جموں و کشمیر
راجوری: مشتبہ دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع، سکیورٹی فورسز کا وسیع سرچ آپریشن
جموں ، جموں و کشمیر کے ضلع راجوری کے تھانہ منڈی علاقے میں مشتبہ دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد سکیورٹی فورسز نے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔سرکاری ذرائع کے مطابق علاقے میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو مشتبہ افراد کو دیکھا گیا، جس کے بعد جموں و کشمیر پولیس، ہندوستانی فوج، سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) اور اسپیشل آپریشنز گروپ (ایس او جی) کی مشترکہ ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تھنہ منڈی اور اس سے ملحقہ دیہات میں تلاشی مہم شروع کر دی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سکیورٹی اہلکار مشتبہ افراد کا سراغ لگانے کے لیے علاقے کے مختلف مقامات کی باریک بینی سے تلاشی لے رہے ہیں، جبکہ داخلی اور خارجی راستوں پر بھی نگرانی سخت کر دی گئی ہے۔آخری اطلاعات موصول ہونے تک سرچ آپریشن جاری تھا، تاہم کسی گرفتاری یا جھڑپ کی اطلاع نہیں ملی۔
یو این آئی۔م ا ع
جموں و کشمیر
پہلگام دہشت گردانہ حملہ کیس: این آئی اے عدالت نے حافظ سعید کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری کر دیا
جموں، قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کی جانب سے پہلگام دہشت گردانہ حملے کے سلسلے میں پاکستان میں مقیم ممنوعہ تنظیم لشکرِ طیبہ کے سرغنہ حافظ سعید کے خلاف سپلیمنٹری چارج شیٹ (تتمہ فردِ جرم) داخل کیے جانے کے چند دن بعد، جموں کی خصوصی این آئی اے عدالت نے ان کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری کر دیا ہے۔
یہ حکم خصوصی این آئی اے عدالت کے جج نے پہلگام حملے کی جاری تحقیقات کے سلسلے میں دائر درخواست پر سماعت کے بعد پاس کیا۔ عدالت کے حکم نامے کے مطابق، کیس (RC No. 02/2025/NIA/JMU) میں مفرور ملزم حافظ محمد سعید کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری کرنے کے لیے ایک درخواست پیش کی گئی تھی، جس پر کارروائی کرتے ہوئے یہ وارنٹ جاری کیا گیا ہے۔
عدالتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے) 1967 کے تحت نامزد دہشت گرد اور لشکرِ طیبہ کا بانی حافظ سعید، جو سرگودھا، پنجاب (پاکستان) کا رہنے والا ہے، اس وقت پاکستان سے اپنی سرگرمیاں چلا رہا ہے۔ آرڈر کے مطابق
“ملزم جان بوجھ کر اپنی گرفتاری سے بچ رہا ہے، اس لیے این آئی اے نے معاملے میں مزید کارروائی شروع کرنے اور تفتیش کو آگے بڑھانے کے لیے ملزم کے خلاف کھلی تاریخ کا غیر ضمانتی وارنٹ جاری کرنے کی استدعا کی تھی۔”
عدالت نے مزید کہا کہ مقدمے کی منصفانہ، مکمل اور مؤثر تحقیقات کے لیے ملزم کی گرفتاری اور حراستی تفتیش انتہائی ضروری ہے۔ اسی بنیاد پر حافظ محمد سعید کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری کر کے اسے قانون کے مطابق تعمیل کے لیے ڈی آئی جی، این آئی اے، جموں کو بھیج دیا گیا ہے۔
