ہندوستان
کانگریس نے مودی کے دورہ اسرائیل پر سوال اٹھایا
نئی دہلی، کانگریس پارٹی نے کہا ہے کہ غزہ کی تباہی کے لیے پوری دنیا اسرائیل کی تنقید کر رہی ہے اور اس تناظر میں وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ اسرائیل کو اخلاقی لحاظ سے مناسب نہیں کہا جا سکتا کانگریس کمیونیکیشن ڈپارٹمنٹ کے انچارج جے رام رمیش اور پارٹی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے بدھ کو مسٹر مودی کے دورہ اسرائیل پر سوشل میڈیا ایکس پر کہا کہ ہندوستان کا نظریہ ہمیشہ متاثرین اور بے گناہوں کے دکھوں کے تئیں حساس رہا ہے، اس لئے توقع کی جانی چاہیے کہ مسٹر مودی اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے سامنے بھی اپنے روایتی ہندوستانی نقطہ نظر کو رکھیں گے۔
محترمہ واڈرا نے کہا، “مجھے امید ہے کہ وزیر اعظم اسرائیل کے اپنے دورہ کے دوران پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئےغزہ میں ہزاروں بے گناہ مرد و خواتین اوربچوں کے قتل عام کا ذکر کریں گے اور ان کے لیے انصاف کا مطالبہ کریں گے۔ ہندوستان ایک آزاد قوم کے طور پر اپنی پوری تاریخ میں سچائی کے لیے کھڑا رہا ہے، ہمیں دنیا کو سچائی، امن اور انصاف کی روشنی دکھاتے رہنا چاہیے۔”
وزیر اعظم کے دورہ اسرائیل پر سوال اٹھاتے ہوئے مسٹر رمیش نے لکھا، “فلسطین کے تئیں ہندوستان کا ایک تاریخی اور اخلاقی نظریہ رہا ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔”
فلسطین کے ساتھ ہندوستان کے تاریخی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے 20 مئی 1960 کو غزہ کا دورہ کیا اور وہاں اقوام متحدہ کی ایمرجنسی فورس میں تعینات ہندوستانی دستے سے ملاقات کی۔ پھر 29 نومبر 1981 کو ہندوستان نے فلسطین کی حمایت میں ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا تھا جب کہ 18 نومبر 1988 کو ہندوستان نے فلسطین کی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا تھا۔
مسٹر رمیش نے کہا، ’’وہ ایک مختلف دور تھا۔ اب ایسے وقت میں جب غزہ کی صورت حال پر بین الاقوامی تشویش پائی جارہی ہے، مسٹر مودی کا اپنے ‘عزیز دوست’ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ قربت کا مظاہرہ، اخلاقی نقطہ نظر سے سوالات اٹھاتا ہے۔”
مسٹر مودی آج اسرائیل کے دو روزہ دورے پر روانہ ہوئے۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
پاکستان نے افغان طالبان حکومت کے خلاف آپریشن غضب للحق کا آغاز کیا، فضائی حملے کئے
نئی دہلی، پاکستان نے سرحد پار سے مبینہ “بلا اشتعال فائرنگ” کے بعد افغان طالبان کے خلاف آپریشن غضب للحق شروع کیا ہے سرکاری نشریاتی ادارے پی ٹی وی نیوز کے مطابق پاکستانی مسلح افواج نے فضائی حملے کیے اور کابل، قندھار اور پکتیا میں افغان طالبان کے اہم فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا سرکاری نشریاتی ادارے نے اطلاع دی ہے کہ ان حملوں میں کابل میں بریگیڈ کے دو ہیڈ کوارٹر تباہ ہو گئے جبکہ قندھار میں ایک کور ہیڈ کوارٹر اور ایک بریگیڈ ہیڈ کوارٹر تباہ ہو گئے۔
براڈکاسٹر نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے کہا کہ “پاکستانی مسلح افواج کسی بھی جارحیت کے لیے پوری طرح تیار ہیں اور وہ منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔”
