دنیا
ایران جنگ کے باوجود امریکہ وہیں کھڑا ہے، شاید پہلے سے بھی بدتر: اوباما
واشنگٹن، سابق امریکی صدر بارک اوباما نے کہا ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فروری میں ایران کے خلاف جنگ شروع کیے جانے سے پہلے امریکہ جس صورت حال میں تھا، ملک یا تو دوبارہ اُسی مقام پر آ گیا ہے یا شاید اب اس سے بھی بدتر حالت میں ہے۔
اوباما نے این بی سی کے پروگرام ’’ٹوڈے‘‘ کے شریک میزبان کریگ میلون کو جمعہ کو نشر ہونے والے انٹرویو میں کہا ’’ہم نے ایک جنگ لڑی، اربوں ڈالر خرچ کیے، اپنی فوج پر غیر معمولی دباؤ ڈالا، بہت سے لوگ جان سے گئے اور اب محسوس ہوتا ہے کہ ہم وہیں واپس آ گئے ہیں جہاں جنگ شروع کرنے سے پہلے تھے، بلکہ شاید کچھ زیادہ خراب حالت میں۔‘‘ انھوں نے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے بارے میں ردعمل میں کہا ’’مجھے جنگ بندی دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ہے اور مجھے امید ہے کہ یہ برقرار رہے گی۔‘‘
سابق صدر نے ایران کے خلاف جنگ کی وجوہ پر بھی سوال اٹھایا۔ اوباما نے یاد دلایا کہ ان کے دورِ حکومت میں طے پانے والے ایران جوہری معاہدے کے تحت ’’ایران نے جوہری ہتھیار تیار نہ کرنے پر اتفاق کیا تھا۔‘‘ انھوں نے کہا ’’اس انتظامیہ، یا اس انتظامیہ کی سابق شکل، نے اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی، جس کے نتیجے میں ایران نے اپنی جوہری صلاحیت میں مزید اضافہ کر لیا۔‘‘
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں 2018 میں 2015 کے ایران جوہری معاہدے سے دست برداری اختیار کی تھی۔ اس معاہدے میں 25 سال سے زائد مدت کے دوران تہران کے لیے تفصیلی اقدامات طے کیے گئے تھے، تاکہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے یا تیار کرنے سے روکا جا سکے۔ موجودہ مفاہمتی یادداشت میں ایران کے جوہری پروگرام کے مستقبل کے بارے میں مکمل وضاحت موجود نہیں۔
اوباما نے کہا اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم اس وقت انتشار اور سیاسی تقسیم کے دور سے گزر رہے ہیں، لوگ یہ محسوس کرتے ہیں کہ ہماری جمہوریت، ہمارے شہری رویے اور اقدار، اور ایک دوسرے کے ساتھ برتاؤ کے بارے میں ہماری مشترکہ سمجھ بوجھ کمزور پڑنا شروع ہو گئی ہے۔ انھوں نے کہا ’’ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اپنے منتخب نمائندوں کو جواب دہ بنائیں اور میرے خیال میں ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ ذمہ داری اب ماضی کا حصہ بن چکی ہے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکی اڈوں پر کارروائیاں حقِ دفاع میں کی گئیں: اسماعیل بقائی
تہران، ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکی اڈوں پر کارروائیاں حق دفاع میں کی گئیں۔
پریس بریفنگ میں انہوں نے کہا ہے کہ جب تک دوسرا فریق اپنی ذمے داریاں پوری نہیں کرتا، ایران بھی ایم او یو پر عملدرآمد نہیں کرے گا۔
اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ایران کو دفاع پر موردِ الزام ٹھہرانا غیر ذمے دارانہ ہے۔
ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز سےمتعلق عمان کے ساتھ مشترکہ طریقۂ کار طے کرنے کی کوشش کر رہا ہے، عمان پر امریکہ کے دباؤ نے ان کوششوں میں رکاوٹ ڈالی ہے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت بحران سے گزر رہی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ امریکہ مفاہمتی یادداشت کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے، جس نے آبنائے ہرمز پر ایرانی وعدے سے متعلق طے 1 ماہ کی مہلت بھی مکمل ہونے نہیں دی۔
ان کا کہنا ہے کہ ثالثین امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششیں اب بھی جاری رکھے ہوئے ہیں، بارہا کہہ چکے علاقائی ممالک ایران کے خلاف اپنی زمین استعمال نہ ہونے دیں، ایران آبنائے ہرمز میں تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق رکھتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایرانی اخبار نے ’انتقامی فہرست‘ جاری کر دی، ٹرمپ، اسٹارمر، میکرون، میلونی سمیت متعدد عالمی رہنما شامل
ہران، ایران کے ایک اخبار ’ہمشہری‘ نے آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد مبینہ طور پر ’انتقامی اہداف‘ کی ایک فہرست شائع کی ہے جس میں کئی عالمی رہنماؤں کی تصاویر شامل ہیں۔
اخبار ’ہمشہری‘ کی جانب سے شائع کی گئی فہرست میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی تصاویر کو ٹارگٹ کے نشان کے ساتھ دکھایا گیا ہے جبکہ مزید 11 عالمی رہنماؤں کو نارنجی رنگ کے قیدی لباس میں پیش کیا گیا ہے۔
اس فہرست میں برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر، امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو، اطالوی وزیرِ اعظم جارجیا میلونی اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون سمیت دیگر رہنما بھی شامل ہیں۔
