جموں و کشمیر
کمزور عملدرآمد، ادھورے وعدے اور سخت ضابطہ بندی نے بجٹ کو بیوروکریٹک دستاویز بنا دیا: سجا غنی لون
جموں، جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس کے صدر اور رکن اسمبلی ہندوارہ سجاد لون نے اسمبلی میں پیش کیے گئے جموں و کشمیر بجٹ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ بجٹ 2018 کے بعد پہلی بار منتخب سیاسی قیادت کے زیرِسایہ تیار ہوا، مگر اس میں کوئی سیاسی وژن جھلکتا نظر نہیں آتا۔ لون نے اسے ’عام بیوروکریٹک بجٹ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں حکومتی جماعت کے منشور کی جھلک بھی موجود نہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ پانچ برسوں میں اپوزیشن بار بار پوچھے گی کہ ’اگر منشور موجود ہے تو بجٹ میں اس کی چھاپ کیوں نہیں؟‘ سجاد لون نے پچھلے سال کے بجٹ کے تخمینے اور نظر ثانی شدہ تخمینے کے درمیان 13,000 کروڑ روپے کے فرق کو شدید انتظامی ناکامی قرار دیا۔ انہوں نے کہا:’دنیا میں اکثر حکومتوں کو پیسے کی کمی ہوتی ہے، لیکن یہاں مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے پاس پیسہ خرچ کرنے کی صلاحیت ہی نہیں۔‘ انہوں نے بتایا کہ بجٹ میں 70 فیصد رقم آمدنی کے اخراجات جبکہ صرف 30 فیصد سرمایہ کاری کے لیے رکھی گئی ہے، جو طویل المدتی ترقی کے لیے نقصان دہ ہے۔ لون نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ کل 1,27,000 کروڑ آمدنی میں سے صرف 31,800 کروڑ اندرونی ذرائع سے حاصل ہوا، جبکہ مرکزی امداد، سرپرستی والے منصوبے اور قرضوں پر بھاری انحصار ہے۔
سجاد لون نے چھ ایل پی جی سلنڈروں کے اعلان پر بھی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ منشور میں اقتصادی طور پر کمزور طبقے کے لیے 12 سلنڈرز کا وعدہ کیا گیا تھا، مگر بجٹ میں صرف چھ فراہم کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 14 لاکھ بی پی ایل خاندان اور 2 لاکھ اے اے وائی خاندان اس سہولت سے محروم رہے۔ مسٹر لون نے حساب دیتے ہوئے کہا:’منشور کے مطابق پانچ سال میں 8,500 کروڑ کا بجٹ بنتا تھا۔ مگر حکومت صرف 360 کروڑ دے رہی ہے۔ یہ خالص ریاضی ہے، کوئی سیاست نہیں۔‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت نے ایل پی جی پر ریبیٹ دینے کے لیے ڈیزل پر سبسڈی کم کی، جس سے ایک غریب سے پیسہ لے کر دوسرے غریب کو دیا گیا۔ جواب دہی کے دوران انہوں نے پچھلے سال 7,500 نوکریوں کے دعوے کو مبالغہ قرار دیا اور کہا کہ کشمیر میں شاید صرف 2,000 نوکریاں فراہم ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک جہاں آؤٹ سورسنگ چلتی ہے، وہاں سوشل سکیورٹی نیٹ موجود ہوتا ہے۔ لیکن جموں و کشمیر میں ایسا کوئی تحفظ نہیں۔
مسٹر لون نے اسے معاشرتی تباہی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت مستقل نوکریوں سے معاہداتی اور پھر آؤٹ سورسڈ سسٹم کی طرف جا رہی ہے، جو خطرناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کی معیشت انتہائی ضابطہ بند ہے، اور “این او سی کلچر اتنا سخت ہے کہ سرمایہ کار یہاں آنے سے گھبراتے ہیں۔ لون نے مختلف محکموں کے مرکزی کنٹرول کو کمزور کرنے، این او سی کلچر کے خاتمے، اور ہوم اسٹیز میں حکومت کی غیر ضروری مداخلت ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ لون نے ای-آفس نظام جیسے چند مثبت اقدامات کی تعریف بھی کی، مگر خبردار کیا کہ اگر ضابطہ بندی برقرار رہی تو سرمایہ کاری رک جائے گی۔ اپنی تقریر کے اختتام پر سجاد لون نے کہا:’ہمیں اپنی معیشت سے غیر ضروری ضابطہ بندی اور مرکزی کنٹرول ہٹانے کی اشد ضرورت ہے، ورنہ یہاں کوئی سرمایہ کار نہیں آئے گا۔‘
