جموں و کشمیر
واجپئی، منموہن سنگھ، اڈوانی سمیت کئی رہنماوں سے خلوص نیت کے ساتھ مذاکرات کی کوشش کی: میر واعظ

سری نگر، سال 2026 کے پہلے جمعے کے موقع پر بھی میرواعظ کشمیر مولانا عمر فاروق کو گھر میں نظر بند رکھا گیا، جس کے باعث وہ حسبِ روایت جامع مسجد سرینگر میں جمعے کا خطبہ نہیں دے سکے۔ میرواعظ نے اس پس منظر میں سوشل میڈیا کے ذریعے عوام سے خطاب کرتے ہوئے پچھلے برس کے المناک واقعات، جاری پابندیوں، سیاسی و سماجی گھٹن اور کشمیر کے مستقبل سے متعلق اپنے مؤقف کو مفصل انداز میں بیان کیا۔
اپنے خطاب میں میرواعظ نے کہا کہ سال 2025 کشمیر کے لیے غم، خوف اور غیر یقینی صورتحال سے بھرپور رہا۔ انہوں نے پہلگام کے المناک سانحہ کو گہرے صدمے سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ عام شہریوں کو نشانہ بنانے نے پورے خطے میں خوف اور بے چینی کو بڑھا دیا۔ اس کے فوراً بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک اور جنگ نے خطے میں امن کی کمزوری اور تنازعہ کشمیر کے حل نہ ہونے کی سنگینی کو مزید واضح کر دیا۔
میرواعظ نے کہا کہ 2019 میں یکطرفہ فیصلوں کے باوجود کشمیر کا تنازعہ زندہ ہے اور خطے کو مسلسل غیر یقینی صورتحال میں رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں جنگیں ختم نہیں ہوتیں بلکہ صرف وقفہ کر دی جاتی ہیں، جبکہ بات چیت کی بات کوئی سننے کے لیے تیار نہیں۔
انہوں نے نئی دہلی میں سال کے آخر میں ہونے والے دھماکے پر بھی افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے بعد کشمیریوں کے خلاف شک وشبہات اور حملوں میں اضافہ ہوا، جس سے وادی اور دہلی کے درمیان اعتماد مزید کمزور پڑ گیا ہے۔
اپنی مسلسل نظر بندی کا ذکر کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ پچھلے سال انہیں 14 جمعوں میں نظر بند رکھا گیا اور یہ غیر قانونی پابندیاں اب ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے پریس کانفرنس کی بھی اجازت نہیں، یہاں تک کہ جامع مسجد کے منبر تک رسائی محدود کر دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی اور حریت کی دیگر اکائیوں پر یو اے پی اے کے تحت پابندی کے بعد اظہارِ رائے کی ہر گنجائش ختم کر دی گئی ہے، جبکہ اکثریتی مقامی میڈیا بھی ان کی آواز کو نشر کرنے سے گریز کرتا ہے۔ اسی مجبوری کے تحت انہیں اپنا سوشل میڈیا پروفائل تبدیل کرنا پڑا تاکہ پلیٹ فارم مکمل طور پر بند نہ ہو جائے۔
اپنے نظریات میں کسی قسم کی تبدیلی کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا، ’میں نے اپنے والد کی شہادت کے دن سے آج تک کوئی سمجھوتہ نہیں کیا، تو اب کیوں کروں گا؟ میری اپنے لوگوں کے ساتھ کمٹمنٹ ناقابلِ تبدیل ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ میرواعظ ہونے کا مقصد اقتدار نہیں بلکہ امن، بھائی چارے اور مفاہمت کی آواز بننا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے واجپائی، منموہن سنگھ اور ایل کے ایڈوانی سمیت مختلف ادوار کے رہنماؤں کے ساتھ خلوص کے ساتھ بات چیت کی کوشش کی اور آج بھی امن کا راستہ یہی سمجھتے ہیں۔
میرواعظ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں حقیقی اور دیرپا امن بالکل ممکن ہے بشرطیکہ سیاسی قیادت بات چیت کو اپنائے۔ انہوں نے واجپائی کے قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انسانیت اور جمہوریت کے دائرے میں بات چیت کی جائے تو امن کو بہترین موقع ملتا ہے۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ وہ عوام کے حقوق، احساسات اور امن کے حق میں اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے، چاہے حالات کیسے بھی ہوں۔