جمعہ کو پاکستان نے افغانستان کے شہر کابل اور قندھار پر بمباری کی۔ یہ حملہ افغان فورسز کی جانب سے پاکستانی سرحدی دستوں پر حملے کے چند گھنٹے بعد ہوا، جسے طالبان حکومت نے اس ہفتے کے شروع میں مہلک فضائی حملوں کا جوابی کارروائی قرار دیا ہے۔
پاکستان نے دعویٰ کیا کہ اس کی افواج نے 133 افغان جنگجوؤں کو مارگرایا ہے، جب کہ کابل نے اپنے حملے میں 55 پاکستانی فوجیوں کے مارے جانے کا دعویٰ کیا ہے۔
افغان حکام نے بتایا کہ طورخم سرحدی چوکی کے قریب پاکستان سے واپس آنے والے لوگوں کے کیمپ میں کئی شہری زخمی ہوئے ہیں۔
حملے کا شکار ہوئے پاکستانی سرحدی صوبے خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے میڈیا کو بتایا کہ اسلام آباد افغانستان کو فیصلہ کن جواب دے گا اور اپنی سلامتی کو یقینی بنائے گا۔
گورنر نے کہا کہ “ہم پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور پاکستان کے ردعمل کی نوعیت کا مطالعہ کر رہے ہیں، جو تمام ممکنہ منظرناموں کے لیے تیار ہے۔ ماضی کے بحرانوں کا اعادہ نہیں ہونا چاہیے، جب کشیدگی بڑھنے کے بعد عالمی برادری نے پاکستان سے تحمل سے کام لینے کا مطالبہ کیا تھا۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
سپریم کورٹ نے ’عدلیہ میں بدعنوانی‘ کے حوالے پر این سی ای آر ٹی کی آٹھویں جماعت کی نصابی کتاب پر پابندی عائد کر دی
نئی دہلی، سپریم کورٹ آف انڈیا نے جمعرات کو نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (این سی ای آر ٹی) کی آٹھویں جماعت کی سماجی علوم کی نئی نصابی کتاب پر پابندی عائد کر دی۔
عدالت نے اس باب پر سخت اعتراض ظاہر کیا جس میں ’عدلیہ میں بدعنوانی‘ کا حوالہ دیا گیا تھا اور کتاب کی تمام طبع زاد اور ڈیجیٹل نقول کو فوری طور پر اسکولوں، دکانوں اور آن لائن پلیٹ فارموں سے واپس لینے کا حکم دیا۔
چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وپل ایم پانچولی پر مشتمل بنچ نے کہا کہ باب کا مواد عدلیہ کی وقار اور اختیارات کو کمزور کرنے کی ایک گہری اور دانستہ کوشش معلوم ہوتا ہے۔
عدالت نے توہینِ عدالت ایکٹ کے تحت این سی ای آر ٹی کے ڈائرکٹر اور محکمۂ اسکولی تعلیم کو نوٹس جاری کرتے ہوئے پوچھا کہ ان کے اور دیگر ملوث افراد کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کیوں نہ شروع کی جائے۔ متنازعہ حصہ تیار کرنے والے نیشنل سلیبس بورڈ کے ارکان کے نام اور تفصیلات طلب کرتے ہوئے عدالت نے کہا،
’’یہ ایک منظم قدم ہے۔ پورے تعلیمی معاشرے کو بتایا جائے گا کہ عدلیہ بدعنوان ہے اور مقدمات زیرِ التوا ہیں۔ پھر طلبہ اور والدین تک یہی پیغام پہنچے گا۔ یہ ایک گہری سازش ہے۔‘‘
جاری۔ یو این آئی۔ اے ایم
ہندوستان
ملک میں پرامن احتجاج سب سے بڑا جرم بن گیا ہے: راہل گاندھی
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے جمعرات کے روز مرکزی حکومت پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے دور حکومت میں پرامن احتجاج سب سے بڑا جرم بن گیا ہے مسٹر راہل گاندھی نے کہا کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کو اس سمت میں دھکیلا جا رہا ہے جہاں اختلاف رائے کو غداری سمجھا جاتا ہے اور سوال پوچھنے کو سازش بتایا جاتا ہے مسٹر راہل گاندھی نے سوشل میڈیا کے ذریعے کہا کہ اگر کوئی شہری آئینی طریقے سے حکومت کے خلاف آواز اٹھاتا ہے تو اسے لاٹھی چارج، مقدمہ اور قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مختلف مظاہروں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیپر لیک سے پریشان نوجوانوں کے مظاہروں پر لاٹھی چارج کیا گیا۔ خواتین ریسلرز کی تحریک کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سنگین الزامات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرنے والی کھلاڑیوں کی آواز کو دبانے کی کوشش کی گئی اور ان کی تحریک کو کچل دیا گیا۔ اسی طرح عصمت دری کی متاثرہ کی حمایت میں انڈیا گیٹ پر پرامن احتجاج کو بھی ہٹا دیا گیا۔
امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کے خلاف یوتھ کانگریس کے احتجاج کا ذکر کرتے ہوئے، کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ پرامن مظاہرین کو گرفتار کیا گیا اور انہیں “ملک دشمن” قرار دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ زہریلی ہوا کے خلاف آواز اٹھانے والوں اور کسانوں کی تحریک کو بھی جبر کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ جب قبائلی برادریاں پانی، جنگلات اور زمین پر اپنے حقوق کا مطالبہ کرتی ہیں تو انہیں بھی شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ یہ کیسی جمہوریت ہے جہاں وزیراعظم سوالوں سے ڈرتے ہیں اور اختلاف رائے کو دبانا معمول بنتا جا رہا ہے۔
مسٹر راہل گاندھی نے کہا، “پرامن احتجاج جمہوریت کی روح ہے۔ سوال پوچھنا اس کی طاقت ہے۔ جمہوریت تبھی مضبوط ہوتی ہے جب حکومت تنقید کو سنتی ہے، جواب دیتی ہے اور جوابدہ رہتی ہے۔ مودی جی، یہ ہندوستان ہے، شمالی کوریا نہیں۔”
یو این آئی۔ م ش۔
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں نئی ریلوے لائنوں کا سروے مکمل، حکومت کا زمین مالکان کو مکمل معاوضہ دینے کا یقین
جموں و کشمیر2 days agoجموں و کشمیر میں رونما ہونے والی تبدیلیوں نے مجھے بے حد متاثر کیا: سی پی رادھا کرشنن
جموں و کشمیر5 days agoجموں و کشمیر ہائی کورٹ نے ایم ایل اے معراج ملک کی ’پی ایس اے‘ نظربندی کیس میں فیصلہ محفوظ کر لیا
جموں و کشمیر7 days agoآرٹیکل 370 اب تاریخ کا حصہ، بحالی ناممکن: سنیل شرما
جموں و کشمیر3 days agoٹی ای ٹی کو جموں وکشمیر میں فوری طور نافذ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے: سکینہ یتو
دنیا10 hours agoامریکہ-ایران کے جوہری مذاکرات،پیش رفت کا اعلان
جموں و کشمیر1 week agoکپواڑہ: نوگام سیکٹر میں پاکستان کی جنگ بندی خلاف ورزی، بھارتی چوکیوں پر چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ
دنیا3 days agoامریکی صدر کی سپریم کورٹ کے ٹیرف سے متعلق فیصلے پر پھر شدید تنقید
جموں و کشمیر1 week agoبنگلہ دیش میڈیکل کالج داخلہ فراڈ معاملہ:چار ملزموں کے خلاف چارج شیٹ داخل: ای او ڈبلیو
دنیا2 days agoمسلم ارکان کانگریس الہان عمر اور رشیدہ طلیب کو امریکہ سے نکال دینا چاہیے: ٹرمپ
دنیا3 days agoڈیل نہیں ہوئی تو یہ ایران کیلئے بہت بُرا دن ہوگا: ٹرمپ کا انتباہ
جموں و کشمیر5 days agoجموں میں دو افراد گرفتار، تیز دھار والا ہتھیار ضبط: پولیس

































































































