر میں سوگ منانے والوں کو پُرامن انداز میں غم منانے دیا جائے۔ پولیس اور انتظامیہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور طاقت یا غیر ضروری پابندیوں سے گریز کریں۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ جموں و کشمیر حکومت، حکومتِ ہند کی وزارتِ خارجہ کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ ایران میں مقیم کشمیری شہریوں اور طلبہ کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے۔
چیف آف پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے “تاریخ کا افسوسناک اور شرمناک موڑ” قرار دیا اور انصاف کے حق میں آواز اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

آل جموں و کشمیر شیعہ ایسوسی ایشن نے اپنے بیان میں خامنہ ای کے اہلِ خانہ کی وفات پر تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ “یہ نقصان گہرا ہے مگر ہمارا عزم مضبوط ہے۔”
کشمیر کے میرواعظ اور مذہبی رہنما میرواعظ عمر فاروق نے اتوار کو اس واقعے پر گہرے صدمے اور غم و غصے کا اظہار کیا اور اسے مسلم دنیا کو ہلا دینے والا سانحہ قرار دیا۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام مبینہ قتل، ایران کے خلاف جاری کارروائیوں اور میناب میں معصوم طالبات کے مبینہ قتل کی مذمت کرتے ہیں۔
“ہم اس بربریت پر انتہائی رنجیدہ اور مشتعل ہیں۔ اس غم کی گھڑی میں ہمارے دل ایران کے ثابت قدم عوام کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ اللہ مظلوموں کو طاقت دے، شہداء کے درجات بلند کرے اور ذمہ داران کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لائے۔”

میرواعظ نے اسے مسلم اُمہ کے اتحاد کا لمحہ قرار دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ اختلافات سے بالاتر ہو کر یکجہتی اور پُرامن احتجاج کا مظاہرہ کریں۔
اسی دوران متحدہ مجلس علماء (ایم ایم یو) نے پیر کے روز مکمل ہڑتال کی کال دی ہے۔ میرواعظ نے عوام سے اپیل کی کہ ہڑتال کو نظم و ضبط اور مکمل پُرامن انداز میں منایا جائے تاکہ اجتماعی احتجاج اور یکجہتی کا مؤثر اظہار ہو سکے۔
“ہڑتال کی کال کو منظم اور غیر پُرتشدد طریقے سے منایا جائے تاکہ اجتماعی احتجاج اور یکجہتی درج ہو سکے۔”
حساس صورتحال کے پیش نظر ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نالین پربھات اور آئی جی پی کشمیر وی کے بردی نے مختلف علاقوں کا دورہ کر کے سیکورٹی کا جائزہ لیا۔
پولیس کے مطابق اضافی نفری تعینات کی گئی ہے، سی سی ٹی وی نگرانی بڑھائی گئی ہے اور مشترکہ کنٹرول روم سے مسلسل مانیٹرنگ جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ احتجاج مجموعی طور پر پُرامن رہے اور شہریوں کے جذبات کا احترام کیا جائے گا، تاہم قانون و نظم برقرار رکھنا اولین ترجیح ہے۔
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ افواہوں سے گریز کریں اور امن و امان کو برقرار رکھنے میں انتظامیہ کا ساتھ دیں۔

دنیا
حوثی گروپ سعودی عرب کی سمندری ناکہ بندی کے بعد بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر ٹرانزٹ فیس عائد کرنے پر غور کر رہا ہے
صنعاء، سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کرنے کے ایک ہفتے بعد، یمن کا ایران کی حمایت یافتہ حوثی گروپ جنوبی بحیرِہ احمر سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر فیس (ٹیکس) عائد کرنے پر غور کر رہا ہے۔
اس گروپ نے 20 جولائی کو سعودی عرب پر بحری پابندیوں کا اعلان کیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی اس نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے جاری علاقائی تنازع میں ایک نیا محاذ کھول دیا اور خلیج سے باہر عالمی توانائی کی سپلائی لے جانے والے تجارتی جہازوں پر حملے تیز کر دیے۔