حافظ سعید، جنہیں ہندوستان اور امریکہ کی جانب سے عالمی دہشت گرد قرار دیا جا چکا ہے، 2008 کے ممبئی دہشت گردانہ حملوں کے ماسٹر مائنڈ بھی مانے جاتے ہیں۔ قومی تحقیقاتی ایجنسی ( این آئی اے) نے 6 جولائی 2026 کو پہلگام حملے کے کیس میں ان کے خلاف چارج شیٹ داخل کی تھی۔
یو این آئی۔م ا ع
جموں و کشمیر
لداخ میں غیر قانونی ‘آف روڈنگ’ پر12 بائیکرز اورایس یو وی ڈرائیور کو بھاری جرمانہ
سری نگر، لداخ انتظامیہ نے ماحولیاتی طور پر انتہائی حساس اور جنگلی حیات کے لیے محفوظ علاقوں میں غیر قانونی طور پر گاڑیاں چلانے (آف روڈنگ) کے خلاف سخت ترین کارروائی کی ہے۔ انتظامیہ نے 12 موٹر سائیکل سواروں پر مجموعی طور پر 1.20 لاکھ روپے اور ایک ایس یو وی کے مالک پر 50 ہزار روپے کا بھاری جرمانہ عائد کیا ہے۔ موٹر سائیکل سواروں کے کسی گروپ کے خلاف ممنوعہ علاقوں میں آف روڈنگ پر لداخ انتظامیہ کی یہ اب تک کی پہلی بڑی کارروائی ہے۔
حکام کے مطابق، یہ کارروائی لداخ کے نازک ماحولیاتی نظام کو نقصان پہنچانے والی غیر قانونی آف روڈنگ کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے شروع کی گئی مہم کا حصہ ہے۔محکمہ جنگلی حیات (وائلڈ لائف) کی جانب سے دو مختلف مقامات پر کارروائی کی گئی۔
4 جولائی کو وائلڈ لائف حکام نے چانگ تھانگ وائلڈ لائف سینکچری کے اندر واقع حساس دلدلی علاقے تسو موریری کے قریب 12 بائیکرز کے ایک گروپ کو غیر قانونی آف روڈنگ کرتے ہوئے پکڑا۔ یہ گروپ گروگرام (ہریانہ) کے ایک ٹور آپریٹر ‘وانڈران ایکسپیرینسز پرائیویٹ لمیٹڈ’ کے تحت سفر کر رہا تھا۔ ان پر وائلڈ لائف (پروٹیکشن) ایکٹ 1972 کے سیکشن 29 کی خلاف ورزی کے تحت فی بائیکر 10 ہزار روپے (مجموعی طور پر 1.20 لاکھ روپے) جرمانہ عائد کیا گیا۔
اس سے قبل، 30 جون کو حکام نے پینگونگ جھیل کے کنارے ‘مان’ نامی گاؤں کے پاس چانگ تھانگ سینکچری کی حدود میں غیر قانونی طور پر چلنے والی ایک مہندرا گاڑی کو قبضے میں لیا۔ اتر پردیش کے شہر میرٹھ سے تعلق رکھنے والے اس گاڑی کے ڈرائیور پر سیکشن 50 کے تحت 50 ہزار روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا، جس کی ادائیگی کے بعد گاڑی کو چھوڑا گیا۔
یو این آئی۔م ا ع
جموں و کشمیر
کشمیر میں سنگھاڑے کی فصل میں بھاری دھاتوں کا انکشاف؛ ڈل جھیل سب سے زیادہ آلودہ: سائنسی رپورٹ
سری نگر، وادی کشمیر کی مشہور جھیلوں سمیت دیگر آبی ذخائر میں زہریلی بھاری دھاتوں کی آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے، اور یہ آلودگی اب یہاں پیدا ہونے والے سنگھاڑوں میں بھی سرایت کر رہی ہے، جو کہ مقامی آبادی کی غذا کا ایک اہم حصہ ہیں۔
بین الاقوامی سائنسی جریدے “سائنسی رپورٹس” میں شائع ہونے والی ایک حالیہ تحقیق نے کشمیر کے چار بڑے آبی ذخائر سے حاصل کیے جانے والے سنگھاڑوں (مقامی نام: گور) میں بھاری دھاتوں کی موجودگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس تحقیق میں جھیل ڈل کو سب سے زیادہ آلودہ قرار دیا گیا ہے۔
