دنیا
رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای سے رابطوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے: مسعود پزشکیان
تہران، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران کے رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای سے رابطوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔
ادھر خبر ایجنسی کا کہنا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کی شہادت کے بعد سے منظر عام پر نہیں آئے۔
خبر ایجنسی نے قریبی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای امریکی حملے میں شدید زخمی ہوئے تھے۔ انہیں چہرے اور ٹانگوں پر شدید نوعیت کے زخم آئے تھے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
بہت جلد شہید سپریم لیڈر اور شہیدکمانڈروں کے خون کا بدلہ لیا جائےگا: کمانڈر پاسداران انقلاب
تہران، ایرانی پاسداران انقلاب کی زمینی فورس کےکمانڈر بریگیڈیئر جنرل محمدکرمی نےکہا ہےکہ بہت جلد شہید سپریم لیڈر اور شہیدکمانڈروں کے خون کا بدلہ لیا جائےگا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز سے متصل خلیج کے ساحلی علاقوں میں تعینات فورس کے یونٹس کے دورے کے موقع پر اہلکاروں سے خطاب میں بریگیڈیئر جنرل محمدکرمی کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام اور مسلح افواج جارح فوج کی کسی بھی شرارت یا حملے کا بھرپور اور مؤثر جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
‘جنگی جرائم’ نیتن یاہو کی امریکہ میں گرفتاری کی دھمکی ٹرمپ نے مسترد کردی
واشنگٹن، امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے بارے میں دوٹوک کہا ہے کہ انہیں امریکہ میں کسی گرفتاری کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ انہوں نے یہ بات نیو یارک کے میئر زہران ممدانی کے اس بیان کے بعد کہی ، کہ نیتن یاہو کو بین الاقوامی فوجداری عدالت کی طرف سے جاری کردہ وارنٹ پر گرفتار کر لیا جائے گا۔
بین الاقوامی عدالت نے غزہ جنگ میں جنگی جرائم کا مرتکب ہونے کے الزام میں نیتن یاہو اور ان کے ساتھ کچھ عرصہ قبل بطور وزیر دفاع کام کرنے والے یوو گیلنٹ کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔ انہی وارنٹ گرفتاری کی بنیاد پر میئر نیو یارک ممدانی نے اپنے ایک تازہ بیان میں ستمبر میں نیتن یاہو کی بسلسلہ جنرل اسمبلی اجلاس آمد کے بارے میں امکانی گرفتار کا ذکر کیا تھا۔ انہوں نے نیتن یاہو کو جنگی مجرم کا نام دیا۔
ممدانی کے بقول وہ نیو یارک میں اس بڑی گرفتاری کے لیے اپنے حکام کے ساتھ ان دنوں مشاورت کر رہے ہیں۔ ٹرمپ نے میئر نیو یارک کے بیان کو مسترد کر دیا ہے۔ ممدانی کچھ عرصہ پہلے بھی یہ کہہ چکے ہیں۔ تاہم ٹرمپ انتظامیہ نیتن یاہو کی کٹر اتحادی ہونے کے ناطے قطعاً ان کی گرفتاری کے حق میں نہیں ہیں۔
اس لیے صدر ٹرمپ نے پیر کے روز کہا اسرائیلی وزیر اعظم کو گرفتاری کا سامنا نہیں ہوگا۔ کیا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے آمد پر گرفتاری ہو سکتی ہے۔ ممدانی نے کہا تھا کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ میئر ممدانی کو اس بارے میں واضح نہیں ہے کہ وہ نیتن یاہو کی گرفتاری کے لیے نیو یارک پولیس کو حکم دے سکتے ہیں یا نہیں ۔
اتوار کے روز نیو یارک ٹائمز سے بات کرتے ہوئے ممدانی نے کہا تھا نیتن یاہو ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت سے متعلق ہیں۔ اس عدالت نے 2024 میں نیتن یاہو کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔
ٹرمپ نے دو ٹوک انداز میں سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں کہا ہے کہ انہیں امریکہ میں کسی گرفتاری کا سامنا نہیں ہوگا۔ نیتن یاہو اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔ نیتن یاہو کے دفتر نے بھی اس سلسلے میں ممدانی کے بیان کو مسترد کیا ہے۔ نیتن یاہو کے دفترنے بین الاقوامی فوجداری عدالت کو کینگرو کورٹ قرار دیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
حماس کے نومنتخب سربراہ خلیل الحیہ کی کامیابی غزہ کیلئے معنویت
دوحہ، خلیل الحیہ حماس کے نئے سربراہ منتخب ہو گئے ہیں اکتوبر 2024ء میں سابق سربراہ یحییٰ السنوار کی شہادت کے بعد حماس کے امور 5 رکنی قیادتی کونسل کے ذریعے چلائے جا رہے تھے، جس میں خلیل الحیہ بھی شامل تھے اس ہفتے ہونے والے قیادت کے انتخاب میں ان کے مدمقابل حماس کے سابق سیاسی بیورو چیف خالد مشعل تھے خلیل الحیہ نے 69 میں سے 35 ووٹ حاصل کرکے صرف ایک ووٹ کے فرق سے کامیابی حاصل کی۔
ماہرین کے مطابق ان کے انتخاب کے بعد امریکہ کے لیے حماس کے اندر ایک واضح قیادت سے رابطہ کرنا ممکن ہو سکتا ہے۔
عملیت پسند رہنما سمجھے جانے والے خلیل الحیہ کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ وہ گزشتہ سال اکتوبر میں غزہ سے متعلق مذاکرات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور امریکہ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے ساتھ براہِ راست رابطے میں رہے تھے۔
اگرچہ انہیں ایران کے قریب تصور کیا جاتا ہے، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسٹیو وٹکوف کے ساتھ قائم ہونے والے روابط مستقبل میں غزہ سے متعلق امریکی سرپرستی میں مزید مذاکرات کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔
یورپی کونسل آن فارن ریلیشنز (ای سی ایف آر) کے وزٹنگ فیلو، غزہ سے تعلق رکھنے والے محقق اور انسانی حقوق کے کارکن محمد شہادہ کے مطابق خلیل الحیہ کو ایرانی طرز کے محورِ مزاحمت کا فطری حصہ سمجھا جاتا ہے، لیکن وہ مذاکرات اور سفارتی راستہ اختیار کرنے میں بھی اتنے ہی آسودہ ہیں۔ میری معلومات کے مطابق اسٹیو وٹکوف براہِ راست خلیل الحیہ سے مذاکرات کے خواہاں تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حماس کے اندر خلیل الحیہ کو 4 شہداء کے والد کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ ان سانحات نے خلیل الحیہ اور اسٹیو وٹکوف کے درمیان ایک ذاتی تعلق بھی پیدا کیا، کیونکہ وٹکوف کا اپنا بیٹا 2011ء میں 22 برس کی عمر میں انتقال کر گیا تھا۔
محمد شہادہ کے مطابق اسٹیو وٹکوف نے ایک پروگرام میں اس حوالے سے کہا تھا کہ ہم نے ان (خلیل الحیہ) کے بیٹے کی وفات پر اظہارِ تعزیت کیا۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں بھی اپنا بیٹا کھو چکا ہوں اور ہم دونوں اس دردناک حلقے کا حصہ ہیں جنہوں نے اپنے بچوں کو دفن کیا ہے۔
غزہ میں پیدا ہونے والے خلیل الحیہ اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے مذاکرات میں مرکزی کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ یحییٰ السنوار اور اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے بعد تنظیم کے اندر ان کا اثر و رسوخ نمایاں طور پر بڑھا۔ گزشتہ سال دوحہ میں ہونے والے ایک اسرائیلی حملے میں بھی خلیل الحیہ کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
