دنیا
امریکہ کے ہتھیاروں کے ذخیرے خالی ہونے کے دعوے غلط: ہیگسیتھ
واشنگٹن، امریکہ کے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ ایران جنگ میں امریکہ کے ہتھیاروں کے ذخیرے ختم ہونے کی رپورٹیں اور سیاسی دعوے احمقانہ اور بلاوجہ بڑھا چڑھا کر پیش کیے گئے ہیں۔
مسٹر ہیگسیتھ نے ایران جنگ کے اخراجات پر منعقدہ پارلیمانی سماعت میں ان دعوؤں کو یکسر مسترد کر دیا۔ انہوں نے ہاؤس ایپروپریشنز ڈیفنس سب کمیٹی کے سامنے کہا کہ ایران اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی وجہ سے بڑھتی ہوئی طلب کے باوجود امریکی فوج کی مکمل آپریشنل صلاحیت برقرار ہے۔ ہیگسیتھ نے کہا کہ امریکی فوج کے پاس اپنے آپریشنز انجام دینے کے لیے ضروری تمام ہتھیار اور گولہ بارود دستیاب ہے۔ انہوں نے ان رپورٹوں کو خارج کر دیا جن میں کہا گیا تھا کہ وزارت دفاع کو اہم ہتھیاروں کے نظام کی کمی کا سامنا ہے۔
ہیگسیتھ نے قانون سازوں کے ساتھ الگ گفتگو میں کہا، “میں عوامی فورم پر یہ کہے جانے سے اختلاف کرتا ہوں کہ ہمارے گولہ بارود کے ذخائر ختم ہو رہے ہیں، یہ درست نہیں ہے۔” ایران تنازعہ کئی ہفتوں تک کھنچنے کی وجہ سے امریکی ہتھیاروں کے ذخائر کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے۔ اس دوران ٹومہاک کروز میزائل، اے ٹی اے سی ایم ایس فیلڈ میزائل اور پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس انٹرسیپٹرز جیسے جدید نظام بڑے پیمانے پر استعمال ہوئے ہیں۔ سابق بحری پائلٹ اور ڈیموکریٹک سینیٹر مارک کیلی نے ایک خفیہ بریفنگ کے بعد کہا کہ “یہ چونکا دینے والا ہے کہ ہم اپنے ذخائر میں کتنی گہرائی تک جا چکے ہیں۔” انہوں نے خبردار کیا کہ ہتھیاروں کے استعمال کی رفتار غیر معمولی طور پر زیادہ ہے۔ مسٹر ہیگسیتھ نے مسٹر کیلی کے عوامی تبصروں کی سخت تنقید کرتے ہوئے اشارہ دیا کہ غالباً انہوں نے خفیہ معلومات کا غلط طریقے سے انکشاف کیا ہے۔ ہیگسیتھ نے سوشل میڈیا پر لکھا، “‘کیپٹن’ مارک کیلی پھر سرگرم ہو گئے ہیں،” اور کہا کہ پینٹاگون کے قانونی حکام اس بات کی تحقیقات کریں گے کہ کہیں ان کے بیان سے کسی اصول کی خلاف ورزی تو نہیں ہوئی۔
مسٹر کیلی نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کوئی خفیہ معلومات شیئر نہیں کیں اور دعویٰ کیا کہ مسٹر ہیگسیتھ خود بھی عوامی پلیٹ فارمز پر اسی طرح کی باتیں کہہ چکے ہیں۔ سینیٹ ایپروپریشنز ڈیفنس سب کمیٹی کی سماعت میں چیئرمین مچ میکونل نے بعد میں مسٹر ہیگسیتھ کے منصوبے پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ گولڈن ڈوم میزائل ڈیفنس سسٹم، گولہ بارود، ایف-35 لڑاکا طیارے اور ڈرون پروڈکشن جیسے اہم پروگراموں کو عام بجٹ کے عمل سے باہر رکھنا مناسب نہیں ہے۔ ہیگسیتھ کے سخت موقف کے برعکس، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین ڈین کین نے کانگریس کے سامنے نسبتاً متوازن جائزہ پیش کیا۔ مسٹر کین نے کہا کہ امریکی افواج کے پاس “موجودہ ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے کافی گولہ بارود” ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ کمانڈر “ہمیشہ زیادہ صلاحیت چاہتے ہیں۔”
دونوں کے بیانات میں فرق نے فوجی قیادت اور سویلین دفاعی حکام کے درمیان جاری تناؤ کو اجاگر کیا، جبکہ قانون ساز تیاری کی سطح کے بارے میں وضاحت کا مطالبہ کر رہے تھے۔ دونوں جماعتوں کے اراکینِ پارلیمان نے مسلسل سماعتوں میں پینٹاگون سے جنگی حکمت عملی، بجٹ اور موجودہ فوجی آپریشنز کے استحکام کے بارے میں سوالات پوچھے۔ قانون سازوں نے مسٹر ہیگسیتھ اور جنرل کین سے ایران میں امریکی حکمت عملی، خاص طور پر آبنائے ہرمز کی بندش کے حوالے سے بھی سوالات کیے۔ جنرل کین نے ایران کی بقیہ میزائل صلاحیت سے متعلق انٹیلی جنس جائزے کی تصدیق کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا، “ہمارے تمام جنگی نقصان کے جائزے خفیہ ہیں۔” ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کے ریپبلکن اراکین نے مسٹر ہیگسیتھ سے مسٹر ٹرمپ کے 1.5 ٹریلین ڈالر کے دفاعی منصوبے پر سوالات کیے۔ وہ اس بات سے پوری طرح مطمئن نہیں تھے کہ اتنی بڑی رقم کیسے جمع کی جائے گی۔
