تجزیہ
ہندوستان میں اے سی: گرمی سے تحفظ یا زمین کے لیے خطرہ
خصوصی مضمون: ظفر اقبال
ہندوستان اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف شدید گرمی سے انسانی جانوں کو بچانے کی فوری ضرورت ہے اور دوسری طرف انہی حفاظتی اقدامات کے نتیجے میں ماحولیاتی بحران مزید شدت اختیار کر رہا ہے ایئر کنڈیشنر (اے سی) اب صرف آسائش کی علامت نہیں رہا بلکہ ہندوستان جیسے گرم ملک میں لاکھوں لوگوں کے لیے زندگی اور موت کے درمیان فرق بنتا جا رہا ہے لیکن اس کے ساتھ ایک ایسا تلخ تضاد جڑا ہوا ہے جو آج کے ہندوستان کے ماحولیاتی اور سماجی بحران کی عکاسی کرتا ہے۔ جو مشینیں لوگوں کو گرمی سے راحت دیتی ہیں، وہی کرہ ارض کو مزید گرم بھی کر رہی ہیں۔
2026 کی گرمی ابھی پوری طرح شروع بھی نہیں ہوئی تھی کہ ہندوستان کے کئی حصے بھٹی کی مانند تپنے لگے۔ اپریل کے وسط تک مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، اڈیشہ اور چھتیس گڑھ میں درجہ حرارت 43 سے 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ چکا تھا۔
انڈیا میٹرولوجیکل ڈپارٹمنٹ نے خبردار کیا کہ آنے والے مہینوں میں مشرقی، وسطی اور شمال مغربی ہندوستان شدید ہیٹ ویوز کی لپیٹ میں رہیں گے۔ یہ محض موسمی تبدیلی نہیں بلکہ موسمیاتی بحران کی ایک سنگین علامت ہے۔
ہندوستان ہمیشہ سے گرم آب و ہوا والا ملک رہا ہے، لیکن گزشتہ چند دہائیوں میں گرمی کی شدت اور دورانیے میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ آئی ایم ڈی کے مطابق 1901 سے 2024 تک ہندوستان کے اوسط سالانہ درجہ حرارت میں تقریباً 0.9 ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ ہو چکا ہے۔ بظاہر یہ اضافہ معمولی لگ سکتا ہے، مگر موسمیاتی سائنس میں ایک ڈگری کا فرق پوری دنیا کے ماحولیاتی نظام کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
2024 کو عالمی اور ہندوستانی سطح پر ریکارڈ کا گرم ترین سال قرار دیا گیا۔ اس سال تقریباً ہر مہینہ معمول سے زیادہ گرم رہا۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ اس کے اثرات براہِ راست انسانی زندگی، معیشت، زراعت، پانی کی فراہمی اور صحت پر پڑ رہے ہیں۔ ہندوستان میں گرمی کی شدت اب اس حد تک پہنچ رہی ہے کہ غریب مزدور، رکشہ چلانے والے، تعمیراتی کارکن، کسان اور فیکٹری مزدور دوپہر کے اوقات میں کام کرنے کے قابل نہیں رہتے۔
شہروں میں صورتِ حال مزید خراب ہے۔ کنکریٹ اور سیمنٹ سے بھرے بڑے شہر”اربن ہیٹ آئی لینڈ”بن چکے ہیں جہاں درجہ حرارت دیہی علاقوں سے کئی ڈگری زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ درختوں کی کمی، گاڑیوں کا دھواں، صنعتی سرگرمیاں اور مسلسل بڑھتی ہوئی آبادی اس بحران کو اور سنگین بنا رہی ہیں۔
کبھی ہندوستان میں اے سی صرف امیر طبقے کی چیز سمجھا جاتا تھا۔ لیکن اب حالات بدل چکے ہیں۔ شدید گرمی نے متوسط طبقے کو بھی اے سی خریدنے پر مجبور کر دیا ہے۔ شہری علاقوں میں اے سی کی فروخت ہر سال تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
اندازہ ہے کہ اگلے دو دہائیوں میں ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی کولنگ مارکیٹ بن سکتا ہے۔
اس تبدیلی کے پیچھے ایک بنیادی انسانی ضرورت ہے، زندہ رہنا۔ جب درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر چلا جائے تو انسانی جسم کے لیے خود کو ٹھنڈا رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی، دل کی بیماریوں اور سانس کے مسائل میں اضافہ ہوتا ہے۔ بوڑھے افراد، بچے اور بیمار لوگ سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
ایسے حالات میں اے سی ایک سہولت نہیں بلکہ بقا کا ذریعہ محسوس ہوتا ہے۔ اسپتالوں، اسکولوں، دفاتر، میٹرو اسٹیشنوں اور گھروں میں ٹھنڈک کی مانگ بڑھتی جا رہی ہے۔ لیکن یہی بڑھتی ہوئی مانگ ایک نئے بحران کو جنم دے رہی ہے۔
ایئر کنڈیشنر بنیادی طور پر دو طریقوں سے ماحول کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
(اول) بجلی کی بے پناہ کھپت: اے سی چلانے کے لیے بہت زیادہ بجلی درکار ہوتی ہے۔ ہندوستان میں بجلی کی بڑی مقدار اب بھی کوئلے سے پیدا کی جاتی ہے۔ جب لاکھوں اے سی ایک ساتھ چلتے ہیں تو بجلی گھروں پر دباؤ بڑھتا ہے، اور زیادہ کوئلہ جلایا جاتا ہے۔ کوئلہ جلنے سے کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہوتی ہے جو گلوبل وارمنگ کی سب سے بڑی وجہ ہے۔
(دوم) ریفریجرینٹ گیسوں کا اخراج: اے سی میں استعمال ہونے والی بعض گیسیں ماحول کے لیے انتہائی خطرناک ہوتی ہیں۔ اگر یہ گیسیں فضا میں خارج ہوں تو ان کی گرین ہاؤس اثر پیدا کرنے کی صلاحیت کاربن ڈائی آکسائیڈ سے ہزاروں گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔ اگرچہ دنیا بھر میں پرانی نقصان دہ گیسوں کو مرحلہ وار ختم کیا جا رہا ہے، لیکن اب بھی کئی اقسام کے ریفریجرینٹس ماحول کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
