جموں و کشمیر
چرار شریف میں عرس حضرت شیخ نورالدین نورانی(رح) کی تیاریاں شروع،خواتین نصف شب نعتیہ کلام پڑھ کر فضا کو معطر کرتی ہیں

سری نگر،یوں تو وادی کشمیر کے گوشہ و کنار میں اولیا عظام کی قیام گاہیں موجود ہیں جہاں سال بھرعقیدت مندوں کا تانتا بندھا رہتا ہے تاہم وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام میں واقع قصبہ چرار شریف اس ضمن میں خاص طور پر قابل ذکر ہے۔
سری نگر سے محض 25 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہیہ قصبہ علمدار کشمیر حضرت شیخ نور الدین نورانی(رح) المعروف نند ریشی کے آستانہ عالیہ کی نسبت سے نہ صرف کشمیر بلکہ برصغیر میں شہرت رکھتا ہے جہاں ہر سال ان کے سالانہ عرس کے موقع پر لاکھوں کی تعداد میں عقیدت مند حاضری دیتے ہیں۔
حسب معمول امسال بھی چرار شریف میں عرس نورالدین نورانی(رح) کی تیاریاں شروع ہو چکی ہیں اور اس بار بھی ایک پرانی روایت کو زندہ کرتے ہوئے خواتین نے نصف شب آستانہ عالیہ پر حاضری دینا شروع کر دی ہے۔ یہ روایت کم و بیش دو سے تین صدیوں سے جاری ہے، جس کے تحت قصبے کی خواتین عرس سے ایک ماہ قبل رات کے پچھلے پہر سے نماز فجر تک آستانے پر حاضر ہو کر اللہ کے حضور سربسجود ہوتی ہیں، نعت و منقبت خوانی کرتی ہیں اور حضرت شیخ نور الدین نورانی(رح) کے کلام سے فضا کو معطر کر دیتی ہیں۔
چرار شریف آستانہ عالیہ کے متولی حاجی یونس جان نے یو این آئی کو بتایا کہ ‘ یہ روایت آج بھی اسی عقیدت اور احترام کے ساتھ قائم ہے جیسے ماضی میں تھی۔
انہوں نے کہا: ‘یہاں کی خواتین ایک ماہ تک مسلسل نصف شب کو آستانہ پر آ کر ذکر و اذکار اور دعا ومناجات میں محو رہتی ہیں۔ یہ روایت دو سے تین سو سال پرانی ہے اور خواتین اسے نسل در نسل نبھا رہی ہیں۔ وہ اپنے گھروں کے کام کاج سے فارغ ہو کر رات کے تین بجے آتی ہیں اور نماز فجر تک یہ محفل جاری رہتی ہیں’۔
انہوں نے بتایا کہ خواتین امن و سکون، شانتی اور وادی میں خوشحالی کے لئے دعائیں کرتی ہیں، یہ خواتین صرف اپنے گھروں یا خاندان کے لئے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لئے دعا کرتی ہیں۔ یہی اس روایت کی سب سے بڑی خوبی ہے۔
موصوف متولی نے کہا کہ جموں وکشمیر کی وقف بورڈ چیئرپرسن ڈاکٹر درخشان اندرابی نے یہاں خواتین کے لئے ایک الگ کمرہ تعمیر کرایا ہے تاکہ وہ وہاں پر نعت خوانی کا اہتمام کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ اب خواتین بارش، سردی یا ہجوم کے باوجود سکون سے اپنی عبادات کر سکتی ہیں، جو کہ ایک مثبت قدم ہے۔
عرس کی تیاریوں میں مصروف ایک مقامی خاتون شاہینہ بانو نے یو این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا:’ہمارے بزرگوں نے ہمیں یہ روایت سونپی ہے کہ عرس سے پہلے ایک مہینہ ہم راتوں کو اللہ کے حضور دعاؤں میں گزاریں۔ یہ ہمارے لئے سعادت ہے۔ ہم اپنے بچوں، اپنے علاقے اور پوری وادی کے لئے امن و سکون مانگتے ہیں’۔
ایک اور خاتون رفیقہ جان کا کہنا تھا:’ہم یہاں نہ صرف ذکر و اذکار کرتے ہیں بلکہ حضرت شیخ نور الدین نورانی(رح) کا کلام پڑھ کر دلوں کو سکون ملتا ہے۔ ان کے اشعار انسان کو بھائی چارے اور محبت کا پیغام دیتے ہیں، جو آج کے دور میں سب سے زیادہ ضروری ہے’۔
