جموں و کشمیر
سجاد لون کی راجیہ سبھا انتخابات اور سرکاری ملازمتوں کی آؤٹ سورسنگ کو لے کر این سی-پی ڈی پی پر تنقید
سری نگر، جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس کے صدر سجاد لون نے پیر کے روز نیشنل کانفرنس (این سی) اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) دونوں پر ‘فکسڈ میچ’ کھیلنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) راجیہ سبھا کی ایک سیٹ جیتنے میں کامیاب رہی اور وہ بھی تب جب 2024 کے اسمبلی انتخابات میں ان دونوں جماعتوں نے بی جے پی مخالف ہونے کا ڈھونگ رچایا تھا۔
مسٹر لون نے آج ْپریس کانفرنس میں آر ٹی آئی کے ذریعے ہونے والے ان انکشافات کا ذکر کیا، جن میں راجیہ سبھا انتخابات کے دوران پولنگ ایجنٹ کی عدم موجودگی کی بات سامنے آئی تھی۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے ان بیانات پر بھی سوال اٹھائے جن میں انہوں نے پی ڈی پی کے طرزِ عمل کو بی جے پی کی جیت سے جوڑا تھا۔
مسٹر سجاد لون نے کہا کہ ’’ایجنٹ کا کام یہ ہوتا ہے کہ ممبر اسے اپنا ووٹ دکھائے اور پھر اسے بیلٹ باکس میں ڈالے۔ ایک آر ٹی آئی میں انکشاف ہوا ہے کہ انہوں نے کوئی ایجنٹ ہی نہیں رکھا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ تینوں ممبران نے اپنی مرضی سے ووٹ ڈالے، کیونکہ وہاں جانچنے والا کوئی نہیں تھا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا تھا کہ آر ٹی آئی آنے کے بعد ہی انہیں اس معاملے کا علم ہوا۔ اس دعوے پر مسٹر لون نے سوال کیا کہ ’’کیا یہ سچ ہے کہ ایک موجودہ وزیر اعلیٰ کو آر ٹی آئی سے اس بات کا پتہ چلا؟ اسمبلی کے اسپیکر آپ کے ہیں۔ سیکریٹری آپ کی حکومت کے ماتحت ہیں۔ سکیورٹی گارڈز سے لے کر اعلیٰ حکام تک سب آپ کی حکومت نے تعینات کیے ہیں۔ کیا آپ کو آج تک یہ نہیں معلوم تھا کہ کوئی ایجنٹ نہیں رکھا گیا تھا؟‘‘
انہوں نے استدلال کیا کہ اسمبلی کے اعداد و شمار نے ہی اس ‘سیاسی ملی بھگت’ کا پول کھول دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی کی تعداد اور ان کے اپنے ووٹوں کو ہٹا کر بھی باقی ایم ایل ایز کے پاس اتنے اعداد و شمار موجود تھے کہ وہ ووٹوں کی متوازن تقسیم کے ذریعے آسانی سے دونوں سیٹیں جیت سکتے تھے۔
انہوں نے پوچھا کہ ’’یہ آٹھ ووٹ کہاں سے آئے؟ اور ان آٹھ ووٹوں نے انہیں کیسے جتایا؟ کچھ نے اپنا ووٹ مسترد کر دیا اور کچھ نے بی جے پی کو ووٹ دیا۔” انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک فریق نے جان بوجھ کر ایجنٹ مقرر کرنے سے گریز کیا، جبکہ دوسرے فریق نے سہولت کے مطابق خاموشی اختیار کر لی۔
صحافیوں سے اپیل کرتے ہوئے مسٹر لون نے کہا کہ ’’انتخابات کے دوران آپ نے مجھ سے دن میں 20 بار پوچھا تھا کہ کیا میں بی جے پی کی ‘بی ٹیم’ ہوں۔ اب جا کر ان سے پوچھیے کہ بی جے پی کی اصل بی ٹیم کون ہے” انہوں نے یہ بھی کہا کہ انتخابی مہم کے دوران بی جے پی کے خلاف جو غم و غصہ دیکھا گیا تھا، وہ تب غائب تھا جب انہی پارٹیوں نے (ان کے بقول) بی جے پی کو جیت دلانے میں مدد کی۔
جاری۔ یو این آئی۔ م ع
جموں و کشمیر
شاہ کے ساتھ میٹنگ میں ریاستی درجہ کی بحالی، ریزرویشن اور کام کاج کے قوانین سے جڑے مسائل اٹھاؤں گا: عمر عبداللہ
