تازہ ترین
آبنائے ہرمز میں مداخلت آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے: ایران کی یورپ کو تنبیہ
تہران، ایران نے یورپی ممالک کو تنبیہ کرتے ہوئے آبنائے ہرمز میں مداخلت سے گریز کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی ممالک امریکی اور اسرائیلی اقدامات کے زیر اثر نہ آئیں۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ یورپی اقدامات ان کے اپنے مفادات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز یا خلیج فارس میں کسی بھی مداخلت سے صورتحال پیچیدہ ہوجائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران پر مسلط کی گئی جنگ غیر اخلاقی اور غیرقانونی ہے، امریکا اور اسرائیل نے ایران کیخلاف جارحیت شروع کی، یورپی ممالک کو تنازع میں شامل ہونے سے گریز کرنا چاہیے۔
اُن کا مزید کہنا تھا کہ یورپی مداخلت سے توانائی کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے، عالمی برادری ذمہ دارانہ رویہ اپنائے اور جنگ کے خاتمے کیلئے کردار ادا کرے۔
یواین آئی ۔م اع
ہندوستان
ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی کوئی کمی نہیں، عوام گھبراہٹ میں خریداری سے گریز کریں: راج ناتھ سنگھ
نئی دہلی وزیر اعظم نریندر مودی کی توانائی کے تحفظ کی اپیل پر اپوزیشن جماعتوں کی تنقید کے درمیان وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے واضح کیا ہے کہ ملک میں کسی بھی پٹرولیم مصنوعات کی کوئی کمی نہیں ہے اور عوام کو گھبراہٹ میں خریداری سے بچنا چاہیے۔
مسٹر سنگھ نے پیر کے روز یہاں مغربی ایشیا کے بحران کے حوالے سے تشکیل دیے گئے وزراء کے غیر رسمی گروپ کی پانچویں میٹنگ کی صدارت کی۔ میٹنگ میں تنازع کی تازہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور ہندوستان کی تیاریوں کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ عوام پر اس کے اثرات کو کم سے کم کرنے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ میٹنگ کے بعد جناب سنگھ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں تمام ضروری اشیاء کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کی کوششوں کی ستائش کی۔ انہوں نے عوام سے پرسکون رہنے کی اپیل کی اور کہا کہ سپلائی چین میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کو روکنے کے لیے تمام ٹھوس اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
وزراء کے گروپ کو بتایا گیا کہ ملک میں ضروری اشیاء وافر مقدار میں دستیاب ہیں اور موجودہ بچت کے اقدامات صرف طویل مدتی صلاحیت سازی کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں تاکہ بحران کے طویل ہونے کی صورت میں اس سے نمٹا جا سکے۔ یہ بھی کہا گیا کہ سپلائی کا انتظام اطمینان بخش ہے اور لوگوں کو ایندھن یا دیگر اشیاء کی ضرورت سے زیادہ خریداری کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
وزیر دفاع نے زور دے کر کہا کہ موجودہ حالات میں ہندوستان کی ترجیح توانائی کی فراہمی کو بلا تعطل برقرار رکھنا، معاشی استحکام کو یقینی بنانا اور سمندری تجارتی راستوں کی حفاظت کرنا ہے۔ انہوں نے تمام متعلقہ فریقوں کو ہر صورتحال سے نمٹنے کے لیے چوکس رہنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ مغربی ایشیا کی صورتحال کو محض ایک الگ واقعے کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے، کیونکہ عالمی سطح پر جڑے ہوئے ماحول میں کسی بھی قسم کا بین الاقوامی بحران براہ راست یا بالواسطہ تمام ممالک کو متاثر کرتا ہے۔
مسٹر سنگھ نے حکام کو ہدایت دی کہ وزیر اعظم کی اپیل کو زمینی سطح پر نافذ کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔ وزیر اعظم نے عوام سے میٹرو اور عوامی ٹرانسپورٹ کے استعمال، کار پولنگ اپنانے، غیر ضروری غیر ملکی دوروں سے بچنے، گھریلو سیاحت کو فروغ دینے اور ایک سال تک غیر ضروری سونے کی خریداری سے گریز کرنے کی اپیل کی تھی، تاکہ پٹرول اور ڈیزل کی کھپت کم ہو اور غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر محفوظ رہیں۔
