ہندوستان
کاکروچ جنتا پارٹی کے نمائندوں سے خوشگوار ماحول میں بات چیت ہوئی: نڈا
نئی دہلی، مرکزی وزیرِ صحت جگت پرکاش نڈّا نے پیر کو تعلیمی نظام میں اصلاحات اور وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے کے حق میں مظاہرہ کر رہی کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے ایک وفد سے بات چیت کی اور مظاہرین طلبہ سے اپنا دھرنا ختم کرنے کی اپیل کی مسٹر نڈّا نے پیر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ آج صبح پہلی بار مظاہرین کی طرف سے بات چیت کی تجویز آئی تھی اور دوپہر 11:50 بجے سے بات چیت شروع ہوئی۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ مظاہرین کے وفد کے ساتھ یہ میٹنگ بے حد خوشگوار ماحول میں ہوئی۔ میٹنگ کے دوران وفد کے ساتھ تفصیل سے ابتدائی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس کے بعد شام تقریباً چار بجے وفد نے ایک میمورنڈم سونپا۔
مسٹر نڈّا نے تمام مظاہرین سے اپنا دھرنا ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے صورتحال کو پوری طرح معمول پر لانے میں انتظامیہ کو مدد ملے گی۔
اس سے پہلے سی جے پی کے ترجمان سوربھ داس اور لیڈر آشتوش رانکا نے مرکزی وزیرِ صحت سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی تصدیق کی۔ مسٹر داس نے بتایا کہ دو گھنٹے سے زیادہ انتظار کے بعد تقریباً دس منٹ تک ہوئی میٹنگ میں انہوں نے پارٹی کے مطالبات کا تحریری میمورنڈم سونپا۔ ان کے مطابق، مسٹر نڈّا نے بھروسہ دلایا کہ سرکار اس مسئلے پر داخلی سطح پر غور و خوض کرے گی اور بات چیت کا عمل جاری رہے گا۔
یو این آئی۔ ایف اے
ہندوستان
رمیش کا مودی پرجوابی حملہ، پارلیمنٹ میں اصل مسائل سے بچ رہی ہے سرکار
نئی دہلی، پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے آغاز پر وزیرِ اعظم نریندر مودی کے خطاب کے بعد کانگریس جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے سرکار پرجوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ سرکار اصل مسائل سے بچ رہی ہےمسٹر رمیش نے کہا کہ وزیرِ اعظم نے اپنے خطاب میں ہمیشہ کی طرح “بڑی بڑی باتیں” کیں لیکن ملک کے حقیقی اور سنگین مسائل پر پوری طرح سے خاموشی اختیار کیے رکھی۔ کانگریس جنرل سکریٹری نے سوشل میڈیا پر کہا کہ اپوزیشن مانسون سیشن میں ان مسائل کو مضبوطی سے اٹھائے گا جن کا مسٹر مودی نے اپنے خطاب میں کوئی ذکر نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان میں ایودھیا کے رام مندر میں مبینہ “چڑھاوا چوری اور عقیدت سے دھوکہ” کا معاملہ، نیٹ پیپر لیک اور سی بی ایس ای کلاس 12 بورڈ امتحان کی بدانتظامی، اپوزیشن جماعتوں کو توڑنے کے لیے مبینہ طور پر اپنائے جا رہے ہتھکنڈے اور مالی ترغیبات، مرکزی سرکار کے کئی وزرا اور بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ پر لگے بدعنوانی اور مفادات کے ٹکراؤ کے الزامات شامل ہیں۔
کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ مرکزی سرکار حد بندی کے عمل، ‘ون نیشن، ون الیکشن’ اور ووٹر لسٹ کے خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) بل جیسے اقدامات کے ذریعے جمہوریت اور آئین کے وفاقی ڈھانچے کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس سے پہلے پارلیمنٹ کے احاطے میں میڈیا سے بات چیت کے دوران وزیرِ اعظم مودی نے نام لیے بغیر اپوزیشن کے لیڈر مسٹر راہل گاندھی پر طنز کرتے ہوئے کہا، “ہندوستان کے نوجوانوں نے خلائی شعبے میں نیا سفر شروع کیا ہے۔ میں 56 سال کے نوجوان کی بات نہیں کر رہا ہوں۔” وزیرِ اعظم کے اس تبصرے کو مسٹر گاندھی کی طرف اشارہ مانا جا رہا ہے، جن کی 19 جون کو 56 ویں سالگرہ تھی۔ وزیرِ اعظم کے اس تبصرے کے بعد کانگریس نے پلٹوار کرتے ہوئے کہا کہ سرکار کو ذاتی طنز کرنے کے بجائے پارلیمنٹ میں عوام سے جڑے مسائل پر جواب دینا چاہیے۔ اپوزیشن نے اشارہ دیا ہے کہ مانسون سیشن میں ان تمام موضوعات پر سرکار کو گھیرنے کی حکمتِ عملی اپنائی جائے گی۔