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کے روز کہا کہ وہ نئی دہلی میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے ساتھ اپنی ملاقات میں ریاست کا درجہ بحال کرنے، کام کاج کے قواعد و ضوابط، ریزرویشن سے متعلق معاملات اور دیگر انتظامی مسائل اٹھائیں گے۔
مسٹر عبداللہ نے نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے ایک طرف جہاں ریاست کا درجہ بحال کرنے کا معاملہ ایک بار پھر اٹھانے کی بات کہی، وہیں دوسری طرف ان کے ایجنڈے میں طرزِ حکمرانی سے متعلق کئی دیگر معاملات بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ”اگر ہمیں کسی ایک میٹنگ سے ہی ریاست کا درجہ مل جاتا، تو ہمیں یہ بہت پہلے ہی مل گیا ہوتا۔ یہ عمل ابھی جاری ہے۔ لیکن جب بھی ہم ملتے ہیں، میں ہمیشہ ریاست کے درجے کے بارے میں بات کرتا ہوں۔”
انہوں نے کہا کہ وہ مرکزی وزیر داخلہ سے مرکز کے زیر انتظام ریاست کی انتظامیہ کے کام کاج کے ضوابط، ایڈوکیٹ جنرل کے عہدے سے متعلق امور اور ریزرویشن کے معاملے پر بھی تبادلہ خیال کریں گے، جسے لیفٹیننٹ گورنر نے دہلی بھیجا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں اپنے کام کاج کے قواعد ، ایڈوکیٹ جنرل اور ریزرویشن کے اس مسئلے پر بات کرنا چاہتا ہوں جسے لیفٹیننٹ گورنر نے دہلی بھیجا ہے۔ میں وزیر داخلہ کے ساتھ کئی دوسرے مسائل پر بھی بات کرنا چاہتا ہوں۔”
وزیر اعلیٰ نے جموں و کشمیر میں شراب کی دکانوں کے حوالے سے کہا کہ ان کے بیانات کو سیاسی مخالفین توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ میری غلطی ہے۔ میں آپ سے سڑک کے کنارے بات کرتا ہوں۔ میں وقت کی کمی کی وجہ سے اس طرح جواب دیتا ہوں کہ ہمارے مخالفین اسے توڑ مروڑ کر الگ طریقے سے پیش کر دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں شراب کی دکانیں ان لوگوں کی ضروریات کو پورا کرتی ہیں جن کے مذہب میں شراب پینے کی اجازت ہے۔ جن میں سیاح اور باہر سے آنے والے لوگ بھی شامل ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ماضی میں کسی بھی حکومت نے ایسی دکانوں پر مکمل پابندی نہیں لگائی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ”یہ دکان ہر کسی کے لیے نہیں ہے۔ جموں و کشمیر میں مختلف مذاہب کے لوگ رہتے ہیں۔ جو لوگ جموں و کشمیر کے باہر سے آتے ہیں، یہ دکان ان کے لیے ہے۔” انہوں نے واضح کیا کہ ان کی حکومت نے شراب کی کوئی نئی دکان نہیں کھولی ہے اور یہ یقینی بنانے کی کوشش کی ہے کہ ایسی دکانیں ان علاقوں میں نہ ہوں جہاں نوجوانوں پر برا اثر پڑ سکتا ہو۔
انہوں نے ناقدین پر پلٹ وار کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) حکومت کے اس وقت کے وزیر خزانہ نے بھی پہلے اسمبلی میں اسی طرح کا موقف اختیار کیا تھا۔
واضح رہے کہ مسٹر عبداللہ نے اتوار کے روز گاندربل میں کہا تھا کہ کسی کو بھی شراب پینے کے لیے مجبور نہیں کیا جا رہا ہے اور لوگ اپنی مرضی سے شراب کی دکانوں پر جاتے ہیں۔ اس بیان سے ایک تنازعہ کھڑا ہو گیا تھا۔
یو این آئی۔ م ع
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کے کٹھوعہ میں منشیات اسمگلروں کے مکانات مسمار
