ہندوستان
تہوارہارباہمی گفتگو اور بھائی چارہ بڑھانے کا بہترین موقع: سعادت اللہ حسینی

نئی دہلی،ملک میں موجود نفرت کے ماحول پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی ، ہند سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ تہوار خوشیاں منانے اور باٹنے کا ذریعہ ہوا کرتا تھا لیکن افسوس کی بات ہے کہ اسے نفرت اور اشتعال پھیلانے کا ذریعہ بنادیا گیا ہے اس امر کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی ہند کی جانب سے منعقدہ عید ملن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انھوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب تو کچھ لوگوں کے لئے تہواربھی نفرت پھیلانے اورلوگوں کو بانٹنے کا ذریعہ بن گئے ہیں۔تہواروں کی آمد پر لوگ خوف و ہراس محسوس کرنے لگے ہیں۔ایسے حالات میں پہلے سے زیادہ ضروری ہوگیا ہے کہ ہم عید اوردیگرتہواروں کے موقع پر ایک دوسرے سے ملاقات کریں اور آپس میں خوشیاں بانٹنے کی کوشش کریں۔
ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ تہواروں کا موقع باہمی گفتگو اور ڈائیلاگ کا موقع ہوتا ہے۔ اس سے آپسی بھائی چارہ اورخیر سگالانہ جذبات کو عام کرنے کی راہ ہموار ہوتی ہے۔اس وقت ملک کے جو حالات ہیں اور نفرت کی فضا گرم ہے نیزآپس میں نااتفاقیاں پیدا کی جارہی ہے، ایسے حالات میں اس قسم کے پروگراموں کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
مسٹرسعادت اللہ حسینی نے مزید کہا کہ ہم تہواروں کے مواقع کو خوشیاں بانٹنے کے لئے استعمال کریں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں سے ملیں۔عید ملن کے اس پرمسرت موقع پر آپ تمام حضرات کی حاضری ہمارے لئے فال نیک ہے ۔انھوں نے لوگوں سے کہا کہ اس موقع کوگلے شکوے دور کرنے اور خیرسگالی کو بڑھاوا دےنے کے لئے استعمال کریں۔
انھوں نے کہا کہ وقف ترمیمی بل کے خلاف سبھی لوگوں نے جس طرح خیرسگالی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کی خامیوں اور نقص کو اجاگر کیا، اس کے لئے ہم ان کے شکرگزار ہیں۔انھوں نے کہا کہ یہاں کئی ممالک کے سفیر اورمختلف طبقات سے تعلق رکھنے کے والے ہندوستانی نمائندے موجود ہیں۔ہم آپ کی توجہ غزہ کی صورت حال کی طرف مبذول کرانا چاہتے ہیں کہ وہاں بچوں، خواتین اورمعصوم شہریوں کا کھلے عام قتل عام ہورہا ہے، داکٹروں، اسکول کی عمارتوں،اسپتالوں اور ایمبولینس کوبھی نہیں بخشا جارہا ہے۔یہ حالیہ تاریخ کا بدترین اور سیاہ باب ہے۔وقت آگیا ہے کہ اب ہمیں متحد ہوکر ان مظالم کے خلاف آواز اٹھانی چاہئے۔
اس تقریب میں اراکین پارلیمنٹ مولانا محب اللہ ندوی، کمال اخترخاں، چودھری اقرا حسن، سابق رکن پارلیمنٹ کنور دانش علی، مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا فضل الرحیم مجددی،
15 سے زائد ممالک کے سفارت خانوں کے نمائندوں سمیت مختلف مذاہب و مکاتب فکر کے رہنماؤں، مذہبی شخصیات اور سول سوسائٹیز، سیاسی و سماجی اور تعلیمی تنظیموں و اداروں کے ذمہ داران نے شرکت کی۔ پروگرام میں میڈیا کے منتخب افراد و دیگر میدانوں میں کارہائے نمایاں انجام دینے والے اشخاص بھی موجود رہے۔ مجموعی طور پر اس پروگرام میں تقریبا ساڑھے تین سو افراد نے شرکت کی۔ اس تقریب کا بنیادی مقصد سماج کی اہم اور بااثر شخصیات کو ایک دوسرے سے جوڑ کر عید کی خوشیوں میں شریک کرنا اور اس کے ذریعے بہتر سماج کی تعمیر کے لیے امن و انصاف کے پیغام کو عام کرنا تھا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
حکومت بتائے، گولی چلانے کا حکم کس نے دیا : کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ حکومت بتائے کہ دہلی میں احتجاج کر رہے طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی اوران پر گولی چلانے کا حکم کس نے دیا پارٹی نے کہا کہ اس پورے معاملے میں ملک کے وزیرِ داخلہ امت شاہ کو جواب دینا چاہیے۔