یو این آئی۔ ارشید بٹ
جموں و کشمیر
جموں پل حادثے میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر تین ہوئی
جموں، جموں و کشمیر کے بن تالاب علاقے میں پل حادثے میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر تین ہو گئی ہے۔ رات بھر چلے بچاؤ آپریشن کے بعد حالانکہ ایک مزدور کو زندہ بچا لیا گیا ہے، جبکہ آپریشن روک دیا گیا ہے۔
افسران نے کہا کہ “ملبے میں دبے تیسرے مزدور کی لاش مل گئی ہے، جس سے مرنے والوں کی تعداد تین ہو گئی ہے۔”
واضح رہے کہ جمعہ کو بن تالاب علاقے میں ٹھٹھر کے پاس مرمت کے دوران ایک پل کا حصہ گرنے سے چار مزدور ملبے میں دب گئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ “مزدور پل کی مرمت کر رہے تھے، جسے گزشتہ سال اچانک آئی باڑھ میں نقصان پہنچا تھا۔” کل دو مزدوروں کی موت ہو گئی تھی اور ایک کو بچا لیا گیا تھا اور چوتھا مزدور دبا ہوا تھا، جس کی لاش آج صبح پولیس، فوج، اسٹیٹ ڈیزاسٹر رسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف) اور این ڈی آر ایف ٹیم کی جے سی بی اور دوسری مشینری کی مدد سے رات بھر چلے بچاؤ آپریشن کے بعد ملی۔
اس دوران جموں و کشمیر حکومت نے واقعے کا نوٹس لیا اور دو انجینئروں کو معطل کر دیا اور ٹھیکیدار کو بلیک لسٹ کر دیا۔
حکومت نے واقعے کی جانچ کا بھی حکم دیا ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
جموں پل حادثے میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر تین ہوئی
جموں، جموں و کشمیر کے بن تالاب علاقے میں پل حادثے میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر تین ہو گئی ہے۔ رات بھر چلے بچاؤ آپریشن کے بعد حالانکہ ایک مزدور کو زندہ بچا لیا گیا ہے، جبکہ آپریشن روک دیا گیا ہے۔
افسران نے کہا کہ “ملبے میں دبے تیسرے مزدور کی لاش مل گئی ہے، جس سے مرنے والوں کی تعداد تین ہو گئی ہے۔”
واضح رہے کہ جمعہ کو بن تالاب علاقے میں ٹھٹھر کے پاس مرمت کے دوران ایک پل کا حصہ گرنے سے چار مزدور ملبے میں دب گئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ “مزدور پل کی مرمت کر رہے تھے، جسے گزشتہ سال اچانک آئی باڑھ میں نقصان پہنچا تھا۔” کل دو مزدوروں کی موت ہو گئی تھی اور ایک کو بچا لیا گیا تھا اور چوتھا مزدور دبا ہوا تھا، جس کی لاش آج صبح پولیس، فوج، اسٹیٹ ڈیزاسٹر رسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف) اور این ڈی آر ایف ٹیم کی جے سی بی اور دوسری مشینری کی مدد سے رات بھر چلے بچاؤ آپریشن کے بعد ملی۔
اس دوران جموں و کشمیر حکومت نے واقعے کا نوٹس لیا اور دو انجینئروں کو معطل کر دیا اور ٹھیکیدار کو بلیک لسٹ کر دیا۔
حکومت نے واقعے کی جانچ کا بھی حکم دیا ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
سری نگر: سی آئی ٹی یو کا یومِ مئی پر مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کا عزم، تاریگامی کی اتحاد کی اپیل
سری نگر،سری نگر میں ‘سینٹر آف انڈین ٹریڈ یونینز’ (سی آئی ٹی یو) کے زیرِ اہتمام عالمی یومِ مئی کے موقع پر ایک پروقار تقریب منعقد کی گئی۔ اس موقع پر محنت کش طبقے کی تاریخی جدوجہد کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور ابھرتے ہوئے چیلنجز کے خلاف مزدوروں کے حقوق کے دفاع کے عزم کو دہرایا گیا۔
