دنیا
وائٹ ہاؤس عشائیہ: شاہ چارلس کا ٹرمپ کے پرانے بیان پر دلچسپ جوابی وار
واشنگٹن، شاہ چارلس سوم اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان دلچسپ جملوں کا تبادلہ ہوا ہے۔
وائٹ ہاؤس میں شاہی خاندان کے اعزاز میں دیے گئے عشائیے کے دوران شاہ چارلس سوم اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان دلچسپ جملوں کا تبادلہ ہوا، جس میں برطانوی بادشاہ نے صدر ٹرمپ کے ایک پرانے بیان کا جواب بھرپور طنز و مزاح کے ساتھ دیا۔
صدر ٹرمپ نے ماضی میں ڈیووس سربراہی اجلاس کے دوران کہا تھا کہ اگر امریکہ دوسری عالمی جنگ میں مداخلت نہ کرتا تو آج یورپی ممالک کے لوگ جرمن یا جاپانی زبان بول رہے ہوتے۔
شاہ چارلس نے اسی تبصرے کو بنیاد بناتے ہوئے صدر ٹرمپ کو مخاطب کیا اور کہا کہ صدر صاحب! میں یہ کہنے کی ہمت کروں گا کہ اگر برطانیہ نہ ہوتا تو امریکہ میں لوگ آج فرانسیسی بول رہے ہوتے۔ شاہ چارلس کا یہ جملہ سن کر پورا ہال قہقہوں سے گونج اٹھا۔
شاہ چارلس اس وقت شمالی امریکہ میں برطانوی اور فرانسیسی نوآبادیاتی دور کی تاریخ کا ذکر کر رہے تھے جب دونوں طاقتیں براعظم پر قبضے کے لیے برسرِ پیکار تھیں۔ اس موقع پر شاہ چارلس نے صدر ٹرمپ کو برطانوی رائل نیوی کی اس آبدوز کی اصل گھنٹی بھی تحفے میں دی جس نے دوسری عالمی جنگ میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے دونوں ممالک کی دوستی کا حوالہ دیتے ہوئے خوشگوار موڈ میں کہا کہ جب بھی ہماری ضرورت پڑے، بس یہ گھنٹی بجا دیں۔ اس ظرافت بھرے انداز کو تقریب کے شرکاء نے بہت سراہا اور اسے سفارتی آداب میں ایک یادگار لمحہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
’’میں مزید اچھا آدمی بن کر نہیں رہ سکتا‘‘ ٹرمپ کی بندوق اٹھا کر ایران کو پھر دھمکی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو پھر جلد ڈیل کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ میں مزید اچھا آدمی بن کر نہیں رہ سکتا۔
ایران جنگ اور مذاکرات کے تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے روز متعدد بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ ایک بار پھر نیا بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے ایران کو دھمکانے کے لیے بندوق اٹھائے ہوئے اپنی اے آئی تصویر بھی جاری کی ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر جلد ڈیل کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو جلد سمجھداری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ میں مزید اچھا آدمی بن کر نہیں رہ سکتا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران اپنے معاملات کو درست انداز میں سنبھالنے میں ناکام ہے اور لگتا ہے کہ اس کو غیر جوہری معاہدہ کرنا نہیں آتا۔ اس کے ساتھ ہی امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اپنی ایک اے آئی تصویر بھی شیئر کی ہے، جس میں وہ بندوق تھامے دکھائی دے رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکہ ایران معاہدہ کیوں تعطل کا شکار؟ بڑی رکاوٹیں کونسی ہیں
واشنگٹن، امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدہ تاحال کئی اہم نکات پر اختلافات کے باعث تعطل کا شکار ہے، جبکہ عالمی نظریں دونوں ممالک کے آئندہ اقدامات پر مرکوز ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کے ایران کی جانب سے پیش کی گئی حالیہ تجاویز سے متفق ہونے کے امکانات کم ہیں، کیونکہ ان میں جنگ بندی کے بدلے جوہری پروگرام پر کوئی بڑی رعایت شامل نہیں۔ ایران کا نیوکلیئر پروگرام اہم تنازعات میں سرِفہرست ایران کا جوہری پروگرام ہے، جہاں امریکہ چاہتا ہے کہ تہران مکمل طور پر اپنا نیوکلیئرپروگرام ختم کر دے، جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ ایسی پابندیاں محدود مدت کے لیے ہونی چاہئیں۔
یورینیئم ذخائر یورینیئم کے ذخائر بھی ایک بڑا مسئلہ ہیں، امریکہ چاہتا ہے کہ ایران کے تقریباً 400 کلو گرام افزودہ یورینیئم کا مکمل کنٹرول اسے دیا جائے، تاہم تہران نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز بھی کشیدگی کا مرکز بنی ہوئی ہے، جہاں ایران نے پابندیاں برقرار رکھی ہوئی ہیں اور ان کا خاتمہ امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے سے مشروط کیا ہے، جبکہ امریکہ کا کہنا ہے کہ معاہدے تک ناکہ بندی جاری رہے گی۔
