دنیا
ایران نے فائرنگ کی تو امریکہ ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کر دے گا: ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو سخت دھمکی دے دی۔
ٹروتھ سوشل پر بیان میں صدر ٹرمپ نے لکھا کہ آبنائے ہرمز میں ایران نے فائرنگ کی تو امریکہ ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کر دے گا۔
انہوں نے کہا کہ تہران کے قریب یا اندر واقع تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا جائے گا، میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی بھی ہتھیار سے جہاز پر فائرنگ کا جواب دیا جائے گا۔
ایران جنگ میں دوبارہ شدت آنے کے بعد امریکی فوج نے مسلسل گیارہویں رات ایران پر فضائی حملے کیے، جواب میں ایران نے بھی کویت کے کیمپ دوحہ کو نشانہ بنایا۔
ترجمان سینٹکام کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر ایران پر گزشتہ شام سات بجے فضائی حملے شروع کیے گئے، امریکی فوج نے اپنا بیانیہ دہراتے ہوئے کہا کہ ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں ایرانی فوجی صلاحیتوں کو کمزور کرنا ہے۔
سینٹکام نے یہ بھی کہا کہ ایران کی دوبارہ ناکہ بندی کے دوران 21 جولائی تک 8 تجارتی جہازوں کا رخ موڑا گیا، اور امریکی فوج نے ایک تجارتی جہاز کو ناکارہ بھی بنایا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق امریکہ نے بوشہر کے نواحی علاقوں میں فضائی حملے کیے، کنارک اور سیریک میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، کرمانشاہ اور خوزستان میں بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں، حملوں کی وجہ سے تہران کے مشرق اور شمال مشرق میں فضائی دفاعی نظام فعال کیا گیا۔
ادھر ایران کی فوج نے مغربی کویت کے کیمپ دوحہ میں امریکی فوجی تنصیبات پر ڈرون حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں، ایرانی فوج نے کہا کہ اس کی افواج نے امریکا کی ’’بار بار جارحیت‘‘ کے جواب میں اڈے پر ’’گولہ بارود کے ڈپو‘‘ اور ’’زمینی فورسز کمانڈ لاجسٹک آلات‘‘ کو نشانہ بنایا۔
بیان میں بتایا گیا کہ کیمپ دوحہ خطے میں امریکی اہلکاروں اور ساز و سامان کے لیے ایک اہم معاون مرکز ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے اسرائیل کا مکمل انخلاء ضروری ہے: صدر عون
بیروت، لبنان کے صدر جوزف عون نے کہا ہے کہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کا مکمل انخلاء ضروری ہے۔ ادھر حزب اللہ نے لبنانی حکومت اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات کرنے کے لبنان کے فیصلے پر تنقید کی ہے۔
حزب اللہ کا کہنا ہے کہ صرف سفارتی کوششوں کے ذریعے جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کو ہٹانا ممکن نہیں ہے، کیونکہ لبنان میں ایران جیسی سودے بازی کی طاقت نہیں ہے۔ امریکی ثالثی کے معاہدے پر عمل درآمد اس ہفتے پہلے پائلٹ زون میں لبنانی فوج کی تعیناتی کے ساتھ شروع ہوا۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں مسٹر عون کے ساتھ ملاقات کے دوران صرف مختصراً اس عمل کا تذکرہ کیا اور لبنان کو امریکی حمایت جاری رکھنے کا یقین دلایا، لیکن کسی ٹھوس امداد کا اعلان نہیں کیا۔ لبنانی صدر کے دفتر کے مطابق، مسٹر عون نے امریکی قانون سازوں اور ٹرمپ انتظامیہ کے اہلکاروں کو بتایا کہ لبنانی مسلح افواج حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، لیکن اس کے لیے جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے مکمل انخلاء کی ضرورت ہے۔
“لبنان اس وقت تک محفوظ اور متحد نہیں ہو سکتا جب تک کہ ایک ریاست اور ایک فوج تمام لبنانی شہریوں کی حفاظت کر رہی ہو۔ اگر حزب اللہ کو حقیقی معنوں میں غیر مسلح کرنا ہے تو پہلے قبضے کو ختم کرنا ہو گا اور فوج کو پورے علاقے کا کنٹرول سنبھالنا ہو گا۔”
تاہم اسرائیل نے لبنانی فوج کی صلاحیتوں پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حزب اللہ کو سرحد کے قریب دوبارہ سرگرم ہونے سے روکنے کے لیے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجیوں کی موجودگی اب بھی ضروری ہے۔
مسٹر عون نے مسٹر ٹرمپ کے ساتھ اپنی ملاقات میں لبنانی فوج کو ملک کی سلامتی اور استحکام میں ریڑھ کی ہڈی قرار دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا امریکہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے لبنانی فوج کو اضافی مدد فراہم کرے گا، مسٹر ٹرمپ نے عوامی طور پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ مسٹر عون سے نجی طور پر اس معاملے پر بات کریں گے۔
مارچ سے جاری اسرائیل-حزب اللہ تنازع میں لبنان کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ لبنانی حکام کے مطابق 10 لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہو چکے ہیں اور تقریباً 4,300 ہلاک ہو چکے ہیں، حالانکہ یہ اعداد و شمار عام شہریوں اور جنگجوؤں میں فرق نہیں کرتے۔
دریں اثنا، اسرائیل نے گزشتہ ماہ کے آخر تک حزب اللہ کے کم از کم 2500 جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جن میں گروپ کی رادوان فورس کے سینکڑوں ارکان بھی شامل ہیں۔ اسرائیل کے مطابق جنوبی لبنان میں آپریشن کے دوران اس کے 38 فوجی اور وزارت دفاع کا ایک سویلین کنٹریکٹ ملازم بھی مارا گیا۔ حزب اللہ کے راکٹ حملوں میں دو اسرائیلی شہری بھی مارے گئے جب کہ ایک اور شہری شمالی اسرائیل میں اسرائیلی توپ خانے سے مارا گیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں: امریکی وزیر خارجہ
