ہندوستان
نیا ہندوستان تیز رفتار اصلاحات کے ساتھ ” نئے مواقع کی سرزمین” ہے: لوک سبھا اسپیکر

تاشقند کیمپ آفس/نئی دہلی، لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے آج کہا کہ بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے والے ہندوستانی طلباء ہندوستانی اقدار اور ثقافت کے سفیر ہیں انہوں نے کہا کہ ہزاروں میل دور رہنے کے باوجود یہ طلباء ہندوستانی اقدار سے وابستہ رہتے ہیں اور اپنے میزبان ممالک میں بھی ان کا پرچار کرتے ہیں۔ مسٹر برلا نے ازبکستان کے اپنے چار روزہ دورے کے دوران سمرقند میڈیکل یونیورسٹی میں ہندوستانی طلباء سے بات چیت کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ مسٹر برلا فی الحال بین پارلیمانی یونین ( آئی پی یو ) کی 150ویں اسمبلی میں ہندوستانی پارلیمانی وفد ( آئی پی ڈی ) کی قیادت کر رہے ہیں۔
لوک سبھا اسپیکر نے کہا کہ نیا ہندوستان ” نئے مواقع کی سرزمین” کے طور پر جانا جاتا ہے، جہاں ہر شعبے میں تیزی سے اصلاحات ہو رہی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آیوشمان بھارت جیسے قومی اقدامات نے ملک بھر میں صحت کی دیکھ بھال کے شعبے میں وسیع مواقع فراہم کیے ہیں۔ آیوشمان بھارت نیٹ ورک میں سرکاری اسپتالوں کے ساتھ نجی اسپتالوں کی شمولیت کے ساتھ یہ اسکیم ایف ایم جی ڈاکٹروں کو بےش قیمت تجربہ حاصل کرنے اور ملک کے صحت کی دیکھ بھال کے نظام میں اپنا حصہ ڈالنے کے بے پناہ مواقع فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں طبی تحقیق اور تعلیم کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ طلباء کے لیے تعلیمی اور تحقیقی اداروں میں کام کرنے کے بہت سے مواقع موجود ہیں۔
مسٹر برلا نے طلباء سے کہا کہ ہندوستان دنیا کے ہر کونے میں رہنے والے ہندوستانیوں کے بارے میں یکساں طور پر فکر مند ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان بیرون ملک ہندوستانی طلباء کی مدد اور تعاون کے لئے ہمہ وقت تیار ہے۔ ’’ مدد‘‘ ( ‘MADAD’) پورٹل جیسے اقدامات اور بیرون ملک ہندوستانی سفارت خانوں کی فعال مشغولیت کے ذریعہ حکومت اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ ہندوستانی طلباء کو اپنی تعلیم، تحفظ اور کیریئر کے امکانات میں کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے فخریہ انداز میں کہا ’’ہندوستانی ڈاکٹروں کی عالمی پہچان ہے اور آپ کو اس روایت کو آگے بڑھانا چاہیے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان نے ہمیشہ بہترین ڈاکٹر پیدا کیے ہیں اور یہ طلباء اپنے علم اور مہارت سے دنیا بھر میں صحت کی دیکھ بھال کی خدمات کو مضبوط بنائیں گے۔ مسٹر برلا نے کہا کہ طلباء کا عالمی تجربہ ان کے طبی کیریئر میں مزید کامیابی کی راہ ہموار کرے گا۔
لوک سبھا اسپیکر نے طلباء پر زور دیا کہ وہ اپنے علم اور ہنر کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ اپنے اندر لگن اور ہمدردی جیسی اقدار کو بھی بیدار کریں۔ انہوں نے طلبا سے کہا کہ ان کی محنت صحت کی عالمی خدمات کو ایک نئی سمت دے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان کے ثقافتی اور تعلیمی نمائندوں کے طور پر طلباء ہندوستان اور ازبکستان کے درمیان دوستی اور تعاون کو مضبوط بنانے میں بھی اہم رول ادا کر رہے ہیں۔
