جموں و کشمیر
ٹی ای ٹی کو جموں وکشمیر میں فوری طور نافذ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے: سکینہ یتو
سری نگر، وزیر تعلیم و صحت سکینہ یتو نے واضح کیا ہے کہ اساتذہ کے اہلیت امتحان (ٹی ای ٹی) کو جموں وکشمیر میں فوری طور پر نافذ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
انہوں نے ساتھ ہی کہا کہ پورے ملک میں نافذ ہونے کے بعد اس کو جموں وکشمیر میں نافذ کیا جائے گا۔
موصوف وزیر نے بدھ کے روز نامہ نگاروں کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا: ‘کچھ ماہ قبل عدالت عظمیٰ کی طرف سے ہدایت جاری ہوئی تھی کہ تمام ریاستوں اور یونین ٹریٹریز کے اساتذہ کو ٹی ای ٹی امتحان کالیفائی کرنا ہوگا’۔
انہوں نے کہا: ‘ متعلقہ کیس فائل موصول ہونے کے بعد، حکومت نے فیصلہ کیا کہ پہلےدیگر ریاستوں اور یونین ٹریٹریزمیں امتحان کے پیٹرن، میکانزم اور عملی مضمرات کا مطالعہ کیا جائے’۔
ان کا کہنا تھا: ‘اس طرح کے اہلیت کے امتحانات کے انعقاد کا آئیڈیا کوئی نیا نہیں تھا اور اس کا تصور پہلے مرحوم مفتی محمد سعید کے دورِ حکومت میں کیا گیا تھا’۔
سکینہ یتو نے کہا: ‘اس حکمنامے پر جلد از جلد عمل درآمد کرنا مناسب نہیں ہوگا، خاص طور پر جب جموں و کشمیر میں بہت سے اساتذہ نے 25 سے 35 سال کی خدمات دی ہیں اور جنہوں نے طلباء کی نسلیں جو اب ڈاکٹرز، انجینئرز، آئی اے ایس اور کے اے ایس آفیسرز، پروفیسرز اور دیگر پیشہ ور افراد کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں، تیار کی ہوں’۔
انہوں نے کہا کہ ہم اس پر فوری طور پر عمل در آمد نہیں کرسکتے ہیں بلکہ دیکھتے ہیں کہ اس کے باہر کی ریاستوں میں کیا اثرات ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا: ‘اگر ساری جگہوں پر یہ حکمنامہ نافذ ہوتا ہے اور اگر عدالت عظمیٰ کی طرف سے کوئی مزید پیش رفت ہوتی ہے اس وقت دیکھا جائے گا فی الحال ہمیں اس کو نافذ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے’۔
انہوں نے کہا کہ ‘فی الحال عدالت عظمیٰ نے بھی اس میں دو سال کا وقت دیا ہے جب پورے ملک میں لاگو ہوگا پھر آخر میں یہ جموں وکشمیر میں نافذ ہوگا’۔
سوشل میڈیا پر کوئی حکمنامہ جاری ہونے کے بارے میں وزیر تعلیم نے کہا: ‘اس طرح کا کوئی آرڈر جاری نہیں کیا گیا ہے اس پر کوئی عملدر آمد نہیں ہوگا’۔
یو این آئی ایم افضل
جموں و کشمیر
محبوبہ کا اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کو معمول بنائے جانے پر تنقید
سرینگر، محبوبہ مفتی، صدر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی)، نے ہفتہ کے روز الزام عائد کیا کہ ملک میں اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر اور امتیازی سلوک کو بتدریج معمول بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہاکہ ’’بی جے پی کے نام نہاد وکست بھارت کی حقیقت یہی ہے کہ نفرت انگیز تقاریر اس حد تک معمول بن چکی ہیں کہ پیدا نہ ہونے والے مسلم بچوں کو بھی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ مسلمانوں، عیسائیوں، دلتوں اور آدیواسیوں کو مسلسل حاشیے پر دھکیلا جا رہا ہے، جبکہ گھروں اور مساجد کو بلاخوف و خطر مسمار کیا جا رہا ہے۔‘‘
جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ نے تقسیم پیدا کرنے والی زبان اور بیانات کی بڑھتی ہوئی قبولیت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ایسے بیانات کے خلاف خاموشی معاشرتی تقسیم کو مزید گہرا کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’اس قسم کی نفرت انگیز بیان بازی پر جاری خاموشی اُن عناصر کی حوصلہ افزائی کرتی ہے جو ہمارے معاشرے کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔‘‘
محبوبہ مفتی کا یہ ردِعمل للت شرما کی جانب سے دہرادون کے بیراگی والا علاقے میں مبینہ نفرت انگیز تقریر کے بعد سامنے آیا۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
