جموں و کشمیر
کشمیر میں کسان دھان کی کھیتوں میں مصروف لیکن امسال مایوس و غمگین

سری نگر، وادی کشمیر میں ماہ ستمبر کسان طبقے سے وابستہ لوگوں کے لئے انتہائی اہمیت اور خوشی و شادمانی کا مہینہ ہے کیونکہ اسی مہینے میں سیب کی فصل بھی تیار ہوتی ہے اور دھان فصل بھی تیار ہو کر کاٹی جاتی ہے۔
تاہم امسال جہاں قومی شاہراہ کئی روز بند رہنے سے میوہ صنعت سے وابستہ کاشتکار پریشان ہیں وہیں دھان فصل اگانے والے کسان بھی مایوس نظر آرہے ہیں کیونکہ حالیہ سیلاب اور خراب موسمی صورتحال نے کئی علاقوں میں اس فصل کو بے تحاشا نقصان پہنچایا۔
واضح رہے کہ حالیہ سیلاب کی وجہ سے وادی کے کئی علاقوں میں دھان کے کھیت زیر آب آگئے جس سے یہ فصل مکمل طور پر تباہ ہوگئی اور کئی علاقوں میں خراب موسمی صورتحال نے فصل کو بے تحاشا نقصان پہنچایا۔
وادی میں ان دنوں بھی کسان اپنے کھیت کھلیانوں میں دھان فصل کی کٹائی کے ساتھ حسب معمول مصروف ہیں لیکن آج ان کے چہروں پر مسرت و شادمانی کے بجائے مایوسی اور غم کے آثار نمایاں ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ فصل امسال بھی اچھی تھی لیکن سیلاب نے اس کو تباہ کردیا۔
سری نگر کے مضافاتی علاقہ بمنہ سے تعلق رکھنے والے بشیر احمد نامی ایک کاشتکار نے یو این آئی کو بتایا: ‘ہماری زرعی اراضی جو قریب 20 کنال پر مشتمل ہے، امسال بھی فصل سے لہلہا رہی تھی، حسب معمول اچھی پیداوار کی توقع تھی لیکن خراب موسمی صورتحال نے اس کو تباہ و بر باد کر دیا’۔
انہوں نے کہا: ‘دھان کی فصل تیار تھی، ہم کاٹ رہے تھے کہ موسم نے کروٹ بدلی، کھیت میں پانی جمع ہوا،کھڑی فصل بھی گرگئی اور موسم کی خرابی نے طول پکڑا جس نے فصل کو مکمل طور پر خراب کر دیا’۔
ان کا کہنا تھا: ‘ہم سال بھر اس کے تیار ہونے کے منتظر تھے، کیونکہ اس سے گھر میں سال بھر کے کھانے پینے کا انتظام ہوتا تھا،اس فصل سے ہمارے مویشیوں کے چارے کا بھی بندوبست ہوتا تھا، اس پر کھاد، مزدوروں کی صورت میں کافی خرچہ بھی آیا لیکن یہ سب چشم زدن میں ہی ختم ہوگیا’۔
غلام علی نامی ایک کسان نے بتایا: ‘دھان کی فصل تیار تھی، ہم اس کے کاٹنے کی تیاری کر رہے تھے کہ سیلاب نے ہمارے تمام منصوبوں پر پانی پھیر دیا’۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے امسال کھیت سے ایک دانہ بھی گھر نہیں لایا سب کچھ کھیت میں سڑا پڑا ہے۔
کسانوں کا کہنا ہے کہ رہی سہی کسر مزدور نکال رہے ہیں کیونکہ انہوں نے مزدوری میں کافی اضافہ کردیا ہے۔
بڈگام کے نذیر احمد نامی ایک کاشتکار نے بتایا: ‘ہماری فصل تیز ہوائوں کے نتیجے میں گر گئی ہے، جس سے کافی نقصان ہوا ہے، اب مزدور اس قدر مزدوری طلب کرتے ہیں کہ اس سے بہتر یہی ہے کہ فصل کو کھیت میں ہی پڑا رکھا جائے’۔
انہوں نے کہا: ‘میں نے سال گذشتہ فی کنال ایک ہزار روپیے دئے تھے وہی مزدور امسال 2 ہزار روپیے سے کم مزدوری کی مانگ کر رہے ہیں’۔
یہاں پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ وادی میں زرعی اراضی ہر گذرتے سال کے ساتھ سکڑتی جا رہی ہے۔
یہاں زرعی اراضی پر یا سیب کے باغ لگائے جا رہے ہیں یا کمرشل ڈھانچے تعمیر کئے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے لوگ باہر کے چاول پر منحصر ہوئے ہیں۔
محمد حسین نامی ایک کسان نے بتایا: ‘ہم تو پہلے ہی باہر سے آنے والے چاول پر منحصر تھے کیونکہ زرعی اراضی ہر برس کے ساتھ بہت تیزی سے سکڑ رہی ہے’۔