ہندوستان میں کولنگ کا مسئلہ صرف ماحولیات کا نہیں بلکہ سماجی انصاف کا بھی ہے۔ امیر لوگ اے سی والے گھروں، دفاتر اور گاڑیوں میں رہ کر گرمی سے بچ جاتے ہیں، جبکہ غریب طبقہ شدید گرمی کا براہِ راست سامنا کرتا ہے۔
کچی بستیوں میں رہنے والے لاکھوں افراد کے پاس نہ مناسب مکان ہیں، نہ بجلی کی مستقل فراہمی، اور نہ ہی ٹھنڈک کے ذرائع۔ ٹین کی چھتوں والے گھروں میں درجہ حرارت ناقابلِ برداشت ہو جاتا ہے۔ کئی خاندان رات بھر سو نہیں پاتے۔ شدید گرمی بچوں کی تعلیم، صحت اور ذہنی کیفیت پر بھی اثر ڈالتی ہے۔
ہندوستانی شہروں کی بے ہنگم ترقی نے گرمی کے مسئلے کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ شہروں میں سبزہ کم ہوتا جا رہا ہے، جھیلیں اور تالاب ختم ہو رہے ہیں، جبکہ بلند عمارتیں اور سڑکیں حرارت کو جذب کر کے رات بھر خارج کرتی رہتی ہیں۔
درخت قدرتی ایئر کنڈیشنر کا کردار ادا کرتے ہیں، لیکن شہری توسیع کے نام پر لاکھوں درخت کاٹے جا چکے ہیں۔ اگر شہروں کی منصوبہ بندی بہتر انداز میں کی جائے تو گرمی کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
گرمی کا بحران صرف شہروں تک محدود نہیں۔ دیہی علاقوں میں کسان شدید موسمی تبدیلیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ بارش کے نظام میں تبدیلی، خشک سالی اور گرمی کی لہریں فصلوں کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ مزدور طبقہ کھلے آسمان تلے کام کرنے پر مجبور ہے جہاں درجہ حرارت جان لیوا ہو جاتا ہے۔
دیہی علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی اکثر غیر مستحکم رہتی ہے، اس لیے اے سی یا کولر ہر کسی کی پہنچ میں نہیں۔ نتیجتاً دیہی آبادی گرمی کے خطرات کے سامنے زیادہ بے بس دکھائی دیتی ہے۔
شدید گرمی اب ہندوستان میں ایک خاموش قاتل بنتی جا رہی ہے۔ ہر سال ہزاروں لوگ ہیٹ اسٹروک اور گرمی سے متعلق بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔ کئی اموات سرکاری ریکارڈ میں شامل بھی نہیں ہوتیں۔
ہندوستان تیزی سے شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اگر اے سی کی بڑھتی ہوئی مانگ کو صاف توانائی سے پورا کیا جائے تو ماحولیاتی نقصان کم کیا جا سکتا ہے۔شمسی توانائی خاص طور پر امید افزا ہے کیونکہ گرمی کے دنوں میں سورج کی روشنی بھی زیادہ ہوتی ہے، یعنی جب اے سی کی ضرورت بڑھتی ہے تب ہی سولر پاور بھی زیادہ پیدا ہوتی ہے۔ اگر گھروں اور عمارتوں پر سولر پینل لگائے جائیں تو بجلی کے نظام پر دباؤ کم کیا جا سکتا ہے۔لیکن اس کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری، جدید انفراسٹرکچر اور پالیسی اصلاحات درکار ہیں۔
روایتی ہندوستانی طرزِ تعمیر سے سببق لیتے ہوئے جدید کنکریٹ عمارتوں کے برعکس پرانے ہندوستانی گھروں میں قدرتی ٹھنڈک کے کئی طریقے موجود تھے۔ موٹی دیواریں، اونچی چھتیں، صحن، جالی دار کھڑکیاں اور ہوا کی نکاسی کے راستے گھروں کو نسبتاً ٹھنڈا رکھتے تھے۔
راجستھان کی حویلیاں، جنوبی ہندوستان کے روایتی گھر اور مغلیہ طرزِ تعمیر اس بات کی مثال ہیں کہ کس طرح مقامی آب و ہوا کو مدنظر رکھ کر عمارتیں تعمیر کی جاتی تھیں۔ جدید شہری منصوبہ بندی میں ان اصولوں کو دوبارہ اپنانا ضروری ہے۔
ہندوستان آنے والے برسوں میں دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والا اور تیزی سے ترقی کرتا ہوا ملک ہوگا۔ اس ترقی کے ساتھ کولنگ کی مانگ میں بے پناہ اضافہ متوقع ہے۔ اگر یہی راستہ جاری رہا تو بجلی کی کھپت اور کاربن اخراج خطرناک حد تک بڑھ سکتے ہیں۔
لیکن یہ بحران ایک موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ ہندوستان اگر پائیدار کولنگ، صاف توانائی اور ماحول دوست شہری منصوبہ بندی میں سرمایہ کاری کرے تو وہ دنیا کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے۔یہ فیصلہ آج کرنا ہوگا کہ مستقبل کا ہندوستان کیسا ہوگا۔ایک ایسا ملک جہاں ہر شخص شدید گرمی سے محفوظ ہو، یا ایسا معاشرہ جہاں ٹھنڈک بھی طبقاتی امتیاز کی علامت بن جائے۔
ہندوستان میں اے سی دراصل جدید دنیا کے بڑے سوالات میں سے ایک کی علامت ہے۔ ہم ترقی، آرام اور ماحولیات کے درمیان توازن کیسے قائم کریں؟ شدید گرمی نے کولنگ کو ناگزیر بنا دیا ہے، لیکن موجودہ طریقہ کار خود بحران کو مزید گہرا کر رہا ہے۔
