دنیا
ایرانی مذاکرات میں سنجیدہ نہیں: مارکو روبیو
واشنگٹن، امریکہ اور ایران نے منگل سے بدھ تک ایک دوسرے کے خلاف حملوں کی گیارہویں رات بھی کارروائیاں جاری رکھیں، ایسے میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران ’’مذاکرات کے لیے سنجیدہ نہیں‘‘ ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق مارکو روبیو کا یہ بیان امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کی قانون سازوں کے سامنے گواہی کے بعد سامنے آیا ہے، جب کہ ٹرمپ انتظامیہ جنگ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے مزید دسیوں ارب ڈالر کی اضافی فنڈنگ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ پر اب تک 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں، تاہم سی این این سے بات کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل لاگت اس سے کہیں زیادہ ہونے کا امکان ہے۔ ہیگسیتھ اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے جنگ کے لیے اضافی فنڈنگ حاصل کرنے کی غرض سے کانگریس کے سامنے گواہی دی۔
اس کے چند گھنٹے بعد وزیر خارجہ روبیو نے خبردار کیا کہ ایران کو آبنائے ہرمز پر کنٹرول کی اجازت دینا ایک ’’خطرناک مثال‘‘ قائم کرے گا۔ ان کے مطابق فروری میں امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں سے پہلے یہ آبنائے آزاد اور محفوظ آمدورفت کے لیے مکمل طور پر کھلی ہوئی تھی۔
روبیو نے کہا امریکہ ایران کے معاملے پر سفارت کاری اور مذاکرات کے لیے بدستور تیار ہے، ایران سے مذاکرات کے دروازے اب بھی کھلے ہیں، اختلافات کے حل کے لیے بات چیت ہی ہماری ترجیح ہے، لیکن بدقسمتی سے ایران نے اب تک اپنے وعدے پورے نہیں کیے، وہ سنجیدگی دکھائے تو امریکہ بھی مذاکرات کے لیے تیار ہے، تہران سنجیدہ نہ ہوا تو امریکا اپنے اور اتحادیوں کے مفادات کا تحفظ کرے گا۔
انھوں نے کہا داؤ پر صرف ہرمز نہیں، بین الاقوامی سمندری راستوں کا مستقبل بھی ہے، سمندری راستوں پر آزادیٔ نقل و حرکت ایک بنیادی اصول ہے، آزادیٔ نقل و حرکت کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، عالمی معیشت اور تجارتی نظام کے تحفظ کے لیے سمندری راستوں کی آزادی برقرار رکھنا ہوگی۔
سی این این کے مطابق ایک شپنگ تجزیاتی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ ایک اور اہم آبی گزرگاہ میں خلل سے یہ خطرہ بڑھ گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی توانائی سے متعلق دو اہم ترین گزرگاہیں بہ یک وقت دباؤ کا شکار ہو سکتی ہیں۔ ایران کی حمایت یافتہ حوثیوں نے باب المندب آبنائے میں سعودی عرب سے منسلک بحری جہازوں کی ناکہ بندی کی دھمکی دی ہے۔ اس اعلان کے بعد اس کے اثرات پہلے ہی نظر آنے لگے ہیں، کیوں کہ سعودی خام تیل لے جانے والے دو ٹینکرز نے بحیرۂ احمر میں اپنا راستہ تبدیل کر لیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکی صدر ٹرمپ کی نطنز کے پہاڑوں میں ایرانی ایٹمی مرکز پر حملے کی دھمکی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے شہر نطنز کے پہاڑوں میں ایرانی ایٹمی مرکز پر حملے کی دھمکی دے دی۔
وائٹ ہاؤس میں لبنانی صدر جوزف عون کے ساتھ ملاقات کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں ٹرمپ نے کہا نطنز کے پہاڑوں میں ایرانی ایٹمی مرکز پر حملہ جلد ہوگا، ایرانی اس حملے کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کرسکیں گے۔
ٹرمپ نے کہا کہ اگر انہوں نے بارک اوباما اور ایران کے درمیان ہوئی “نیوکلیئر ڈیل” ختم نہ کی ہوتی تو آج دنیا میں اسرائیل کا وجود باقی نہ ہوتا۔ کیوں کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنا چکا ہوتا۔
امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر امریکی بی ٹو بمبار طیارے ایک سال پہلے ایرانی نیوکلیئر سائٹس کو نشانہ نہ بناتے تو ایران ایٹمی ہتھیار بنا چکا ہوتا اور نہ اسرائیل باقی ہوتا اور نہ ان کے خیال میں مشرق وسطی کے کئی ملک باقی ہوتے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی فوج نے ایرانی فوجی صلاحیتوں کو اس درجے تک کم کردیا جس کا کسی نے سوچا تک نہیں تھا۔
اردن میں ضرور ایران نے کچھ نقصان پہنچایا ہے لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ اگر “دیگر آپریٹرز” ساتھ دیتے تو ایران ایسا نہ کرپاتا۔ ٹرمپ نے یہ وضاحت نہیں کی کہ “دیگر آپریٹرز” سے ان کی مراد کیا ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایرانی جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کے ساتھ ملاقات کے شدت سے خواہاں ہیں کیوں کہ انہیں شدید تباہی کا سامنا ہے۔ امریکہ کی ایرانیوں سے ملنے کی کوئی خواہش نہیں ہے۔
ایک سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ ایران غالباً آبنائے ہرمز کی دھمکی دے کر نومبر کے امریکی کانگریس الیکشز میں ان کے اور ان کی ریپبلکن پارٹی کے امکانات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایران کی اس کوشش کا جو بھی اثر ہو، وہ وہی کریں گے جو درست ہوگا۔
ٹرمپ نے کہا کہ جہاں تک انتخابات کا تعلق ہے، تو وہ نہیں سمجھتے کہ ان پر ایران کے جنگ سے کوئی اثر پڑے گا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
حملے جاری رہے تو امریکہ اور اس کے عرب اتحادی بھی نہیں بچیں گے:ایران
تہران، ایرانی مسلح افواج کے ہیڈ کوارٹر نے متنبہ کیا ہے کہ ملک کی جوہری یا دیگر حساس تنصیبات پر امریکہ کا کوئی بھی حملہ علاقائی حملوں کو جنم دے گا، جس میں امریکی مفادات کے ساتھ ساتھ واشنگٹن کے اتحادیوں اور حامیوں کے مفادات کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔
مسلح افواج کے ہیڈ کوارٹر نے بریفنگ میں بتایا کہ اس طرح کے اقدام کو پورے خطے میں جنگ کی توسیع کے طور پر دیکھا جائے گا اور یہ مسلح افواج کی جانب سے “شدید” ردعمل کا باعث بنے گا۔
یہ انتباہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے نتانز جوہری کمپلیکس کے قریب زیرِ زمین” کازما داغ ” تنصیبات پر حملے کی دھمکی کے بعد سامنے آیا ہے۔
واضح رہے کہ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ اس خطے پر بہت بھاری ضرب لگائے گا۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ان کا ماننا ہے کہ ایران نے خطے میں جوہری سینٹری فیوجز منتقل کیے ہوں گے، تاہم واشنگٹن نے ابھی تک اس معلومات کی تصدیق نہیں کی ہے۔
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ اس نے ‘نصر 2 آپریشن’ کی 24ویں لہر کے دوران کویت میں علی السالم ایئر بیس کے قریب ایک ابتدائی انتباہی راڈار، ٹیکٹیکل ریڈار کمپلیکس اور کویت کے جزیرہ بوبیان پر ایک اور ریڈار سسٹم کو تباہ کر دیا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب نے بتایا کہ راڈار سسٹمز کو ناکارہ بنا دیا گیا ہے جبکہ امریکہ کے خلاف فوجی آپریشنز جاری رہیں گے۔
امریکہ نے گزشتہ ہفتے سے ایران پر اپنے حملے تیز کر دیے ہیں، جبکہ تہران نے ان حملوں کا جواب ان تنصیبات اور اڈوں کو نشانہ بنا کر دیا ہے جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ امریکی فوج انہیں خطے کے مختلف ممالک میں استعمال کر رہی ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان یہ باہمی حملے اس مفاہمت نامے کے باوجود ہو رہے ہیں جو فروری میں شروع ہونے والی جنگ کو ختم کرنے اور مستقل امن معاہدے تک پہنچنے کے لیے جون میں پاکستان کی ثالثی میں طے پایا تھا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایرانی صدر کا سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق نیا اور اہم انکشاف