چرار شریف کے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ خواتین کی یہ شب بیداری قصبے میں ایک خاص روحانی ماحول پیدا کرتی ہے۔ رات کے وقت جب قصبہ خاموشی میں ڈوبا ہوتا ہے تو آستانے سے اٹھنے والی نعت خوانی اور ذکر کی صدائیں ایک عجیب کیفیت طاری کر دیتی ہیں۔
ایک عمر رسیدہ عقیدت مند نے کہا: ‘یہ ماحول ہماری نئی نسل کے لئے بھی ایک سبق ہے کہ روحانیت اور دعا سے ہی زندگی کو سکون مل سکتا ہے۔‘
خواتین کی یہ عبادات عرس کی تقریبات کے ساتھ ختم نہیں ہوتیں بلکہ وہ دیگر زیارت گاہوں پر بھی حاضری دیتی ہیں۔
متولی یونس جان کے مطابق عرس کے اختتام کے بعد خواتین قریبی آستانوں، خاص طور پر’صدر موجؒ اور دیگر بزرگانِ دین کے آستانوں پر بھی جاتی ہیں۔ یہ ایک طرح سے روحانی سفر کا تسلسل ہے۔‘
چرار شریف کا سالانہ عرس محض ایک مذہبی اجتماع نہیں بلکہ وادیٔ کشمیر کی روحانی روایت اور ثقافتی پہچان کی علامت ہے۔ یہاں کی خواتین نے اس روایت کو صدیوں سے اپنے کندھوں پر اٹھا رکھا ہے اور آج بھی اسی خلوص اور محبت سے اللہ کے حضور دعائیں کرتی ہیں۔ ان کی شب بیداریاں اور دعائیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ کشمیر کی سرزمین روحانیت، صبر اور عقیدت میں اپنی مثال آپ ہے۔
یو این آئی ارشید بٹ،ایم افضل
جموں و کشمیر
سری نگر: سی آئی ٹی یو کا یومِ مئی پر مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کا عزم، تاریگامی کی اتحاد کی اپیل
سری نگر،سری نگر میں ‘سینٹر آف انڈین ٹریڈ یونینز’ (سی آئی ٹی یو) کے زیرِ اہتمام عالمی یومِ مئی کے موقع پر ایک پروقار تقریب منعقد کی گئی۔ اس موقع پر محنت کش طبقے کی تاریخی جدوجہد کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور ابھرتے ہوئے چیلنجز کے خلاف مزدوروں کے حقوق کے دفاع کے عزم کو دہرایا گیا۔
پروگرام کا آغاز شکاگو کے ‘مارکیٹ افیئر’ کے ان شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے سے ہوا جن کی عظیم قربانیوں نے دنیا بھر میں آٹھ گھنٹے کے اوقاتِ کار اور مزدوروں کے تحفظ کے نئے دور کی بنیاد رکھی۔ مقررین نے کہا کہ یومِ مئی مزدوروں کے اتحاد، استقامت اور انصاف کے لیے ان کی مسلسل جدوجہد کی علامت ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سی آئی ٹی یو جموں و کشمیر کے صدر اور رکن اسمبلی کولگام محمد یوسف تاریگامی نے کہا مزدور کبھی انتہائی نامساعد حالات میں 17 سے 18 گھنٹے کام کرنے پر مجبور تھے۔آج ہمیں جو حقوق حاصل ہیں—چاہے وہ باقاعدہ اوقاتِ کار ہوں، مناسب اجرت ہو یا بنیادی تحفظ—یہ کسی نے ہمیں تحفے میں نہیں دیے، بلکہ یہ دہائیوں کی انتھک جدوجہد، اتحاد اور قربانیوں کا نتیجہ ہیں۔
تاریگامی نے خبردار کیا کہ گزشتہ دہائیوں میں جو حقوق حاصل کیے گئے تھے، وہ اب بڑھتی ہوئی معاشی ناہمواری اور لیبر قوانین کی کمزوری کی وجہ سے دوبارہ خطرے میں ہیں۔ انہوں نے کہا:
“جب تک لوگ آواز نہیں اٹھاتے، کوئی نہیں سنتا۔ تبدیلی تب ہی آتی ہے جب مزدور متحد ہو کر اپنے حقوق کا مطالبہ کریں۔”