یو این آئی۔ ایف اے
ہندوستان
دہلی پولیس نے صحت کی تشویش کے پیش نظر سونم وانگچک کو اسپتال منتقل کیا
نئی دہلی، مبینہ نیٹ پیپر لیک کے معاملے پر جنتر منتر پر 20 روز کی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال مکمل کرنے کے بعد سماجی کارکن سونم وانگچک کو ہفتہ کی علی الصبح دہلی پولیس نے اسپتال منتقل کر دیا۔
حکام نے بتایا کہ یہ قدم ان کی گرتی ہوئی صحت کی وجہ سے اور دہلی ہائی کورٹ کی ہدایات کے مطابق اٹھایا گیا ہے۔
پولیس اہلکار صبح ہونے سے پہلے احتجاجی مقام پر پہنچے اور 59 سالہ سماجی کارکن کو طبی مرکز منتقل کر دیا۔ اس کارروائی کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے حامیوں کی طرف سے احتجاج اور نعرے بازی شروع ہو گئی، جو مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے کو لے کر تحریک کی قیادت کر رہی ہے۔
ایک بیان جاری کرتے ہوئے دہلی پولیس نے کہا کہ یہ فیصلہ طبی مشورے اور عدالت کی ہدایات کے بعد کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ سونم وانگچک کو ضروری طبی دیکھ بھال کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا ہے اور یہ کارروائی ان کی گرتی ہوئی صحت کی وجہ سے کی گئی ہے۔
پولیس نے مظاہرین سے جنتر منتر کو پرامن طریقے سے خالی کرنے کی بھی اپیل کی۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ہائی کورٹ کے احکامات کی تعمیل کے دوران مظاہرین نے رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں ہلکی سی افراتفری پیدا ہوئی۔ تاہم پولیس نے انتہائی تحمل کا مظاہرہ کیا اور اس کارروائی کو بحفاظت انجام دیا۔ ہم جنتر منتر پر موجود مظاہرین سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ جلد از جلد پرامن طریقے سے جگہ خالی کر دیں۔
دی کلینکس، ہاؤز خاص کے جنرل فزیشن اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر ستیش لامبا کی طرف سے جمعہ کو جاری کردہ ہیلتھ اپڈیٹ کے مطابق، وانگچک کا وزن گر کر تقریباً 56.6 کلوگرام رہ گیا تھا، جس سے 28 جون کو فاقہ شروع ہونے کے بعد سے ان کے وزن میں مجموعی طور پر نو کلوگرام سے زیادہ کی کمی واقع ہوئی ہے۔
طویل فاقہ کشی کے اثرات کی وضاحت کرتے ہوئے ڈاکٹر لامبا نے کہا کہ گلوکوز کے ذخائر ختم ہونے کے بعد جسم چربی کا استعمال کرتا ہے۔ اس کے بعد عضلات کا استعمال شروع ہو جاتا ہے۔ ان کا کیٹون لیول 3-پلس تک پہنچ گیا تھا اور ہائیڈریشن کو بہتر بنانے کے بعد یہ 2-پلس پر آگیا ہے۔ ان کا یورک ایسڈ زیادہ ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عضلات استعمال ہو رہے ہیں۔
بھوک ہڑتال جاری رہنے کی صورت میں ممکنہ پیچیدگیوں سے خبردار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگلا مرحلہ تشویشناک ہو سکتا ہے۔ اعضاء متاثر ہو سکتے ہیں۔ ہم ان پر 24 گھنٹے نظر رکھے ہوئے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ یہ اس مرحلے تک نہیں پہنچے گا۔
بروقت مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے ڈاکٹر لامبا نے مزید کہا کہ میں حکومت سے جلد از جلد مداخلت کرنے کی اپیل کرتا ہوں کیونکہ وہ ایک قیمتی ہیرا ہیں اور ہم انہیں کھونا نہیں چاہتے۔ اگر اعضاء متاثر ہوتے ہیں تو یہ ہمارے لیے واقعی تشویشناک ہو سکتا ہے۔