مسٹر اوم برلا نے گزشتہ روز و این آر آئیز کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ازبکستان میں مقیم ہندوستانی تارکین وطن کی محبت اور پیار ہندوستان کے لیے متاثر کن ہے، جنہوں نے ہندوستانی برادری کی کوششوں نے ہندوستان کی عالمی شناخت کو مضبوط کرنے میں مدد کی ہے۔
ہندوستان کی بڑھتی ہوئی اقتصادی طاقت کے بارے میں بات کرتے ہوئے مسٹر برلا نے کہا کہ ہندوستان آج دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت ہے اور اس کی عالمی شہرت اور اختراعات نے بے شمار نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ این آر آئیز سرمایہ کاری اور اختراع کے ذریعے ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔ لوک سبھا اسپیکر نے این آر آئیز کو ’ ترقی یافتہ ہندوستان ‘ کی مہم کے تحت دستیاب مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی بھی ترغیب دی۔
مسٹر برلا نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان اور ازبکستان کے درمیان تعلقات صرف سرکاری دوروں اور دستاویزات تک ہی محدود نہیں ہیں بلکہ دونوں ممالک کے لوگوں کے درمیان باہمی روابط، تعلقات، ثقافتی تبادلے اور باہمی احترام پر بھی مبنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور ازبکستان کے درمیان تاریخی تعلقات کو مضبوط بنانے میں ہندوستانی تارکین وطن کا کردار اہم رہا ہے کیونکہ انہوں نے اپنی محنت اور لگن کے ذریعہ دونوں ممالک کی ترقی میں حصہ ڈالا ہے۔ مسٹر برلا نے کہا کہ زبان، خوراک، روایات اور ثقافتی تبادلے ان مضبوط رشتوں کی بنیاد ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سائنس، صحت، تعلیم، تجارت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ہندوستان اور ازبکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی ساجھیداری دونوں ممالک کی ترقی کے لیے اہم ثابت ہو رہی ہے۔
تاشقند میں بین پارلیمانی یونین کی 150ویں اسمبلی کے موقع پر لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے جارجیا کی پارلیمنٹ کے چیئرمین شلوا پاپوشولی سے ملاقات کی۔ اس موقع پر مسٹر برلا نے پارلیمانی سفارت کاری کو مضبوط بنانے اور تجارت، سیاحت اور اختراع میں تعاون بڑھانے پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کثیرجہتی فورمز میں ہندوستان کی وکالت کی۔
یو این آئی ۔ ع خ
ہندوستان
شاہ کو عہدے سے ہٹانا ہوگا، گولی چلانے کے معاملے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں ہو جانچ : راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما راہل گاندھی نے وزیرِ داخلہ امت شاہ کو طلبہ پر گولی چلانے کا حکم دینے کے لیے ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے ان کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اس پورے واقعہ کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں جانچ کرائی جانی چاہیے۔