ہمارا یہ بھی سوال ہے کہ وزیرِ داخلہ پارلیمنٹ سے کیوں بھاگ رہے ہیں اور اس مسئلے پر جواب دینے سے کیوں بچ رہے ہیں۔
کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینو گوپال نے جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے کہا کہ دہلی میں طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی اور گولی چلانے کا حکم کس نے دیا، اس سوال کا جواب وزیرِ داخلہ کو دینا چاہیے اور انہیں پارلیمنٹ میں آنا چاہیے، پارلیمنٹ آنے سے بھاگنا نہیں چاہیے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن کے رہنما کو پارلیمنٹ میں بولنے تک کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ حکومت کو طالب علموں پر ہوئی کارروائی کے لیے جوابدہ ہونا چاہیے اور پورے معاملے کی سچائی ملک کے سامنے رکھنی چاہیے۔
یو این آئی۔ ایف اے
ہندوستان
بی جے پی – آر ایس ایس کی نیت جان چکا ہے ملک کا نوجوان : پرینکا
نئی دہلی، کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا ہے کہ بی جے پی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کچھ بھی کوشش کر لیں، کوئی بھی طعنہ دیں، لیکن ملک کا نوجوان ان کا سچ اور ان کی نیت کو جان چکا ہے انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کو پہلے بی جے پی – آر ایس ایس کی حقیقت کا پتہ نہیں تھا، انہیں اب ان کی سچائی سمجھ میں آ چکی ہے۔ ان کی نیت کو پورا ملک اور نوجوان سمجھ چکے ہیں۔
محترمہ واڈرا نے جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے کہا کہ ملک کی آزادی کی لڑائی، سچائی اور عدم تشدد کے اصولوں پر مبنی تھی لیکن اس میں آر ایس ایس کا کوئی تعاون نہیں تھا۔ بی جے پی اور آر ایس ایس کے لوگ چاہے کتنی بھی نفرت، تشدد اور پھوٹ ڈالنے کی کوشش کر لیں، لیکن وہ ملک کی روح سے بھائی چارے اور اتحاد کے جذبے کو کبھی نہیں نکال سکتے۔
یو این آئی۔ ایف اے
ہندوستان
شاہ کو عہدے سے ہٹانا ہوگا، گولی چلانے کے معاملے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں ہو جانچ : راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما راہل گاندھی نے وزیرِ داخلہ امت شاہ کو طلبہ پر گولی چلانے کا حکم دینے کے لیے ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے ان کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اس پورے واقعہ کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں جانچ کرائی جانی چاہیے۔
مسٹر گاندھی نے بدھ کو یہاں پارٹی ہیڈ کوارٹر میں پریس کانفرنس میں کہا کہ انہوں نے 25 جولائی کو مسٹر شاہ کو خط لکھ کر پوچھا تھا کہ طالب علموں پر پیلٹ گن کے استعمال کا حکم کس نے دیا اور احتجاج کے دوران سادہ وردی میں موجود لوگ کون تھے لیکن اب تک کوئی جواب نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس پیلٹ گن کے استعمال کے ثبوت، تصویریں اور زخمی طالب علموں کے طبی دستاویزات ہیں نیز انہی کی بنیاد پر طالب علموں کو انصاف دلانے کی لڑائی لڑی جائے گی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ پرامن احتجاج کر رہے طالب علموں پر پولیس نے بربریت کی۔ ایک طالب علم کی آنکھ کی بینائی چلی گئی، کئی طالب علموں کے جسم پر پیلٹ کے نشانات ہیں اور ایمس کی طبی رپورٹ میں بھی ایک زخمی طالب علم پر پیلٹ گن کے استعمال کی تصدیق ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالب علموں کو کیل لگی لاٹھیوں سے پیٹا گیا، خواتین کے ساتھ بدسلوکی کی گئی اور کچھ لوگ سادہ وردی میں بھی کارروائی میں شامل تھے، جن کی شناخت اب تک واضح نہیں کی گئی ہے۔
لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما نے کہا کہ انہوں نے آج پارلیمنٹ میں یہ مسئلہ اٹھانے کی کوشش کی لیکن انہیں بولنے نہیں دیا گیا، جبکہ حکومت کے وزراء کو اپنی بات رکھنے کا پورا موقع ملا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان سے معافی مانگنے پر بولنے دینے کی بات کہی گئی لیکن انہوں نے اسے مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا، “میں بی جے پی، آر ایس ایس یا ان سے جڑے کسی بھی شخص سے کبھی معافی نہیں مانگوں گا۔ اپوزیشن کے رہنما کے طور پر ملک کے اہم مسائل اٹھانا میرا حق ہے۔”
مسٹر گاندھی نے کہا کہ پیلٹ گن جیسی طاقت کے استعمال کی اجازت وزارتِ داخلہ کی سطح پر ہی دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں صرف دو ہی امکانات ہیں—یا تو وزیرِ داخلہ امت شاہ نے پیلٹ گن چلانے، لاٹھی چارج اور دیگر طاقت کے استعمال کا حکم دیا، یا پھر انہیں اس کی معلومات ہی نہیں تھی۔ دونوں ہی صورتوں میں مسٹر شاہ کو اپنے عہدے پر بنے رہنے کا حق نہیں ہے اور انہیں عہدہ چھوڑ دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ گولی چلانے کے احکامات کس نے دیے، اس کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں اعلیٰ سطحی جانچ کرائی جانی چاہیے تاکہ پورے معاملے کی جوابدہی طے ہو سکے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ طالب علموں کے خلاف فیشل ریکگنیشن ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے اور انہیں ڈرانے دھمکانے کے لیے منظم کوششیں کی جا رہی ہیں تاکہ وہ مستقبل میں اپنی آواز نہ اٹھا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت طالب علموں پر ہوئے مظالم سے توجہ ہٹانے کے لیے بل لے کر آئی ہے۔ یہ “اینٹی پیپر لیک بل نہیں، بلکہ پنشمنٹ بل” ہے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ مسٹر شاہ کو عہدے سے ہٹا کر پورے معاملے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں آزادانہ اور اعلیٰ سطحی جانچ کرائی جانی چاہیے، تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ طالب علموں پر گولی اور پیلٹ گن چلانے کا حکم کس نے دیا نیز قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی یقینی ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ طالب علموں نے کوئی جرم نہیں کیا تھا اور انہیں انصاف ملنا ہی چاہیے۔
یو این آئی۔ ایف اے
دنیا1 week agoایرانی صدر کا سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق نیا اور اہم انکشاف
دنیا1 week agoامریکہ-ایران رابطے کے لیے پاکستان اور قطر کی کوششیں جاری
ہندوستان1 week agoپیپر لیک احتجاج کے درمیان یوتھ کانگریس کی امدادی مہم، دہلی میں پھنسے اور زخمی طلبہ کے لیے ہیلپ لائن جاری
دنیا1 week agoایران جنگ پر 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے: امریکی وزیر جنگ
دنیا1 week agoامریکی صدر ٹرمپ کی نطنز کے پہاڑوں میں ایرانی ایٹمی مرکز پر حملے کی دھمکی
ہندوستان1 week agoپیپر لیک پر حکومت کا قدم نا کافی اور گمراہ کن، جواب دہی طے کریں مودی: کھرگے-راہل
دنیا1 week agoامریکہ ایران کشیدگی میں کمی کی امید سے خام تیل کی قیمت کم ہوگئی
دنیا6 days agoابھی ایران کو زیادہ تکلیف نہیں پہنچی، بڑی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں: ٹرمپ کی دھمکی
ہندوستان1 week agoدہلی پولیس کی کارروائی پر بھڑکی کانگریس، جمہوریت پر حملے کا لگایا الزام
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے رامسو میں چٹان کھسکنے سے دو لوگوں کی موت، پانچ زخمی
جموں و کشمیر1 week agoجب جموں و کشمیر کے عوام کو عمر عبداللہ کی ضرورت تھی، وہ نئی دہلی میں ’سیاسی ڈرامے‘ میں مصروف تھے: بی جے پی
جموں و کشمیر1 week agoسکیورٹی فورسز نے اننت ناگ میں دہشت گردوں سے منسلک دو مکانات منہدم کر دیے





































































































