ہندوستان
ہندستان نے وادیِ سندھ کی تہذیب پر مشترکہ ورثے کے پاکستانی دعوے کو مسترد کیا
نئی دہلی، ہندستان نے وادیِ سندھ کی تہذیب پر مشترکہ ورثے کے پاکستان کے دعوے کو سرے سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو ملک سرحد پار دہشت گردی اور تشدد کو فروغ دیتا رہا ہے، وہ تکثیری ثقافتی ورثے پر کوئی دعویٰ نہیں کر سکتا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں پاکستان کے اس دعوے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ اقلیتوں اور ان کے ثقافتی حقوق کے تحفظ کے معاملے میں پاکستان کا خراب ریکارڈ اس کی اس طرح کی منافقانہ اور مایوس کن کوششوں کو مزید کھوکھلا بناتا ہے۔
ترجمان نے کہا، “جو ملک دہائیوں سے سرحد پار دہشت گردی، مذہبی انتہا پسندی اور تشدد کو فروغ دیتا رہا ہے، وہ کسی بھی تکثیری ثقافتی ورثے پر کوئی دعویٰ نہیں کر سکتا۔ اقلیتوں اور ان کے ثقافتی حقوق کے تحفظ کے معاملے میں اس کا خراب ریکارڈ ایسی مایوس کن کوششوں کو اور بھی زیادہ کھوکھلا بنا دیتا ہے۔”
قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان کے وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے حال ہی میں سندھ طاس معاہدے کے تناظر میں وادیِ سندھ کی تہذیب کو مشترکہ ورثہ قرار دیا تھا۔ پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد ہندستان نے سندھ طاس معاہدے کو معطل کر دیا تھا۔ اس سے بپھرا ہوا پاکستان اس کے بعد سے مسلسل اس معاملے میں نئے نئے ہتھکنڈوں سے ہندستان کو گھیرنے کی کوششوں میں لگا ہے۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
شاہ کو عہدے سے ہٹانا ہوگا، گولی چلانے کے معاملے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں ہو جانچ : راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما راہل گاندھی نے وزیرِ داخلہ امت شاہ کو طلبہ پر گولی چلانے کا حکم دینے کے لیے ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے ان کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اس پورے واقعہ کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں جانچ کرائی جانی چاہیے۔
مسٹر گاندھی نے بدھ کو یہاں پارٹی ہیڈ کوارٹر میں پریس کانفرنس میں کہا کہ انہوں نے 25 جولائی کو مسٹر شاہ کو خط لکھ کر پوچھا تھا کہ طالب علموں پر پیلٹ گن کے استعمال کا حکم کس نے دیا اور احتجاج کے دوران سادہ وردی میں موجود لوگ کون تھے لیکن اب تک کوئی جواب نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس پیلٹ گن کے استعمال کے ثبوت، تصویریں اور زخمی طالب علموں کے طبی دستاویزات ہیں نیز انہی کی بنیاد پر طالب علموں کو انصاف دلانے کی لڑائی لڑی جائے گی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ پرامن احتجاج کر رہے طالب علموں پر پولیس نے بربریت کی۔ ایک طالب علم کی آنکھ کی بینائی چلی گئی، کئی طالب علموں کے جسم پر پیلٹ کے نشانات ہیں اور ایمس کی طبی رپورٹ میں بھی ایک زخمی طالب علم پر پیلٹ گن کے استعمال کی تصدیق ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالب علموں کو کیل لگی لاٹھیوں سے پیٹا گیا، خواتین کے ساتھ بدسلوکی کی گئی اور کچھ لوگ سادہ وردی میں بھی کارروائی میں شامل تھے، جن کی شناخت اب تک واضح نہیں کی گئی ہے۔
لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما نے کہا کہ انہوں نے آج پارلیمنٹ میں یہ مسئلہ اٹھانے کی کوشش کی لیکن انہیں بولنے نہیں دیا گیا، جبکہ حکومت کے وزراء کو اپنی بات رکھنے کا پورا موقع ملا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان سے معافی مانگنے پر بولنے دینے کی بات کہی گئی لیکن انہوں نے اسے مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا، “میں بی جے پی، آر ایس ایس یا ان سے جڑے کسی بھی شخص سے کبھی معافی نہیں مانگوں گا۔ اپوزیشن کے رہنما کے طور پر ملک کے اہم مسائل اٹھانا میرا حق ہے۔”
مسٹر گاندھی نے کہا کہ پیلٹ گن جیسی طاقت کے استعمال کی اجازت وزارتِ داخلہ کی سطح پر ہی دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں صرف دو ہی امکانات ہیں—یا تو وزیرِ داخلہ امت شاہ نے پیلٹ گن چلانے، لاٹھی چارج اور دیگر طاقت کے استعمال کا حکم دیا، یا پھر انہیں اس کی معلومات ہی نہیں تھی۔ دونوں ہی صورتوں میں مسٹر شاہ کو اپنے عہدے پر بنے رہنے کا حق نہیں ہے اور انہیں عہدہ چھوڑ دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ گولی چلانے کے احکامات کس نے دیے، اس کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں اعلیٰ سطحی جانچ کرائی جانی چاہیے تاکہ پورے معاملے کی جوابدہی طے ہو سکے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ طالب علموں کے خلاف فیشل ریکگنیشن ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے اور انہیں ڈرانے دھمکانے کے لیے منظم کوششیں کی جا رہی ہیں تاکہ وہ مستقبل میں اپنی آواز نہ اٹھا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت طالب علموں پر ہوئے مظالم سے توجہ ہٹانے کے لیے بل لے کر آئی ہے۔ یہ “اینٹی پیپر لیک بل نہیں، بلکہ پنشمنٹ بل” ہے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ مسٹر شاہ کو عہدے سے ہٹا کر پورے معاملے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں آزادانہ اور اعلیٰ سطحی جانچ کرائی جانی چاہیے، تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ طالب علموں پر گولی اور پیلٹ گن چلانے کا حکم کس نے دیا نیز قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی یقینی ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ طالب علموں نے کوئی جرم نہیں کیا تھا اور انہیں انصاف ملنا ہی چاہیے۔
یو این آئی۔ ایف اے
ہندوستان
حکومت اور سماجی تنظیمیں 2030 تک بچوں کی شادی سے پاک ہندوستان کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیےپرعزم: مرکزی وزیر ساوتری ٹھاکر
نئی دہلی، مرکزی وزیر مملکت برائے خواتین و بہبود اطفال ساوتری ٹھاکر نے نئی دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے زمینی سطح پر کام کرنے والی 250 سے زائد سول سوسائٹی تنظیموں کے نیٹ ورک ‘جسٹ رائٹس فار چلڈرن’ کے ملک بھر سے آئے ہوئے معاونین کے چار روزہ قومی مشاورتی اجلاس “انشورنگ اے چائلڈز رائٹس، پوٹینشل اینڈ پراسپیریٹی” کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سب کے تعاون اور سول سوسائٹی تنظیموں کی مدد سے 2030ء تک ‘بال ویواہ مکت بھارت’ کے ہدف کو حاصل کر لے گی۔