مسٹر گاندھی نے بدھ کو یہاں پارٹی ہیڈ کوارٹر میں پریس کانفرنس میں کہا کہ انہوں نے 25 جولائی کو مسٹر شاہ کو خط لکھ کر پوچھا تھا کہ طالب علموں پر پیلٹ گن کے استعمال کا حکم کس نے دیا اور احتجاج کے دوران سادہ وردی میں موجود لوگ کون تھے لیکن اب تک کوئی جواب نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس پیلٹ گن کے استعمال کے ثبوت، تصویریں اور زخمی طالب علموں کے طبی دستاویزات ہیں نیز انہی کی بنیاد پر طالب علموں کو انصاف دلانے کی لڑائی لڑی جائے گی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ پرامن احتجاج کر رہے طالب علموں پر پولیس نے بربریت کی۔ ایک طالب علم کی آنکھ کی بینائی چلی گئی، کئی طالب علموں کے جسم پر پیلٹ کے نشانات ہیں اور ایمس کی طبی رپورٹ میں بھی ایک زخمی طالب علم پر پیلٹ گن کے استعمال کی تصدیق ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالب علموں کو کیل لگی لاٹھیوں سے پیٹا گیا، خواتین کے ساتھ بدسلوکی کی گئی اور کچھ لوگ سادہ وردی میں بھی کارروائی میں شامل تھے، جن کی شناخت اب تک واضح نہیں کی گئی ہے۔
لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما نے کہا کہ انہوں نے آج پارلیمنٹ میں یہ مسئلہ اٹھانے کی کوشش کی لیکن انہیں بولنے نہیں دیا گیا، جبکہ حکومت کے وزراء کو اپنی بات رکھنے کا پورا موقع ملا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان سے معافی مانگنے پر بولنے دینے کی بات کہی گئی لیکن انہوں نے اسے مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا، “میں بی جے پی، آر ایس ایس یا ان سے جڑے کسی بھی شخص سے کبھی معافی نہیں مانگوں گا۔ اپوزیشن کے رہنما کے طور پر ملک کے اہم مسائل اٹھانا میرا حق ہے۔”
مسٹر گاندھی نے کہا کہ پیلٹ گن جیسی طاقت کے استعمال کی اجازت وزارتِ داخلہ کی سطح پر ہی دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں صرف دو ہی امکانات ہیں—یا تو وزیرِ داخلہ امت شاہ نے پیلٹ گن چلانے، لاٹھی چارج اور دیگر طاقت کے استعمال کا حکم دیا، یا پھر انہیں اس کی معلومات ہی نہیں تھی۔ دونوں ہی صورتوں میں مسٹر شاہ کو اپنے عہدے پر بنے رہنے کا حق نہیں ہے اور انہیں عہدہ چھوڑ دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ گولی چلانے کے احکامات کس نے دیے، اس کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں اعلیٰ سطحی جانچ کرائی جانی چاہیے تاکہ پورے معاملے کی جوابدہی طے ہو سکے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ طالب علموں کے خلاف فیشل ریکگنیشن ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے اور انہیں ڈرانے دھمکانے کے لیے منظم کوششیں کی جا رہی ہیں تاکہ وہ مستقبل میں اپنی آواز نہ اٹھا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت طالب علموں پر ہوئے مظالم سے توجہ ہٹانے کے لیے بل لے کر آئی ہے۔ یہ “اینٹی پیپر لیک بل نہیں، بلکہ پنشمنٹ بل” ہے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ مسٹر شاہ کو عہدے سے ہٹا کر پورے معاملے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں آزادانہ اور اعلیٰ سطحی جانچ کرائی جانی چاہیے، تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ طالب علموں پر گولی اور پیلٹ گن چلانے کا حکم کس نے دیا نیز قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی یقینی ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ طالب علموں نے کوئی جرم نہیں کیا تھا اور انہیں انصاف ملنا ہی چاہیے۔
یو این آئی۔ ایف اے
ہندوستان
ہندستان نے وادیِ سندھ کی تہذیب پر مشترکہ ورثے کے پاکستانی دعوے کو مسترد کیا
