دنیا
جرمنی نے آبنائے ہرمز کی بندش کا ذمہ دار ٹرمپ کو قرار دے دیا
برلن، جرمن وزیر دفاع بورس پسٹوریئس نے آبنائے ہرمز کی بندش کا ذمہ دار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ٹھہراتے ہوئے عالمی توانائی کی سیکیورٹی کے پیش نظر اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کو فوری طور پر دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔
جرمن نشریاتی ادارے ‘اے آر ڈی’ کو انٹرویو دیتے ہوئے بورس پسٹوریئس کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے ذمہ دار ڈونلڈ ٹرمپ ہیں، نہ کہ ہم، لیکن اس بندش کو ختم کروانا اب ہمارے مفاد میں ہے۔ انہوں نے واشنگٹن کی ایران پالیسی سے جرمنی کے فاصلے کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ اس اہم گزرگاہ کو کھولنا اور وہاں محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا یورپ کے اقتصادی استحکام اور توانائی کی فراہمی کے لیے انتہائی ناگزیر ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے غیر معاندانہ ممالک کو جہاز رانی کی آزادی دینے کی لچک کے باوجود امریکہ نے آبنائے ہرمز کی مکمل ناکہ بندی کر دی تھی، جس کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوا اور دنیا کو توانائی کے بڑے بحران کا سامنا کرنا پڑا۔۔ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب امریکہ اور ایران کے درمیان لبنان پر فوجی جارحیت روکنے کا معاہدہ طے پانے کے باوجود اسرائیلی حملے جاری رہے، جس کے ردعمل میں ایران نے اس اہم آبی گزرگاہ کو بند کر دیا۔
جرمن وزیر دفاع نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایران اور عمان کے ساتھ سفارتی تعاون اور ہم آہنگی کی ضرورت ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ جرمنی نے ممکنہ فوجی مشن کی تیاری کے طور پر دو بحری جہاز بحیرہ احمر کی طرف روانہ کر دیے ہیں، تاہم مائنز صاف کرنے کے کسی بھی آپریشن کے لیے ایران اور عمان کی منظوری لازمی ہوگی۔
دوسری جانب جرمن چانسلر فریڈرک میرز نے بھی اس موقف کو دہرایا ہے کہ جرمنی اس جنگ کا حصہ نہیں ہے اور نہ ہی وہ اس براہِ راست تصادم میں شامل ہونا چاہتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
فریقین کی تکنیکی ٹیمیں سوئٹزرلینڈ میں ہی رہیں گی اور اپنا کام جاری رکھیں گی
برن، امریکہ اور ایران کی تکنیکی ٹیمیں سوئٹزرلینڈ میں ہی رہیں گی اور مذاکراتی سلسلے کو آگے بڑھانے کے لیے اپنا کام جاری رکھیں گی۔
امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں نے سوئٹزرلینڈ میں اتوار کی رات تک طویل اور مسلسل مذاکرات کیے، تاکہ وہ ایک نئے جوہری معاہدے کی جانب بڑھ سکیں اور اگلے 60 روز میں ایک حتمی معاہدے کی تشکیل کی طرف پیش رفت کر سکیں۔
جھیل لوسرن سمٹ میں تقریباً بغیر وقفے جاری رہنے والے مذاکرات اس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ دونوں فریق نمایاں اختلافات کے باوجود رابطے میں ہیں اور علاقائی سلامتی سے متعلق وسیع تر بات چیت کی بنیاد رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایک امریکی سفارت کار نے امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ تکنیکی ٹیمیں ہفتے کے باقی دنوں میں مذاکرات جاری رکھنے کے لیے سوئٹزرلینڈ میں ہی موجود رہیں گی۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے بھی خبر دی کہ ایرانی وفد سوئٹزرلینڈ سے واپس روانہ ہو گیا ہے تاہم تکنیکی ٹیمیں مذاکرات جاری رکھیں گی۔ امریکہ ایران نے 60 روز میں حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے روڈ میپ پر اتفاق کر لیا سوئٹزر لینڈ میں 4 فریقی مذاکرات مکمل ہونے کے بعد ایرانی وفد واپس روانہ ہو گیا ہے، ایرانی وفد کے رکن مہدی قربان زادہ نے مذاکرات کے بعد اپنے بیان میں کہا کہ لبنان کے مسئلے کے حل تک دیگر معاملات پر مزید پیش رفت یا تفصیلی بات چیت نہیں ہوگی، ان کا کہنا تھا کہ خطے میں پائیدار استحکام کے لیے لبنان سے متعلق مسائل کا حل ناگزیر ہے۔