منیلا، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نےکہا ہےکہ بحران کے خاتمےکے لیے امریکہ اب بھی ایران کے ساتھ مذاکرات کا خواہاں ہے، تاہم ایران بات چیت میں سنجیدہ نظر نہیں آ رہا۔
آسیان وزرائے خارجہ کے اجلاس سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ امریکہ ہمیشہ سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے، ہم اختلافات کے حل کے لیے مذاکرات کے لیے ہر وقت تیار ہیں، اور ایران کے معاملے میں بھی یہی مؤقف برقرار ہے۔
مارکو روبیو نےکہا کہ ایران ماضی میں کیےگئے معاہدوں کی پاسداری نہیں کرسکا، اگر ایران مذاکرات میں سنجیدہ ہوا تو امریکہ بھی سنجیدگی سے بات کرےگا، بصورت دیگر امریکہ اپنے اور اپنے اتحادیوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ اگر مشرق وسطیٰ میں کسی ملک کو یہ مثال قائم کرنے دی گئی کہ وہ کسی بین الاقوامی آبی گزرگاہ پر قبضہ کرے، وہاں سےگزرنے والے جہازوں پر ٹول عائد کرے اور ادائیگی نہ کرنےکی صورت میں جہازوں کو نشانہ بنائے تو یہ ایک انتہائی خطرناک نظیر ہوگی، ایسی مثال بعد میں دنیا کے دیگر خطوں، خصوصاً اس خطے میں بھی دہرائی جاسکتی ہے جو عالمی تجارت اور آزادی جہاز رانی کے لیے سنگین خطرہ بنے گی۔
مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ ایساسفارتی حل چاہتے ہیں جو ایران کے جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنےکویقینی بنائے، ایرانی حکومت کے ساتھ اعتماد کا فقدان ہے، مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہونے کے دو ہفتے سے بھی کم عرصےمیں اس کی خلاف ورزی کر دی گئی، چین نے ایران کے ساتھ جنگ کے رخ کو تبدیل کرنے کے لیےکوئی اقدام نہیں کیا اور بعض مواقع پر تعاون بھی کیا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سب سے بڑا “فساد پھیلانے والا” ملک ایران ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
میئر نیویارک کا اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی گرفتاری کے بیان پر یوٹرن
نیویارک، میئر نیویارک زہران ممدانی نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی گرفتاری کے بیان پر یوٹرن لے لیا اور کہا انتظامیہ انہیں گرفتار نہیں کرسکتی۔
تفصیلات کے مطابق نیویارک شہر کے میئر زہران ممدانی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے خلاف موجود بین الاقوامی فوجداری عدالت کے وارنٹ گرفتاری کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے، تاہم اس وقت نیویارک شہر کی انتظامیہ انہیں گرفتار نہیں کر سکتی۔
ظہران ممدانی کا کہنا تھا کہ انتظامیہ اس قانونی پہلو کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا اگر نیتن یاہو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک آئیں تو بین الاقوامی فوجداری عدالت کے وارنٹ کے تحت ان کی گرفتاری ممکن ہے یا نہیں۔
انہوں نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ اگر قانونی طور پر ممکن ہو تو نیتن یاہو کے خلاف جاری وارنٹ پر عمل درآمد کیا جائے۔
میئر نیویارک نے مزید کہا کہ “نیتن یاہو جنگی مجرم ہیں اور ان کی اصل جگہ ہیگ میں بین الاقوامی فوجداری عدالت کے سامنے ہے، جہاں ان پر مبینہ جرائم کی سماعت ہونی چاہیے۔”
واضح رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک آمد متوقع ہے، جس کے تناظر میں ان کے خلاف جاری آئی سی سی وارنٹ پر ایک بار پھر بحث شروع ہوگئی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا5 days agoہرمز جنگ سے پہلے والی حالت میں نہیں آئے گی، ایران
ہندوستان1 week agoپیپر لیک کے خلاف جنتر منتر پر احتجاج کر رہے طلبہ کے نام تھرور کا کھلا خط
دنیا5 days agoایران کا شام میں امریکی کمانڈ سینٹر پر بڑا حملہ، امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ
دنیا1 week agoاگلے ہفتے ایران کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنائیں گے، ٹرمپ
دنیا1 week agoامریکہ نے ایران کی 130 ملین ڈالر سے زائد مالیت کی کرپٹو کرنسی منجمد کردی
دنیا5 days agoکویت میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، ایران نے امریکی اڈے پر حملہ کیا ہے: روسی میڈیا
جموں و کشمیر4 days agoجموں سے 3,600 سے زائد ۔امرناتھ یاترا کے زائرین کا نیا جھتہ روانہ
ہندوستان6 days agoاتراکھنڈ کے طلبہ پیپر لیک کے خلاف ‘چھاتروں کی گونج’ سے جڑے: راہل
ہندوستان5 days agoامریکی فوج کے ایران پر تازہ حملوں میں 8 افراد جاں بحق
دنیا5 days agoامریکی حملوں کے جواب میں ایران کے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات پر نئے حملے
ہندوستان1 week agoسرکار نے 62 ہزار کروڑ کی لاگت سے موبائل فون مینوفیکچرنگ اسکیم کو منظوری دی
دنیا5 days agoایران نے بحری جہازوں پر فائرنگ کی تو خمیازہ بھگتے گا: امریکہ







































































