ماہرین نے اپنے مطالعے کے دوران جھیل ڈل، ہوکرسر ویٹ لینڈ، مانسبل جھیل اور وولر جھیل سے پانی، رسوب (تلچھٹ) اور سنگھاڑے کے پودوں کے مختلف حصوں کے نمونے جمع کیے۔ تحقیق کے دوران کیڈمیم، کرومیم، تانبا، کوبالٹ، آئرن، مینگنیز، نکل اور زنک سمیت آٹھ بھاری دھاتوں کی موجودگی کا جائزہ لیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق، سنگھاڑے کے پودے کی جڑوں میں بھاری دھاتوں کی سب سے زیادہ مقدار پائی گئی، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پودے یہ آلودگی جھیل کی تہہ میں موجود زہریلے مواد سے جذب کرتے ہیں۔
جڑوں میں آئرن کی مقدار سب سے زیادہ 322.50 ملی گرام فی کلوگرام اور زنک کی مقدار 82.45 ملی گرام فی کلوگرام ریکارڈ کی گئی۔
اگرچہ سنگھاڑے کے پھل (کھانے والے حصے) میں جڑوں کے مقابلے میں آلودگی کم تھی، لیکن جھیل ڈل سے حاصل کردہ پھلوں میں کیڈمیئم کی مقدار 0.11 ملی گرام فی کلوگرام تک پائی گئی۔ یہ مقدار عالمی ادارہ صحت کی مقرر کردہ محفوظ حد (0.02 ملی گرام فی کلوگرام) سے تقریباً 5.5 گنا زیادہ ہے۔
ماہرین نے بین الاقوامی معیارات کے تحت صحت کے خطرات کا اندازہ لگاتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ جھیل ڈل سے نکالے گئے سنگھاڑوں کا مستقل استعمال انسانی صحت کے لیے شدید خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔سائنسدانوں نے آبی ذخائر کی اس ابتر صورتحال کا ذمہ دار انسانی سرگرمیوں کو ٹھہرایا ہے۔
سائنس دانوں نے اس آلودگی کی بنیادی وجوہات میں بغیر صفائی کے چھوڑا جانے والا گھریلو سیوریج، زرعی بہاؤ، شہری کچرا، ہاؤس بوٹس کا فضلہ اور دیگر انسانی سرگرمیوں کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، سری نگر میں روزانہ تقریباً 193 ملین لیٹر گندا پانی پیدا ہوتا ہے، جس میں سے 140 ملین لیٹر پانی بغیر کسی فلٹریشن یا ٹریٹمنٹ کے براہِ راست یا بالواسطہ طور پر جھیل ڈل میں بہا دیا جاتا ہے۔
ماجد جہانگیر
دنیا1 week agoسپریم لیڈر کے قاتل کو سزائے موت کی طرف لے جائیں گے: سربراہ ایرانی عدلیہ
دنیا1 week agoامریکہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کا نفاذ مشکل لیکن ممکن: قالیباف
ہندوستان1 week agoحکومت کی ایم ایس ایم ای مخالف پالیسیوں سے راجستھان کے بس ٹرک باڈی بلڈرز پر بحران۔ راہل
ہندوستان6 days agoرام مندر چڑھاوا تنازع گرما گیا، تیواری بولے– ’قصورواروإ کو بچانے میں مصروف بی جے پی حکومت‘
دنیا6 days agoایران کے امریکی اڈوں پر میزائل حملے، امریکہ پر اسلام آباد معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام
دنیا1 week agoایران کا انتقاماً یروشلم کو آزادی دلانے کا اعلان
دنیا6 days agoٹرمپ نے بندر عباس پر حملوں کی ویڈیو جاری کر دی
دنیا1 week agoنیٹو سربراہی اجلاس سے قبل یوکرین پر روس کا بدترین فضائی حملہ، 11 افراد ہلاک
دنیا6 days agoمشرق وسطیٰ میں کشیدگی: عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
دنیا6 days agoامریکہ کا ایران پر حملہ، اسرائیل کی جنوبی لبنان پر بمباری
ہندوستان4 days agoاتراکھنڈ کی بی جے پی حکومت سے لوگوں میں ہے مایوسی: کانگریس
دنیا5 days agoشہید خامنہ ای کی آخری رسومات میں سوا 4 کروڑ سے زائد افراد نے شرکت کی: ایرانی میڈیا





































































