سماعت کے دوران کانگریس اور پینٹاگون کے درمیان ایران تنازعہ کے انتظام، اس کی لاگت اور امریکی فوجی تیاری پر پڑنے والے دباؤ کے حوالے سے بڑھتے ہوئے اختلافات واضح طور پر سامنے آئے۔ مسٹر ہیگسیتھ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کے پاس کافی لچک اور ہتھیاروں کا وافر ذخیرہ موجود ہے، لیکن دونوں جماعتوں کے قانون ساز حکمت عملی، شفافیت اور طویل مدتی استحکام کے بارے میں زیادہ واضح جوابات مانگتے رہے، کیونکہ تنازعہ ختم ہونے کے فوری آثار نظر نہیں آ رہے۔
یواین آئی۔ م س
دنیا
ٹرمپ بیجنگ اہم کاروباری شخصیات کو بھی ساتھ لے گئے، تجارتی مذاکرات پر عالمی نظریں
بیجنگ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی وفود کے درمیان تجارتی مذاکرات کے آغاز کے ساتھ یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ امریکی صدر اپنے ہمراہ ٹیکنالوجی اور کاروباری دنیا کی کئی بڑی شخصیات کو بھی چین لے کر گئے ہیں۔ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’سوشل ٹروتھ‘‘ پر بتایا کہ ان کے وفد میں این ویڈیا کے بانی اور سی ای او جینسن ہوانگ، ایلون مسک، ایپل کے سی ای او ٹم کک، بلیک راک کے سربراہ لاری فنک، بوئنگ کے کیلی آؤٹبرگ سمیت متعدد نمایاں کاروباری شخصیات شامل ہیں۔
اس کے علاوہ کارگل کے برايان سائکس، سٹی گروپ کی جین فریزر، جی ای ایرواسپیس کے لاری کالب، گولڈمین سیکس کے ڈیوڈ سولومون، مائکرون ٹیکنالوجی کے سنجے مہروترا اور کوالکومکے کرسٹیانو آمون بھی وفد میں شامل ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ وہ چینی صدر شی جن پنگ سے درخواست کریں گے کہ چین اپنی مارکیٹ مزید کھولے تاکہ عالمی تخلیق کار اور ٹیکنالوجی کمپنیاں اپنی صلاحیتوں کو مکمل طور پر بروئے کار لا سکیں اور چین کی ترقی کو مزید تیز کیا جا سکے۔
امریکی حکام کے مطابق اس سربراہی اجلاس میں تجارت اور سرمایہ کاری کو آسان بنانے کے لیے نئے میکانزم پر اتفاق متوقع ہے، جبکہ چین کی جانب سے بوئنگ کے طیاروں، زرعی مصنوعات اور توانائی کی خریداری کے اعلانات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت شروع ہونے کے بعد امریکہ اور چین کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
چین امریکی پابندیوں میں نرمی کا خواہاں ہے، خاص طور پر جدید سیمی کنڈکٹرز اور چپ ٹیکنالوجی کی برآمدات سے متعلق پابندیوں کے حوالے سے۔
امریکی ذرائع کے مطابق ٹرمپ بیجنگ سے یہ مطالبہ بھی کریں گے کہ وہ ایران پر دباؤ ڈالے تاکہ جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے کسی ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار کی جا سکے۔
یواین آئی۔ م س
دنیا
ڈونلڈ ٹرمپ اہم سرکاری دورے پر بیجنگ پہنچ گئے
بیجنگ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اہم سرکاری دورے پر چین کے دارالحکومت بیجنگ پہنچ گئے ہیں، جہاں ان کی چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات متوقع ہے۔
چینی میڈیا کے مطابق دونوں رہنما دوطرفہ تعلقات، عالمی صورتحال، علاقائی کشیدگی اور ایران سے متعلق جاری جنگ سمیت اہم عالمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے امریکی صدر کے دورۂ چین کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ بیجنگ واشنگٹن کے ساتھ برابری، باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر تعلقات کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے۔
ترجمان کے مطابق دونوں صدور ملاقات کے دوران عالمی امن، اقتصادی تعاون اور مختلف بین الاقوامی معاملات پر بھی گفتگو کریں گے۔
ادھر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین روانگی سے قبل واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ شی جن پنگ کے ساتھ ایران جنگ کے معاملے پر ’’طویل بات چیت‘‘ کریں گے۔
یواین آئی م س
دنیا
ایران نے امریکہ کے ساتھ بات چیت دوبارہ شروع کرنے کے لیے پانچ شرطیں رکھ دیں
