جموں و کشمیر
پی ڈی پی رہنما التجا مفتی نے عمر عبداللہ کے شراب سے متعلق بیان پر تنقید کی، جموں و کشمیر میں شراب بندی کا مطالبہ
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی رہنما التجا مفتی نے پیر کے روز وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے شراب نوشی سے متعلق بیان پر سخت تنقید کرتے ہوئے ان پر “غلط ثقافت” کو فروغ دینے اور مسلم اکثریتی خطے کے حساس معاملات کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا۔
وہ عمر عبداللہ کے اتوار کو گاندربل میں دیے گئے اس بیان پر ردعمل ظاہر کر رہی تھیں، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ کسی کو شراب پینے پر مجبور نہیں کیا جا رہا اور لوگ اپنی مرضی سے شراب کی دکانوں پر جاتے ہیں، جس کے بعد تنازع کھڑا ہو گیا۔
تاہم، پیر کی صبح عمر عبداللہ نے وضاحت دی کہ ان کے شراب کی دکانوں سے متعلق بیان کو سیاسی مخالفین “توڑ مروڑ” کر پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شراب کی دکانیں صرف ان لوگوں کے لیے ہیں جن کے مذہب میں شراب نوشی کی اجازت ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی ڈی پی کی التجا مفتی نے کہا کہ نیشنل کانفرنس حکومت نے 2024 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ریزرویشن، اردو زبان کے تحفظ، مفت بجلی اور روزگار جیسے اہم وعدوں پر بار بار “یو ٹرن” لیا ہے۔
عمر عبداللہ کے حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے پہلے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو شراب پینے سے نہیں روک رہی، اور بعد میں عوامی تنقید کے بعد اپنے بیان کو نرم کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہاکہ “شراب کے بارے میں ان کی بات بالکل غیر منطقی تھی”، اور مزید کہا کہ اسی منطق کو منشیات فروش بھی اس جواز کے لیے استعمال کر سکتے ہیں کہ نوجوان اپنی مرضی سے منشیات لیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی انسدادِ منشیات مہم وزیر اعلیٰ کے بیان سے متصادم ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایک طرف حکومت مبینہ منشیات فروشوں کی جائیدادیں منہدم کر رہی ہے، اور دوسری طرف یہ کہہ رہی ہے کہ لوگوں کے نشہ آور اشیاء استعمال کرنے کی ذمہ داری حکومت کی نہیں۔
التجا مفتی نے مزید الزام لگایا کہ عمر عبداللہ نے اس بحث میں مذہب کو شامل کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر میں غیر مسلموں کے لیے شراب نوشی ممنوع نہیں ہے۔
انہوں نے کہاکہ “کوئی بھی مذہب نشہ آور اشیاء کو فروغ نہیں دیتا، چاہے وہ اسلام ہو، ہندو مذہب ہو یا سکھ مت”، اور دعویٰ کیا کہ تمام مذاہب میں شراب اور منشیات کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جے کے: ایل جی سنہا نے نوجوانوں سے اپنی انفرادیت اپنانے اور مکمل صلاحیتوں کو پہچاننے کی اپیل کی
سری نگر، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے آج نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ دوسروں کی نقل کرنے کے بجائے اپنی انفرادیت کو اپنائیں، کیونکہ دنیا کو ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو منفرد شخصیت کے حامل ہوں، اپنی مکمل صلاحیتوں کو پہچانیں اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنیں۔