دوسری طرف امریکی سفارت کار نے بتایا کہ ایران سے مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے، مفاہمتی یادداشت کی شقوں پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر مفید بات چیت ہوئی، آبنائے ہرمز سمیت ایران کے ساتھ تمام نکات پر بغیر کسی رکاوٹ کے بات چیت ہوئی اور جوہری معاہدے کے تمام پہلوؤں پر تبادلہ خیال ہوا، جب کہ مذاکرات کا اہم محور لبنان میں جنگ بندی کو نافذ کرنے کا طریقہ کار تھا۔
یہ مذاکرات نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں ہوئے، جن میں وائٹ ہاؤس کے نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی شامل تھے۔ جب ہفتے کے روز جھیل لوسرن میں مذاکرات کا آغاز ہوا تو صدر ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل اکاؤنٹ اور فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایران کے خلاف کئی دھمکیاں دیں۔ تیل برآمدات پر پابندی ختم، لبنان جنگ کے خاتمے کی طرف بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔ تاہم مذاکرات کے دوران نجی طور پر بھی یہ معاملہ اٹھایا اور کہا کہ یہ امریکہ-ایران مفاہمتی یادداشت کے آرٹیکل 1 کی خلاف ورزی ہے، جس کے مطابق مذاکرات کے دوران دونوں فریق طاقت کے استعمال کی دھمکیوں سے گریز کریں گے۔
ثالثی کرنے والے ممالک میں سے ایک ذریعے اور ایک امریکی سفارت کار نے بتایا کہ اگرچہ ایرانی حکام نے ساتھ سفر کرنے والے صحافیوں کو کہا تھا کہ وہ ٹرمپ کی عوامی دھمکیوں کے خلاف احتجاجاً مذاکرات سے نکل گئے ہیں، لیکن عملی طور پر مذاکرات پورا دن جاری رہے تھے۔ ایکسیوس نے ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا کہ لبنان کے بارے میں ہونے والی گفتگو ’’کشیدہ‘‘ تھی۔ حکام نے سیاسی رہنماؤں اور تکنیکی ٹیموں کے درمیان آئندہ مذاکرات جاری رکھنے کے لیے ایک فریم ورک پر بھی گفتگو کی۔
امریکہ، ایران، پاکستان اور قطر کے نمائندے مذاکرات کی پیش رفت سے مطمئن دکھائی دیے۔ ان مذاکرات میں ایک ابتدائی خاکہ تیار کرنے میں کامیابی ملی ہے جو آئندہ ہفتوں میں ہونے والی تکنیکی بات چیت کی رہنمائی کرے گا۔
واضح رہے کہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے یہ مذاکرات 18 گھنٹے جاری رہے اور امریکہ اور ایران نے 60 دن کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایک روڈ میپ پر اتفاق کیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
اسٹارمر کے مستعفی ہونے کی خبروں کے درمیان ٹرمپ نے نیک خواہشات کا اظہار کیا
واشنگٹن/لندن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ کے وزیر اعظم کیر اسٹارمر کے ممکنہ استعفے سے متعلق خبروں کے درمیان ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں لکھا، “برطانیہ کے وزیر اعظم کیر اسٹارمر استعفیٰ دے دیں گے۔ میں ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتا ہوں۔”
تاہم ٹرمپ نے اپنے دعوے کے حق میں کوئی ثبوت یا اندرونی معلومات پیش نہیں کیں۔
ان کی یہ پوسٹ ایسے وقت میں سامنے آئی جب برطانوی ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ دباؤ کا شکار لیبر پارٹی کے رہنما کیر اسٹارمر آئندہ چند دنوں میں اپنے عہدے سے مستعفی ہو سکتے ہیں۔