انہوں نے بی جے پی کی قیادت والی حکومت کی پالیسیوں کو ‘مزدور دشمن’ قرار دیتے ہوئے حال ہی میں نافذ کیے گئے چار لیبر کوڈز کو فوری طور پر منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔
تاریگامی نے مزید کہا کہ یومِ مئی محض ماضی کی یاد منانا نہیں بلکہ ایک تحریک ہے—جو معاشرے کو سماجی انصاف، محنت کی عظمت اور دولت کی منصفانہ تقسیم کی یاد دلاتی ہے۔ انہوں نے تمام محنت کشوں پر زور دیا کہ وہ اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے بیدار اور منظم رہیں۔
اس تقریب میں وادی کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے مزدوروں اور ٹریڈ یونین لیڈروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی کی۔
یو این آئی۔م ا ع
جموں و کشمیر
بہتر ریل خدمات سے معیشت اور صنعت دونوں کو تقویت: اشونی ویشنو
جموں، وزیر ریل اشونی ویشنو نے جمعرات کے روز کہا کہ بہتر ریلوے انفراسٹرکچر مقامی مصنوعات کی آسان نقل و حمل کو ممکن بنا کر جموں و کشمیر کی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
مسٹر ویشنو نے آج سری نگر-کٹرا وندے بھارت ایکسپریس کی جموں توی تک توسیعی سروس کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر انہوں نے جموں توی اسٹیشن کو شمالی ہندوستان کے اہم ترین اسٹیشنوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مرکز کے زیر انتظام علاقے کو ملک کے باقی حصوں سے جوڑنے کے لیے ایک ‘گیٹ وے’ کی حیثیت رکھتا ہے۔ کنیا کماری، ہاوڑہ، ممبئی اور دیگر بڑے شہروں سے براہِ راست رابطے کی وجہ سے یہ اسٹیشن عوامی آمد و رفت میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
وزیر ریل نے کہا کہ جموں و کشمیر، جسے اکثر “زمین پر جنت” کہا جاتا ہے، اپنی قدرتی خوبصورتی، برف پوش پہاڑوں اور پرسکون جھیلوں کے لیے مشہور ہے۔ بہتر ریل رابطوں سے سیاحت کو مزید فروغ ملے گا۔ ملک بھر سے زیادہ سے زیادہ لوگ یہاں کے مناظر اور متحرک ثقافت کا تجربہ کر سکیں گے۔
اشونی ویشنو نے واضح کیا کہ ریلوے کا نظام یہاں کی مقامی صنعتوں کے لیے ریڑھ کی ہڈی ثابت ہو رہا ہے۔ یہاں کے خشک میوہ جات، پشمینہ شال، سیب اور ہاتھ سے بنے قالینوں کی ملک بھر میں زبردست مانگ ہے۔ بہتر ریل رابطے کے باعث یہ سامان اب ملک کی بڑی منڈیوں تک تیزی سے اور کم لاگت میں پہنچ رہا ہے، جس سے مقامی لوگوں کے روزگار میں اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اتنی زیادہ بلندی پر ریل کا آپریشن ہندوستان کا پہلا تجربہ ہے، جو مستقبل کے منصوبوں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوگا۔ اس ریل لائن نے مال برداری میں بہتری لائی ہے، جس سے کھاد، دودھ اور دیگر ڈیری مصنوعات کی ترسیل آسان ہوگئی ہے۔ چیری جیسی نازک فصلوں کو اب پارسل سروس کے ذریعے براہِ راست مارکیٹ بھیجا جا رہا ہے، جس سے کسانوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔
وزیر موصوف نے اختتام پر کہا کہ مستقبل میں ہمالیہ کے علاقوں میں ریل کے سفر کو محفوظ اور قابل بھروسہ بنانے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی، پلوں اور سرنگوں کی دیکھ بھال کے نظام کو مزید مستحکم کیا جائے گا۔