یو این آئی، ارشید بٹ
جموں و کشمیر
منوج سنہا نے نوآبادیاتی ذہنیت کے خاتمے پر زور دیا، مصنفین سے ہندوستان کی عالمی کہانی دوبارہ پیش کرنے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنرمنوج سنہا نے ہفتہ کے روز کہا کہ ’’نوآبادیاتی ذہنیت‘‘ کے باقی ماندہ اثرات کو مکمل طور پر ختم کیا جانا چاہیے اور ہندوستان کی تاریخ اور موجودہ حالات کو عالمی سطح پر مسخ شدہ انداز میں پیش کیے جانے کا مؤثر جواب دینے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ مصنفین اور دانشوروں کا اہم کردار ہے کہ وہ ان کے بقول غلط بیانیوں کی اصلاح کریں اور دنیا کے سامنے ہندوستان کا نقطۂ نظر پیش کریں۔
وہ سری نگر میں کشمیر لٹریچر فیسٹیول کے تیسرے ایڈیشن کا افتتاح کرنے کے بعد خطاب کر رہے تھے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے مصنفین پر زور دیا کہ وہ افسانہ، غیر افسانوی ادب اور دیگر تخلیقی ذرائع کے ذریعے مثبت بیانیہ تشکیل دیں اور لوگوں کو متاثر کریں، کیونکہ ’’مصنف کی تخلیق صرف الفاظ میں نہیں بلکہ لوگوں کی دھڑکنوں میں زندہ رہتی ہے۔‘‘
انہوں نے کہاکہ ’’ہمیں نوآبادیاتی ذہنیت کے ہر نشان کو مٹانا ہوگا اور یہ یقینی بنانا ہوگا کہ بیرونِ ملک لوگ ہماری تاریخ اور حال کو اپنی پسند کے بیانیے کے لیے مسخ نہ کریں۔‘‘ ان کے مطابق، ایسی غلطیوں کی اصلاح کرنا اور حقیقت کو عالمی قارئین تک پہنچانا مصنفین کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’ہمیں دنیا کو بار بار یاد دلانا ہوگا کہ تقریباً 6,000 سال قبل جب ویدوں کی تدوین ہوئی، اس وقت ہندوستان دنیا کی معیشت، تعلیم، ثقافت اور فلسفے کا مرکز تھا۔ صدیوں تک ہندوستان عالمی تہذیب اور ثقافت کا محرک رہا اور اس نے سائنس، ریاضی، فلکیات اور طب کے میدان میں دنیا کی سماجی و معاشی ترقی کی بنیاد رکھی۔‘‘
منوج سنہا نے کہا کہ تاریخ کو اس کی اصل شکل میں بحال کرنے اور معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچانے کی فوری ضرورت ہے تاکہ بھارت کا بیانیہ درست انداز میں تشکیل پا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ویدی دور سے ہمارے آبا و اجداد حقائق کو درستگی کے ساتھ محفوظ اور منتقل کرتے رہے، لیکن مختلف وجوہات کی بنا پر جدید دور میں بھارت اپنی تاریخ خود لکھنے کی روایت سے دور ہو گیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’ہم اپنی قیمتی روایات، ثقافت، علم اور سائنسی ورثے کو دنیا تک پہنچانے میں ناکام رہے، اسی لیے بعض لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ کچھ چیزیں باہر سے آئیں یا حملہ آوروں نے متعارف کرائیں، جبکہ یہ دعوے بے بنیاد ہیں۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے الزام لگایا کہ بعض غیر ملکی مؤرخین نے جان بوجھ کر بھارت کی قدیم سائنسی دریافتوں، ادبی، فنی اور تعمیراتی کامیابیوں کو نظر انداز کیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’جب ہندوستان سائنسی ترقی کی بلندی پر تھا، بہت سے ممالک میں سائنس کا ذکر تک نہیں ملتا۔ فارس اور دیگر خطوں میں سائنس، ریاضی اور فلکیات کے ابتدائی حوالہ جات آٹھویں صدی میں سامنے آئے اور وہ بھی بڑی حد تک ہندوستان کے اثرات کے مرہونِ منت تھے۔ یورپ کی پہلی نشاۃ ثانیہ نے 12ویں صدی میں ہندوستان کے علم، سائنس، ثقافت اور فن کے خزانے سے استفادہ کیا۔‘‘
یواین آئی۔ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر حج کمیٹی کے سامان سے متعلق فیصلے سے واپس آرہے حاجیوں میں نظر آئی ناراضگی
سری نگر جموں و کشمیر حج کمیٹی کے ذریعے حاجیوں کے سامان کے ایک بڑے حصے کو احمد آباد سے سری نگر تک سڑک کے راستے سے لے جانے کے فیصلے پر حاجیوں، ان کے خاندانوں اور سیاسی لیڈروں نے بڑے پیمانے پر تنقید کی ہے۔
نوٹیم سے متعلق پابندیوں اور طیارے میں سامان لے جانے کی حد طے ہونے کی وجہ سے کیے گئے اس فیصلے سے حج سے واپس آرہے بزرگ حاجیوں میں پریشانی کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
کئی لوگوں کو سعودی عرب میں قیام کے دوران خریدی گئی مذہبی اشیاء، تحائف اور جلد خراب ہونے والی چیزوں سمیت ذاتی سامان میں تاخیر، نقصان یا خرابی کا ڈر ہے، جس کی وجہ سے انہوں نے فوری طور پر سرکاری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
سری نگر کے لیے حج پروازوں کی آمد دو جون سے شروع ہونے والی ہے، پہلی پرواز کے دوپہر 12:45 بجے سری نگر انٹرنیشنل ہوائی اڈے پر اترنے کی امید ہے۔ اس کے علاوہ پروازوں کے اوقات تین اور چار جون کو مقرر ہیں۔ اس سال جموں و کشمیر سے 7,000 سے زیادہ زائرین نے سفر حج کیا۔
جموں و کشمیر حج کمیٹی نے ایک نوٹیفکیشن میں کہا کہ حاجیوں کی امیگریشن اور کسٹم کلیئرنس سری نگر کے آگے کے سفر سے پہلے احمد آباد میں ہی مکمل کر لی جائے گی۔
سامان کے ترمیم شدہ انتظام کے تحت، حاجیوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ صرف سات کلو گرام تک کا ایک ہینڈ بیگیج لے جائیں، جبکہ سری نگر جانے والی پروازوں میں صرف پانچ کلو گرام کا چیک ان بیگیج ہی لے جانے کی اجازت ہوگی۔ نوٹیم سے متعلق پابندیوں اور طیارے کے وزن کی حدود کی وجہ سے باقی سامان، فی زائر 30 کلو گرام تک، سڑک کے راستے سے الگ سے لے جایا جائے گا۔
کمیٹی نے واضح کیا کہ کسی بھی چیک ان بیگیج کا وزن 22 کلو گرام سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ حاجی سڑک کے راستے سے لائے گئے اپنے سامان کو حج ہاؤس سری نگر پہنچنے پر وہاں سے حاصل کر سکیں گے۔
اس فیصلے سے حاجیوں اور ان کے خاندانوں میں غم و غصہ نظر آ رہا ہے۔ کئی زائرین کو اندیشہ ہے کہ سعودی عرب میں قیام کے دوران خریدی گئی مذہبی اشیاء، تحائف اور دیگر اشیاء سمیت ان کے سامان میں تاخیرسے خرابی یا نقصان کا خطرہ ہو سکتا ہے۔