یہ مسئلہ صرف ٹیکنالوجی سے حل نہیں ہوگا بلکہ اس کے لیے اجتماعی شعور، بہتر پالیسیوں، سماجی انصاف اور ماحول دوست طرزِ زندگی کی ضرورت ہوگی۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں گرمی صرف ایک موسمی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی بقا کا سب سے بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔
ہندوستان اس وقت ایک تاریخی موڑ پر کھڑا ہے۔ یہ فیصلہ اب انسانوں کو کرنا ہے کہ وہ ایسی ٹھنڈک چاہتے ہیں جو وقتی سکون دے مگر زمین کو جلا دے، یا ایسا مستقبل جہاں انسان اور فطرت دونوں محفوظ رہ سکیں۔
(یواین آئی)
تجزیہ
یہ التجا مفتی کون ہے
تحریر۔۔ محمد رفیق راتھر
آج کل جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک سوال بار بار سنائی دیتا ہے: “یہ التجا مفتی کون ہے” یہ سوال نیشنل کانفرنس کے بعض رہنما، وزراء اور ترجمان اکثر اٹھاتے رہتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ سوال خود اپنے اندر ایک سیاسی اعتراف بھی رکھتا ہے۔ اگر التجا مفتی غیر اہم ہوتیں تو ان کا نام اتنی شدت سے سیاسی بحث کا موضوع نہ بنتا اور نہ ہی ان کے بیانات پر مسلسل ردعمل سامنے آتا۔
التجا مفتی کسی سرکاری عہدے پر فائز نہیں ہیں، نہ وہ وزیر ہیں، نہ رکن اسمبلی اور نہ ہی کسی آئینی منصب کی حامل ہیں۔ ان کی اصل شناخت یہ ہے کہ وہ ایک سیاسی خاندان سے تعلق رکھنے والی ایسی نوجوان خاتون ہیں جنہوں نے مشکل ترین حالات میں اپنی سیاسی رائے اور عوامی مسائل کے بارے میں آواز بلند کی۔ وہ سابق وزیر اعلیٰ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کی صاحبزادی ہیں، مگر صرف یہی ان کی شناخت نہیں۔
جموں و کشمیر کی سیاست میں خاندانی پس منظر رکھنے والے افراد کا سیاست میں متحرک ہونا کوئی نئی بات نہیں۔ نیشنل کانفرنس، کانگریس، بی جے پی اور دیگر جماعتوں میں بھی سیاسی خاندانوں کے افراد اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ اگر کسی سیاستدان کا بیٹا یا بیٹی سیاسی معاملات پر اظہار خیال کرے تو اسے غیر معمولی نہیں سمجھا جاتا۔ پھر صرف التجا مفتی کے حوالے سے ہی یہ سوال کیوں اٹھایا جاتا ہے
حقیقت یہ ہے کہ التجا مفتی نے گزشتہ چند برسوں میں عوامی مسائل، انسانی حقوق، نوجوانوں کے مستقبل، روزگار، زمینوں کے تحفظ اور جموں و کشمیر کی سیاسی صورتحال پر مسلسل بات کی ہے۔ انہوں نے ایسے وقت میں اپنی آواز بلند کی جب بہت سے لوگ خاموش رہنے کو ترجیح دے رہے تھے۔ ان کے بیانات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، ان کی سیاست پر تنقید کی جا سکتی ہے، مگر ان کے حقِ اظہار پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جموں و کشمیر کی سیاست ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں نوجوان نسل محض تماشائی بن کر رہنے کے لیے تیار نہیں۔ نوجوان اپنے مستقبل، شناخت، روزگار اور سیاسی حقوق کے بارے میں سوالات اٹھا رہے ہیں اور اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔ التجا مفتی اسی نئی نسل کی ایک نمائندہ آواز کے طور پر سامنے آئی ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر نہ صرف اپنی رائے کا اظہار کیا بلکہ عوامی مسائل کو بھی اجاگر کرنے کی کوشش کی۔
التجا مفتی نے صرف سیاسی بیانات تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ جموں و کشمیر کے عوامی جذبات، احساسات اور خدشات کی ترجمانی بھی کی ہے۔ خصوصاً 5 اگست 2019 کے بعد پیدا ہونے والی غیر معمولی سیاسی صورتحال میں انہوں نے ان موضوعات پر کھل کر بات کی جن پر بہت سے لوگ خاموش رہنے کو ترجیح دے رہے تھے۔ جموں و کشمیر کے سلب شدہ آئینی حقوق، شناخت اور وقار کی بحالی، مقامی زمینوں اور وسائل کے تحفظ، نوجوانوں کے روزگار اور سرکاری ملازمتوں میں ریزرویشن کے بڑھتے ہوئے تنازع جیسے حساس معاملات پر ان کا مؤقف واضح اور دوٹوک رہا ہے۔
جموں و کشمیر کے ہزاروں نوجوانوں میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ ان کے مستقبل، روزگار اور مواقع سے متعلق فیصلے ان کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق نہیں ہو رہے۔ ایسے میں التجا مفتی نے ان خدشات کو سیاسی اور عوامی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش کی۔ زمینوں کے تحفظ، مقامی حقوق، روزگار کے مواقع اور سیاسی اختیارات کی بحالی جیسے موضوعات پر ان کی مسلسل آواز نے انہیں نوجوان نسل کے ایک بڑے حلقے میں قابلِ توجہ مقام دلایا ہے۔
سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ ہر دور میں نئی آوازوں کو ابتدا میں تنقید اور مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر جمہوری معاشروں میں شخصیات نہیں بلکہ خیالات اور دلائل کا مقابلہ کیا جاتا ہے۔ اگر التجا مفتی کی باتیں غلط ہیں تو ان کا جواب حقائق اور دلیل سے دیا جانا چاہیے۔ محض یہ پوچھتے رہنا کہ “یہ التجا مفتی کون ہے؟” دراصل اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے مترادف ہے۔
مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ جو لوگ بار بار پوچھتے ہیں کہ “یہ التجا مفتی کون ہے؟” دراصل وہ خود ان کی سیاسی اہمیت کو تسلیم کر رہے ہوتے ہیں۔ سیاست میں کسی شخصیت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاتا ہے کہ مخالفین اس کا ذکر کتنی بار کرتے ہیں۔ اگر التجا مفتی کی باتوں کا کوئی اثر نہ ہوتا تو ان کے مخالفین کو ان پر ردعمل دینے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوتی۔
جموں و کشمیر کی سیاسی تاریخ میں خواتین کا کردار ہمیشہ قابلِ ذکر رہا ہے، مگر بدقسمتی سے خواتین سیاستدانوں اور سماجی کارکنوں کو اکثر مرد سیاستدانوں کے مقابلے میں زیادہ سخت تنقید اور ذاتی حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے ماحول میں اگر کوئی نوجوان خاتون اپنی سیاسی رائے کا اظہار کرتی ہے اور عوامی مسائل پر بات کرتی ہے تو یہ جمہوری عمل کے لیے ایک مثبت پیش رفت سمجھی جانی چاہیے، نہ کہ اسے تنقید کا نشانہ بنا کر خاموش کرانے کی کوشش کی جائے۔
عوام آج یہ جاننا چاہتے ہیں کہ بے روزگاری کیسے کم ہوگی، نوجوانوں کو روزگار کب ملے گا، زمینوں اور وسائل کا تحفظ کیسے ہوگا اور جموں و کشمیر کے سیاسی حقوق کی بحالی کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں گے۔ سیاست کا اصل مقصد بھی یہی ہونا چاہیے۔ کسی شخصیت کو ہدف بنانے کے بجائے عوامی مسائل کے حل پر توجہ دینا ہی سیاسی بلوغت اور جمہوری ذمہ داری کی علامت ہے۔
جمہوریت کی بنیاد ہی یہ ہے کہ ہر شہری کو اپنی رائے رکھنے اور اس کا اظہار کرنے کا حق حاصل ہو۔ اگر ایک نوجوان خاتون سیاسی معاملات پر گفتگو کرتی ہے تو اس کا جواب دلیل سے دیا جانا چاہیے، نہ کہ اس کے وجود یا شناخت پر سوال اٹھا کر۔ سیاسی اختلاف جمہوریت کا حسن ہے، لیکن سیاسی مخالفین کی تضحیک یا ان کی شناخت کو موضوعِ بحث بنانا جمہوری روایات کو کمزور کرتا ہے۔
لہٰذا جب اگلی بار کوئی پوچھے کہ “یہ التجا مفتی کون ہے؟” تو جواب سادہ ہے: وہ جموں و کشمیر کی ایک نوجوان سیاسی آواز ہیں جن کی باتوں سے اتفاق یا اختلاف کیا جا سکتا ہے، مگر جنہیں نظر انداز کرنا ان کے ناقدین کے لیے بھی ممکن نہیں رہا۔
اگر وہ غیر اہم ہوتیں تو ان کا ذکر روزانہ سیاسی بیانات میں نہ ہوتا۔ ان کی موجودگی اور ان پر ہونے والی بحث اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ریاست کی سیاسی گفتگو کا ایک اہم حصہ بن چکی ہیں۔
اصل سوال یہ نہیں کہ التجا مفتی کون ہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ان کی اٹھائی ہوئی باتوں اور عوامی مسائل کا جواب کیا ہے۔ جمہوریت میں شخصیات نہیں، مسائل اور نظریات اہم ہوتے ہیں۔ جو سیاست عوامی مسائل کے بجائے شخصیات کے گرد گھومنے لگے، وہ اپنی اصل ذمہ داری سے دور ہو جاتی ہے۔ جموں و کشمیر کے عوام بھی آج یہی چاہتے ہیں کہ ان کے مسائل پر بات ہو، ان کے حقوق کی بات ہو اور ان کے مستقبل کے بارے میں سنجیدہ گفتگو ہو۔ یہی کسی بھی صحت مند جمہوری معاشرے کی پہچان ہے۔
مضمون نگار ٹریڈ یونین و سیاسی لیڈر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک معروف قلمکار بھی ہیں۔
تجزیہ
سبز توانائی اور موسمیاتی بحران
خصوصی مضمون: ظفراقبال
اکیسویں صدی کا سب سے بڑا عالمی مسئلہ موسمیاتی تبدیلی (کلائمیٹ چینج) ہے، دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، غیر معمولی بارشیں، خشک سالی، جنگلات کی آگ، گلیشیئرز کا پگھلنااور سمندری سطح میں اضافہ اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ کر ہ ارض ایک سنگین ماحولیاتی بحران سے گزر رہا ہے، گزشتہ چند دہائیوں میں سائنس دانوں اور ماہرین ماحولیات نے بارہا خبردار کیا ہے کہ اگر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں فوری اور مؤثر کمی نہ کی گئی تو انسانی تہذیب کو ناقابلِ تلافی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس تناظر میں قابلِ تجدید توانائی یا سبز توانائی کو موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ کا ایک اہم ہتھیار سمجھا جاتا ہے۔ شمسی توانائی، ہوائی توانائی، آبی توانائی اور دیگر قابلِ تجدید ذرائع کو فروغ دینے کے لیے دنیا بھر میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ تاہم تازہ ترین عالمی رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ قابلِ تجدید توانائی کی پیداوار میں تاریخی اضافہ ہوا ہے، لیکن اس کے باوجود عالمی درجہ حرارت میں اضافہ جاری ہے اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں خاطر خواہ کمی نہیں آ سکی۔ یہی حقیقت اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ کیا صرف سبز توانائی ہی موسمیاتی بحران کا حل ہے یا اس کے لیے مزید جامع اور ہمہ گیر اقدامات کی ضرورت ہے
