دنیا
ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی تجاویز مسترد، ایرانی حکومت کا سخت ردعمل سامنے آگیا
ٹرمپ،ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی جواب مسترد کیے جانے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی منصوبہ دراصل ’ٹرمپ کی لالچ کے سامنے ایران کی ہتھیار ڈالنے‘ کے مترادف تھا۔
الجزیرہ کے مطابق ایرانی سرکاری میڈیا نے اپنے ٹیلیگرام بیان میں کہا کہ تہران کی جانب سے دیے گئے جواب میں ایرانی قوم کے بنیادی حقوق پر زور دیا گیا ہے اور ایران کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرے گا جو اس کی خودمختاری یا قومی مفادات کے خلاف ہو۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران کی تازہ تجاویز میں امریکا سے جنگی نقصانات کے ازالے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے مؤقف کو بھی دہرایا اور کہا کہ خطے میں سلامتی اور بحری گزرگاہوں کے معاملات پر ایران کا مؤقف واضح اور غیر متزلزل ہے۔
ایرانی جواب میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ امریکا ایران پر عائد تمام پابندیاں ختم کرے اور بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثے فوری طور پر بحال کیے جائیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی ایرانی تجاویز کو ’ناقابل قبول‘ قرار دے چکے ہیں، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز، پابندیوں کے خاتمے اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات اب بھی کسی بڑے معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
تازہ ترین
آبنائے ہرمز میں مداخلت آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے: ایران کی یورپ کو تنبیہ
تہران، ایران نے یورپی ممالک کو تنبیہ کرتے ہوئے آبنائے ہرمز میں مداخلت سے گریز کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی ممالک امریکی اور اسرائیلی اقدامات کے زیر اثر نہ آئیں۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ یورپی اقدامات ان کے اپنے مفادات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز یا خلیج فارس میں کسی بھی مداخلت سے صورتحال پیچیدہ ہوجائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران پر مسلط کی گئی جنگ غیر اخلاقی اور غیرقانونی ہے، امریکا اور اسرائیل نے ایران کیخلاف جارحیت شروع کی، یورپی ممالک کو تنازع میں شامل ہونے سے گریز کرنا چاہیے۔
اُن کا مزید کہنا تھا کہ یورپی مداخلت سے توانائی کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے، عالمی برادری ذمہ دارانہ رویہ اپنائے اور جنگ کے خاتمے کیلئے کردار ادا کرے۔
یواین آئی ۔م اع
دنیا
ایران کے ساتھ جنگ اُس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک جوہری مسائل حل نہیں ہو جاتے: نیتن یاہو
تل ابیب، اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے ایک بار پھر کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ اُس وقت تک “ختم نہیں ہوگی” جب تک اہم اسٹریٹجک مسائل کا حل نہیں نکل آتا، جن میں ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کو ہٹانا، جوہری مراکز کو تباہ کرنا اور ایران کے علاقائی اثر و رسوخ کو محدود کرنا شامل ہے۔
سی بی ایس نیوز کے پروگرام ’60 منٹس‘ کو دیے گئے انٹرویو میں مسٹر نیتن یاہو نے کہاکہ “یہ ابھی ختم نہیں ہوا، کیونکہ وہاں اب بھی جوہری مواد اور افزودہ یورینیم موجود ہے۔ اسے ایران سے باہر نکالنا ہوگا۔ وہاں اب بھی افزودگی کے مراکز موجود ہیں، جنہیں تباہ کرنا باقی ہے۔”
