جموں و کشمیر
کریری میں بابل کینال: غفلت اور بے حسی کا شکار
بارہمولہ کے کریری علاقے میں کبھی لائف لائن سمجھی جانے والی بابل کینال، جو اپنی تاریخی، زرعی اور ماحولیاتی اہمیت رکھتی ہے، آج انتظامی غفلت، ماحولیاتی آلودگی اور اجتماعی بے حسی کی ایک افسوسناک مثال بن چکی ہے۔
کئی نسلوں تک یہ نہر پینے کے پانی اور آبپاشی کے ایک اہم ذریعہ کے طور پر استعمال ہوتی رہی۔ اس کا پانی نہ صرف کھیتوں کو سیراب کرتا تھا بلکہ مقامی معیشت، ذریعہ معاش اور ماحولیاتی نظام کا بھی اہم حصہ تھا۔ بابل کینال کبھی زندگی کی علامت سمجھی جاتی تھی، جہاں اس کا مسلسل بہاؤ علاقے کی خوشحالی اور قدرتی وسائل کے مؤثر استعمال کی عکاسی کرتا تھا۔
تاریخی طور پر مانا جاتا ہے کہ یہ نہر کئی دہائیوں پرانی ہے، جب کشمیر کے مختلف علاقوں میں زمینداروں اور کسانوں کی سہولت کے لیے روایتی آبی راستے تعمیر کیے گئے تھے۔ وادی کی دیگر قدیم نہروں کی طرح، بابل کینال بھی قدرتی چشموں اور ندیوں سے پانی حاصل کرتی تھی اور اسے کریری کے مختلف دیہات تک پانی کی منصفانہ تقسیم کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ بزرگ آج بھی اُس دور کو یاد کرتے ہیں جب یہ نہر سال بھر پانی سے بھری رہتی تھی، حتیٰ کہ خشک موسموں میں بھی اس کا بہاؤ جاری رہتا تھا۔ یہ نہر صرف ایک آبی ذریعہ نہیں بلکہ ایک مشترکہ ورثہ تھی، جسے مقامی لوگ اجتماعی طور پر محفوظ رکھتے تھے۔
تاہم آج اس نہر کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔ برسوں کی غفلت، ناقص دیکھ بھال اور حکومتی بے عملی نے اسے خشک، آلودہ اور تقریباً فراموش شدہ بنا دیا ہے۔ جو نہر کبھی علاقے کی زندگی کی علامت تھی، آج وہ کچرے کے ڈھیر اور غیر قانونی تجاوزات کی نذر ہو رہی ہے۔ بعض مقامی افراد کی جانب سے نہر میں گھریلو اور دیگر فضلہ پھینکنے کے باعث اس کا قدرتی راستہ مزید متاثر ہوا ہے۔
نہر کے کناروں پر بڑھتی تجاوزات ایک اور سنگین مسئلہ ہیں۔ مختلف مقامات پر اس کے حصوں کو ذاتی استعمال اور تعمیرات کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف اس کا قدرتی بہاؤ متاثر ہوا بلکہ اس کی اصل ساخت بھی تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہے۔ یہ صورتحال صرف انتظامی ناکامی ہی نہیں بلکہ سماجی ذمہ داری کے فقدان کی بھی عکاس ہے۔ جہاں متعلقہ حکام اس عوامی اثاثے کے تحفظ میں ناکام رہے ہیں، وہیں معاشرے کے بعض حلقے بھی اس کے بگاڑ میں برابر کے شریک بن چکے ہیں۔
بابل کینال کے خشک ہونے کے اثرات اب واضح طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ وہ کسان جو کبھی آبپاشی کے لیے اس نہر پر انحصار کرتے تھے، آج پانی کی قلت اور مہنگے متبادل ذرائع کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف زرعی پیداوار کو متاثر کیا بلکہ مقامی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ اس کے علاوہ نہر کے خشک ہونے سے زمینی پانی کے ریچارج، مقامی حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی توازن پر بھی برا اثر پڑا ہے۔
سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ نہر کی بحالی کے لیے کوئی سنجیدہ یا جامع حکمت عملی دکھائی نہیں دیتی۔ مقامی لوگوں کی بارہا شکایات اور خدشات کے باوجود نہ تجاوزات کے خاتمے کے لیے کوئی مؤثر اقدام کیا گیا اور نہ ہی صفائی یا بحالی کی کوئی مہم شروع کی گئی۔ یہ بے حسی اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ آخر عوامی وسائل کے تحفظ کے ذمہ دار اداروں کی ترجیحات کیا ہیں۔