ای سی ایف آر کے سینئر پالیسی فیلو ہیو لووٹ کے مطابق خلیل الحیہ کا انتخاب حماس کے داخلی ڈھانچے میں کسی بنیادی تبدیلی کا اشارہ نہیں دیتا۔انہوں نے کہا کہ وہ درحقیقت تسلسل کی علامت ہیں۔ وہ یحییٰ السنوار کے دور میں غزہ میں نائب سربراہ تھے اور کافی عرصے سے اعلیٰ قیادت کا حصہ رہے ہیں۔ اگرچہ انہیں سخت گیر اور ایران کے قریب قرار دیا جاتا ہے، لیکن ان دونوں باتوں کو مناسب تناظر میں دیکھنا چاہیے۔
ایران سے تعلقات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ تنظیم میں ایران کے زیادہ پرجوش حامی بھی موجود ہیں، جبکہ حماس ہمیشہ عرب ممالک اور تہران کے درمیان اپنے تعلقات میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ اس وقت ایسا کوئی اشارہ نہیں کہ حماس مکمل طور پر ایران کے زیرِ اثر آ جائے گی۔
اسرائیلی جنگ کے باعث غزہ میں وسیع پیمانے پر تباہی اور تقریباً 72 ہزار فلسطینیوں کی اموات کے باوجود حماس نے علاقے میں اپنی انتظامی موجودگی برقرار رکھی ہے، جہاں خلیل الحیہ کو خاص اثر و رسوخ رکھنے والا رہنما سمجھا جاتا ہے۔
اگرچہ مسلسل اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں حماس کی عسکری صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا ہے، تاہم تنظیم اب بھی غزہ میں صحت کی بنیادی سہولتیں، ہنگامی امدادی کارروائیوں اور بعض شہری انتظامی امور کی نگرانی کر رہی ہے۔
قطر میں نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے پروفیسر خالد الحروب کا کہنا ہے کہ خلیل الحیہ کی تقرری دو واضح پیغامات دیتی ہے۔
پہلا یہ کہ حماس کا داخلی ڈھانچہ اور فیصلہ سازی کا نظام شدید حالات اور اپنی سیاسی و عسکری قیادت کے بڑے حصے کی شہادت کے باوجود فعال ہے۔ دوسرا یہ کہ غزہ اب بھی تنظیم کی فیصلہ سازی میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کا لازماً یہ مطلب نہیں کہ تنظیم زیادہ سخت گیر پالیسی اختیار کرے گی لیکن یہ ضرور ظاہر کرتا ہے کہ غزہ اب بھی اس کی اولین ترجیح ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا4 days agoہرمز جنگ سے پہلے والی حالت میں نہیں آئے گی، ایران
دنیا4 days agoایران کا شام میں امریکی کمانڈ سینٹر پر بڑا حملہ، امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ
دنیا6 days agoامریکہ نے ایران کی 130 ملین ڈالر سے زائد مالیت کی کرپٹو کرنسی منجمد کردی
دنیا6 days agoاگلے ہفتے ایران کے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنائیں گے، ٹرمپ
ہندوستان6 days agoپیپر لیک کے خلاف جنتر منتر پر احتجاج کر رہے طلبہ کے نام تھرور کا کھلا خط
دنیا4 days agoایران نے بحری جہازوں پر فائرنگ کی تو خمیازہ بھگتے گا: امریکہ
دنیا4 days agoکویت میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، ایران نے امریکی اڈے پر حملہ کیا ہے: روسی میڈیا
جموں و کشمیر3 days agoجموں سے 3,600 سے زائد ۔امرناتھ یاترا کے زائرین کا نیا جھتہ روانہ
ہندوستان5 days agoاتراکھنڈ کے طلبہ پیپر لیک کے خلاف ‘چھاتروں کی گونج’ سے جڑے: راہل
جموں و کشمیر4 days agoجموں و کشمیر: ڈوڈا کے بھدرواہ علاقے میں فائرنگ کے واقعے میں ایک شخص ہلاک، ایس او جی کے جوان زخمی
دنیا6 days agoامریکی ناکہ بندی سے قبل ایران سے وابستہ 9 جہازوں نے آبنائے ہرمز عبور کی
دنیا4 days agoامریکی حملوں کے جواب میں ایران کے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات پر نئے حملے




































































