گزشتہ چند برسوں کے دوران قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں غیر معمولی ترقی دیکھنے میں آئی ہے۔ شمسی اور ہوائی توانائی کی لاگت میں نمایاں کمی آئی ہے جس کے باعث یہ کئی ممالک میں فوسل فیول کے مقابلے میں زیادہ سستی اور قابلِ عمل بن چکی ہے۔ چین اور ہندوستان جیسے بڑے ممالک نے شمسی اور ہوائی توانائی کے منصوبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے۔
پچھلے سال عالمی سطح پر قابلِ تجدید توانائی کی تنصیبات نے ایک اہم سنگ میل عبور کیا جب شمسی، ہوائی اور آبی توانائی نے بجلی پیدا کرنے میں فوسل ایندھن کو پیچھے چھوڑ دیا۔ یہ پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ دنیا آہستہ آہستہ صاف توانائی کی جانب بڑھ رہی ہے۔
اس ترقی کے متعدد فوائد سامنے آئے ہیں۔ ایک طرف کاربن کے اخراج میں کمی کے امکانات پیدا ہوئے ہیں تو دوسری طرف توانائی کی خود کفالت، روزگار کے نئے مواقع اور معاشی ترقی کو بھی فروغ ملا ہے۔ کئی ممالک اب درآمد شدہ تیل اور گیس پر انحصار کم کر رہے ہیں، جس سے ان کی معیشتیں زیادہ مستحکم ہو رہی ہیں۔
اگرچہ سبز توانائی کی ترقی حوصلہ افزا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافہ رک نہیں سکا۔ تازہ ترین سائنسی رپورٹس کے مطابق 2025 میں انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں عالمی حدت 1.37 ڈگری سیلسیس تک پہنچ گئی، جو صنعتی دور سے پہلے کے درجہ حرارت کے مقابلے میں ایک خطرناک اضافہ ہے۔
یہ صورتحال اس لیے مزید تشویشناک ہے کیونکہ پیرس معاہدے کے تحت دنیا نے درجہ حرارت کو 1.5 ڈگری سیلسیس سے نیچے رکھنے کا ہدف مقرر کیا تھا۔ سائنس دان خبردار کر رہے ہیں کہ موجودہ رفتار برقرار رہی تو آئندہ چند برسوں میں یہ حد بھی عبور ہو سکتی ہے۔
توانائی کے شعبے میں اگرچہ قابلِ تجدید ذرائع کا حصہ بڑھ رہا ہے، لیکن صنعت کا ایک بڑا حصہ اب بھی کوئلے، تیل اور قدرتی گیس پر انحصار کرتا ہے۔ فولاد، سیمنٹ، کیمیکل، کھاد اور دیگر بھاری صنعتیں بڑی مقدار میں فوسل فیول استعمال کرتی ہیں۔
ان صنعتوں کو سبز توانائی پر منتقل کرنا آسان نہیں۔ اس کے لیے جدید ٹیکنالوجی، بھاری سرمایہ کاری اور طویل مدتی منصوبہ بندی درکار ہے۔ مثال کے طور پر گرین ہائیڈروجن کو مستقبل کا صاف ایندھن قرار دیا جا رہا ہے، لیکن اس کی پیداوار ابھی مہنگی ہے اور اس کے لیے مطلوبہ انفراسٹرکچر بھی مکمل طور پر موجود نہیں۔صنعتی شعبے میں تبدیلی کی سست رفتار عالمی اخراج میں کمی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ صرف صاف توانائی پیدا کرنا کافی نہیں بلکہ توانائی کے استعمال میں بھی اصلاحات ضروری ہیں۔
توانائی بچانے والی مشینری، جدید پیداواری نظام اور وسائل کے مؤثر استعمال سے اخراج میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔
ری سائیکلنگ اس سلسلے میں ایک اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ مثال کے طور پر ری سائیکل شدہ ایلومینیم کی تیاری میں نئے ایلومینیم کے مقابلے میں بہت کم توانائی درکار ہوتی ہے۔ اسی طرح پلاسٹک، شیشہ اور کاغذ کی ری سائیکلنگ سے نہ صرف وسائل کی بچت ہوتی ہے بلکہ کاربن اخراج بھی کم ہوتا ہے۔تاہم ان اقدامات کو وسیع پیمانے پر اپنانے کے لیے حکومتی پالیسیوں، مالی مراعات اور عوامی شعور کی ضرورت ہے۔
موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے حوالے سے ترقی پذیر ممالک کو منفرد چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان ممالک میں غربت، آبادی میں اضافہ، توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب اور محدود مالی وسائل پائیدار ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔
بہت سے ترقی پذیر ممالک کے لیے فوری ترجیح معاشی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔ اس وجہ سے وہ اکثر سستی توانائی کے لیے کوئلے اور دیگر فوسل فیولز پر انحصار کرتے ہیں۔اگر عالمی برادری واقعی موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنا چاہتی ہے تو اسے ترقی پذیر ممالک کو مالی اور تکنیکی معاونت فراہم کرنا ہوگی تاکہ وہ صاف توانائی کی طرف تیزی سے منتقل ہو سکیں۔
موسمیاتی بحران کے حل میں علم اور ٹیکنالوجی کی منتقلی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ جدید سبز ٹیکنالوجی زیادہ تر ترقی یافتہ ممالک کے پاس موجود ہے جبکہ ترقی پذیر ممالک کو اس تک رسائی میں مشکلات پیش آتی ہیں۔