ٹرمپ اس سے قبل بھی ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں کی حمایت نہ کرنے پر اسٹارمر کو تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔ اتوار کو اپنی پوسٹ میں انہوں نے ایک بار پھر برطانوی وزیر اعظم پر دو اہم معاملات میں ناکامی کا الزام عائد کیا۔
ٹرمپ نے لکھا، “وہ دو انتہائی اہم موضوعات، امیگریشن اور توانائی (شمالی سمندر میں تیل کی پیداوار کھولو!) میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔”
برطانوی حکومت کی جانب سے تاحال اسٹارمر کے استعفے سے متعلق خبروں کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی ہے۔
یواین آئی۔ م س
دنیا
امریکہ-ایران مذاکرات تعطل کا شکار، لیکن ختم نہیں ہوئے؛ پس پردہ رابطے جاری
تہران/برگن اسٹاک، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ دھمکیوں کے بعد سوئٹزرلینڈ کے برگن اسٹاک میں جاری امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات فی الحال تعطل کا شکار ہو گئے ہیں، تاہم بات چیت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔
سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق مذاکراتی عمل سے وابستہ ایک ایرانی ذرائع نے بتایا کہ دونوں فریقوں کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے پس پردہ رابطے (بیک چینل رابطے) بدستور جاری ہیں۔
دریں اثنا ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے ٹرمپ کے بیانات پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہیں امریکہ کی “مایوسی” قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ ٹرمپ نے اتوار کو مذاکراتی عمل کے دوران خبردار کیا تھا کہ اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو امریکہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھالنے کے لیے اقدامات کر سکتا ہے۔
قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا، “اگر ان کی دھمکیاں واقعی مؤثر ہوتیں تو آج انہیں اس حد تک مایوسی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ ایران امریکی دھمکیوں کو سنجیدگی سے نہیں لیتا اور ملک کی مسلح افواج ہر قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
یواین آئی۔ م س
جموں و کشمیر1 week agoاین سی ایل ٹی نے سراج العلوم کے لیے عبوری لیکویڈیٹر مقرر کر دیا، اثاثے منجمد
جموں و کشمیر1 week agoشمالی کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب پی او جے کے کا 19 سالہ نوجوان گرفتار
ہندوستان1 week agoفضائیہ کا مال بردار طیارہ حادثے کا شکار، پانچ اہلکار شہید
ہندوستان4 days ago‘اسلام آباد ایم او یو’ پر جے رام رمیش کا مرکز پر حملہ، کہا- مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو بڑا جھٹکا
دنیا1 week agoامریکہ نے ایران کے جوہری مواد پر قبضے کیلئے زمینی کارروائی کا منصوبہ بنالیا تھا تاہم ٹرمپ پیچھے ہٹ گئے: امریکی میڈیا
دنیا7 days ago‘ٹرمپ کامعاہدہ ہمیں پابند نہیں کرتا’، اسرائیلی وزیر ایران امریکہ معاہدے پر سیخ پا
دنیا7 days agoتاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی
جموں و کشمیر6 days agoگاندربل ‘انکاؤنٹر’ کے مقتول کی لاش قبر سے نکال کر اہلِ خانہ کے حوالے
دنیا7 days agoعین وقت پر امریکہ ایران امن معاہدے میں تاخیر اسرائیلی حملے کے سبب
دنیا1 week agoامریکہ ایران معاہدے پر کل دستخط نہیں ہوں گے: ایرانی وزارت خارجہ
ہندوستان7 days agoسلوواکیہ میں مودی کا ہوا شاندار استقبال
دنیا5 days agoایرانی آرمی چیف کا دفاعی طاقت مزید بڑھانے کا اعلان








































































