جموں، جموں و کشمیر کے ضلع کٹھوعہ میں پولیس اور انتظامیہ نے ‘منشیات سے پاک مہم’ (نشہ مکت ابھیان) کے تحت ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے راج باغ کے کورے پنّو علاقے میں منشیات کے بڑے اسمگلروں کے تین مکانات کو مسمار کر دیا ہے۔
پولیس نے آج بتایا کہ مسمار کیے گئے ڈھانچے سرکاری زمین پر غیر قانونی طور پر تعمیر کیے گئے تھے۔ یہ کارروائی کٹھوعہ ضلع کی مڑھین تحصیل کے رہائشی شریف محمد کے بیٹوں، لیاقت علی، گگّو دین اور شام دین کی املاک کے خلاف کی گئی۔
پولیس کے مطابق، منشیات کی اسمگلنگ اور دیگر مجرمانہ سرگرمیوں سے متعلق 16 ایف آئی آر میں ان ملزمان کے نام شامل ہیں۔ پولیس نے یہ بھی بتایا کہ مسمار کی گئی املاک کی تخمینی مالیت ایک کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔
پولیس نے کہا کہ یہ مہم منشیات کے خاتمے اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سخت کارروائی کے عزم کا حصہ ہے۔
یو این آئی۔ م ع
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ نے ایل جی کو ٹیلی کام اختیارات دینے کی حمایت کی، کانگریس برہم
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کے روز مرکز کے زیر انتظام ریاست کے ٹیلی کام سیکٹر میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے اختیارات بڑھانے کے مرکزی حکومت کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ لیفٹیننٹ گورنر کو اس طرح کے اختیارات دینے میں کچھ بھی غلط نہیں ہے۔ دوسری طرف جموں و کشمیر کانگریس کے صدر طارق حمید نے اس قدم کو جمہوری طرزِ حکمرانی میں ‘ایک اور نقب زنی’ قرار دیا ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ کانگریس نے حکمراں نیشنل کانفرنس کے ساتھ مل کر 2024 کا جموں و کشمیر اسمبلی انتخاب اتحاد میں لڑا تھا اور وہ ریاست میں حکمراں اتحاد کا حصہ ہیں۔ مرکز نے ایک بڑے انتظامی اقدام کے تحت حال ہی میں جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر کو ‘ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ 2023’ کے تحت ریاستی حکومت کے اختیارات استعمال کرنے کے لیے مجاز قرار دیا ہے، جس سے ٹیلی کام انتظامیہ اور ریگولیٹری معاملات میں مرکز کے زیر انتظام انتظامیہ کے کردار میں توسیع ہوئی ہے۔
مسٹر عمر عبداللہ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لیفٹیننٹ گورنر کو ٹیلی کام کے اختیارات دینے میں کچھ بھی غلط نہیں ہے کیونکہ فون ٹیپنگ، موبائل خدمات کی معطلی اور انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن سے متعلق فیصلے محکمہ داخلہ سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ان کے پاس ٹیلی کام کے اختیارات ہونے چاہئیں۔ یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو ری آرگنائزیشن ایکٹ یا کاروباری قواعد کے خلاف ہو۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ مواصلات میں رکاوٹ یا انٹرنیٹ خدمات کی معطلی جیسے اقدامات صرف امن و امان کی سنگین صورتحال میں کیے جاتے ہیں اور محکمہ داخلہ کے ذریعے جاری کیے جاتے ہیں، جو لیفٹیننٹ گورنر کے ماتحت کام کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ٹیلی فون ٹیپ کرنا، موبائل سروس بند کرنا یا انٹرنیٹ بند کرنا یہ احکامات محکمہ داخلہ سے آتے ہیں۔ داخلہ، امن و امان اور سکیورٹی لیفٹیننٹ گورنر کی ذمہ داری ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگر منتخب حکومت سکیورٹی کے معاملات پر کنٹرول کے بغیر ایسے فیصلوں میں شامل ہوگی تو اس سے انتظامی پیچیدگیاں پیدا ہوں گی۔ مسٹر عبداللہ نے کہ کہ ’’اگر صورتحال بگڑتی ہے اور موبائل انٹرنیٹ بند کرنا پڑتا ہے تو لیفٹیننٹ گورنر کی طرف سے حکم جاری کیا جائے گا۔ جب تک سکیورٹی اور امن و امان کی ذمہ داری لیفٹیننٹ گورنر کے پاس ہے، تب تک ان کے پاس یہ طاقت ہونی چاہیے۔‘‘