یونیورسٹیوں، تحقیقی اداروں، حکومتوں اور نجی شعبے کے درمیان تعاون کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر جدید تحقیق اور اختراعات کو عالمی سطح پر تیزی سے منتقل کیا جائے تو صاف توانائی کی لاگت مزید کم ہو سکتی ہے اور اس کے استعمال میں اضافہ ممکن ہے۔بدقسمتی سے اب تک یہ شعبہ عالمی کوششوں کی ایک کمزور کڑی ثابت ہوا ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق دنیا کے پاس محدود ‘کاربن بجٹ’ باقی رہ گیا ہے۔ کاربن بجٹ سے مراد گرین ہاؤس گیسوں کی وہ مقدار ہے جو مزید خارج کی جا سکتی ہے جبکہ عالمی درجہ حرارت کو 1.5 ڈگری سیلسیس کی حد کے اندر رکھا جا سکے۔
حالیہ رپورٹس کے مطابق موجودہ اخراج کی رفتار برقرار رہی تو یہ بجٹ تقریباً تین سال میں ختم ہو سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کو فوری اور غیر معمولی اقدامات کرنے ہوں گے۔
اگر ایسا نہ کیا گیا تو درجہ حرارت میں اضافے کے نتائج مزید شدید ہو جائیں گے، جن میں سمندری سطح میں اضافہ، خوراک کی قلت، پانی کی کمی، قدرتی آفات اور انسانی ہجرت شامل ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی ایک ایسا مسئلہ ہے جسے کوئی ایک ملک تنہا حل نہیں کر سکتا۔ اس کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ حکمتِ عملی اور تعاون ناگزیر ہے۔اقوام متحدہ کے تحت ہونے والی موسمیاتی کانفرنسیں اسی مقصد کے لیے منعقد کی جاتی ہیں، لیکن اکثر سیاسی اختلافات اور معاشی مفادات مؤثر اقدامات کی راہ میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام ممالک اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں اور اخراج میں کمی کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔
ترقی یافتہ ممالک کو تاریخی ذمہ داری کے تحت زیادہ کردار ادا کرنا ہوگا کیونکہ عالمی اخراج میں ان کا حصہ زیادہ رہا ہے۔
قابلِ تجدید توانائی بلا شبہ موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ کا ایک اہم ستون ہے، لیکن یہ اکیلے اس بحران کا حل نہیں۔ اگرچہ شمسی، ہوائی اور آبی توانائی کی ترقی امید کی ایک کرن ہے، لیکن گرین ہاؤس گیسوں کے مسلسل بڑھتے ہوئے اخراج سے واضح ہوتا ہے کہ دنیا کو مزید جامع اقدامات کی ضرورت ہے۔
صنعتی شعبے کی اصلاح، توانائی کی بچت، ری سائیکلنگ، گرین ہائیڈروجن کی ترقی، ٹیکنالوجی کی منتقلی، ترقی پذیر ممالک کی معاونت اور عالمی تعاون کے بغیر موسمیاتی اہداف حاصل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔
انسانیت ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہے۔ آنے والے چند برس یہ طے کریں گے کہ آیا دنیا موسمیاتی بحران پر قابو پا سکتی ہے یا آنے والی نسلوں کو ایک زیادہ گرم، غیر مستحکم اور خطرناک سیارے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ وقت کم ہے، لیکن اگر عالمی برادری سنجیدگی، بصیرت اور اجتماعی عزم کا مظاہرہ کرے تو اب بھی امید باقی ہے کہ زمین کو ایک محفوظ اور پائیدار مستقبل کی طرف لے جایا جا سکتا ہے۔
(یواین آئی)
تجزیہ
ہندوستان موسمیاتی بحران کی زد میں: ایک جانب سیلاب، دوسری جانب جان لیوا گرمی
خصوصی مضمون: ظفر اقبال
ہندوستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں موسمیاتی نظام نہ صرف معیشت بلکہ کروڑوں انسانوں کی روزمرہ زندگی پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے زرعی پیداوار، آبی وسائل، توانائی کی طلب، صحت عامہ اور بنیادی ڈھانچے کا ایک بڑا حصہ موسم کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔ 2026 کا مانسون ہندوستان کے لیے ایک غیر معمولی موسمی صورتِ حال لے کر آیا ہے، جہاں ایک طرف جنوبی اور شمال مشرقی علاقوں میں شدید بارشوں اور سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا ہے، تو دوسری طرف شمالی، وسطی اور مغربی ہندوستان شدید گرمی کی لہروں کی لپیٹ میں ہیں۔ یہ صورتحال محض ایک موسمی بے ترتیبی نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اس بڑھتے ہوئے بحران کی عکاسی کرتی ہے جو پورے جنوبی ایشیا کو اپنی گرفت میں لے رہا ہے۔
اس سال ہندوستان ایک ایسے موسمیاتی تضاد کا شکار نظر آتا ہے جسے ماہرین ‘کلائمیٹ وِپ لیش’ یا موسمیاتی جھٹکا قرار دیتے ہیں۔ اس اصطلاح سے مراد وہ صورتحال ہے جب موسم ایک انتہا سے دوسری انتہا کی طرف غیر معمولی تیزی سے منتقل ہو جائے۔ کہیں شدید بارش اور سیلاب، تو کہیں خشک سالی اور شدید گرمی اور یہ سب ایک ہی وقت میں وقوع پذیر ہو رہا ہو۔