پروگرام کا آغاز شکاگو کے ‘مارکیٹ افیئر’ کے ان شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے سے ہوا جن کی عظیم قربانیوں نے دنیا بھر میں آٹھ گھنٹے کے اوقاتِ کار اور مزدوروں کے تحفظ کے نئے دور کی بنیاد رکھی۔ مقررین نے کہا کہ یومِ مئی مزدوروں کے اتحاد، استقامت اور انصاف کے لیے ان کی مسلسل جدوجہد کی علامت ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سی آئی ٹی یو جموں و کشمیر کے صدر اور رکن اسمبلی کولگام محمد یوسف تاریگامی نے کہا مزدور کبھی انتہائی نامساعد حالات میں 17 سے 18 گھنٹے کام کرنے پر مجبور تھے۔آج ہمیں جو حقوق حاصل ہیں—چاہے وہ باقاعدہ اوقاتِ کار ہوں، مناسب اجرت ہو یا بنیادی تحفظ—یہ کسی نے ہمیں تحفے میں نہیں دیے، بلکہ یہ دہائیوں کی انتھک جدوجہد، اتحاد اور قربانیوں کا نتیجہ ہیں۔
تاریگامی نے خبردار کیا کہ گزشتہ دہائیوں میں جو حقوق حاصل کیے گئے تھے، وہ اب بڑھتی ہوئی معاشی ناہمواری اور لیبر قوانین کی کمزوری کی وجہ سے دوبارہ خطرے میں ہیں۔ انہوں نے کہا:
“جب تک لوگ آواز نہیں اٹھاتے، کوئی نہیں سنتا۔ تبدیلی تب ہی آتی ہے جب مزدور متحد ہو کر اپنے حقوق کا مطالبہ کریں۔”
انہوں نے بی جے پی کی قیادت والی حکومت کی پالیسیوں کو ‘مزدور دشمن’ قرار دیتے ہوئے حال ہی میں نافذ کیے گئے چار لیبر کوڈز کو فوری طور پر منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔
تاریگامی نے مزید کہا کہ یومِ مئی محض ماضی کی یاد منانا نہیں بلکہ ایک تحریک ہے—جو معاشرے کو سماجی انصاف، محنت کی عظمت اور دولت کی منصفانہ تقسیم کی یاد دلاتی ہے۔ انہوں نے تمام محنت کشوں پر زور دیا کہ وہ اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے بیدار اور منظم رہیں۔
اس تقریب میں وادی کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے مزدوروں اور ٹریڈ یونین لیڈروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی کی۔
یو این آئی۔م ا ع
جموں و کشمیر1 week agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
جموں و کشمیر4 days agoجموں و کشمیر کے لیے ترقی کا بڑا تحفہ؛ شیوراج سنگھ چوہان نے 3566 کروڑ روپے کے سڑک منصوبوں کی منظوری دے دی
ہندوستان1 week agoمئو سڑک حادثہ: میاں بیوی اور بیٹے سمیت پانچ افراد جاں بحق
ہندوستان7 days agoکیجریوال تاریخ کے سب سے شوقین شخص، نئی رہائش گاہ بھی شیش محل جیسی بنائی: پرویش سنگھ
دنیا1 week agoایران نے روس اور دیگر ممالک کو آبنائے ہرمز کے محصولات میں استثنیٰ دیا: سفیر
جموں و کشمیر4 days agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا زراعت میں فوری اصلاحات اور کسانوں کے تحفظ کا مطالبہ
دنیا7 days agoامریکہ-اسرائیل جنگ کو ختم کرنے کے لیے پاکستان میں مذاکرات بلواسطہ ہوں گے:ایران
دنیا5 days agoآپ حملہ آور کا پیغام پڑھ رہی ہیں، آپ کو شرم آنی چاہیے: ٹرمپ
دنیا7 days agoپاسداران انقلاب اور اسماعیل بقائی نے براہ راست مذاکرات یا ملاقات کے منصوبے کی تردید کردی
ہندوستان1 week agoسپریم کورٹ نے مغربی بنگال کی ووٹر لسٹ سے نکالے گئے انتخابی افسران کی عرضیاں خارج کر دیں
دنیا1 week agoجان کیری کا ایران جنگ سے متعلق بڑا انکشاف
دنیا1 week agoایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کو ناممکن قرار دیدیا، امریکی ناکہ بندی سے عالمی معیشت دباؤ کا شکار










































































