ایک دن پہلے، جموں و کشمیر کانگریس کے سربراہ اور ایم ایل اے طارق نے کہا تھا کہ ’’جموں و کشمیر کی غیر منتخب طاقت کو انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن، مواصلاتی نیٹ ورک کی نگرانی اور ڈکرپشن اتھارٹی سمیت وسیع ٹیلی کام اختیارات سونپنے کا فیصلہ جموں و کشمیر میں منتخب حکومت کے جمہوری حکمرانی کے نظام میں ایک اور نقب ہے۔”
مسٹر طارق نے کہا کہ برسوں سے جموں و کشمیر میں اعتماد کی بحالی، جمہوری بااختیاری اور اداروں کو مضبوط کرنے کے وعدے کیے گئے، لیکن اس طرح کے اقدامات صرف اس احساس کو تقویت دیتے ہیں کہ منتخب نظام کے باوجود اصل اتھارٹی کہیں اور مرکوز ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ “قومی سلامتی اور عوامی تحفظ اہم ہیں، لیکن ایک ایسے خطے میں جہاں پہلے ہی بار بار مواصلاتی پابندیاں عائد ہوتی رہی ہوں، وہاں جمہوری جوابدہی کے بغیر ایسے غیر معمولی اختیارات سنگین پالیسی خدشات پیدا کرتے ہیں۔ جب تک حکمرانی انتظامی طور پر مرکزی رہے گی، تب تک جمہوریت کو سیاسی طور پر بحال نہیں کیا جا سکتا۔”
یو این آئی۔ م ع
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں ہوٹل کے بیسمنٹ سے مشتبہ حالات میں نوجوان لڑکی کی لاش برآمد
دنیا3 days agoامریکی کانگریس میں پاکستان کے حق میں بڑی قرارداد منظور
ہندوستان6 days agoغیر آئینی طریقوں سے پارٹیوں کو توڑنا جمہوری ڈھانچے پر براہ راست حملہ ہے: بھگونت مان
دنیا1 week agoصدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد خام تیل کی قیمتیں کم ہو گئیں
دنیا3 days agoامریکہ ایران جنگ ختم ہوگئی تب بھی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا امکان جاری رہے گا
ہندوستان4 days agoآپریشن سندور نے درست اور فیصلہ کن کارروائی سے ہندستان کی سلامتی پالیسی میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا:سیتا رمن
ہندوستان6 days agoوزیراعظم مودی نے یو اے ای میں ڈرون حملے کی مذمت کی، مغربی ایشیا میں سفارت کاری اور سمندری سلامتی کی حمایت کی
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر پولیس نے سری نگر میں منشیات فروش کی غیر قانونی عمارت مسمار کر دی
دنیا1 week agoایرانی فوج کی آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو وارننگ
دنیا5 days agoآبنائے ہرمز پر منڈلاتا امریکی طیارہ پراسرار طور پر اچانک آسمان سے غائب، کہاں گیا
ہندوستان4 days agoراجناتھ سنگھ نے ‘آپریشن سندور’ کو قومی عزم اور تیاری کی مضبوط علامت قرار دیا
ہندوستان6 days agoہندوستان نے فجیرہ حملے کی سخت مذمت کی، مسائل کے حل کے لیے سفارت کاری پر زور دیا








































































