نئی دہلی، ہندستان نے وادیِ سندھ کی تہذیب پر مشترکہ ورثے کے پاکستان کے دعوے کو سرے سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو ملک سرحد پار دہشت گردی اور تشدد کو فروغ دیتا رہا ہے، وہ تکثیری ثقافتی ورثے پر کوئی دعویٰ نہیں کر سکتا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں پاکستان کے اس دعوے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ اقلیتوں اور ان کے ثقافتی حقوق کے تحفظ کے معاملے میں پاکستان کا خراب ریکارڈ اس کی اس طرح کی منافقانہ اور مایوس کن کوششوں کو مزید کھوکھلا بناتا ہے۔
ترجمان نے کہا، “جو ملک دہائیوں سے سرحد پار دہشت گردی، مذہبی انتہا پسندی اور تشدد کو فروغ دیتا رہا ہے، وہ کسی بھی تکثیری ثقافتی ورثے پر کوئی دعویٰ نہیں کر سکتا۔ اقلیتوں اور ان کے ثقافتی حقوق کے تحفظ کے معاملے میں اس کا خراب ریکارڈ ایسی مایوس کن کوششوں کو اور بھی زیادہ کھوکھلا بنا دیتا ہے۔”
قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان کے وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے حال ہی میں سندھ طاس معاہدے کے تناظر میں وادیِ سندھ کی تہذیب کو مشترکہ ورثہ قرار دیا تھا۔ پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد ہندستان نے سندھ طاس معاہدے کو معطل کر دیا تھا۔ اس سے بپھرا ہوا پاکستان اس کے بعد سے مسلسل اس معاملے میں نئے نئے ہتھکنڈوں سے ہندستان کو گھیرنے کی کوششوں میں لگا ہے۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
حکومت اور سماجی تنظیمیں 2030 تک بچوں کی شادی سے پاک ہندوستان کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیےپرعزم: مرکزی وزیر ساوتری ٹھاکر
نئی دہلی، مرکزی وزیر مملکت برائے خواتین و بہبود اطفال ساوتری ٹھاکر نے نئی دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے زمینی سطح پر کام کرنے والی 250 سے زائد سول سوسائٹی تنظیموں کے نیٹ ورک ‘جسٹ رائٹس فار چلڈرن’ کے ملک بھر سے آئے ہوئے معاونین کے چار روزہ قومی مشاورتی اجلاس “انشورنگ اے چائلڈز رائٹس، پوٹینشل اینڈ پراسپیریٹی” کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سب کے تعاون اور سول سوسائٹی تنظیموں کی مدد سے 2030ء تک ‘بال ویواہ مکت بھارت’ کے ہدف کو حاصل کر لے گی۔
اس قومی مشاورتی اجلاس میں ملک کے تمام 782 اضلاع کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے ساوتری ٹھاکر نے کہا کہ بچوں کے تحفظ کے شعبے میں کام کرنا بے حد چیلنجنگ ہوتا ہے، لیکن حکومت کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر آپ سب ان تمام چیلنجوں پر قابو پا رہے ہیں۔ کسی بھی بچے کی زندگی بچانا سب سے نیکی کا کام ہوتا ہے۔ کم عمر بچیاں انسانی اسمگلنگ کا شکار ہو جاتی ہیں اور پھر کبھی اپنے گھر واپس نہیں لوٹ پاتیں۔ ایسی بچیوں کو کسی فرشتہ صفت انسان کا انتظار ہوتا ہے اور انہیں جنسی استحصال کی دلدل سے آزاد کرانے والی سول سوسائٹی تنظیموں کے رضاکار کسی فرشتے سے کم نہیں ہوتے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی 2030ء تک بچپن کی شادی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔ ‘بال ویواہ مکت بھارت’ کو کامیاب بنانے کے لیے کئی اسکیمیں نافذ کی گئی ہیں۔ انہوں نے اس مہم کو کامیاب بنانے کی سمت میں ‘جسٹ رائٹس فار چلڈرن’ کی کوششوں کی سراہنا کرتے ہوئے کہا کہ اس خواب کو پورا کرنے میں ان کا تعاون ناقابلِ فراموش رہے گا۔