سری نگر میں قومی یوتھ فیسٹیول ’آروہن 2026‘ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سنہا نے کہا کہ یہ پروگرام “اٹھو، چمکو اور فتح حاصل کرو” کے نئے وژن کی عکاسی کرتا ہے، جس کا مقصد 2047 تک ایک ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر ہے۔
انہوں نے کہاکہ “یہ پروگرام نوجوانوں کے لیے ‘اٹھو، چمکو اور فتح حاصل کرو’ کا نیا وژن پیش کرتا ہے، جو ایک مکمل فلسفے کی نمائندگی کرتا ہے، مستقبل کی راہ روشن کرتا ہے، ایک وعدہ ہے اور 2047 تک ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کا ایک جرات مندانہ چیلنج بھی۔”
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ قومی یوتھ فیسٹیول اس بات کا بھی اعلان ہے کہ اب وقت نوجوانوں کا آ چکا ہے۔ انہوں نے کہاکہ “یوتھ فیسٹیول کے ‘ینگ لیڈرز ڈائیلاگ’ کے ذریعے ہم اس بنیاد اور فریم ورک کو تیار کر رہے ہیں جس پر ہندوستان کی شاندار وراثت کا اگلا باب قائم ہوگا۔”
انہوں نے کہا کہ تاریخ ان لوگوں نے نہیں بنائی جو غیر معمولی بننے کے لیے اجازت کا انتظار کرتے رہے۔ انہوں نے ’وکست جے کے ینگ لیڈرز ڈائیلاگ‘، ’ہیکاتھون‘ اور ’ثقافتی پروگرام‘ میں شریک نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ ایک ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کے لیے خود کو وقف کریں، جس پر آنے والی نسلیں فخر کریں گی۔
انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی آواز کے بغیر حکمرانی کامیاب نہیں ہو سکتی، اور جامع حکمرانی کا مطلب یہ ہے کہ نوجوانوں کو ہر اہم شعبے میں جاری کاموں میں حقیقی شراکت داری دی جائے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہاکہ “ہر نوجوان لڑکے اور لڑکی میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ انہیں صرف مواقع اور خود پر یقین کی ضرورت ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ ہندوستان کے نوجوان اپنی راہیں خود بنائیں، نہ کہ پرانی راہوں پر چلیں، کیونکہ جدت اور اختراع ہمیشہ نئی راہوں سے جنم لیتی ہے۔ ہندوستان کو ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو پہلے سے بنے ہوئے سانچوں کو توڑنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔”
یواین آئی۔ ظا
جموں و کشمیر
سجاد لون کی راجیہ سبھا انتخابات اور سرکاری ملازمتوں کی آؤٹ سورسنگ کو لے کر این سی-پی ڈی پی پر تنقید
سری نگر، جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس کے صدر سجاد لون نے پیر کے روز نیشنل کانفرنس (این سی) اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) دونوں پر ‘فکسڈ میچ’ کھیلنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) راجیہ سبھا کی ایک سیٹ جیتنے میں کامیاب رہی اور وہ بھی تب جب 2024 کے اسمبلی انتخابات میں ان دونوں جماعتوں نے بی جے پی مخالف ہونے کا ڈھونگ رچایا تھا۔
مسٹر لون نے آج ْپریس کانفرنس میں آر ٹی آئی کے ذریعے ہونے والے ان انکشافات کا ذکر کیا، جن میں راجیہ سبھا انتخابات کے دوران پولنگ ایجنٹ کی عدم موجودگی کی بات سامنے آئی تھی۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے ان بیانات پر بھی سوال اٹھائے جن میں انہوں نے پی ڈی پی کے طرزِ عمل کو بی جے پی کی جیت سے جوڑا تھا۔