وزیر ریل اشونی ویشنو نے جموں و کشمیر میں ریلوے کی ترقی کے حوالے سے مزید اہم تفصیلات فراہم کرتے ہوئے اسے خطے کے لیے ایک “انقلابی تبدیلی” قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ادھم پور-سری نگر-بارہمولہ ریل لنک کی تکمیل سے وادی کشمیر اب ملک کے باقی ریل نیٹ ورک سے مکمل طور پر جڑ چکی ہے۔ دنیا کے بلند ترین چناب ریل پل اور انجی کھڈ پل جیسے انجینئرنگ کے بے مثال نمونوں نے ہر موسم میں بلاتعطل ریل رابطے کو یقینی بنا دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس انفراسٹرکچر کی بدولت مال برداری کے وقت میں نمایاں کمی آئی ہے اور وادی قومی سپلائی چین کا اہم حصہ بن گئی ہے۔
اشونی ویشنو نے ریلوے منصوبوں کے معاشی اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ بہتر انفراسٹرکچر کے باعث مقامی تجارت کو فروغ ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سری نگر سے ملک کے دیگر حصوں تک اب تک تقریباً دو کروڑ کلو گرام سیب ریلوے کے ذریعے پہنچائے جا چکے ہیں، جبکہ بہتر لاجسٹکس کی بدولت ضروری اشیاء کی قیمتوں میں بھی کمی آئی ہے۔ مثال کے طور پر سیمنٹ کی نقل و حمل سستی ہونے سے اس کی قیمت میں فی بوری تقریباً 50 روپے تک کی کمی دیکھی گئی ہے۔ مزید برآں غذائی تحفظ کے تحت جنوری میں 2,768 میٹرک ٹن چاول لے جانے والی پہلی مال گاڑی اننت ناگ پہنچی، جبکہ اس سے قبل اناج اور گجرات سے نمک کی ترسیل بھی ریل کے ذریعے ممکن ہوئی۔
انہوں نے نئی تجارتی راہوں کے قیام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ احمد آباد سے جموں و کشمیر کے لیے پہلی بار ڈیری مصنوعات کی مال گاڑی روانہ کی گئی ہے۔ اسی کے ساتھ امیزون نے بھی وادی میں اپنی خدمات شروع کر دی ہیں، جس کے تحت آدرش نگر سے بڈگام تک سامان کی ترسیل اب 30 گھنٹے سے بھی کم وقت میں ممکن ہو گئی ہے، جو ای-کامرس کے فروغ میں اہم پیش رفت ہے۔
مستقبل کے منصوبوں کے حوالے سے وزیر ریل نے بتایا کہ جموں توی اسٹیشن کی تعمیرِ نو اور توسیع کا کام تیزی سے جاری ہے تاکہ بڑھتی ہوئی مسافروں کی تعداد کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ اس کے علاوہ قاضی گنڈ اور بارہمولہ کے درمیان ریلوے لائن کی ڈبلنگ کا عمل جاری ہے، جس سے سفر مزید تیز اور آسان ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پونچھ-راجوری ریل لنک اور اڑی-بارہمولہ توسیع جیسے منصوبوں پر کام جاری ہے، جن کے مکمل ہونے سے دور دراز اضلاع پہلی بار قومی ریل نیٹ ورک سے جڑیں گے اور تعلیم، صحت اور مقامی صنعتوں کو تقویت ملے گی۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں سے نہ صرف سرحدی اور دور دراز علاقوں تک رسائی میں اضافہ ہوگا بلکہ وہاں کے شہریوں کی زندگی میں خوشحالی آئے گی اور سیاحت کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
یو این آئی۔ م ع
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں منشیات فروشوں کو دہشت گردوں کی طرح سمجھا جائے گا: لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا
جموں، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا ہے کہ منشیات کی اسمگلنگ اور نشہ آور اشیاء کی تجارت کے خلاف اسی سختی سے کارروائی کی جائے گی جیسے دہشت گردی کے خلاف کی جاتی ہے اور اس کاروبار کو “خاموش دہشت گردی” قرار دیا جو نوجوانوں کو تباہ اور معاشرے کو کمزور کر رہی ہے۔