وزراء کے گروپ کو مطلع کیا گیا کہ جہاں دنیا کے دیگر ممالک نے گھریلو کھپت میں بھاری کٹوتی کے لیے ہنگامی اقدامات کیے ہیں، وہیں ہندوستان میں کسی بھی پٹرولیم مصنوعات کی کوئی کمی نہیں ہے۔ ہندوستان کے پاس 60 دن کا خام تیل، 60 دن کی قدرتی گیس اور 45 دن کا ایل پی جی ذخیرہ دستیاب ہے۔ غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر 703 ارب ڈالر کی اطمینان بخش سطح پر ہیں۔ ہندوستان دنیا کا تیسرا بڑا تیل صاف کرنے والا ملک ہے اور پٹرولیم مصنوعات کا چوتھا بڑا برآمد کنندہ ہے، جو 150 سے زائد ممالک کو برآمدات کر رہا ہے۔ تاہم، بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں مسلسل اونچی سطح پر رہنے کی وجہ سے ملک کو بھاری لاگت برداشت کرنی پڑ رہی ہے، جسے ایندھن کی بچت سے کم کیا جا سکتا ہے۔
گروپ کو بتایا گیا کہ ہندوستان ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں عالمی عدم استحکام کے باوجود تنازع شروع ہونے کے 70 دن بعد بھی پٹرولیم قیمتیں مستحکم ہیں۔ کئی ممالک میں قیمتیں 30 سے 70 فیصد تک بڑھ چکی ہیں۔ ہندوستان کی تیل کمپنیاں روزانہ تقریباً 1000 کروڑ روپے کا نقصان برداشت کر رہی ہیں تاکہ عالمی قیمتوں کا بوجھ ہندوستانی شہریوں پر نہ پڑے۔ لہٰذا، کسی بھی قسم کی تشویش کی ضرورت نہیں ہے اور شہریوں کو پٹرول پمپوں پر بھیڑ لگانے کی حاجت نہیں ہے۔
میٹنگ میں جے پی نڈا، ہردیپ سنگھ پوری، اشونی ویشنو، کرن ریجیجو، کے آر موہن نائیڈو، سربانند سونووال اور ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے شرکت کی۔
یواین آئی۔ایف اے
ہندوستان
جموں و کشمیر میں چونے کے پتھر کے بلاکس کی نیلامی کل سے شروع ہوگی
نئی دہلی وزارت کان کنی جموں و کشمیر میں صنعتی ترقی کو رفتار دینے کے مقصد سے چونے کے پتھر (لائم اسٹون) کے بلاکس کی نیلامی کا دوسرا مرحلہ 12 مئی سے سری نگر میں شروع کرے گی۔
وزارت کان کنی نے پیر کے روز بتایا کہ دوسرے مرحلے میں وزارت، حکومت جموں و کشمیر کے تعاون سے چونے کے پتھر کے 12 بلاکس کی نیلامی کرے گی۔ یہ بلاکس اننت ناگ، راجوری اور پونچھ اضلاع میں واقع ہیں۔ ان میں نئے نشان زد بلاکس کے ساتھ ساتھ دوبارہ نیلام کیے جانے والے بلاکس بھی شامل ہیں، تاکہ وسائل کے زیادہ سے زیادہ استعمال اور صنعت کاروں کی مسلسل شرکت کو یقینی بنایا جا سکے۔ یہ اقدام جموں و کشمیر کی معدنی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے اور وکست ہندوستان اور خود کفیل ہندوستان کے وژن کو مضبوط کرنے کی سمت میں ایک اہم قدم ہوگا۔
وزارت کے مطابق ان بلاکس کو یو این ایف سی جی 3 اور جی 4 کیٹیگریز میں رکھا گیا ہے، جو صنعتی درجے کے چونے کے پتھر کے وافر ذخائر اور مضبوط ارضیاتی صلاحیت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ چونے کا پتھر سیمنٹ، تعمیرات اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں کے لیے ایک اہم معدنیات ہے، جس سے خطے میں صنعتی سرگرمیوں اور معاشی ترقی کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔
نیلامی کا یہ عمل مائنز اینڈ منرلز (ڈیولپمنٹ اینڈ ریگولیشن) ایکٹ 1957 اور منرل (آکشن) رولز 2015 کے تحت منعقد کیا جا رہا ہے۔ پورا عمل ڈیجیٹل ای-نیلامی پلیٹ فارم کے ذریعے شفاف اور مسابقتی طریقے سے چلایا جائے گا۔ وزارت کان کنی نے کہا کہ وہ سائنسی اور پائیدار کان کنی کے نظام کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔ ان بلاکس کی کامیاب نیلامی سے محصولات میں اضافہ، روزگار کی فراہمی، صنعتی سرمایہ کاری اور جموں و کشمیر کی ہمہ جہت ترقی کو تقویت ملنے کا امکان ہے۔
یواین آئی ۔ایف اے
جموں و کشمیر
سجاد لون کی راجیہ سبھا انتخابات اور سرکاری ملازمتوں کی آؤٹ سورسنگ کو لے کر این سی-پی ڈی پی پر تنقید
سری نگر، جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس کے صدر سجاد لون نے پیر کے روز نیشنل کانفرنس (این سی) اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) دونوں پر ‘فکسڈ میچ’ کھیلنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) راجیہ سبھا کی ایک سیٹ جیتنے میں کامیاب رہی اور وہ بھی تب جب 2024 کے اسمبلی انتخابات میں ان دونوں جماعتوں نے بی جے پی مخالف ہونے کا ڈھونگ رچایا تھا۔