مسٹر سجاد لون نے کہا کہ ’’ایجنٹ کا کام یہ ہوتا ہے کہ ممبر اسے اپنا ووٹ دکھائے اور پھر اسے بیلٹ باکس میں ڈالے۔ ایک آر ٹی آئی میں انکشاف ہوا ہے کہ انہوں نے کوئی ایجنٹ ہی نہیں رکھا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ تینوں ممبران نے اپنی مرضی سے ووٹ ڈالے، کیونکہ وہاں جانچنے والا کوئی نہیں تھا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا تھا کہ آر ٹی آئی آنے کے بعد ہی انہیں اس معاملے کا علم ہوا۔ اس دعوے پر مسٹر لون نے سوال کیا کہ ’’کیا یہ سچ ہے کہ ایک موجودہ وزیر اعلیٰ کو آر ٹی آئی سے اس بات کا پتہ چلا؟ اسمبلی کے اسپیکر آپ کے ہیں۔ سیکریٹری آپ کی حکومت کے ماتحت ہیں۔ سکیورٹی گارڈز سے لے کر اعلیٰ حکام تک سب آپ کی حکومت نے تعینات کیے ہیں۔ کیا آپ کو آج تک یہ نہیں معلوم تھا کہ کوئی ایجنٹ نہیں رکھا گیا تھا؟‘‘
انہوں نے استدلال کیا کہ اسمبلی کے اعداد و شمار نے ہی اس ‘سیاسی ملی بھگت’ کا پول کھول دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی کی تعداد اور ان کے اپنے ووٹوں کو ہٹا کر بھی باقی ایم ایل ایز کے پاس اتنے اعداد و شمار موجود تھے کہ وہ ووٹوں کی متوازن تقسیم کے ذریعے آسانی سے دونوں سیٹیں جیت سکتے تھے۔
انہوں نے پوچھا کہ ’’یہ آٹھ ووٹ کہاں سے آئے؟ اور ان آٹھ ووٹوں نے انہیں کیسے جتایا؟ کچھ نے اپنا ووٹ مسترد کر دیا اور کچھ نے بی جے پی کو ووٹ دیا۔” انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک فریق نے جان بوجھ کر ایجنٹ مقرر کرنے سے گریز کیا، جبکہ دوسرے فریق نے سہولت کے مطابق خاموشی اختیار کر لی۔
صحافیوں سے اپیل کرتے ہوئے مسٹر لون نے کہا کہ ’’انتخابات کے دوران آپ نے مجھ سے دن میں 20 بار پوچھا تھا کہ کیا میں بی جے پی کی ‘بی ٹیم’ ہوں۔ اب جا کر ان سے پوچھیے کہ بی جے پی کی اصل بی ٹیم کون ہے” انہوں نے یہ بھی کہا کہ انتخابی مہم کے دوران بی جے پی کے خلاف جو غم و غصہ دیکھا گیا تھا، وہ تب غائب تھا جب انہی پارٹیوں نے (ان کے بقول) بی جے پی کو جیت دلانے میں مدد کی۔
جاری۔ یو این آئی۔ م ع
جموں و کشمیر
شاہ کے ساتھ میٹنگ میں ریاستی درجہ کی بحالی، ریزرویشن اور کام کاج کے قوانین سے جڑے مسائل اٹھاؤں گا: عمر عبداللہ
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کے روز کہا کہ وہ نئی دہلی میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے ساتھ اپنی ملاقات میں ریاست کا درجہ بحال کرنے، کام کاج کے قواعد و ضوابط، ریزرویشن سے متعلق معاملات اور دیگر انتظامی مسائل اٹھائیں گے۔
مسٹر عبداللہ نے نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے ایک طرف جہاں ریاست کا درجہ بحال کرنے کا معاملہ ایک بار پھر اٹھانے کی بات کہی، وہیں دوسری طرف ان کے ایجنڈے میں طرزِ حکمرانی سے متعلق کئی دیگر معاملات بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ”اگر ہمیں کسی ایک میٹنگ سے ہی ریاست کا درجہ مل جاتا، تو ہمیں یہ بہت پہلے ہی مل گیا ہوتا۔ یہ عمل ابھی جاری ہے۔ لیکن جب بھی ہم ملتے ہیں، میں ہمیشہ ریاست کے درجے کے بارے میں بات کرتا ہوں۔”
انہوں نے کہا کہ وہ مرکزی وزیر داخلہ سے مرکز کے زیر انتظام ریاست کی انتظامیہ کے کام کاج کے ضوابط، ایڈوکیٹ جنرل کے عہدے سے متعلق امور اور ریزرویشن کے معاملے پر بھی تبادلہ خیال کریں گے، جسے لیفٹیننٹ گورنر نے دہلی بھیجا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں اپنے کام کاج کے قواعد ، ایڈوکیٹ جنرل اور ریزرویشن کے اس مسئلے پر بات کرنا چاہتا ہوں جسے لیفٹیننٹ گورنر نے دہلی بھیجا ہے۔ میں وزیر داخلہ کے ساتھ کئی دوسرے مسائل پر بھی بات کرنا چاہتا ہوں۔”