سیاسی جماعتوں نے بھی اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اپنی پارٹی کے صدر الطاف بخاری نے کہا کہ یہ تشویشناک ہے کہ ایک مقدس سفر سے لوٹ رہے زائرین کو غیر ضروری پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ایک بیان میں مسٹر بخاری نے کہا کہ “یہ انتہائی تشویشناک ہے کہ جموں و کشمیر کے حاجی، جو اپنی مقدس زیارت مکمل کرنے کے بعد گھر آنے کی تیاری کر رہے ہیں، متعلقہ حج حکام اور ایئر لائن حکام کے غیر حساس اور غیر تعاون پر مبنی رویے کی وجہ سے غیر ضروری پریشانیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔”
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کے رام بن میں ٹرک کھائی میں گرا، ڈرائیور اور ہیلپر کی موت
جموں جموں و کشمیر کے رام بن ضلع کے رامسو علاقے میں ایک ٹرک کے گہری کھائی میں گر جانے سے ڈرائیور اور اس کے ہیلپر کی موت ہو گئی۔
پولیس کے مطابق، جموں سے سرینگر جا رہا چونا پتھر سے لدا ٹرک رامسو علاقے کے گنگرو کے پاس ڈرائیور سے مبینہ طور پر گاڑی سے کنٹرول کھو دینے کے سبب گہری کھائی میں گر گیا۔ ٹرک کے کھائی میں گرنے سے اس میں آگ لگ گئی۔
پولیس کی ایک ٹیم نے مرکزی ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے اہلکاروں اور مقامی باشندوں کی مدد سے فوراً بچاؤ مہم شروع کی اور گاڑی کے کیبن میں پھنسے ڈرائیور اور ہیلپر کی لاشیں باہر نکالیں۔ ٹرک میں آگ لگنے سے لاشیں جزوی طور پر جھلسی ہوئی پائی گئیں۔ پولیس نے بتایا کہ مرنے والوں کی شناخت کو یقینی بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ معاملہ درج کر لیا گیا ہے اور واقعے کی جانچ شروع کر دی گئی ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر1 week agoعید سے قبل بروقت تنخواہوں کی ادائیگی یقینی بنائی جائے؛ اس مقدس موقع پر ملازمین کو مشکلات سے دوچار نہ کیا جائے: رفیق راتھر
جموں و کشمیر6 days agoجنوبی کشمیر میں سراج العلوم مدرسے پر این آئی اے کے چھاپے
دنیا1 week agoٹرمپ کی ایرانی تہذیب مٹنے کی دھمکی سے یورپ اور ایشیا کو نیوکلیئر حملے کے خطرات پیدا ہوگئے تھے: رپورٹ
دنیا1 week agoامریکہ سے مذاکرات: ایران کا تمام محاذوں پرجنگ کا خاتمہ ، منجمد اثاثوں کی واپسی اور بحری تحفظ کا مطالبہ
ہندوستان6 days agoسپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی ہے جس میں ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کی سرگرمیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر ایران کا نیا ٹول ٹیکس: جہازوں کے گزرنے کیلئے فیس
دنیا1 week agoپاکستان کی ثالثی میں جاری مذاکراتی عمل میں ایٹمی پروگرام پر بات نہیں ہوگی: ایران
دنیا1 week agoٹرمپ نے ایران کے ساتھ چل رہی امن بات چیت کو اور وقت دینے کا فیصلہ کیا
ہندوستان1 week agoپیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پھر اضافہ
جموں و کشمیر5 days agoگلمرگ کی مشہور گونڈولا کیبل کار سروس ایک ہفتے کے لیے بند
ہندوستان6 days agoپٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے پر کانگریس نے حکومت پر بولاحملہ ، “مہنگائی مین” کا دیا تمغہ
ہندوستان1 week agoدس ریاستوں سے راجیہ سبھا کی 24 نشستوں کے لیے دو سالہ انتخابات 18 جون کو ہوں گے































































