انہوں نے کہا: ‘امسال زیادہ مشکلات ہوں گے کیونکہ کئی علاقے ایسے ہیں جہاں امسال چاول کی انتہائی کم پیدوار حاصل ہوگی’۔
یو این آئی ایم افضل
جموں و کشمیر
جموں پل حادثے میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر تین ہوئی
جموں، جموں و کشمیر کے بن تالاب علاقے میں پل حادثے میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر تین ہو گئی ہے۔ رات بھر چلے بچاؤ آپریشن کے بعد حالانکہ ایک مزدور کو زندہ بچا لیا گیا ہے، جبکہ آپریشن روک دیا گیا ہے۔
افسران نے کہا کہ “ملبے میں دبے تیسرے مزدور کی لاش مل گئی ہے، جس سے مرنے والوں کی تعداد تین ہو گئی ہے۔”
واضح رہے کہ جمعہ کو بن تالاب علاقے میں ٹھٹھر کے پاس مرمت کے دوران ایک پل کا حصہ گرنے سے چار مزدور ملبے میں دب گئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ “مزدور پل کی مرمت کر رہے تھے، جسے گزشتہ سال اچانک آئی باڑھ میں نقصان پہنچا تھا۔” کل دو مزدوروں کی موت ہو گئی تھی اور ایک کو بچا لیا گیا تھا اور چوتھا مزدور دبا ہوا تھا، جس کی لاش آج صبح پولیس، فوج، اسٹیٹ ڈیزاسٹر رسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف) اور این ڈی آر ایف ٹیم کی جے سی بی اور دوسری مشینری کی مدد سے رات بھر چلے بچاؤ آپریشن کے بعد ملی۔
اس دوران جموں و کشمیر حکومت نے واقعے کا نوٹس لیا اور دو انجینئروں کو معطل کر دیا اور ٹھیکیدار کو بلیک لسٹ کر دیا۔
حکومت نے واقعے کی جانچ کا بھی حکم دیا ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
جموں پل حادثے میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر تین ہوئی
جموں، جموں و کشمیر کے بن تالاب علاقے میں پل حادثے میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر تین ہو گئی ہے۔ رات بھر چلے بچاؤ آپریشن کے بعد حالانکہ ایک مزدور کو زندہ بچا لیا گیا ہے، جبکہ آپریشن روک دیا گیا ہے۔
افسران نے کہا کہ “ملبے میں دبے تیسرے مزدور کی لاش مل گئی ہے، جس سے مرنے والوں کی تعداد تین ہو گئی ہے۔”
واضح رہے کہ جمعہ کو بن تالاب علاقے میں ٹھٹھر کے پاس مرمت کے دوران ایک پل کا حصہ گرنے سے چار مزدور ملبے میں دب گئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ “مزدور پل کی مرمت کر رہے تھے، جسے گزشتہ سال اچانک آئی باڑھ میں نقصان پہنچا تھا۔” کل دو مزدوروں کی موت ہو گئی تھی اور ایک کو بچا لیا گیا تھا اور چوتھا مزدور دبا ہوا تھا، جس کی لاش آج صبح پولیس، فوج، اسٹیٹ ڈیزاسٹر رسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف) اور این ڈی آر ایف ٹیم کی جے سی بی اور دوسری مشینری کی مدد سے رات بھر چلے بچاؤ آپریشن کے بعد ملی۔
اس دوران جموں و کشمیر حکومت نے واقعے کا نوٹس لیا اور دو انجینئروں کو معطل کر دیا اور ٹھیکیدار کو بلیک لسٹ کر دیا۔
حکومت نے واقعے کی جانچ کا بھی حکم دیا ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
سری نگر: سی آئی ٹی یو کا یومِ مئی پر مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کا عزم، تاریگامی کی اتحاد کی اپیل
سری نگر،سری نگر میں ‘سینٹر آف انڈین ٹریڈ یونینز’ (سی آئی ٹی یو) کے زیرِ اہتمام عالمی یومِ مئی کے موقع پر ایک پروقار تقریب منعقد کی گئی۔ اس موقع پر محنت کش طبقے کی تاریخی جدوجہد کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور ابھرتے ہوئے چیلنجز کے خلاف مزدوروں کے حقوق کے دفاع کے عزم کو دہرایا گیا۔
