دنیا
ایران میں پیٹروکیمیکل کارخانے پر امریکی بمباری، آبنائے ہرمز میں امریکی بحری جہاز پر ایرانی کا جوابی میزائل حملہ
واشنگٹن، امریکہ اور ایران نے پھر ایک دوسرے پر حملے شروع کر دیے ہیں، گزشتہ رات امریکی افواج نے ایران میں مخصوص اہداف پر فضائی حملے کیے، جب کہ سپاہ پاسداران نے جواب میں 18 اہم امریکی فوجی مقامات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر ایرانی اہداف پر سیلف ڈیفنس حملے مکمل کر لیے ہیں، فوج نے ایران کے مواصلاتی اور فضائی دفاعی نظام اور نگرانی کی صلاحیتوں کو نشانہ بنایا، تجارتی جہازوں کے لیے خطرہ بننے والے ایرانی اہداف پر بمباری کی گئی۔ سینٹکام کے مطابق حملے ایران کی بلاجواز اور مسلسل جارحیت کے جواب میں کیے گئے۔ اس آپریشن میں امریکی میرین کور، فضائیہ اور بحریہ نے مشترکہ طور پر حصہ لیا۔
رپورٹس کے مطابق جن مقامات کو نشانہ بنایا گیا وہ ایران کے جنوبی حصے میں واقع ہیں، جہاں فضائی دفاعی نظام، ریڈار اور ڈرون کنٹرول یونٹس کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی حملے کے باعث تہران، بندرعباس، میناب، جزیرہ کیش، قشم، سیریک میں دھماکے سنے گئے، عسلویہ کے علاقے میں امریکی حملے میں پیٹروکیمیکل کارخانے کو نشانہ بنایا گیا۔
دوسری جانب ایران نے آبنائے ہرمز میں امریکی بحری جہاز پر میزائل داغے، پاسداران انقلاب نے عراق میں امریکی ریڈار سسٹم کو بھی میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے خلیج کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے پر امریکی ایف 16 طیارے پر بھی میزائل داغا، جس کے بعد طیارہ خلیج فارس کی فضائی حدود سے باہر نکل گیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی فوج کے حملے کا کرارا جواب دیا گیا ہے اور 18 اہم امریکی فوجی مقامات کو نشانہ بنایا گیا، کویت کے علی السالم اور احمد الجابر بیسز پر حملے کیے گئے، بحرین کے شیخ عیسیٰ ایئر بیس کو بھی ٹارگٹ کیا گیا اور یہ کارروائیاں امریکی حملوں کے جواب میں کی گئیں، جن میں بندر عباس ہوائی اڈے، ساحلی چوکیوں، اور پولیس کمانڈ پر جارحیت کی گئی تھی۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے خبر دی کہ آبنائے ہرمز میں امریکی افواج اور پاسداران انقلاب کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، اور تہران نے آبنائے میں امریکی بحری جہاز پر میزائل داغے۔ دریں اثنا، ایران کے خاتم الانبیا ہیڈکوارٹر نے آبنائے ہرمز کو آئل ٹینکرز، تجارتی جہازوں کی آمد و رفت کے لیے بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے اور کہا ہے کہ جو جہاز آبنائے سے گزرنے کی کوشش کرے گا اسے نشانہ بنایا جائے گا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران پر حملے روک کر سفارتکاری کو موقع دیا لیکن وقت بہت کم ہے: ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران سے مذاکرات ناکام ہوئے تو بھرپور فوجی کارروائی کریں گے۔
امریکی ویب سائٹ ایگزیوس سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ حملے روک کر سفارتکاری کو ایک اور موقع دیا ہے لیکن وقت بہت کم ہے، مذاکرات تیزی سےکامیاب ہوں گے یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہو گا۔انہوں نے کہا کہ ثالث ملکوں کی درخواست پر کارروائی مؤخر کی ہے ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم سے کل ملاقات میں ایران سے متعلق حکمت عملی پر بات ہو گی۔
قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری شدید کشیدگی کے تناظر میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کردہ اپنی کئی منفرد اور جارحانہ تصاویر شیئر کر دیں۔
سائنس فکشن فلموں کے پوسٹرز کے انداز میں بنائی گئی ان تصاویر میں ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائیوں اور امریکی طاقت کا فرضی مظاہرہ کیا گیا ہے۔
ایک تصویر میں صدر ٹرمپ کو مشہورِ زمانہ سائنس فکشن سیریز ‘اسٹار ٹریک’ کے طرز پر ایک خلائی کمانڈر کے روپ میں دکھایا گیا ہے۔
جبکہ ایک اور تصویر میں وہ ایک امریکی اسٹیلتھ بمبار طیارے کے پس منظر میں کھڑے ہیں، جس پر “دنیا کا محافظ” لکھا ہوا ہے اور اس کے نیچے ایران کے جلتے ہوئے اہداف دیکھے جا سکتے ہیں۔
ایک تصویر میں ایران سے منسوب ایک بڑے آئل ٹینکر کو آگ کے شعلوں کی لپیٹ میں دکھایا گیا ہے، جبکہ ایک اور ہائی لائٹڈ تصویر میں صدر ٹرمپ خود امریکی پرچم کے ساتھ ایک ضبط کیے گئے ایرانی آئل ٹینکر پر کھڑے دکھائی دے رہے ہیں، جس پر کیپشن درج ہے: ’’اب یہ ہمارا آئل ٹینکر ہے‘‘۔
ایک اور شیئر کی گئی تصویر میں امریکی لڑاکا طیاروں کو ایران کے اہم ترین “خارگ آئل برآمدی ٹرمینل” اور ساحلی آئل ریفائنری کی تنصیبات پر شدید بمباری کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
کچھ تصاویر میں صدر ٹرمپ کو امریکی جنگی بحری جہازوں کے ایک عظیم الشان بیڑے کی قیادت کرتے ہوئے بھی فلمایا گیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران نے ثالثوں کے ذریعے کیے جانیوالے مذاکرات میں امریکی تجاویز مسترد کر دیں
تہران، ایران کے نائب وزیرخارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ تہران نے ثالثوں کے ذریعے کیے جانے والے مذاکرات میں امریکی تجاویز مسترد کردی ہیں۔
اپنے بیان میں کاظم غریب آبادی نے بتایا کہ ایران نے یہ اقدام امریکہ کے بے جا مطالبات کے سبب کیا ہے۔
ایران کے نائب وزیرخارجہ نے انکشاف کیا ہے کہ بات چیت اسلام آباد میں شروع ہوئی تھی، امریکہ نے ایسا منصوبہ پیش کیا جس میں بے جا مطالبات تھے جس پر ایرانی وفد نے منصوبہ واضح طور پر مستردکردیا۔
غریب آبادی نے کہا کہ امریکہ نے اعلان کیا تھا کہ اگر یہ منصوبہ مستردکردیا گیا تو مذاکرات کو ناکام سمجھا جائے گا اور امریکی وفد واپس چلا جائے گا، بات چیت کے آخر میں ہوا بھی یہی اور امریکی وفد بات چیت چھوڑ کر چلا گیا۔
غریب آبادی نے بتایا کہ ایرانی وفد نے نہ تو اس بات پر زور دیا اور نہ ہی درخواست کی کہ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا جائے اور یہ نقطہ نظر اس بات کی مثال ہے کہ ایران باوقار انداز سے سفارتکاری کررہا ہے۔
ایران کے نائب وزیرخارجہ نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز دوبارہ بند کیے جانے کے بعد عمان میں بھی بات چیت ہوئی۔ عمانی وفد نے زور دیا کہ جہازوں کی آمدورفت کیلئے کھولا گیا جنوبی راستہ اس وقت تک کھلا رکھا جائے جب تک کہ ایران اور عمان کے درمیان کسی نتیجے پر پہنچتے ہیں اور بعد میں یہ راستہ بند کردیا جائے مگر ایران نے اس تجویز کو قبول نہیں کیا۔
غریب آبادی نے کہا کہ ایران نے واضح کیا کہ بات چیت کا نتیجہ خواہ کچھ بھی ہو، جنگ کے آغاز ہی سے ایران کی اصولی پالیسی واضح ہے اور وہ یہ کہ ایسی تجاویز قبول نہیں کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو بند رکھنےکی پالیسی برقرار ہے اور یہ بھی ایران کی باوقار سفارتکاری کی دوسری مثال ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑی گراوٹ، ایک ہفتے کی کم ترین سطح پر آ گئیں