منوج سنہا نے ضلع ڈوڈہ میں “ڈَرگ فری جموں و کشمیر” مہم کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ منشیات کے خلاف عوامی تحریک لوگوں کے عزم اور اتحاد کی عکاس ہے اور اس لعنت کا خاتمہ اسی وقت ممکن ہے جب معاشرہ متحد ہو کر آواز اٹھائے۔
انہوں نے کہاکہ “میں پختہ یقین رکھتا ہوں کہ منشیات کا استعمال صرف قانون و نظم کا مسئلہ نہیں بلکہ خاموش دہشت گردی کی ایک شکل ہے۔ منشیات کی اسمگلنگ دراصل بھیس بدلا ہوا دہشت گردی ہے۔ یہ ایک پوشیدہ خطرہ ہے جو ہمارے نوجوانوں کو تباہ، خاندانوں کو کمزور اور معاشرے کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔”
انہوں نے مزید کہاکہ “ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ جموں و کشمیر میں منشیات فروشوں کے ساتھ قانون کے تحت ویسا ہی سلوک کیا جائے گا جیسا دہشت گردوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ وہ معاشرے، انسانیت اور ہمارے نوجوانوں کے دشمن ہیں۔ ہم اس خطرے کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔”
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ہر اسمگلر، ہر مقامی منشیات فروش اور ہر وہ فرد جو اس نیٹ ورک کا حصہ ہے، کی نشاندہی کر کے اسے جیل میں ڈالا جائے گا۔
انہوں نے کہاکہ “میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ جب تک اس زہر کو پھیلانے والے نیٹ ورک مکمل طور پر ختم نہیں ہو جاتے، ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔”
یواین آئی۔ ظإ ا
جموں و کشمیر1 week agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
جموں و کشمیر4 days agoجموں و کشمیر کے لیے ترقی کا بڑا تحفہ؛ شیوراج سنگھ چوہان نے 3566 کروڑ روپے کے سڑک منصوبوں کی منظوری دے دی
ہندوستان7 days agoکیجریوال تاریخ کے سب سے شوقین شخص، نئی رہائش گاہ بھی شیش محل جیسی بنائی: پرویش سنگھ
ہندوستان7 days agoمئو سڑک حادثہ: میاں بیوی اور بیٹے سمیت پانچ افراد جاں بحق
دنیا1 week agoایران نے روس اور دیگر ممالک کو آبنائے ہرمز کے محصولات میں استثنیٰ دیا: سفیر
جموں و کشمیر4 days agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا زراعت میں فوری اصلاحات اور کسانوں کے تحفظ کا مطالبہ
دنیا7 days agoامریکہ-اسرائیل جنگ کو ختم کرنے کے لیے پاکستان میں مذاکرات بلواسطہ ہوں گے:ایران
دنیا7 days agoپاسداران انقلاب اور اسماعیل بقائی نے براہ راست مذاکرات یا ملاقات کے منصوبے کی تردید کردی
دنیا5 days agoآپ حملہ آور کا پیغام پڑھ رہی ہیں، آپ کو شرم آنی چاہیے: ٹرمپ
دنیا1 week agoجان کیری کا ایران جنگ سے متعلق بڑا انکشاف
ہندوستان1 week agoسپریم کورٹ نے مغربی بنگال کی ووٹر لسٹ سے نکالے گئے انتخابی افسران کی عرضیاں خارج کر دیں
دنیا1 week agoایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کو ناممکن قرار دیدیا، امریکی ناکہ بندی سے عالمی معیشت دباؤ کا شکار











































































