وزیر اعلیٰ نے جموں و کشمیر میں شراب کی دکانوں کے حوالے سے کہا کہ ان کے بیانات کو سیاسی مخالفین توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ میری غلطی ہے۔ میں آپ سے سڑک کے کنارے بات کرتا ہوں۔ میں وقت کی کمی کی وجہ سے اس طرح جواب دیتا ہوں کہ ہمارے مخالفین اسے توڑ مروڑ کر الگ طریقے سے پیش کر دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں شراب کی دکانیں ان لوگوں کی ضروریات کو پورا کرتی ہیں جن کے مذہب میں شراب پینے کی اجازت ہے۔ جن میں سیاح اور باہر سے آنے والے لوگ بھی شامل ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ماضی میں کسی بھی حکومت نے ایسی دکانوں پر مکمل پابندی نہیں لگائی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ”یہ دکان ہر کسی کے لیے نہیں ہے۔ جموں و کشمیر میں مختلف مذاہب کے لوگ رہتے ہیں۔ جو لوگ جموں و کشمیر کے باہر سے آتے ہیں، یہ دکان ان کے لیے ہے۔” انہوں نے واضح کیا کہ ان کی حکومت نے شراب کی کوئی نئی دکان نہیں کھولی ہے اور یہ یقینی بنانے کی کوشش کی ہے کہ ایسی دکانیں ان علاقوں میں نہ ہوں جہاں نوجوانوں پر برا اثر پڑ سکتا ہو۔
انہوں نے ناقدین پر پلٹ وار کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) حکومت کے اس وقت کے وزیر خزانہ نے بھی پہلے اسمبلی میں اسی طرح کا موقف اختیار کیا تھا۔
واضح رہے کہ مسٹر عبداللہ نے اتوار کے روز گاندربل میں کہا تھا کہ کسی کو بھی شراب پینے کے لیے مجبور نہیں کیا جا رہا ہے اور لوگ اپنی مرضی سے شراب کی دکانوں پر جاتے ہیں۔ اس بیان سے ایک تنازعہ کھڑا ہو گیا تھا۔
یو این آئی۔ م ع
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں ہوٹل کے بیسمنٹ سے مشتبہ حالات میں نوجوان لڑکی کی لاش برآمد
دنیا3 days agoامریکی کانگریس میں پاکستان کے حق میں بڑی قرارداد منظور
ہندوستان6 days agoغیر آئینی طریقوں سے پارٹیوں کو توڑنا جمہوری ڈھانچے پر براہ راست حملہ ہے: بھگونت مان
دنیا1 week agoصدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد خام تیل کی قیمتیں کم ہو گئیں
دنیا3 days agoامریکہ ایران جنگ ختم ہوگئی تب بھی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا امکان جاری رہے گا
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر پولیس نے سری نگر میں منشیات فروش کی غیر قانونی عمارت مسمار کر دی
ہندوستان4 days agoآپریشن سندور نے درست اور فیصلہ کن کارروائی سے ہندستان کی سلامتی پالیسی میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا:سیتا رمن
ہندوستان6 days agoوزیراعظم مودی نے یو اے ای میں ڈرون حملے کی مذمت کی، مغربی ایشیا میں سفارت کاری اور سمندری سلامتی کی حمایت کی
دنیا1 week agoایرانی فوج کی آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو وارننگ
ہندوستان4 days agoراجناتھ سنگھ نے ‘آپریشن سندور’ کو قومی عزم اور تیاری کی مضبوط علامت قرار دیا
دنیا5 days agoآبنائے ہرمز پر منڈلاتا امریکی طیارہ پراسرار طور پر اچانک آسمان سے غائب، کہاں گیا
ہندوستان1 week agoرجحانات میں بنگال اور تامل ناڈو میں بڑا الٹ پھیر، آسام میں این ڈی اے تو کیرالہ میں کانگریس فرنٹ کو اکثریت








































































