لندن، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑی گراوٹ کے بعد ایک ہفتے کی کم ترین سطح پر آگئیں، 2 دن میں 14 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
تفصیلات کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی اور ایک دوسرے پر حملے بند ہونے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی کمی دیکھی گئی۔
گزشتہ دو دنوں کے دوران بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں 14 فیصد تک گر گئی ہیں، جس کے بعد قیمتیں ایک ہفتے سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر آگئی۔
عالمی منڈی میں کاروباری ہفتے کے آغاز پر برینٹ اور امریکی خام تیل دونوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔
برینٹ خام تیل کی قیمت 1.57 فیصد کمی کے بعد 86.55 ڈالر فی بیرل پر آگئی، گذشتہ ہفتے کے اختتام پر برینٹ خام تیل 88.36 ڈالر پر بند ہوا تھا، جو 17 جولائی کے بعد اس کی کم ترین سطح تھی۔
امریکی خام تیل کی قیمت میں بھی 1.20 فیصد کی مزید کمی ہوئی اور یہ 81.05 ڈالر فی بیرل پر آ گیا ہے۔ اس سے قبل یہ 6.70 ڈالر کی کمی کے بعد 82.61 ڈالر پر بند ہوا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن و امان کی صورتحال اور امریکا و ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی اس گراوٹ کی بنیادی وجہ ہے اور اگر خطے میں کشیدگی مزید کم ہوتی ہے، تو آنے والے دنوں میں خام تیل کی قیمتوں پر مزید دباؤ آ سکتا ہے۔تاہم، ماہرین نے خبردار کیا شرقِ وسطیٰ کی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے اور کسی بھی نئی جغرافیائی سیاسی تبدیلی کی صورت میں قیمتیں دوبارہ اوپر جا سکتی ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا6 days agoایرانی صدر کا سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق نیا اور اہم انکشاف
دنیا7 days agoامریکہ-ایران رابطے کے لیے پاکستان اور قطر کی کوششیں جاری
ہندوستان7 days agoپیپر لیک احتجاج کے درمیان یوتھ کانگریس کی امدادی مہم، دہلی میں پھنسے اور زخمی طلبہ کے لیے ہیلپ لائن جاری
دنیا6 days agoایران جنگ پر 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے: امریکی وزیر جنگ
دنیا6 days agoامریکی صدر ٹرمپ کی نطنز کے پہاڑوں میں ایرانی ایٹمی مرکز پر حملے کی دھمکی
دنیا1 week agoمشرق وسطیٰ میں کشیدگی، خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی
دنیا1 week agoایران میں زیرِ تعمیر بجلی گھر پر امریکی حملہ، جوہری توانائی ایجنسی کا بیان
دنیا1 week agoایرانی افواج دشمن کی دراندازی کو فوری طور پر ناکام بنانے کیلئے تیار ہیں: آئی آر جی سی
جموں و کشمیر1 week agoریاستی درجہ بحال کرنے کے مطالبے پر نیشنل کانفرنس کا دہلی میں احتجاج
جموں و کشمیر7 days agoجب جموں و کشمیر کے عوام کو عمر عبداللہ کی ضرورت تھی، وہ نئی دہلی میں ’سیاسی ڈرامے‘ میں مصروف تھے: بی جے پی
ہندوستان5 days agoپیپر لیک پر حکومت کا قدم نا کافی اور گمراہ کن، جواب دہی طے کریں مودی: کھرگے-راہل
ہندوستان6 days agoدہلی پولیس کی کارروائی پر بھڑکی کانگریس، جمہوریت پر حملے کا لگایا الزام









































































