اس قومی مشاورتی اجلاس میں ملک کے تمام 782 اضلاع کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے ساوتری ٹھاکر نے کہا کہ بچوں کے تحفظ کے شعبے میں کام کرنا بے حد چیلنجنگ ہوتا ہے، لیکن حکومت کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر آپ سب ان تمام چیلنجوں پر قابو پا رہے ہیں۔ کسی بھی بچے کی زندگی بچانا سب سے نیکی کا کام ہوتا ہے۔ کم عمر بچیاں انسانی اسمگلنگ کا شکار ہو جاتی ہیں اور پھر کبھی اپنے گھر واپس نہیں لوٹ پاتیں۔ ایسی بچیوں کو کسی فرشتہ صفت انسان کا انتظار ہوتا ہے اور انہیں جنسی استحصال کی دلدل سے آزاد کرانے والی سول سوسائٹی تنظیموں کے رضاکار کسی فرشتے سے کم نہیں ہوتے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی 2030ء تک بچپن کی شادی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔ ‘بال ویواہ مکت بھارت’ کو کامیاب بنانے کے لیے کئی اسکیمیں نافذ کی گئی ہیں۔ انہوں نے اس مہم کو کامیاب بنانے کی سمت میں ‘جسٹ رائٹس فار چلڈرن’ کی کوششوں کی سراہنا کرتے ہوئے کہا کہ اس خواب کو پورا کرنے میں ان کا تعاون ناقابلِ فراموش رہے گا۔
اس موقع پر ‘ایم پیز فار چلڈرن’ کے کنوینر اور لوک سبھا میں تلگو دیشم پارٹی کے پارلیمانی لیڈر لاوو کرشنا دیورایلو نے کہا کہ بچوں کی شادی کے خلاف شروع کی گئی ‘جسٹ رائٹس فار چلڈرن’ کی یہ تحریک اب پوری دنیا میں پھیل رہی ہے۔ یہ ایک غیر معمولی کوشش ہے اور بھارت نے دکھا دیا ہے کہ بچوں کی شادی کا خاتمہ ممکن ہے۔ واضح رہے کہ لاوو نے سوشل میڈیا کے خطرات سے بچوں کو بچانے کے لیے پارلیمنٹ میں ایک پرائیویٹ ممبر بل بھی پیش کیا ہے۔
‘جسٹ رائٹس فار چلڈرن’ کے بانی اور بچوں کے حقوق کے معروف کارکن بھون ریبھو نے کہا، “27 نومبر 2024ء کو ‘بال ویواہ مکت بھارت’ مہم سے نکلنے والی چنگاری جلد ہی ایک ملک گیر تحریک میں بدل گئی۔ تب سے یہ تحریک انصاف، ٹیکنالوجی، قیادت اور اجتماعی کوششوں کے ذریعے ہر بچے کی بااختیاری کے ایک وسیع نقطہ نظر میں تبدیل ہو چکی ہے۔
بھارت یہ دکھا رہا ہے کہ جب حکومتیں، سول سوسائٹی، تعلیمی شعبہ، برادری اور نوجوان کسی مشترکہ ہدف کے لیے متحد ہو جائیں تو تبدیلی یقینی ہے۔ اب یہ صرف بھارت کی کہانی نہیں رہی بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک پیغام ہے کہ اگر کوئی ملک سب سے اہم سرمایہ کاری کر سکتا ہے تو وہ بچوں پر سرمایہ کاری ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ جب بھی ہم کسی گاؤں میں بچوں کی شادی روکتے ہیں تو ہم صرف ایک بچے کا تحفظ نہیں کر رہے ہوتے بلکہ یہ پوری برادری کو ایک واضح پیغام ہوتا ہے کہ ایک جدید معاشرے میں بچپن کی شادی کی کوئی جگہ نہیں ۔
حکومت کے ساتھ مل کر گزشتہ تین برس میں ہم نے ساڑھے پانچ لاکھ سے بھی زائد بچوں کی شادیاں روکی ہیں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔ م الف
ہندوستان
راجناتھ نے کوسٹ گارڈ میں صنفی مساوات اور امدادی رقم سے جڑے دو پالیسی اصلاحات کا آغاز کیا
نئی دہلی، وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے انڈین کوسٹ گارڈ (آئی سی جی) کے لئے دو پالیسی اصلاحات کا منگل کو آغاز کیا جن کے تحت افسران کی بھرتی اور سروس کی شرائط میں صنفی لحاظ سے غیر جانبدارانہ نظام نافذ کیا گیا ہے اور ڈیوٹی کے دوران سمندر میں لاپتہ ہونے والے اہلکاروں کے اہل خانہ کو امدادی رقم کی فراہمی کے عمل کو آسان بنایا گیا ہے۔