ہندوستان میں جنوب مغربی مانسون کو زندگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ عام طور پر مانسون یکم جون کے آس پاس ریاست کیرالہ میں داخل ہوتا ہے، تاہم 2026 میں اس کی آمد تین دن کی تاخیر سے 4 جون کو ہوئی۔ بظاہر تین دن کی تاخیر معمولی معلوم ہوتی ہے، لیکن موسمیاتی سائنس کے تناظر میں یہ تبدیلی کئی بڑے عوامل کی نشاندہی کرتی ہے۔
مانسون کی رفتار اور شدت سمندری درجہ حرارت، فضائی دباؤ، بحر ہند کے درجہ حرارت اور عالمی موسمیاتی مظاہر جیسے ایل نینو اور لا نینا سے متاثر ہوتی ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران بحر ہند کے پانیوں میں مسلسل اضافہ ہونے والا درجہ حرارت مانسون کے معمول کے نظام کو متاثر کر رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں بارش کی تقسیم غیر متوازن ہوتی جا رہی ہے۔
2026 میں بھی یہی منظر دیکھنے کو ملا۔ مانسون نے جنوبی ریاستوں اور شمال مشرقی علاقوں میں تیزی سے پیش قدمی کی، مگر ملک کے بڑے حصے میں اس کی رسائی سست رہی۔ اس غیر متوازن پیش رفت نے موسمیاتی تضاد کو مزید گہرا کر دیا۔
کیرالہ، کرناٹک، تمل ناڈو اور آندھرا پردیش کے کئی علاقوں میں مانسون کے ابتدائی مرحلے میں ہی شدید بارشیں ریکارڈ کی گئیں۔ کئی شہروں میں سڑکیں زیرِ آب آگئیں، ٹریفک نظام متاثر ہوا اور نشیبی علاقوں میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔
کیرالہ خاص طور پر گزشتہ چند برسوں سے شدید بارشوں اور سیلابوں کا سامنا کر رہا ہے۔ 2018 کے تباہ کن سیلاب کے بعد ماہرین مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث زبردست بارشوں کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اب بارش کئی دنوں میں تقسیم ہونے کے بجائے چند گھنٹوں میں ہی ریکارڈ مقدار میں برس جاتی ہے، جس سے نکاسی آب کا نظام ناکام ہو جاتا ہے۔
شمال مشرقی ریاستیں جیسے آسام، میگھالیہ اور اروناچل پردیش بھی شدید بارشوں کی زد میں ہیں۔ دریاؤں کی سطح بلند ہو رہی ہے اور سیلابی خطرات بڑھ رہے ہیں۔ ان علاقوں میں ہزاروں خاندان ہر سال سیلاب کے باعث بے گھر ہوتے ہیں، جبکہ زرعی زمینوں کو بھی شدید نقصان پہنچتا ہے۔
دوسری جانب دہلی، اتر پردیش، راجستھان، ہریانہ، پنجاب اور مدھیہ پردیش شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں۔ کئی شہروں میں درجہ حرارت 45 ڈگری سیلسیس سے تجاوز کر گیا ہے، جبکہ بعض علاقوں میں گرمی کی شدت محسوس شدہ درجہ حرارت کو 50 ڈگری کے قریب لے جا رہی ہے۔
شدید گرمی نہ صرف انسانی صحت بلکہ معیشت کے لیے بھی بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ اسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک کے مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ مزدور طبقہ، کسان اور کھلے آسمان تلے کام کرنے والے افراد سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
گرمی کی لہروں کے دوران بجلی کی طلب میں غیر معمولی اضافہ ہو جاتا ہے۔ ایئر کنڈیشنرز اور کولنگ سسٹمز کے استعمال سے بجلی کے نظام پر دباؤ بڑھتا ہے، جس کے نتیجے میں کئی علاقوں میں لوڈ شیڈنگ بھی دیکھنے میں آتی ہے۔
موسمیاتی ماہرین کے مطابق ہندوستان میں بیک وقت سیلاب اور گرمی کی لہریں موسمیاتی وِپ لیش کی واضح مثال ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قدرتی نظام اپنی تاریخی ترتیب کھو رہا ہے۔
ماضی میں موسم نسبتاً قابلِ پیش گوئی تھا۔ گرمی کے بعد بارش آتی تھی اور بارش کا ایک متعین دورانیہ ہوتا تھا۔ اب صورتحال مختلف ہے۔ کہیں بارش حد سے زیادہ ہے، کہیں بالکل نہیں۔ کہیں درجہ حرارت ریکارڈ سطح پر ہے، تو کہیں طوفانی بارشیں زندگی مفلوج کر رہی ہیں۔
یہ تبدیلیاں عالمی حدت (Global Warming) کے ساتھ براہِ راست جڑی ہوئی ہیں۔ زمین کا اوسط درجہ حرارت بڑھنے سے فضا میں نمی زیادہ جمع ہوتی ہے، جو شدید بارشوں کی صورت میں خارج ہوتی ہے۔ دوسری طرف گرین ہاؤس گیسوں کی بڑھتی ہوئی مقدار گرمی کی شدت میں اضافہ کرتی ہے۔
ہندوستان کی تقریباً نصف آبادی براہِ راست یا بالواسطہ زراعت سے وابستہ ہے۔ مانسون کی غیر یقینی صورتحال زرعی شعبے کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہے۔اگر بارش وقت پر نہ ہو تو فصلوں کی بوائی متاثر ہوتی ہے۔ اگر بارش ضرورت سے زیادہ ہو تو فصلیں تباہ ہو جاتی ہیں۔ کسانوں کے لیے یہ صورتحال دوہری مصیبت بن چکی ہے۔دھان، کپاس، گنا اور دالوں جیسی اہم فصلیں مانسون پر انحصار کرتی ہیں۔ غیر متوازن بارشیں نہ صرف پیداوار کم کرتی ہیں بلکہ غذائی تحفظ کو بھی خطرے میں ڈالتی ہیں۔ زرعی ماہرین کے مطابق اگر یہی رجحان جاری رہا تو آنے والے برسوں میں خوراک کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