ای او ڈبلیو کشمیر نے دھوکہ دہی کے مقدمے میں اترپردیش کے ایک باشندے کے خلاف چارج شیٹ دائر کر دی
سرینگر، جموں و کشمیر کرائم برانچ کے اکنامک آفنسز ونگ (ای او ڈبلیو) کشمیر نے ہفتہ کے روز سوپور کی ایک عدالت میں اتر پردیش کے ایک ملزم کے خلاف چارج شیٹ دائر کی، جس پر غیر ملکی ٹیلی کام منصوبہ فراہم کرنے کا جھانسہ دے کر شکایت کنندہ سے دھوکہ دہی کے ذریعے رقم حاصل کرنے کا الزام ہے۔
ای او ڈبلیو کے مطابق یہ چارج شیٹ سال 2023 میں تعزیراتِ ہند کی دفعہ 420 کے تحت درج ایف آئی آر کے سلسلے میں پیش کی گئی۔ ملزم کی شناخت ہرکیت سنگھ، ساکن کالی ماتا مندر، لال بنگلہ، کانپور، اتر پردیش کے طور پر ہوئی ہے۔
مقدمے کی بنیاد ایک تحریری شکایت پر رکھی گئی تھی، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ ملزم نے امریکہ کی ایک ٹیلی کام کمپنی سے منسلک مبینہ اے ٹی اینڈ ٹی اِن باؤنڈ سیلز کال پروجیکٹ فراہم کرنے کا وعدہ کرکے شکایت کنندہ کو رقم دینے پر آمادہ کیا۔
تحقیقات کے دوران اکنامک آفنسز ونگ نے الزامات کا جائزہ لیا اور مقدمے سے متعلق شواہد جمع کیے۔ تفتیش کاروں نے پایا کہ ملزم نے مبینہ طور پر منصوبے کے بارے میں جھوٹی یقین دہانیاں کرا کے شکایت کنندہ کو دھوکہ دیا اور فراڈ کے ذریعے رقم حاصل کی۔
کرائم برانچ حکام کے مطابق، تحقیقات کے دوران جمع کیے گئے شواہد نے شکایت میں لگائے گئے الزامات کی تائید کی۔
بعد ازاں، عدالتی کارروائی کے لیے چارج شیٹ چیف جوڈیشل مجسٹریٹ، سوپور کی عدالت میں پیش کر دی گئی۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں ٹیکسی سڑک سے پھسل کر حادثے کا شکار، آٹھ افراد زخمی
سرینگر، جموں و کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں ہفتہ کے روز ایک ٹویرا کیب سڑک سے پھسل کر حادثے کا شکار ہو گئی، جس کے نتیجے میں آٹھ افراد زخمی ہو گئے۔
حکام کے مطابق ٹنگمرگ کے بابا ریشی علاقے کے قریب ٹویرا کیب ڈرائیور کے قابو سے باہر ہو کر سڑک سے پھسل گئی، جس کے باعث گاڑی میں سوار آٹھ مسافر زخمی ہو گئے۔
زخمیوں کو فوری طور پر قریبی طبی مراکز منتقل کیا گیا، جہاں ابتدائی علاج کے بعد انہیں مزید خصوصی علاج کے لیے سرینگر کے جے وی سی اسپتال ریفر کر دیا گیا۔
ادھر، اس واقعے کے سلسلے میں پولیس اسٹیشن ٹنگمرگ میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر1 week agoاین سی ایل ٹی نے سراج العلوم کے لیے عبوری لیکویڈیٹر مقرر کر دیا، اثاثے منجمد
ہندوستان1 week agoفضائیہ کا مال بردار طیارہ حادثے کا شکار، پانچ اہلکار شہید
ہندوستان3 days ago‘اسلام آباد ایم او یو’ پر جے رام رمیش کا مرکز پر حملہ، کہا- مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو بڑا جھٹکا
دنیا1 week agoامریکہ نے ایران کے جوہری مواد پر قبضے کیلئے زمینی کارروائی کا منصوبہ بنالیا تھا تاہم ٹرمپ پیچھے ہٹ گئے: امریکی میڈیا
دنیا6 days ago‘ٹرمپ کامعاہدہ ہمیں پابند نہیں کرتا’، اسرائیلی وزیر ایران امریکہ معاہدے پر سیخ پا
دنیا1 week agoایران معاہدے سے متعلق ٹرمپ کے مؤقف پر نیتن یاہو کا ردِعمل سامنے آگیا
دنیا6 days agoتاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی
دنیا4 days agoایرانی آرمی چیف کا دفاعی طاقت مزید بڑھانے کا اعلان
جموں و کشمیر1 week agoشمالی کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب پی او جے کے کا 19 سالہ نوجوان گرفتار
دنیا1 week agoامریکہ ایران معاہدے پر کل دستخط نہیں ہوں گے: ایرانی وزارت خارجہ
دنیا6 days agoعین وقت پر امریکہ ایران امن معاہدے میں تاخیر اسرائیلی حملے کے سبب
دنیا4 days agoجی سیون ممالک کا امریکہ اور ایران امن معاہدے کی حمایت کا اعلان





































































































