دنیا
تیل برآمدات پر پابندی ختم، لبنان جنگ کے خاتمے کی طرف بڑی پیش رفت، عباس عراقچی کا اعتراف
تہران، ایران کے وزیر خارجہ نے اعتراف کیا ہے کہ ایرانی تیل برآمدات پر پابندی ختم کر دی گئی ہے اور لبنان جنگ کے خاتمے کی طرف بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔
عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ پاکستان اور قطر کی ان تھک ثالثی کی کوششوں کے نتیجے میں لبنان جنگ کے خاتمے کی جانب بڑی پیش رفت ہوئی ہے، تیل اور پیٹروکیمیکل برآمدات پر عائد پابندیاں ختم کردی گئی ہیں اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اٹھا لی گئی ہے۔
وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ایران کے منجمد اثاثوں کا کچھ حصہ جاری کر دیا گیا ہے اور ایران کے لیے تعمیرِ نو اور ترقی کا ایک بڑا منصوبہ شروع کر دیا گیا ہے۔ بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ اقدامات کی تفصیلات اور عمل درآمد کے مراحل آئندہ مذاکرات سے مشروط ہیں، لبنان ڈی کنفلیکشن سیل معاہدے کا پہلا بڑا امتحان ہوگا۔
واضح رہے کہ پاکستان اور قطر نے امریکہ ایران مذاکرات کا مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا ہے، اعلامیے کے مطابق فریقین نے 60 روز میں حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے روڈ میپ پر اتفاق کر لیا ہے، ایران اور امریکہ کے تکنیکی مذاکرات کا آغاز فوری ہوگا۔ اعلامیے کے مطابق پاکستان اور قطر کی ثالثی میں اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دی جائے گی، یہ کمیٹی مذاکراتی عمل کی نگرانی کرے گی، ایٹمی پروگرام، پابندیوں اور تنازعات کے حل کے لیے ورکنگ گروپس تشکیل دیے جائیں گے، لبنان میں فوجی کارروائیوں کے خاتمے پر عمل درآمد کے لیے سیل قائم کیا جائے گا، اور آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کے لیے رابطہ نظام قائم ہوگا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
پاکستان اور قطر کی ثالثی میں مذاکرات میں پیشرفت، ایران کو کچھ منجمد اثاثے جاری، ناکہ بندی بھی اٹھا لی گئی
تہران، پاکستان اور قطر کی ثالثی میں مذاکرات میں پیشرفت ہوئی ہے اور امریکہ کی جانب سے ایران کو کچھ منجمد اثاثے جاری کر دیے گئے۔
ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ پاکستان اور قطر کی ثالثی میں لبنان جنگ کے خاتمے کے لیے بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔ سوئٹزرلینڈ میں ایران امریکہ مذاکرات کے بعد قطر اور پاکستان کی جانب سے مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے پر ردعمل دیتے ہوئے ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران کے لیے تیل اور پیٹروکیمیکل کی برآمدات پر پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں۔
عباس عراقچی نے بتایا کہ ناکہ بندی اٹھا لی گئی ہے اور کچھ منجمد اثاثے جاری کر دیے گئے ہیں۔ اس سے پہلے ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ حتمی معاہدے کے آغاز کے لیے مذاکرات کی بنیاد رکھنے پر بات چیت کی گئی۔بات چیت میں دوسرے فریق کی ذمہ داریوں پر عملدرآمد سے متعلق اچھی پیش رفت ہوئی ہے۔
واضح رہے کہ سوئٹزرلینڈمیں ایران امریکامذاکرات کے بعد قطر اور پاکستان نے مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق فریقین نے مذاکرات کی نگرانی کے لیے اعلیٰ سطح کمیٹی کے قیام پر اتفاق کرلیا، حتمی معاہدے کے لیے 60 روزہ روڈمیپ منظور کرلیا گیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
اسرائیلی وزیراعظم کی ہٹ دھرمی، جنوبی لبنان میں سکیورٹی زون پر قبضہ برقرار رکھنے کا اعلان
تل ابیب، اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں سکیورٹی زون پر قبضہ برقرار رکھے گی۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوجیں جنوبی لبنان میں جب تک ضروری ہوا موجود رہیں گی۔
اتوار کے روز بیان دیتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ ہم شمال کے عزیز شہریوں اور اسرائیل کے تمام شہریوں کے تحفظ کے لیے جنوبی لبنان کے سکیورٹی زون میں جب تک ضروری ہوا موجود رہیں گے، اس عزم کو کوئی چیز تبدیل نہیں کرسکتی۔