بابل کینال کی بحالی نہ صرف ایک ماحولیاتی ضرورت ہے بلکہ ایک سماجی اور معاشی ذمہ داری بھی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر بحالی منصوبے شروع کرے، تجاوزات کے خلاف کارروائی عمل میں لائے، اور نہر کو آلودہ کرنے والوں کے خلاف سخت قوانین نافذ کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوامی بیداری مہم چلانا بھی ناگزیر ہے تاکہ لوگ ایسے قدرتی وسائل کی اہمیت کو سمجھ سکیں۔ مقامی کمیونٹی کی فعال شرکت ہی اس بات کی ضمانت دے سکتی ہے کہ بحالی کی کوششیں دیرپا اور مؤثر ثابت ہوں۔
بابل کینال کی موجودہ حالت اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ جب قدرتی وسائل اور تاریخی ورثے کو نظر انداز کیا جائے تو اس کے نتائج کتنے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ نہر، جو کبھی کریری کی پہچان اور زندگی کا اہم حصہ تھی، مکمل طور پر تاریخ کے صفحات میں گم ہو سکتی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت اور عوام دونوں اس اہم آبی راستے کی بحالی اور تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔
جموں و کشمیر
اننت ناگ میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے ہیڈ کانسٹیبل عاشق حسین قریشی شہید، وادی بھر میں بڑا کریک ڈاؤن
سری نگر، جموں و کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں دہشت گردوں نے بدھ کو جموں و کشمیر پولیس کے ہیڈ کانسٹیبل عاشق حسین قریشی کو گولی مار کر شہید کر دیا۔ پہلگام حملے کے بعد وادی کشمیر میں پولیس اہلکار پر یہ پہلا مہلک دہشت گردانہ حملہ ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق دہشت گرد نے اننت ناگ کے لال چوک کے قریب ہیڈ کانسٹیبل قریشی پر قریب سے فائرنگ کی، جس سے وہ شدید زخمی ہوگئے۔ انہیں فوری طور پر گورنمنٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی) اننت ناگ لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔
حملے کے بعد علاقے میں سیکورٹی سخت کر دی گئی۔ پولیس اور سیکورٹی فورسز نے پورے علاقے کا محاصرہ کرکے حملہ آوروں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ جموں و کشمیر کے ڈائریکٹر جنرل پولیس نلین پربھات سمیت سینئر پولیس افسران موقع پر پہنچے اور کارروائی کی نگرانی کی۔
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں حملہ آور کو ہیڈ کانسٹیبل قریشی کا تعاقب کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ فوٹیج کے مطابق قریشی ایک دکان سے باہر نکل رہے تھے کہ حملہ آور نے قریب سے ان پر فائرنگ کی اور فرار ہوگیا۔
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امرناتھ یاترا کے پیش نظر اننت ناگ ضلع میں پہلے ہی سیکورٹی ہائی الرٹ پر ہے، اگرچہ خراب موسم کے باعث یاترا اتوار سے معطل ہے۔ گزشتہ 33 ماہ کے دوران کسی پولیس اہلکار پر یہ پہلا ہدف بنا کر کیا گیا حملہ ہے۔
اس سے قبل 31 اکتوبر 2023 کو بارہمولہ کے ٹنگمرگ علاقے میں ہیڈ کانسٹیبل غلام محمد ڈار کو ان کے گھر کے قریب گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا، جبکہ اس سے دو روز قبل سری نگر کے عیدگاہ علاقے میں انسپکٹر مسرور احمد وانی پر کرکٹ کھیلنے کے دوران حملہ کیا گیا تھا، جو بعد میں نئی دہلی کے ایمس میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے تھے۔
شہید ہیڈ کانسٹیبل عاشق حسین قریشی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے خصوصی تقریب منعقد کی گئی، جس میں ڈائریکٹر جنرل پولیس نلین پربھات، سینئر پولیس افسران، سول انتظامیہ کے حکام اور شہید کے اہل خانہ نے شرکت کی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس گھناؤنے جرم کے ذمہ داروں کو ہرگز بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پورا ملک شہید کے اہل خانہ کے ساتھ کھڑا ہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہیڈ کانسٹیبل عاشق حسین قریشی نے فرض کی انجام دہی کے دوران عظیم قربانی دی ہے۔ انہوں نے شہید کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