میڈیکل بلیٹن میں ان کا بلڈ پریشر 108/68 ایم ایم ایچ جی، بلڈ شوگر 80 ایم جی/ڈی ایل، نبض کی رفتار 72 دھڑکن فی منٹ اور آکسیجن کی سیچوریشن 96 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ ڈاکٹروں نے ہلکی پانی کی کمی کا ذکر کیا لیکن کہا کہ وہ ہوش میں ہیں، ذہنی طور پر چوکس ہیں اور چوبیس گھنٹے مشاہدے میں ہیں۔
جیسے ہی وانگچک کی صحت بگڑی، گزشتہ دو دنوں میں کئی اپوزیشن لیڈروں نے احتجاجی مقام پر ان سے ملاقات کی۔
کانگریس لیڈر پون کھیڑا، سماج وادی پارٹی کی ایم پی ڈمپل یادو اور عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجریوال نے ان کی مہم کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے ان سے اپنی طبی حالت کے پیش نظر فاقہ ختم کرنے کی اپیل کی۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
جموں کشمیر اور لداخ سمیت پورا خطہ ہندوستان کا اٹوٹ حصہ، پاکستان کو داخلی معاملات میں مداخلت کا حق نہیں: وزارتِ خارجہ
نئی دہلی، ہندوستان نے ایک بار پھر زور دے کر کہا ہے کہ جموں کشمیر اور لداخ سمیت پورا خطہ اس کا اٹوٹ حصہ تھا، ہے اور رہے گا نیز پاکستان کو ہندوستان کے داخلی معاملات میں مداخلت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کو میڈیا بریفنگ میں پاکستان کے ایک متنازعہ بیان سے جڑے سوال کے جواب میں کہا کہ ہندوستان کا موقف پہلے سے ہی واضح ہے کہ جموں کشمیر اور لداخ کا پورا خطہ ہندوستان کا اٹوٹ حصہ تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ہندوستان کے داخلی معاملات میں بولنے کا کوئی حق نہیں ہے۔
پہلگام دہشت گردانہ حملے میں دہشت گرد سرغنہ مسعود اظہر کے خلاف چارج شیٹ سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اس گھناؤنے حملے میں کئی بے قصور لوگوں کی جانیں گئی تھیں اور اس کی جانچ چل رہی ہے۔ سرحد پار دہشت گردی کو پاکستان کی حمایت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ بات سب پر عیاں ہے اور پاکستان دہائیوں سے ایک پالیسی کے طور پر اسے اپناتا رہا ہے۔
یو این آئی۔ ایف اے
دنیا4 days agoہرمز جنگ سے پہلے والی حالت میں نہیں آئے گی، ایران
دنیا6 days agoامریکہ نے ایران کی 130 ملین ڈالر سے زائد مالیت کی کرپٹو کرنسی منجمد کردی
ہندوستان6 days agoپیپر لیک کے خلاف جنتر منتر پر احتجاج کر رہے طلبہ کے نام تھرور کا کھلا خط
دنیا6 days agoاگلے ہفتے ایران کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنائیں گے، ٹرمپ
دنیا4 days agoایران نے بحری جہازوں پر فائرنگ کی تو خمیازہ بھگتے گا: امریکہ
دنیا6 days agoامریکی ناکہ بندی سے قبل ایران سے وابستہ 9 جہازوں نے آبنائے ہرمز عبور کی
دنیا4 days agoکویت میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، ایران نے امریکی اڈے پر حملہ کیا ہے: روسی میڈیا
دنیا4 days agoایران کا شام میں امریکی کمانڈ سینٹر پر بڑا حملہ، امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ
دنیا4 days agoامریکی حملوں کے جواب میں ایران کے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات پر نئے حملے
ہندوستان6 days agoسرکار نے 62 ہزار کروڑ کی لاگت سے موبائل فون مینوفیکچرنگ اسکیم کو منظوری دی
جموں و کشمیر3 days agoجموں سے 3,600 سے زائد ۔امرناتھ یاترا کے زائرین کا نیا جھتہ روانہ
دنیا5 days agoایرانی فوج کو دشمن کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کی مکمل آزادی ہے، باقر قالیباف

































































