تہران، ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے لیے پانچ پیشگی شرائط رکھی ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا آغاز 28 فروری کو اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملوں کے بعد ہوا تھا، جس میں ایران کے کئی سینیئر رہنما جاں بحق ہو گئے تھے۔
فارس نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران نے امریکہ کی حالیہ 14 نکاتی امن تجویز کو مسترد کرتے ہوئے اسے “خودسپردگی کی مانگ” قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ سفارت کاری کے ذریعے وہ کچھ حاصل کرنے کی کوشش ہے جسے امریکہ اور اسرائیل فوجی کارروائی سے حاصل نہیں کر سکے۔
آئی آر جی سی سے وابستہ نیوز ایجنسی ‘فارس’ نے ایک نامعلوم ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ ایران صرف اسی صورت میں براہ راست مذاکرات کی طرف لوٹے گا جب اس کے بنیادی مطالبات پورے کیے جائیں گے۔ ایران کی ان پانچ شرائط میں درج ذیل نکات میں لبنان میں حزب اللہ کے خلاف جاری اسرائیلی جنگ کا خاتمہ، ایران پر عائد تمام پابندیوں کا خاتمہ،اسلامی جمہوریہ کے منجمد اثاثوں کی بحالی،جنگی نقصانات کے معاوضے کی ادائیگی، آبنائے ہرمز پر ایرانی خودمختاری کی باقاعدہ تسلیم شدگی شامل ہیں۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہی پانچ مطالبات مذاکرات کی بحالی کی بنیاد ہیں۔ دوسری جانب، صدر ٹرمپ نے عوامی سطح پر ان میں سے اکثر مطالبات، خاص طور پر جنگی معاوضے اور آبنائے ہرمز پر ایرانی کنٹرول کی شرط کو مسترد کر دیا ہے۔ امریکہ نے انہیں “ناقابل قبول” قرار دیا ہے۔
اب تک امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات کا صرف ایک دور 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہوا تھا، جو کسی نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
دریں اثنا، ایران نے اشارہ دیا ہے کہ اس کی مسلح افواج مکمل طور پر چوکس ہیں۔ ایرانی فوجی یونٹوں نے ملک کے گرد و نواح میں بڑے پیمانے پر جنگی مشقیں شروع کر دی ہیں۔ حکام کے مطابق، ان مشقوں کا مقصد امریکہ یا اسرائیل کے کسی بھی نئے حملے کا مقابلہ کرنے کی تیاری ظاہر کرنا ہے۔ آئی آر جی سی کے بریگیڈیئر جنرل حسن حسن زادہ نے کہا کہ “شہید کمانڈر” نامی ان پانچ روزہ مشقوں نے ثابت کر دیا ہے کہ ایرانی افواج “کسی بھی مقام اور کسی بھی وقت” فوری جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔
یواین آئی۔ م س
دنیا5 days agoامریکی کانگریس میں پاکستان کے حق میں بڑی قرارداد منظور
ہندوستان1 week agoغیر آئینی طریقوں سے پارٹیوں کو توڑنا جمہوری ڈھانچے پر براہ راست حملہ ہے: بھگونت مان
دنیا5 days agoامریکہ ایران جنگ ختم ہوگئی تب بھی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا امکان جاری رہے گا
ہندوستان6 days agoآپریشن سندور نے درست اور فیصلہ کن کارروائی سے ہندستان کی سلامتی پالیسی میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا:سیتا رمن
ہندوستان1 week agoوزیراعظم مودی نے یو اے ای میں ڈرون حملے کی مذمت کی، مغربی ایشیا میں سفارت کاری اور سمندری سلامتی کی حمایت کی
ہندوستان6 days agoراجناتھ سنگھ نے ‘آپریشن سندور’ کو قومی عزم اور تیاری کی مضبوط علامت قرار دیا
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر منڈلاتا امریکی طیارہ پراسرار طور پر اچانک آسمان سے غائب، کہاں گیا
دنیا4 days agoایران کا آبنائے ہرمز سے گزرنے والی انٹرنیٹ کیبلز سے متعلق بڑا فیصلہ
ہندوستان1 week agoہندوستان نے فجیرہ حملے کی سخت مذمت کی، مسائل کے حل کے لیے سفارت کاری پر زور دیا
دنیا1 week agoایران نے ایک بار پھر پر امن ایٹمی پروگرام جاری رکھنے کا اعلان کر دیا
دنیا5 days agoاسرائیل کے غزہ میں جنگ بندی کے باوجود فضائی حملے، 9 فلسطینی شہید
دنیا1 week agoامریکہ اور اس کے اتحادیوں نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی : باقر قالیباف











































































