انہوں نے کہا کہ ایران اب بھی علاقائی پراکسی گروپوں کی حمایت کر رہا ہے اور اپنی بیلسٹک میزائل صلاحیتوں میں اضافہ کر رہا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد ہونے والی پیش رفت کو تسلیم کرتے ہوئے مسٹر نیتن یاہو نے زور دیا کہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے اب بھی بڑے چیلنجز موجود ہیں۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ کسی بھی عملی معاہدے کے تحت افزودہ یورینیم کو وہاں سے ہٹانا ضروری ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ “اگر آپ کے پاس کوئی معاہدہ ہے اور آپ اندر جا کر اسے باہر نکال لیتے ہیں تو کیوں نہیں؟ یہی بہترین طریقہ ہے۔”
مسٹر نیتن یاہو اس بات سے متفق ہیں کہ معاہدہ ہونا چاہیے، لیکن جوہری مسئلہ قابلِ سمجھوتہ نہیں ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکہ کا مؤقف ہے کہ کسی بھی جامع امن معاہدے کے تحت ایران کو یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر روکنی ہوگی۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے حال ہی میں امن تجویز پر ایران کے تازہ ردعمل کو “مکمل طور پر ناقابلِ قبول” قرار دیا تھا۔
دوسری جانب ایران نے افزودگی مکمل طور پر روکنے کے مطالبات کو مسترد کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایرانی حکام نے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر کو کم کرنے اور کچھ مواد کو بین الاقوامی نگرانی میں کسی تیسرے ملک منتقل کرنے کی تجویز دی ہے۔
مسٹر نیتن یاہو نے ایک ممکنہ حکمت عملی کا خاکہ بھی پیش کیا، جس کے مطابق اگر سفارت کاری ناکام ہو جاتی ہے تو افزودہ یورینیم کو جسمانی طور پر ہٹایا جا سکتا ہے، تاہم انہوں نے “فوجی آپشنز” کی تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے محدود مدت کے لیے افزودگی معطل کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے، اگرچہ یہ مدت امریکہ کی تجویز کردہ 20 سالہ پابندی سے کم ہوگی۔ ساتھ ہی ایران نے اپنے جوہری انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے کی بات مسترد کر دی ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
دنیا
ایم وی ہونڈیئس پر سوار امریکی شہریوں میں سے ایک کا ہنٹا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔
واشنگٹن، ایم وی ہونڈیئس کروز جہاز سے وطن واپس آنے والے 17 امریکی شہریوں میں سے کم از کم ایک شخص ہنٹا وائرس سے متاثر پایا گیا ہے۔
امریکی محکمۂ صحت نے پیر کے روز یہ معلومات فراہم کیں۔ امریکہ کے 17 شہریوں اور امریکہ میں مقیم ایک برطانوی شہری کو ہنٹا وائرس انفیکشن کے خدشے کے پیش نظر پیر کی علی الصبح خصوصی نگرانی اور طبی معائنے کے لیے ریاست نیبراسکا منتقل کیا گیا۔ یہ تمام افراد ایم وی ہونڈیئس کروز جہاز پر سوار تھے، جہاں اینڈیز ویریئنٹ ہنٹا وائرس کے پھیلاؤ کی تصدیق ہوئی ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق یہ وائرس عموماً چوہوں جیسے کترنے والے جانوروں سے پھیلتا ہے، تاہم امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جہاز پر یہ انسان سے انسان میں بھی منتقل ہوا ہو۔ اب تک اس جہاز سے وابستہ تین افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ کئی دیگر بیمار ہیں۔
خصوصی طیارہ مقامی وقت کے مطابق پیر کی صبح 2:30 بجے اوماہا کے ایپلی ایئر فیلڈ پہنچا۔ اس میں 17 امریکی شہری اور ایک برطانوی شہری سوار تھا جو امریکہ میں ہی رہائش پذیر ہے۔