ادھر، واقعہ کے چند گھنٹوں بعد سیکورٹی فورسز نے وادی کشمیر کے مختلف اضلاع میں بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے دہشت گردوں کے مبینہ معاون نیٹ ورک کے خلاف کارروائی میں تقریباً دو ہزار مشتبہ اوور گراؤنڈ ورکرز (او جی ڈبلیوز) کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لے لیا۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
محبوبہ مفتی کا عمر عبداللہ پر دفعہ 370 کے معاملے میں لوگوں کو ‘شکست کا احساس’ دلانے کا الزام
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے بدھ کے روز وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ پر الزام لگایا کہ وہ یہ کہہ کر جموں و کشمیر کے لوگوں کو “شکست خوردہ محسوس” کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ موجودہ مرکزی حکومت کے تحت دفعہ 370 کی بحالی ناممکن ہے۔
عمر عبداللہ کے اس بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہ موجودہ بی جے پی حکومت سے دفعہ 370 کی بحالی کا مطالبہ کرنا غیر عملی ہے، محبوبہ نے سوال اٹھایا کہ اگر نیشنل کانفرنس کا ماننا تھا کہ اسے حاصل نہیں کیا جا سکتا، تو پھر اس نے اپنے 2024 کے انتخابی منشور میں اس مسئلے کو کیوں شامل کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ “..وہ لوگوں کو شکست کا احساس دلانا چاہتے ہیں۔ میرے خیال میں کسی بھی لیڈر کو اپنے لوگوں کو یہ محسوس نہیں کرانا چاہیے کہ وہ ہار چکے ہیں۔ میں اب بھی کہتی ہوں کہ کشمیر کا مسئلہ زندہ ہے اور اسے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ دفعہ 370 اور 35A کو اس حل کا حصہ رہنا چاہیے۔” انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر کی سیاسی خواہشات کو محض ریاست کے درجے کی بحالی تک محدود کرنا عوام کے ساتھ ناانصافی ہے اور یہ اگست 2019 کی آئینی تبدیلیوں کو معمول کے طور پر قبول کرنے کے مترادف ہے۔
محبوبہ نے الزام لگایا کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر کی سیاسی امنگوں کو صرف ریاست کے درجے کی بحالی تک محدود کر دیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر مایوسی کا اظہار کیا کہ نیشنل کانفرنس، جو اسمبلی میں آرام دہ اکثریت رکھتی ہے، ان کے خیال میں “جموں و کشمیر کے پورے معاملے” کو محض ریاست کے درجے کے مطالبے تک محدود کر رہی ہے۔
محبوبہ نے کہا کہ جموں و کشمیر 1947 سے ایک طویل سیاسی جدوجہد کا گواہ رہا ہے اور یہاں کے لوگوں کی خواہشات کو کسی ایک مطالبے تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا، “جموں و کشمیر ایک حساس جگہ ہے۔ 1947 سے لوگ اپنی عزتِ نفس کے لیے لڑ رہے ہیں۔ یہ کہنا کہ ریاست کا درجہ بحال ہونے سے ہر مسئلہ حل ہو جائے گا، عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔”
محبوبہ نے کہا کہ انہوں نے وزیر اعلیٰ پر زور دیا تھا کہ وہ ریاست کے درجے کی بحالی کے لیے نئی دہلی میں نیشنل کانفرنس کے احتجاج کے انعقاد سے قبل ایک کل جماعتی (آل پارٹی) اجلاس بلائیں۔ ان کے مطابق ایک مشترکہ سیاسی حکمتِ عملی زیادہ وزن رکھتی اور جموں و کشمیر کے سیاسی مستقبل پر ایک وسیع تر اتفاقِ رائے کی عکاسی کرتی۔ انہوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ عوام نے نیشنل کانفرنس کو صرف ریاست کے درجے کے حصول کے لیے ووٹ نہیں دیا، بلکہ ان بڑے سیاسی سوالات کو حل کرنے کے لیے دیا ہے جو اگست 2019 کی آئینی تبدیلیوں کے بعد پیدا ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا، “یہ مینڈیٹ صرف ریاست کے درجے کے لیے نہیں دیا گیا تھا۔ یہ جموں و کشمیر کو درپیش بڑے مسائل کو حل کرنے کے لیے دیا گیا تھا،” انہوں نے مزید کہا کہ پی ڈی پی وزیر اعلیٰ کو عوام کے تئیں ان کی وسیع تر ذمہ داری یاد دلاتی رہے گی۔ محبوبہ نے این سی (نیشنل کانفرنس) پر 5 اگست 2019 کی آئینی تبدیلیوں کو “معمول” کے طور پر قبول کرنے کا الزام لگایا اور اس کا موازنہ مرکز اور اس وقت کی این سی قیادت کے درمیان 1975 میں ہونے والے معاہدے سے کیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ “مجھے یاد ہے کہ نیشنل کانفرنس نے ہمیشہ صورتحال کو معمول کے طور پر قبول کیا ہے۔ جب مرحوم شیخ عبداللہ نے 1975 کے معاہدے پر دستخط کیے، تو انہوں نے صدرِ ریاست اور وزیر اعظم کے سابقہ عہدوں کی جگہ وزیر اعلیٰ کا عہدہ قبول کر لیا۔ اس وقت تک جو بھی آئینی تنزلی ہوئی تھی، اسے معمول کے طور پر تسلیم کر لیا گیا تھا۔ اسی طرح، میں عمر صاحب کو صرف ریاست کے درجے کے لیے جنتر منتر جاتے، صرف ریاست کے درجے کے بارے میں بات کرتے ہوئے دیکھ رہی ہوں، جہاں دفعہ 370 کا ذکر تک نہیں کیا گیا اور اب وہ کہہ رہے ہیں کہ اس کی بحالی ممکن نہیں ہے۔ میرے خیال میں وہ 2019 میں جموں و کشمیر میں جو کچھ ہوا، اسے معمول کے طور پر تسلیم کر رہے ہیں۔”
اس سے قبل، سابق ایم ایل اے شعیب لون نے پارٹی صدر کی موجودگی میں پی ڈی پی میں شمولیت اختیار کی۔
یو این آئی۔ م ع
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کے رامسو میں چٹان کھسکنے سے دو لوگوں کی موت، پانچ زخمی
جموں، جموں-سری نگر نیشنل ہائی وے پر رامبن ضلع میں رامسو کے قریب آج ایک مسافر ٹیمپو پر پہاڑی سے پتھر گرنے کی وجہ سے دو لوگوں کی موت ہو گئی اور پانچ دیگر زخمی ہو گئے۔
حکام نے بتایا کہ مسلسل ہونے والی بارش کی وجہ سے پہاڑی سے اچانک پتھر آ گرا، جس نے ٹیمپو کو اپنی زد میں لے لیا اور گاڑی کو شدید نقصان پہنچایا۔ ٹیمپو میں سوار کئی مسافر زخمی ہو گئے جنہیں قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ زخمیوں میں سے دو افراد نے علاج کے دوران دم توڑ دیا۔
پولیس نے واقعے کا نوٹس لے کر تفتیش شروع کر دی ہے۔
یو این آئی۔ م ع
دنیا5 days agoہرمز جنگ سے پہلے والی حالت میں نہیں آئے گی، ایران
ہندوستان1 week agoپیپر لیک کے خلاف جنتر منتر پر احتجاج کر رہے طلبہ کے نام تھرور کا کھلا خط
دنیا5 days agoایران کا شام میں امریکی کمانڈ سینٹر پر بڑا حملہ، امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ
دنیا1 week agoاگلے ہفتے ایران کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنائیں گے، ٹرمپ
دنیا1 week agoامریکہ نے ایران کی 130 ملین ڈالر سے زائد مالیت کی کرپٹو کرنسی منجمد کردی
دنیا5 days agoکویت میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، ایران نے امریکی اڈے پر حملہ کیا ہے: روسی میڈیا
جموں و کشمیر5 days agoجموں سے 3,600 سے زائد ۔امرناتھ یاترا کے زائرین کا نیا جھتہ روانہ
ہندوستان6 days agoاتراکھنڈ کے طلبہ پیپر لیک کے خلاف ‘چھاتروں کی گونج’ سے جڑے: راہل
دنیا5 days agoامریکی حملوں کے جواب میں ایران کے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات پر نئے حملے
ہندوستان1 week agoسرکار نے 62 ہزار کروڑ کی لاگت سے موبائل فون مینوفیکچرنگ اسکیم کو منظوری دی
دنیا5 days agoایران نے بحری جہازوں پر فائرنگ کی تو خمیازہ بھگتے گا: امریکہ
ہندوستان5 days agoامریکی فوج کے ایران پر تازہ حملوں میں 8 افراد جاں بحق







































































