ہندوستان کے بڑے شہر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ دہلی، ممبئی، بنگلورو اور چنئی جیسے شہروں میں شدید بارش کے دوران سڑکیں دریا کا منظر پیش کرنے لگتی ہیں۔
شہری منصوبہ بندی میں آبی گزرگاہوں، نالوں اور قدرتی ذخائر کو نظر انداز کرنے کے باعث بارش کا پانی نکالنا مشکل ہو جاتا ہے۔ دوسری طرف گرمی کی لہروں کے دوران شہروں میں ‘ہیٹ آئی لینڈ ایفیکٹ’ پیدا ہوتا ہے، جہاں کنکریٹ اور اسفالٹ گرمی کو جذب کرکے درجہ حرارت مزید بڑھا دیتے ہیں۔
موسمیاتی شدت کے صحت پر اثرات انتہائی سنگین ہیں۔ گرمی کی لہروں سے ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی اور دل کی بیماریوں کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ دوسری طرف سیلاب اور بارشوں کے بعد ملیریا، ڈینگی، ہیضہ اور دیگر متعدی امراض پھیلنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
بچوں، بزرگوں اور کمزور معاشی طبقوں کے افراد سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی آئندہ دہائیوں میں صحت عامہ کے لیے سب سے بڑے خطرات میں سے ایک ہوگی۔
سیلاب، گرمی اور موسمیاتی بے ترتیبی کا براہِ راست اثر معیشت پر پڑتا ہے۔ فصلوں کا نقصان، بنیادی ڈھانچے کی تباہی، صحت کے اخراجات میں اضافہ اور صنعتی پیداوار میں کمی ملکی ترقی کی رفتار کو متاثر کرتی ہے۔
سیلاب زدہ علاقوں میں سڑکیں، پل اور مواصلاتی نظام متاثر ہوتے ہیں، جبکہ شدید گرمی صنعتی کارکنوں کی پیداواری صلاحیت کم کر دیتی ہے۔ عالمی بینک اور دیگر اداروں کے مطابق موسمیاتی تبدیلی ترقی پذیر ممالک کی اقتصادی ترقی کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔
موجودہ صورتحال حکومتوں کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔ صرف ہنگامی امداد فراہم کرنا کافی نہیں بلکہ طویل المدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔
آبی ذخائر کا بہتر انتظام، بارش کے پانی کو محفوظ بنانا، شہری نکاسی آب کے نظام کی بہتری، موسمیاتی مزاحم فصلوں کی ترقی اور قابلِ تجدید توانائی کا فروغ ناگزیر ہو چکا ہے۔
2026 کا مانسون ہندوستان کے لیے ایک واضح انتباہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا مسئلہ نہیں بلکہ موجودہ حقیقت بن چکی ہے۔ جنوبی علاقوں میں سیلاب اور شمالی بھارت میں شدید گرمی کی لہریں اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں کہ موسم کا روایتی توازن تیزی سے بدل رہا ہے۔
اگرچہ ہندوستان سمیت پوری دنیا موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا سامنا کر رہی ہے، لیکن آبادی، زراعت اور معیشت کے اعتبار سے ہندوستان ان ممالک میں شامل ہے جو سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومت، ماہرین، صنعت اور عوام مشترکہ طور پر ایسے اقدامات کریں جو نہ صرف موجودہ بحران کا مقابلہ کر سکیں بلکہ مستقبل کے خطرات کو بھی کم کر سکیں۔
موسمیاتی وِپ لیش کا یہ دور ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قدرت کے ساتھ عدم توازن کی قیمت بہت بھاری ہو سکتی ہے۔ اگر بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو سیلاب اور گرمی کی یہ دوہری آفت آنے والے برسوں میں مزید شدید اور تباہ کن شکل اختیار کر سکتی ہے۔
(یواین آئی)
جموں و کشمیر5 days agoاین سی ایل ٹی نے سراج العلوم کے لیے عبوری لیکویڈیٹر مقرر کر دیا، اثاثے منجمد
ہندوستان5 days agoفضائیہ کا مال بردار طیارہ حادثے کا شکار، پانچ اہلکار شہید
دنیا7 days agoامریکہ کے ساتھ پائیدار معاہدہ دھمکیوں، دباؤ یا طاقت کے استعمال سے ممکن نہیں: ایرانی سفیر
دنیا7 days agoامریکہ آج رات ایران پر بڑا حملہ کرے گا: امریکی وزیر جنگ
دنیا1 week agoاسرائیل کے موقف سے قطع نظر امریکہ ایران جوہری معاہدے پر آگے بڑھے گا: وینس
دنیا1 week agoامریکی فوج کا اپاچی ہیلی کاپٹر آبنائے ہرمز کے قریب گر کر تباہ
دنیا6 days agoایران معاہدے سے متعلق ٹرمپ کے مؤقف پر نیتن یاہو کا ردِعمل سامنے آگیا
دنیا5 days agoامریکہ نے ایران کے جوہری مواد پر قبضے کیلئے زمینی کارروائی کا منصوبہ بنالیا تھا تاہم ٹرمپ پیچھے ہٹ گئے: امریکی میڈیا
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز میں امریکی افواج اور پاسداران انقلاب کے درمیان جھڑپیں: ایرانی خبر رساں ایجنسی
دنیا1 week agoامریکہ سے پاکستان کے ذریعے مذاکرات جاری ہیں: ایران
دنیا1 week agoجے ڈی وینس بھی ایران ڈیل سے متعلق ٹرمپ کا بیان ماننے پر تیار نہیں
دنیا1 week agoپاکستان کا افغانستان پر حملہ، 11 بچوں سمیت 13 افراد ہلاک






































































