پروگرام کا آغاز شکاگو کے ‘مارکیٹ افیئر’ کے ان شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے سے ہوا جن کی عظیم قربانیوں نے دنیا بھر میں آٹھ گھنٹے کے اوقاتِ کار اور مزدوروں کے تحفظ کے نئے دور کی بنیاد رکھی۔ مقررین نے کہا کہ یومِ مئی مزدوروں کے اتحاد، استقامت اور انصاف کے لیے ان کی مسلسل جدوجہد کی علامت ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سی آئی ٹی یو جموں و کشمیر کے صدر اور رکن اسمبلی کولگام محمد یوسف تاریگامی نے کہا مزدور کبھی انتہائی نامساعد حالات میں 17 سے 18 گھنٹے کام کرنے پر مجبور تھے۔آج ہمیں جو حقوق حاصل ہیں—چاہے وہ باقاعدہ اوقاتِ کار ہوں، مناسب اجرت ہو یا بنیادی تحفظ—یہ کسی نے ہمیں تحفے میں نہیں دیے، بلکہ یہ دہائیوں کی انتھک جدوجہد، اتحاد اور قربانیوں کا نتیجہ ہیں۔
تاریگامی نے خبردار کیا کہ گزشتہ دہائیوں میں جو حقوق حاصل کیے گئے تھے، وہ اب بڑھتی ہوئی معاشی ناہمواری اور لیبر قوانین کی کمزوری کی وجہ سے دوبارہ خطرے میں ہیں۔ انہوں نے کہا:
“جب تک لوگ آواز نہیں اٹھاتے، کوئی نہیں سنتا۔ تبدیلی تب ہی آتی ہے جب مزدور متحد ہو کر اپنے حقوق کا مطالبہ کریں۔”
انہوں نے بی جے پی کی قیادت والی حکومت کی پالیسیوں کو ‘مزدور دشمن’ قرار دیتے ہوئے حال ہی میں نافذ کیے گئے چار لیبر کوڈز کو فوری طور پر منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔
تاریگامی نے مزید کہا کہ یومِ مئی محض ماضی کی یاد منانا نہیں بلکہ ایک تحریک ہے—جو معاشرے کو سماجی انصاف، محنت کی عظمت اور دولت کی منصفانہ تقسیم کی یاد دلاتی ہے۔ انہوں نے تمام محنت کشوں پر زور دیا کہ وہ اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے بیدار اور منظم رہیں۔
اس تقریب میں وادی کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے مزدوروں اور ٹریڈ یونین لیڈروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی کی۔
یو این آئی۔م ا ع
جموں و کشمیر1 week agoپہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی
جموں و کشمیر4 days agoجموں و کشمیر کے لیے ترقی کا بڑا تحفہ؛ شیوراج سنگھ چوہان نے 3566 کروڑ روپے کے سڑک منصوبوں کی منظوری دے دی
ہندوستان1 week agoمئو سڑک حادثہ: میاں بیوی اور بیٹے سمیت پانچ افراد جاں بحق
ہندوستان7 days agoکیجریوال تاریخ کے سب سے شوقین شخص، نئی رہائش گاہ بھی شیش محل جیسی بنائی: پرویش سنگھ
دنیا1 week agoایران نے روس اور دیگر ممالک کو آبنائے ہرمز کے محصولات میں استثنیٰ دیا: سفیر
جموں و کشمیر4 days agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا زراعت میں فوری اصلاحات اور کسانوں کے تحفظ کا مطالبہ
دنیا7 days agoامریکہ-اسرائیل جنگ کو ختم کرنے کے لیے پاکستان میں مذاکرات بلواسطہ ہوں گے:ایران
دنیا7 days agoپاسداران انقلاب اور اسماعیل بقائی نے براہ راست مذاکرات یا ملاقات کے منصوبے کی تردید کردی
دنیا5 days agoآپ حملہ آور کا پیغام پڑھ رہی ہیں، آپ کو شرم آنی چاہیے: ٹرمپ
ہندوستان1 week agoسپریم کورٹ نے مغربی بنگال کی ووٹر لسٹ سے نکالے گئے انتخابی افسران کی عرضیاں خارج کر دیں
دنیا1 week agoجان کیری کا ایران جنگ سے متعلق بڑا انکشاف
دنیا1 week agoایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کو ناممکن قرار دیدیا، امریکی ناکہ بندی سے عالمی معیشت دباؤ کا شکار










































































