یہ اشاعت ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے بیان کے بعد سامنے آئی ہے جنہوں نے اپنے والد آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد پہلی بار عوامی بیان دیا۔انہوں نے کہا کہ انتقام ہماری قوم کی خواہش ہے اور اسے لازمی طور پر پورا کیا جائے گا۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ جن مجرموں کے نام ایک فہرست میں شامل ہیں وہ پُرامن موت کی خواہش اپنے ساتھ قبروں میں لے جائیں گے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای جنگ سے پہلے منظرِ عام پر نہیں آئے تھے اور اطلاعات تھیں کہ وہ اسی حملے میں زخمی ہوئے تھے جس میں ان کے والد شہید ہوئے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق ہمشہری اخبار نے یہ بیان آن لائن فہرست کے ساتھ شائع کیا ہے، تاہم یہ فہرست اخبار کے ایڈیشن میں شامل نہیں کی گئی۔
واضح رہے کہ ایرانی حکومت کی جانب سے اس فہرست کی باضابطہ حمایت کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا ہے۔
دوسری جانب امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کے منصوبے بنائے تھے۔
امریکی حکام کے مطابق اسرائیل نے امریکہ کو صدر ٹرمپ کے خلاف ایک مخصوص سازش سے متعلق خفیہ معلومات فراہم کی تھیں۔
رپورٹس کے مطابق ممکنہ خطرے کے باعث ٹرمپ نے ترکی میں ہونے والی نیٹو سربراہ کانفرنس سے واپسی پر طیارہ تبدیل کیا، ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ میں ایران کی ہر فہرست میں شامل ہوں۔
ادھر خطے میں کشیدگی برقرار ہے، گزشتہ کے روز امریکا نے تجارتی جہازوں پر حملوں کے جواب میں تقریباً 140 اہداف کو نشانہ بنایا۔
ایران نے الزام عائد کیا ہے کہ جہازوں نے مقررہ راستے سے متعلق انتباہ کو نظر انداز کیا۔
ایران نے آبنائے ہرمز کو امریکی مداخلت کے خاتمے تک بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
آبنائے ہرمز سے معمول کے حالات میں دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل گزرتی ہے۔
ایرانی حکام نے امریکی حملوں کے بعد بحرین، کویت، قطر اور عمان سمیت کئی خلیجی ممالک کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، قطر نے حملوں کو خطرناک کشیدگی قرار دیا جبکہ عمان نے بھی ان کی مذمت کی۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ یک طرفہ معاہدوں کا دور ختم ہو چکا ہے، وعدے پورے کریں یا قیمت ادا کریں، حقیقت دروازے پر دستک دے رہی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
اب امریکہ آبنائےہرمز کا محافظ بنے گا
واشنگٹن، امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے کہا کہ اب امریکا آبنائےہرمز کا محافظ بنے گا۔
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز سے ٹیلیفونک انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ایران کے فوجی اثاثےتباہ کردیئے اور اب ایران کے ہر ڈرون حملے کا سخت جواب دیا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ کا مؤقف ہے ایران معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور صدر ٹرمپ نے کہا کہ اب امریکہ آبنائےہرمز کا محافظ بنےگا۔
صدر ٹرمپ چاہتے ہیں خدمت کے بدلے متعلقہ ملکوں کو بھاری معاوضہ ادا کرنا ہو گا ساتھ ہی ٹرمپ نے واضح کیا کہ ماضی کی طرح مفت میں حفاظت نہیں کی جائے گی۔
صدر ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ایران میں اب تک 52ہزار مظاہرین مارے جا چکے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا1 week agoسپریم لیڈر کے قاتل کو سزائے موت کی طرف لے جائیں گے: سربراہ ایرانی عدلیہ
دنیا1 week agoامریکہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کا نفاذ مشکل لیکن ممکن: قالیباف
ہندوستان6 days agoرام مندر چڑھاوا تنازع گرما گیا، تیواری بولے– ’قصورواروإ کو بچانے میں مصروف بی جے پی حکومت‘
ہندوستان1 week agoحکومت کی ایم ایس ایم ای مخالف پالیسیوں سے راجستھان کے بس ٹرک باڈی بلڈرز پر بحران۔ راہل
دنیا7 days agoایران کا انتقاماً یروشلم کو آزادی دلانے کا اعلان
دنیا6 days agoٹرمپ نے بندر عباس پر حملوں کی ویڈیو جاری کر دی
دنیا6 days agoایران کے امریکی اڈوں پر میزائل حملے، امریکہ پر اسلام آباد معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام
دنیا1 week agoنیٹو سربراہی اجلاس سے قبل یوکرین پر روس کا بدترین فضائی حملہ، 11 افراد ہلاک
دنیا1 week agoشہید رہبرِ اعلیٰ نے سکھا دیا کہ ایران کا عظیم سرمایہ عوام و اتحاد ہے: ایرانی صدر
دنیا1 week agoاسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز کی ایرانی قیادت کو دھمکی
دنیا5 days agoمشرق وسطیٰ میں کشیدگی: عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
دنیا6 days agoامریکہ کا ایران پر حملہ، اسرائیل کی جنوبی لبنان پر بمباری





































































