معاملے سے جڑے ذرائع کے مطابق، حوثی جنوبی بحیرہ احمر کو خلیجِ عدن سے جوڑنے والے حکمتِ عملی کے حامل آبنائے باب المندب سے گزرنے والے زیادہ تر تجارتی جہازوں سے فیس وصول کرنے کے منصوبے کا جائزہ لے رہے ہیں۔ تاہم اس تجویز کو نافذ کرنے کے لیے کسی ٹائم لائن کا انکشاف نہیں ہوا ہے۔
حوثی کے میڈیا آفس نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق، حوثی حکام اس مہینے کے آغاز میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے وہاں گئے تھے۔ وہاں ایرانی حکام نے امریکہ پر دباؤ بڑھانے اور بین الاقوامی آبی گزرگاہوں پر فیس وصول کرنے کے عمل کو عام بنانے کے مقصد سے باب المندب کا استعمال کرنے والے جہازوں پر ٹرانزٹ فیس عائد کرنے پر بات چیت کی تھی۔
یواین آئی۔الف الف
دنیا
حکومتی اختلافات باہر لانےوالے وزیر یا اہلکار کو برطرف کر دیا جائے گا:رضا عارف
تہران، ایرانی نائب صدر رضا عارف نے کہا ہے کہ حکومتی اختلافات عوام میں لانےوالے وزیر یا اہلکار کو برطرف کر دیا جائے گا۔
اپنے بیان میں ایرانی نائب صدر نے کہا کہ سرکاری اداروں کے درمیان اختلاف کابینہ اور صدر کی موجودگی میں اٹھائےجائیں تاہم کسی شعبے کو دوسرے کے خلاف کارروائی یا حکومتی میکانزم سے ہٹ کر فیصلےکا حق نہیں۔
انہوں نے کہا کہ من مانی کارروائی یا اختلافات میڈیا میں لانے سے معاشرے میں اضطراب پیدا ہوتا ہے ایسا کرنے والوں کےخلاف حکومت فیصلہ کن کارروائی کرے گی۔
دریں اثناایرانی نائب اسپیکر حمید رضا بابائی نے کہا ہے کہ ایران کبھی بھی امریکا کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں کرے گا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی اسمبلی کے نائب اسپیکر حمید رضا بابائی کا کہنا ہے کہ ہمیں امریکا کو یہ اجازت نہیں دینی چاہیے کہ وہ جب چاہے جنگ شروع کرے اور جب چاہے جنگ بندی کا اعلان کر دے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو خطے میں اپنی مرضی مسلط کرنے سے روکنا چاہیے اور ایران کو امریکی مطالبات کے سامنے مضبوطی سے ڈٹے رہنا چاہیے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
شاہ کو عہدے سے ہٹانا ہوگا، گولی چلانے کے معاملے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں ہو جانچ : راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما راہل گاندھی نے وزیرِ داخلہ امت شاہ کو طلبہ پر گولی چلانے کا حکم دینے کے لیے ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے ان کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اس پورے واقعہ کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں جانچ کرائی جانی چاہیے۔
مسٹر گاندھی نے بدھ کو یہاں پارٹی ہیڈ کوارٹر میں پریس کانفرنس میں کہا کہ انہوں نے 25 جولائی کو مسٹر شاہ کو خط لکھ کر پوچھا تھا کہ طالب علموں پر پیلٹ گن کے استعمال کا حکم کس نے دیا اور احتجاج کے دوران سادہ وردی میں موجود لوگ کون تھے لیکن اب تک کوئی جواب نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس پیلٹ گن کے استعمال کے ثبوت، تصویریں اور زخمی طالب علموں کے طبی دستاویزات ہیں نیز انہی کی بنیاد پر طالب علموں کو انصاف دلانے کی لڑائی لڑی جائے گی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ پرامن احتجاج کر رہے طالب علموں پر پولیس نے بربریت کی۔ ایک طالب علم کی آنکھ کی بینائی چلی گئی، کئی طالب علموں کے جسم پر پیلٹ کے نشانات ہیں اور ایمس کی طبی رپورٹ میں بھی ایک زخمی طالب علم پر پیلٹ گن کے استعمال کی تصدیق ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالب علموں کو کیل لگی لاٹھیوں سے پیٹا گیا، خواتین کے ساتھ بدسلوکی کی گئی اور کچھ لوگ سادہ وردی میں بھی کارروائی میں شامل تھے، جن کی شناخت اب تک واضح نہیں کی گئی ہے۔
لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما نے کہا کہ انہوں نے آج پارلیمنٹ میں یہ مسئلہ اٹھانے کی کوشش کی لیکن انہیں بولنے نہیں دیا گیا، جبکہ حکومت کے وزراء کو اپنی بات رکھنے کا پورا موقع ملا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان سے معافی مانگنے پر بولنے دینے کی بات کہی گئی لیکن انہوں نے اسے مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا، “میں بی جے پی، آر ایس ایس یا ان سے جڑے کسی بھی شخص سے کبھی معافی نہیں مانگوں گا۔ اپوزیشن کے رہنما کے طور پر ملک کے اہم مسائل اٹھانا میرا حق ہے۔”
مسٹر گاندھی نے کہا کہ پیلٹ گن جیسی طاقت کے استعمال کی اجازت وزارتِ داخلہ کی سطح پر ہی دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں صرف دو ہی امکانات ہیں—یا تو وزیرِ داخلہ امت شاہ نے پیلٹ گن چلانے، لاٹھی چارج اور دیگر طاقت کے استعمال کا حکم دیا، یا پھر انہیں اس کی معلومات ہی نہیں تھی۔ دونوں ہی صورتوں میں مسٹر شاہ کو اپنے عہدے پر بنے رہنے کا حق نہیں ہے اور انہیں عہدہ چھوڑ دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ گولی چلانے کے احکامات کس نے دیے، اس کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں اعلیٰ سطحی جانچ کرائی جانی چاہیے تاکہ پورے معاملے کی جوابدہی طے ہو سکے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ طالب علموں کے خلاف فیشل ریکگنیشن ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے اور انہیں ڈرانے دھمکانے کے لیے منظم کوششیں کی جا رہی ہیں تاکہ وہ مستقبل میں اپنی آواز نہ اٹھا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت طالب علموں پر ہوئے مظالم سے توجہ ہٹانے کے لیے بل لے کر آئی ہے۔ یہ “اینٹی پیپر لیک بل نہیں، بلکہ پنشمنٹ بل” ہے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ مسٹر شاہ کو عہدے سے ہٹا کر پورے معاملے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں آزادانہ اور اعلیٰ سطحی جانچ کرائی جانی چاہیے، تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ طالب علموں پر گولی اور پیلٹ گن چلانے کا حکم کس نے دیا نیز قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی یقینی ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ طالب علموں نے کوئی جرم نہیں کیا تھا اور انہیں انصاف ملنا ہی چاہیے۔
یو این آئی۔ ایف اے
دنیا1 week agoایرانی صدر کا سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق نیا اور اہم انکشاف
دنیا1 week agoامریکہ-ایران رابطے کے لیے پاکستان اور قطر کی کوششیں جاری
ہندوستان1 week agoپیپر لیک احتجاج کے درمیان یوتھ کانگریس کی امدادی مہم، دہلی میں پھنسے اور زخمی طلبہ کے لیے ہیلپ لائن جاری
دنیا1 week agoایران جنگ پر 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے: امریکی وزیر جنگ
ہندوستان6 days agoپیپر لیک پر حکومت کا قدم نا کافی اور گمراہ کن، جواب دہی طے کریں مودی: کھرگے-راہل
دنیا5 days agoابھی ایران کو زیادہ تکلیف نہیں پہنچی، بڑی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں: ٹرمپ کی دھمکی
دنیا1 week agoامریکی صدر ٹرمپ کی نطنز کے پہاڑوں میں ایرانی ایٹمی مرکز پر حملے کی دھمکی
جموں و کشمیر1 week agoجب جموں و کشمیر کے عوام کو عمر عبداللہ کی ضرورت تھی، وہ نئی دہلی میں ’سیاسی ڈرامے‘ میں مصروف تھے: بی جے پی
ہندوستان1 week agoدہلی پولیس کی کارروائی پر بھڑکی کانگریس، جمہوریت پر حملے کا لگایا الزام
دنیا1 week agoامریکہ ایران کشیدگی میں کمی کی امید سے خام تیل کی قیمت کم ہوگئی
ہندوستان6 days agoپیپر لیک کی ذمہ داری بھی لیں مودی: پرینکا
دنیا1 week ago‘جنگی جرائم’ نیتن یاہو کی امریکہ میں گرفتاری کی دھمکی ٹرمپ نے مسترد کردی






































































