مسٹر لون نے آج ْپریس کانفرنس میں آر ٹی آئی کے ذریعے ہونے والے ان انکشافات کا ذکر کیا، جن میں راجیہ سبھا انتخابات کے دوران پولنگ ایجنٹ کی عدم موجودگی کی بات سامنے آئی تھی۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے ان بیانات پر بھی سوال اٹھائے جن میں انہوں نے پی ڈی پی کے طرزِ عمل کو بی جے پی کی جیت سے جوڑا تھا۔
مسٹر سجاد لون نے کہا کہ ’’ایجنٹ کا کام یہ ہوتا ہے کہ ممبر اسے اپنا ووٹ دکھائے اور پھر اسے بیلٹ باکس میں ڈالے۔ ایک آر ٹی آئی میں انکشاف ہوا ہے کہ انہوں نے کوئی ایجنٹ ہی نہیں رکھا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ تینوں ممبران نے اپنی مرضی سے ووٹ ڈالے، کیونکہ وہاں جانچنے والا کوئی نہیں تھا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا تھا کہ آر ٹی آئی آنے کے بعد ہی انہیں اس معاملے کا علم ہوا۔ اس دعوے پر مسٹر لون نے سوال کیا کہ ’’کیا یہ سچ ہے کہ ایک موجودہ وزیر اعلیٰ کو آر ٹی آئی سے اس بات کا پتہ چلا؟ اسمبلی کے اسپیکر آپ کے ہیں۔ سیکریٹری آپ کی حکومت کے ماتحت ہیں۔ سکیورٹی گارڈز سے لے کر اعلیٰ حکام تک سب آپ کی حکومت نے تعینات کیے ہیں۔ کیا آپ کو آج تک یہ نہیں معلوم تھا کہ کوئی ایجنٹ نہیں رکھا گیا تھا؟‘‘
انہوں نے استدلال کیا کہ اسمبلی کے اعداد و شمار نے ہی اس ‘سیاسی ملی بھگت’ کا پول کھول دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی کی تعداد اور ان کے اپنے ووٹوں کو ہٹا کر بھی باقی ایم ایل ایز کے پاس اتنے اعداد و شمار موجود تھے کہ وہ ووٹوں کی متوازن تقسیم کے ذریعے آسانی سے دونوں سیٹیں جیت سکتے تھے۔
انہوں نے پوچھا کہ ’’یہ آٹھ ووٹ کہاں سے آئے؟ اور ان آٹھ ووٹوں نے انہیں کیسے جتایا؟ کچھ نے اپنا ووٹ مسترد کر دیا اور کچھ نے بی جے پی کو ووٹ دیا۔” انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک فریق نے جان بوجھ کر ایجنٹ مقرر کرنے سے گریز کیا، جبکہ دوسرے فریق نے سہولت کے مطابق خاموشی اختیار کر لی۔
صحافیوں سے اپیل کرتے ہوئے مسٹر لون نے کہا کہ ’’انتخابات کے دوران آپ نے مجھ سے دن میں 20 بار پوچھا تھا کہ کیا میں بی جے پی کی ‘بی ٹیم’ ہوں۔ اب جا کر ان سے پوچھیے کہ بی جے پی کی اصل بی ٹیم کون ہے” انہوں نے یہ بھی کہا کہ انتخابی مہم کے دوران بی جے پی کے خلاف جو غم و غصہ دیکھا گیا تھا، وہ تب غائب تھا جب انہی پارٹیوں نے (ان کے بقول) بی جے پی کو جیت دلانے میں مدد کی۔
جاری۔ یو این آئی۔ م ع
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں ہوٹل کے بیسمنٹ سے مشتبہ حالات میں نوجوان لڑکی کی لاش برآمد
دنیا3 days agoامریکی کانگریس میں پاکستان کے حق میں بڑی قرارداد منظور
ہندوستان6 days agoغیر آئینی طریقوں سے پارٹیوں کو توڑنا جمہوری ڈھانچے پر براہ راست حملہ ہے: بھگونت مان
دنیا1 week agoصدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد خام تیل کی قیمتیں کم ہو گئیں
دنیا3 days agoامریکہ ایران جنگ ختم ہوگئی تب بھی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا امکان جاری رہے گا
ہندوستان6 days agoوزیراعظم مودی نے یو اے ای میں ڈرون حملے کی مذمت کی، مغربی ایشیا میں سفارت کاری اور سمندری سلامتی کی حمایت کی
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر پولیس نے سری نگر میں منشیات فروش کی غیر قانونی عمارت مسمار کر دی
ہندوستان4 days agoآپریشن سندور نے درست اور فیصلہ کن کارروائی سے ہندستان کی سلامتی پالیسی میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا:سیتا رمن
دنیا1 week agoایرانی فوج کی آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو وارننگ
دنیا5 days agoآبنائے ہرمز پر منڈلاتا امریکی طیارہ پراسرار طور پر اچانک آسمان سے غائب، کہاں گیا
ہندوستان4 days agoراجناتھ سنگھ نے ‘آپریشن سندور’ کو قومی عزم اور تیاری کی مضبوط علامت قرار دیا
ہندوستان6 days agoہندوستان نے فجیرہ حملے کی سخت مذمت کی، مسائل کے حل کے لیے سفارت کاری پر زور دیا







































































