تہران، ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق بڑا اور نیا انکشاف کر دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق صدر مسعود پزشکیان نے انکشاف کیا ہے کہ وہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور ان سے روز مشاورت کرتے ہیں۔
ایران کے سرکاری میڈیا پر جاری ایک ویڈیو کلپ میں مسعود پزشکیان نے کہا کہ ملک کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مسلسل کوششیں جاری ہیں۔ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی رہنمائی میں فیصلے کیے جا رہے ہیں۔
ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے منگل کو سرکاری میڈیا پر شائع ہونے والے ایک ویڈیو کلپ میں کہا کہ ایران کے سپریم لیڈر کے ساتھ “تعلقات” کی سطح روز بروز بڑھ رہی ہے۔
واضح رہے کہ ایرانی صدر کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے، جب ریمارکس سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت کے بارے میں قیاس آرائیاں جاری ہیں۔
ایران جنگ کے آغاز میں ان کے والد اور پیش رو علی خامنہ ای کی امریکی اور اسرائیلی فضائی حملے میں شہادت کے بعد سے مجتبی خامنہ ای کو عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
خامنہ ای نے 8 مارچ کو ایران کے تیسرے سپریم لیڈر کے طور پر اپنی تقرری کے بعد سے تحریری بیانات جاری کیے ہیں، لیکن ان کے ساتھ کوئی نئی تصویر یا صوتی ریکارڈنگ نہیں ہے۔
رواں ماہ کے آغاز میں اپنے والد مجتبیٰ خامنہ ای کے جنازے میں عدم شرکت نے بھی ان قیاس آرائیوں کو مزید تقویت دی۔
سینئر ذرائع نے جولائی میں روئٹرز کو بتایا تھا کہ تصویر یا آواز کی ریکارڈنگ کی کمی کی وجہ صحت اور سلامتی کے تحفظات ہیں۔ پہلے امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ان کے والد کی ہلاکت کے پیش نظر سلامتی کے خطرات کافی ہیں، جو ممالک کے درمیان تنازعات کو حل کرنے کی سفارتی کوششوں کے دوران شروع کیے گئے تھے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا5 days agoہرمز جنگ سے پہلے والی حالت میں نہیں آئے گی، ایران
ہندوستان7 days agoپیپر لیک کے خلاف جنتر منتر پر احتجاج کر رہے طلبہ کے نام تھرور کا کھلا خط
دنیا5 days agoایران کا شام میں امریکی کمانڈ سینٹر پر بڑا حملہ، امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ
دنیا1 week agoامریکہ نے ایران کی 130 ملین ڈالر سے زائد مالیت کی کرپٹو کرنسی منجمد کردی
دنیا5 days agoکویت میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، ایران نے امریکی اڈے پر حملہ کیا ہے: روسی میڈیا
جموں و کشمیر4 days agoجموں سے 3,600 سے زائد ۔امرناتھ یاترا کے زائرین کا نیا جھتہ روانہ
ہندوستان6 days agoاتراکھنڈ کے طلبہ پیپر لیک کے خلاف ‘چھاتروں کی گونج’ سے جڑے: راہل
دنیا1 week agoاگلے ہفتے ایران کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنائیں گے، ٹرمپ
ہندوستان7 days agoسرکار نے 62 ہزار کروڑ کی لاگت سے موبائل فون مینوفیکچرنگ اسکیم کو منظوری دی
دنیا5 days agoایران نے بحری جہازوں پر فائرنگ کی تو خمیازہ بھگتے گا: امریکہ
ہندوستان5 days agoامریکی فوج کے ایران پر تازہ حملوں میں 8 افراد جاں بحق
دنیا5 days agoامریکی حملوں کے جواب میں ایران کے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات پر نئے حملے








































































