مسٹر سنگھ نے یہاں کرتویہ بھون-2 میں منعقدہ ایک تقریب میں ان اصلاحات کا آغاز کیا۔ اس موقع پر دفاعی سکریٹری راجیش کمار سنگھ، آئی سی جی کے ڈائریکٹر جنرل پرمیش شیومنی نیز دیگر سینئر حکام موجود تھے۔ وزارت دفاع نے بتایا کہ پہلی پالیسی افسران کی بھرتی کے لئے صنفی لحاظ سے غیر جانبدارانہ ڈھانچہ قائم کرتی ہے، جس کے تحت خواتین امیدواروں کو مرد امیدواروں کے مساوی قلیل مدتی سروس تقرر (ایس ایس اے) اور مستقل تقرر (پی اے) دونوں میں بھرتی کا موقع ملے گا۔ اس کے ساتھ ہی مرد امیدواروں کے لئے بھی ایس ایس اے کا التزام رکھا گیا ہے۔
یہ پالیسی ابتدائی تربیتی مرحلے سے ہی کریئر میں مساوی مواقع یقینی بناتی ہے۔ فی الحال مستقل تقرر پر کام کرنے والی خواتین افسران کو مقررہ اہلیتی شرائط پوری کرنے پر اعلیٰ عہدوں پر ترقی کے لئے غور کیا جائے گا۔ وہیں، شارٹ سروس اپائنٹمنٹ پر کام کرنے والی خواتین افسران کو بھی مقررہ شرائط پوری کرنے پر اپنی سروس کو مستقل تقرر میں تبدیل کرنے کا اختیار دیا جائے گا۔
دوسری اصلاح ڈیوٹی کے دوران سمندر میں لاپتہ ہونے والے آئی سی جی اہلکاروں کے قریبی رشتہ داروں کے لئے امدادی رقم کے عمل کو آسان بناتی ہے۔ اس کے تحت ایسے اہلکاروں کو امدادی رقم کے مقصد سے “متوفی فرض کر لیا گیا” قرار دینے کا اختیار فراہم کیا گیا ہے، جس سے امدادی رقم اور سروس کے خاتمے پر ملنے والے فوائد کی ادائیگی کے عمل میں تیزی آئے گی۔
وزارت نے کہا کہ اس قدم کا مقصد مشکل حالات کے دوران خاندانوں کو فوائد فراہم کرنے میں ہونے والی انتظامی تاخیر کو کم کرنا ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر سنگھ نے گزشتہ پانچ دہائیوں میں آئی سی جی کی خدمات کی تعریف کی اور کہا کہ نئی پالیسیاں 2027 میں گولڈن جوبلی کی طرف بڑھ رہی فورس کے حوصلے اور عملی صلاحیت کو مزید مضبوط کریں گی۔ انہوں نے جدید، اہل اور مستقبل کے لئے تیار سمندری فورس کے طور پر آئی سی جی کو بااختیار بنانے کے حکومت کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
یو این آئی ایف اے
دنیا1 week agoایرانی صدر کا سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق نیا اور اہم انکشاف
دنیا1 week agoامریکہ-ایران رابطے کے لیے پاکستان اور قطر کی کوششیں جاری
ہندوستان1 week agoپیپر لیک احتجاج کے درمیان یوتھ کانگریس کی امدادی مہم، دہلی میں پھنسے اور زخمی طلبہ کے لیے ہیلپ لائن جاری
دنیا1 week agoایران جنگ پر 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے: امریکی وزیر جنگ
ہندوستان6 days agoپیپر لیک پر حکومت کا قدم نا کافی اور گمراہ کن، جواب دہی طے کریں مودی: کھرگے-راہل
دنیا1 week agoامریکہ ایران کشیدگی میں کمی کی امید سے خام تیل کی قیمت کم ہوگئی
دنیا5 days agoابھی ایران کو زیادہ تکلیف نہیں پہنچی، بڑی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں: ٹرمپ کی دھمکی
دنیا1 week agoامریکی صدر ٹرمپ کی نطنز کے پہاڑوں میں ایرانی ایٹمی مرکز پر حملے کی دھمکی
جموں و کشمیر1 week agoجب جموں و کشمیر کے عوام کو عمر عبداللہ کی ضرورت تھی، وہ نئی دہلی میں ’سیاسی ڈرامے‘ میں مصروف تھے: بی جے پی
ہندوستان1 week agoدہلی پولیس کی کارروائی پر بھڑکی کانگریس، جمہوریت پر حملے کا لگایا الزام
ہندوستان6 days agoپیپر لیک کی ذمہ داری بھی لیں مودی: پرینکا
دنیا1 week ago‘جنگی جرائم’ نیتن یاہو کی امریکہ میں گرفتاری کی دھمکی ٹرمپ نے مسترد کردی







































































