امریکی محکمۂ صحت و انسانی خدمات (ایچ ایچ ایس) نے اتوار کی رات بتایا کہ مسافروں میں سے ایک شخص کے ٹیسٹ میں وائرس کے لیے “کمزور مثبت” نتیجہ آیا ہے، جبکہ دوسرے مسافر میں ہلکی علامات پائی گئی ہیں۔ احتیاطی تدابیر کے طور پر دونوں کو طیارے میں خصوصی بایو کنٹینمنٹ یونٹ میں رکھا گیا۔
ایچ ایچ ایس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ محکمہ بیماریوں پر قابو پانے اور روک تھام کے مرکز (سی ڈی سی) اور دیگر اداروں کے ساتھ مل کر متاثرہ امریکی شہریوں کی وطن واپسی میں تعاون کر رہا ہے۔
بیان کے مطابق مسافروں کو پہلے اوماہا میں واقع یونیورسٹی آف نیبراسکا میڈیکل سینٹر کے “ایمرجنگ اسپیشل پیتھوجن ٹریٹمنٹ سینٹر” منتقل کیا جائے گا۔ اس کے بعد ہلکی علامات والے مسافر کو اس کے آخری مقام پر موجود دوسرے خصوصی علاج مرکز بھیجا جائے گا۔
نیبراسکا میڈیکل سینٹر نے بتایا کہ جس مسافر کی رپورٹ مثبت آئی ہے، اس میں فی الحال کوئی علامات موجود نہیں، تاہم اسے براہِ راست بایو کنٹینمنٹ یونٹ میں رکھا جائے گا۔ دیگر مسافروں کو قومی قرنطینہ یونٹ میں نگرانی اور ٹیسٹنگ کے لیے رکھا جائے گا۔
اسپین کے وزارتِ صحت کے مطابق یورپی مرکز برائے امراض کی روک تھام و کنٹرول کے ایک اہلکار نے جہاز پر جا کر مسافروں کا معائنہ کیا تھا۔ وزارت نے کہا کہ ایک ٹیسٹ میں نتیجہ “کمزور مثبت” سمجھا گیا، اگرچہ ہسپانوی حکام کے مطابق وہ فیصلہ کن نہیں تھا۔ دوسرے ٹیسٹ میں رپورٹ منفی آئی۔
ہسپانوی حکام نے کہا کہ متعلقہ مسافر میں کیپ وردے میں قیام کے دوران کوئی علامات ظاہر نہیں ہوئیں، لیکن امریکی حکام نے احتیاطاً اسے مثبت تصور کرتے ہوئے خصوصی نگرانی میں رکھنے کا فیصلہ کیا۔
دوسرے مسافر کو 6 مئی کو ہلکی کھانسی ہوئی تھی، جو اسی دن ختم ہو گئی تھی۔ سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق سی ڈی سی کے حکام ٹینیرائف سے مسافروں کے اترنے کے بعد سے مسلسل ان کی نگرانی کر رہے ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں ہوٹل کے بیسمنٹ سے مشتبہ حالات میں نوجوان لڑکی کی لاش برآمد
دنیا3 days agoامریکی کانگریس میں پاکستان کے حق میں بڑی قرارداد منظور
ہندوستان6 days agoغیر آئینی طریقوں سے پارٹیوں کو توڑنا جمہوری ڈھانچے پر براہ راست حملہ ہے: بھگونت مان
دنیا1 week agoصدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد خام تیل کی قیمتیں کم ہو گئیں
دنیا3 days agoامریکہ ایران جنگ ختم ہوگئی تب بھی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا امکان جاری رہے گا
ہندوستان6 days agoوزیراعظم مودی نے یو اے ای میں ڈرون حملے کی مذمت کی، مغربی ایشیا میں سفارت کاری اور سمندری سلامتی کی حمایت کی
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر پولیس نے سری نگر میں منشیات فروش کی غیر قانونی عمارت مسمار کر دی
ہندوستان4 days agoآپریشن سندور نے درست اور فیصلہ کن کارروائی سے ہندستان کی سلامتی پالیسی میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا:سیتا رمن
دنیا1 week agoایرانی فوج کی آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو وارننگ
ہندوستان4 days agoراجناتھ سنگھ نے ‘آپریشن سندور’ کو قومی عزم اور تیاری کی مضبوط علامت قرار دیا
دنیا5 days agoآبنائے ہرمز پر منڈلاتا امریکی طیارہ پراسرار طور پر اچانک آسمان سے غائب، کہاں گیا
ہندوستان6 days agoہندوستان نے فجیرہ حملے کی سخت مذمت کی، مسائل کے حل کے لیے سفارت کاری پر زور دیا







































































