اس موقع پر ‘ایم پیز فار چلڈرن’ کے کنوینر اور لوک سبھا میں تلگو دیشم پارٹی کے پارلیمانی لیڈر لاوو کرشنا دیورایلو نے کہا کہ بچوں کی شادی کے خلاف شروع کی گئی ‘جسٹ رائٹس فار چلڈرن’ کی یہ تحریک اب پوری دنیا میں پھیل رہی ہے۔ یہ ایک غیر معمولی کوشش ہے اور بھارت نے دکھا دیا ہے کہ بچوں کی شادی کا خاتمہ ممکن ہے۔ واضح رہے کہ لاوو نے سوشل میڈیا کے خطرات سے بچوں کو بچانے کے لیے پارلیمنٹ میں ایک پرائیویٹ ممبر بل بھی پیش کیا ہے۔
‘جسٹ رائٹس فار چلڈرن’ کے بانی اور بچوں کے حقوق کے معروف کارکن بھون ریبھو نے کہا، “27 نومبر 2024ء کو ‘بال ویواہ مکت بھارت’ مہم سے نکلنے والی چنگاری جلد ہی ایک ملک گیر تحریک میں بدل گئی۔ تب سے یہ تحریک انصاف، ٹیکنالوجی، قیادت اور اجتماعی کوششوں کے ذریعے ہر بچے کی بااختیاری کے ایک وسیع نقطہ نظر میں تبدیل ہو چکی ہے۔
بھارت یہ دکھا رہا ہے کہ جب حکومتیں، سول سوسائٹی، تعلیمی شعبہ، برادری اور نوجوان کسی مشترکہ ہدف کے لیے متحد ہو جائیں تو تبدیلی یقینی ہے۔ اب یہ صرف بھارت کی کہانی نہیں رہی بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک پیغام ہے کہ اگر کوئی ملک سب سے اہم سرمایہ کاری کر سکتا ہے تو وہ بچوں پر سرمایہ کاری ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ جب بھی ہم کسی گاؤں میں بچوں کی شادی روکتے ہیں تو ہم صرف ایک بچے کا تحفظ نہیں کر رہے ہوتے بلکہ یہ پوری برادری کو ایک واضح پیغام ہوتا ہے کہ ایک جدید معاشرے میں بچپن کی شادی کی کوئی جگہ نہیں ۔
حکومت کے ساتھ مل کر گزشتہ تین برس میں ہم نے ساڑھے پانچ لاکھ سے بھی زائد بچوں کی شادیاں روکی ہیں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔ م الف
دنیا1 week agoایرانی صدر کا سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق نیا اور اہم انکشاف
دنیا1 week agoامریکہ-ایران رابطے کے لیے پاکستان اور قطر کی کوششیں جاری
ہندوستان1 week agoپیپر لیک احتجاج کے درمیان یوتھ کانگریس کی امدادی مہم، دہلی میں پھنسے اور زخمی طلبہ کے لیے ہیلپ لائن جاری
دنیا1 week agoایران جنگ پر 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے: امریکی وزیر جنگ
ہندوستان7 days agoپیپر لیک پر حکومت کا قدم نا کافی اور گمراہ کن، جواب دہی طے کریں مودی: کھرگے-راہل
دنیا1 week agoامریکہ ایران کشیدگی میں کمی کی امید سے خام تیل کی قیمت کم ہوگئی
دنیا6 days agoابھی ایران کو زیادہ تکلیف نہیں پہنچی، بڑی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں: ٹرمپ کی دھمکی
دنیا1 week agoامریکی صدر ٹرمپ کی نطنز کے پہاڑوں میں ایرانی ایٹمی مرکز پر حملے کی دھمکی
ہندوستان1 week agoدہلی پولیس کی کارروائی پر بھڑکی کانگریس، جمہوریت پر حملے کا لگایا الزام
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے رامسو میں چٹان کھسکنے سے دو لوگوں کی موت، پانچ زخمی
جموں و کشمیر1 week agoجب جموں و کشمیر کے عوام کو عمر عبداللہ کی ضرورت تھی، وہ نئی دہلی میں ’سیاسی ڈرامے‘ میں مصروف تھے: بی جے پی
جموں و کشمیر7 days agoسکیورٹی فورسز نے اننت ناگ میں دہشت گردوں سے منسلک دو مکانات منہدم کر دیے





































































