اسرائیلی وزیراعظم نے ایران کے حوالے سے کہا کہ سیاسی حالات جیسے بھی ہوں، میں ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دوں گا، جب تک میں اسرائیل کا وزیرِ اعظم ہوں، ایسا نہیں ہو سکتا۔ بعد ازاں ایک عوامی تقریب میں نیتن یاہو نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ نے اسرائیل کا اہم مقصد حاصل کر لیا ہے، یعنی ایران کو ایٹمی ہتھیار رکھنے سے روکنا۔
نیتن یاہو نے کہا کہ ہم نے ایران کو ہمیں مٹانے کے منصوبے پر عمل کرنے سے روکا۔ اگر ہم ایسا نہ کرتے تو آج ان کے پاس ایٹم بم ہوتے اور وہ انہیں استعمال بھی کرتے۔ نیتن یاہو کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی نے ایران کے انقلابی گارڈز کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس سے وہ طویل عرصے تک سنبھل نہیں پائیں گے۔
دوسری جانب حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے کہا کہ اسرائیل لبنان میں اپنی موجودگی برقرار نہیں رکھ سکتا، لبنان جنگ بندی کی کسی بھی خلاف ورزی کا جواب دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو نے ایران کے خلاف جارحیت کیلئے ٹرمپ کو آمادہ تو کرلیا لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا،آج ایران اپنےسپریم لیڈر کی شہادت کے باوجود پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا
لندن، برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا۔
ٹین ڈاؤننگ اسٹریٹ پر پریس بریفنگ کے دوران برطانوی وزیراعظم نے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہاکہ بار بار یہ بتایا گیا ہماری پارٹی کمزورہوگئی اور ختم ہوگئی، میں پارٹی کی خواہش پر پارٹی لیڈرشپ سے مستعفی ہوتا ہوں، آج صبح کنگ چارلس سے گفتگو کی، قیادت کے انتخابی عمل کی تکمیل تک میں اپنے عہدے پر برقرار رہوں گا۔
کیئر اسٹارمر کا کہنا تھا کہ آنے والے وزیراعظم کے ساتھ مکمل تعاون کروں گا، اقتدارکی منظم اور ہموارمنتقلی یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کروں گا۔
واضح رہےکہ کیئر اسٹارمر نے 2024 کے عام انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی۔ برطانیہ میں لیبر پارٹی 4 جولائی 2024 کو دوبارہ برسرِاقتدار آئی، لیبر پارٹی نے عام انتخابات میں تاریخی کامیابی حاصل کی، 2024 میں لیبر پارٹی کی کامیابی سے 14 سال سے جاری کنزرویٹو پارٹی کے اقتدار کا خاتمہ ہوا تھا۔ ایک دہائی کے دوران برطانیہ کے چھٹے وزیراعظم مستعفی ہوئے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان1 week agoفضائیہ کا مال بردار طیارہ حادثے کا شکار، پانچ اہلکار شہید
جموں و کشمیر1 week agoشمالی کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب پی او جے کے کا 19 سالہ نوجوان گرفتار
ہندوستان4 days ago‘اسلام آباد ایم او یو’ پر جے رام رمیش کا مرکز پر حملہ، کہا- مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو بڑا جھٹکا
دنیا1 week agoامریکہ نے ایران کے جوہری مواد پر قبضے کیلئے زمینی کارروائی کا منصوبہ بنالیا تھا تاہم ٹرمپ پیچھے ہٹ گئے: امریکی میڈیا
دنیا7 days ago‘ٹرمپ کامعاہدہ ہمیں پابند نہیں کرتا’، اسرائیلی وزیر ایران امریکہ معاہدے پر سیخ پا
دنیا1 week agoتاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی
جموں و کشمیر6 days agoگاندربل ‘انکاؤنٹر’ کے مقتول کی لاش قبر سے نکال کر اہلِ خانہ کے حوالے
دنیا1 week agoعین وقت پر امریکہ ایران امن معاہدے میں تاخیر اسرائیلی حملے کے سبب
دنیا1 week agoامریکہ ایران معاہدے پر کل دستخط نہیں ہوں گے: ایرانی وزارت خارجہ
ہندوستان7 days agoسلوواکیہ میں مودی کا ہوا شاندار استقبال
دنیا5 days agoایرانی آرمی چیف کا دفاعی طاقت مزید بڑھانے کا اعلان
دنیا5 days agoجی سیون ممالک کا امریکہ اور ایران امن معاہدے کی حمایت کا اعلان





































































