ایرانی حکام نے معاہدے کے لیے معاشی پابندیوں کے خاتمے اور تقریباً 20 ارب ڈالرز کے منجمد اثاثے بحال کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ نقصانات کا ازالہ مزید برآں ایران نے امریکی و اسرائیلی حملوں سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے تقریباً 279 ارب ڈالرز ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے، جو مذاکرات میں ایک اور بڑی رکاوٹ بن گیا ہے۔
ایران کا علاقائی اثر و رسوخ علاقائی اثر و رسوخ بھی ایک حساس معاملہ ہے، جہاں امریکہ چاہتا ہے کہ ایران لبنان میں حزب اللّٰہ اور غزہ میں حماس سمیت اپنے اتحادیوں کی حمایت محدود کرے، جبکہ ایران اس مؤقف سے متفق نہیں۔ ماہرین کے مطابق ان بنیادی اختلافات کے حل کے بغیر کسی جامع معاہدے تک پہنچنا فی الحال مشکل دکھائی دیتا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
آبنائے ہرمز پر جاری کشمکش کے سبب عالمی معیشت غیر یقینی صورتِحال کا شکار
تہران، خلیج میں واقع اہم گزرگاہ آبنائے ہرمز جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور ایل این جی کی ترسیل ہوتی ہے، حالیہ جنگی صورتِ حال کے باعث عالمی معیشت کے لیے بڑا چیلنج بن گئی ہے اور تاحال مکمل طور پر محفوظ قرار نہیں دی جا سکی۔
رپورٹس کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی اور جنگ کے آغاز کے بعد اس گزرگاہ میں بحری آمد و رفت شدید متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں تقریباً 2 ہزار جہاز خلیج میں پھنس گئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حتیٰ کہ اگر راستہ کھول بھی دیا جائے تو بھی خطرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوں گے۔ امریکی حکام کے مطابق سمندر میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو صاف کرنے میں کم از کم 6 ماہ لگ سکتے ہیں، جبکہ بعض تجزیہ کاروں کے نزدیک مکمل طور پر خطرہ ختم کرنا تقریباً ناممکن ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب انشورنس کمپنیوں نے بھی صورتِ حال کو انتہائی غیر یقینی قرار دیتے ہوئے جنگی خطرات کی انشورنس معطل یا مہنگی کر دی ہے۔ ماہرین کے مطابق پہلے جہاں انشورنس کی لاگت جہاز کی مالیت کا تقریباً 0.25 فیصد تھی، وہ اب بڑھ کر 1 سے 5 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس راستے کو دوبارہ محفوظ قرار دینے کے لیے ضروری ہے کہ فریقین کے درمیان مستقل جنگ بندی، واضح سیکیورٹی ضمانتیں، بارودی سرنگوں کی مؤثر صفائی اور بحری راستوں پر مکمل کنٹرول قائم ہو۔
ماہرین کے مطابق صرف عارضی جنگ بندی کافی نہیں ہوگی بلکہ طویل عرصے تک بحری آمد و رفت کا بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہنا ضروری ہے تاکہ انشورنس کمپنیاں اعتماد بحال کر سکیں۔ یاد رہے کہ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے اس صورتِ حال کو عالمی تاریخ میں تیل کی فراہمی میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے، جو 1970ء کی دہائی کے آئل بحران سے بھی زیادہ سنگین ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر5 days agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
دنیا1 week agoایرانی یورینیم کی بازیابی طویل اور مشکل ہوگی: ٹرمپ
جموں و کشمیر1 week agoایک سال بعد بھی بائیسرن چراگاہ بدستور بند
جموں و کشمیر1 day agoجموں و کشمیر کے لیے ترقی کا بڑا تحفہ؛ شیوراج سنگھ چوہان نے 3566 کروڑ روپے کے سڑک منصوبوں کی منظوری دے دی
دنیا1 week agoنائب امریکی صدر یران کے ساتھ اعلی سطحی مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ — رپورٹ
ہندوستان4 days agoکیجریوال تاریخ کے سب سے شوقین شخص، نئی رہائش گاہ بھی شیش محل جیسی بنائی: پرویش سنگھ
ہندوستان4 days agoمئو سڑک حادثہ: میاں بیوی اور بیٹے سمیت پانچ افراد جاں بحق
دنیا1 week agoایرانی عوام کے حکومت کے حق میں مظاہرے، اسلحہ بردار خواتین بھی سامنے آگئیں
دنیا1 week agoدھمکیوں کے سائے میں مذاکرات کسی صورت قبول نہیں: اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ
دنیا1 week agoایران کی تجارتی ومالی مدد ہماری پابندیوں کا سامنا کرے گی:امریکہ
دنیا5 days agoایران نے روس اور دیگر ممالک کو آبنائے ہرمز کے محصولات میں استثنیٰ دیا: سفیر
دنیا4 days agoپاسداران انقلاب اور اسماعیل بقائی نے براہ راست مذاکرات یا ملاقات کے منصوبے کی تردید کردی












































































































